سیدنا معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے مناقب و فضائل

 از    November 29, 2014

تحریر:حافظ شیر محمد
نبی کریم ﷺ کاارشاد ہے کہ ((اول جیش من أمتي یغزون البحر قد أو جبوا)) میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا، ان (مجاہدین ) کے لئے (جنت) واجب ہے ۔ (صحیح البخاری: ۲۹۲۴)
یہ جہاد سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی خلافت) کے زمانے میں ہوا تھا۔ (دیکھئے صحیح بخاری: ۶۲۸۲، ۶۲۸۳)
اور اس جہاد میں سیدنا معاویہؓ شامل تھے ۔ (دیکھئے صحیح بخاری: ۲۷۹۹، ۲۸۰۰)

آپ فتحِ مکہ سے کچھ پہلے یا فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے ۔واللہ اعلم
          سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا : میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ میں یہ سمجھا کہ آپ میرے لئے تشریف لائے ہیں لہذا میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا تو آپ ﷺ نے میری کمر پر تھپکی دے کر فرمایا :((اذھب فادع لي معاویۃ)) وکان یکتب الوحي۔ إلخجاؤاور معاویہ کو بُلا لاؤ، وہ (معاویہؓ) وحی لکھتے تھے۔إلخ (دلائل النبوۃ للبیہقی ۲۴۳/۲ و سندہ حسن)

معلوم ہوا کہ سیدنا معاویہؓ کاتبِ وحی تھے۔ 

حافظ ابن عساکر لکھتے ہیں:
خال المؤمنین و کاتب وحي رب العالمین، أسلم یوم الفتحمومنوں کے ماموں اور رب العالمین کی وحی لکھنے والے ، آپ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے ۔ (تاریخ دمشق ۳۸/۶۲)
جلیل القدر تابعی عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ المکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ معاویہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھا، پھر ابن عباس(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا :
أصاب إنہ فقیہ” انہوں نے صحیح کیا ہے ، وہ فقیہ ہیں۔ (صحیح بخاری: ۳۷۶۵) 
اس روایت کے مقابلے میں طحاوی حنفی نے “مالک بن یحییٰ الھمداني (وثقہ ابن حبان وحدہ) : ثنا عبدالوھاب بن عطاء قال: أنا عمران بن حدیر” کی سند سے ایک منکر روایت بیان کی ہے ۔ (دیکھئے شرح معانی الآثار ۲۸۹/۱)
یہ روایت صحیح بخاری کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے اور طحاوی کا یہ کہنا کہ ابن عباسؓ نے “انھوں نے صحیح کیا ہے” بطورِ تقیہ کہا تھا، غلط ہے ۔

صحابی عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے معاویہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے لئے فرما یا : ((اللھم اجعلہ ھادیاً مھدیاً واھد بہ)) اے اللہ ! اسے ہادی مہدی بنا دے اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔(سنن الترمذی: ۳۸۴۲ وقال : “ھٰذا حدیث حسن غریب” التاریخ  الکبیر للبخاری: ۲۴۰/۵ ، طبقات ابن سعد ۴۸۷/۷ ، الآحادو المثانی لابن ابی عاصم ۳۵۸/۲ ح ۱۱۲۹، مسند احمد ۲۱۶/۴ ح ۱۷۸۹۵، وھو حدیث صحیح)

یہ روایت مروان بن محمد وغیرہ نے سعید بن عبدالعزیز سے بیان کر رکھی ہے اور مروان کی سعید سے روایت صحیح مسلم میں ہے ۔ (دیکھئے ۱۰۴۳/۱۰۸ و ترقیم دارالسلام : ۲۴۰۳)
لہٰذا ثابت ہوا کہ سعید بن عبدالعزیز نے یہ روایت اختلاط سے پہلے بیان کی ہے ۔ نیز دیکھئے الصحیحۃ (۱۹۶۹)
          اُم علقمہ (مرجانہ) سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) مدینہ تشریف لائے تو (سیدہ) عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) سے رسول اللہ ﷺ کی چادر اور بال مانگا۔ پھر انہوں نے چادر اوڑھ لی اور بال پانی میں ڈبو کر وہ پانی پیا اور اپنے جسم پر بھی ڈالا۔      (تاریخ دمشق ۱۰۶/۶۲ و سندہ حسن، مرجانہ و ثقھا العجلی وابن حبان)
مسور بن مخرمہؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک وفد کے ساتھ معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کے پاس گئے تو انہوں (معاویہؓ) نے ان (مسورؓ) کی ضرورت پوری کی پھر تخلیے میں بلا کر کہا : تمہارا حکمرانوں پر طعن کرنا کیا ہوا؟ مسورؓ نے کہا : یہ چھوڑیں اور سلوک کریں جو ہم پہلے بھیج چکے ہیں۔ معاویہؓ نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! تمہیں اپنے بارے میں بتانا پڑے گا اور تم مجھ پر جو تنقید کرتے ہو۔ مسورؓ نے کہا : میں نے ان کی تمام قابلِ عیب باتیں (غلطیاں) انہیں بتا دیں۔ معاویہؓ نے کہا : کوئی بھی گناہ سے بری نہیں ہے ۔ اے مسور ! کیا تمہیں پتا ہے کہ میں نے عوام کی اصلاح کی کتنی کوشش کی ہے ، ایک نیکی کا اجر دس نیکیوں کے برابر ملے گا۔ یا تم گناہ ہی گنتے رہتے ہو اور نیکیاں چھوڑ دیتے ہو؟ مسورؓ نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! ہم تو انہی گناہوں کا ذکر کرتے ہیں جو ہم دیکھتےہیں۔ معاویہؓ نےکہا : ہم اپنے ہر گناہ کو اللہ کے سامنے تسلیم کرتے ہیں۔ اے مسور ! کیا تمہارے ایسے گناہ ہیں جن کے بارے میں تمہیں یہ خوف ہے کہ اگر بخشے نہ گئے تو تم ہلاک ہوجاؤ گے ؟ مسور نےکہا: جی ہاں ! ۔ معاویہؓ نے کہا : کس بات نے تمہیں اپنے بارے میں بخشش کا مستحق بنا دیا ہے  اور میرے بارے میں تم یہ امید نہیں رکھتے ؟ اللہ کی قسم ! میں تم سے زیادہ اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں لیکن اللہ کی قسم ! دو باتوں میں صرف ایک ہی بات کو اختیار کرتا ہوں ۔ اللہ اور غیر اللہ کے درمیان صرف اللہ کو ہی چنتا ہوں ۔ میں اس دین پر ہوں جس میں اللہ عمل قبول فرماتا ہے ، وہ نیکیوں اور گناہوں کا بدلہ دیتا ہے سوائے اس کے کہ وہ جسے معاف کر دے۔ میں ہر نیکی کے بدلے یہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ مجھے کئی گنا اجر عطا فرمائے گا ۔ میں ان عظیم امور کا سامنا کر رہا ہوں جنہیں میں اور تم دونوں گن نہیں سکتے۔ میں نے اقامتِ صلوٰۃ کا نظام ،جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کے نازل کردہ احکامات کا نظام قائم کر رکھا ہے اور ایسے بھی کام ہیں اگر میں انہیں تمہیں بتادوں تو تم انہیں شمار نہیں کر سکتے ، اس بارے میں فکر کرو۔مسورؓ فرماتے ہیں کہ میں جا ن گیا کہ معاویہ ؓمجھ پر اس گفتگو میں غالب ہوگئے۔ عروہ بن الزبیرفرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی نہیں سنا گیا کہ مسور (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے معاویہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی کبھی مذمت کی ہو۔ وہ تو ان کے لئے دعائے مغفرت ہی کیا کرتے تھے۔   (تاریخ بغداد ج ۱ص ۲۰۸، ۲۰۹ ت ۴۹ و سندہ صحیح)
امام جعفر الصادق نے “قاسم بن محمد قال قال معاویۃ بن أبي سفیان” کی سند سے ایک حدیث بیان کی ہے جس میں آیا ہے کہ قاسم بن محمد (بن ابی بکر ) نے فرمایا :فتعجب الناس من صدق معاویۃ پس لوگوں کو معاویہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی سچائی پر بڑا تعجب ہوا ۔ (تاریخ دمشق ۱۱۵/۶۲ و  سندہ حسن)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ امیر معاویہؓ لوگوں کے نزدیک سچے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا : ما رأیت رجلاً کان أخلق یعني للملک من معاویۃمیں نے معاویہ سے زیادہ حکومت کے لئے مناسب (خلفائے راشدین کے بعد) کوئی نہیں دیکھا۔ (تاریخ دمشق ۱۲۱/۶۲ و سندہ صحیح، مصنف عبدالرزاق ۴۵۳/۱۱ ح ۲۰۹۸۵)
عرباض بن ساریہ السلمیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
((اللھم علّم معاویۃ الکتاب و الحساب ، وقہ العذاب))اےمیرے اللہ ! معاویہ کو کتاب و حساب سکھا اور اسے عذاب سے بچا۔(مسند احمد ۱۲۷/۴ ح ۱۷۱۵۲، و سندہ حسن ، صحیح ابن خزیمہ : ۱۹۳۸)
(حارث بن زیاد و یونس بن سیف صدوقان لا ینزل حدیثہما عن درجۃ الحسن و الجرح فیہما مردود )

امیر معاویہؓ ساٹھ ہجری (۶۰؁ھ) میں فوت ہوئے ۔صحابۂ کرام ؓ کے درمیان اجتہادی وجوہ سے جو جنگیں ہوئیں ان میں سکوت کرنا چاہئے۔
امام اہل سنت احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ کو برا کہتا ہے تو اس کے اسلام پر تہمت لگاؤ۔          (مناقب احمد لابن الجوزی ص ۱۶۰ و سندہ صحیح، تاریخ دمشق ۱۴۴/۶۲)
امام معافی بن عمران الموصلیؒ (متوفی ۱۸۵؁ھ) سے امیر معاویہؓ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے ساتھ کسی کو بھی برابر قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ معاویہؓ آپﷺ کے صحابی، ام المؤمنین ام حبیبہؓ کے بھائی، آپ ﷺ کے کاتب اور اللہ کی وحی (لکھنے) کے امین ہیں۔     (تاریخ بغداد ۲۰۹/۱ و سندہ صحیح، الحدیث: ۱۹ ص ۵۷، تاریخ دمشق: ۱۴۳/۶۲)
امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا :من تنقص أحداً من أصحاب رسول اللہ ﷺ فلا ینطوی إلا علیٰ بلیۃ، ولہ خبیئۃ سوء إذا قصد إلیٰ خیر الناس وھم أصحاب رسول اللہ ﷺ” جو شخص رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی ایک کی تنقیص کرے تو وہ اپنے اندر مصیبت چھپائے ہوئے ہے ۔ اس کے دل میں برائی ہے جس کی وجہ سے وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر حملہ کرتا ہے حالانکہ وہ (انبیاء کرام علیہ السلام کے بعد ) لوگوں میں سب سے بہترین تھے۔ (السنۃ للخلال ۴۷۷/۲ ح ۷۵۸ وقال المحقق: إسنادہ صحیح)
ابراہیم بن میسرہ الطائفیؒ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیزؒ نے کسی انسان کو نہیں مارا سوائے ایک انسان کے جس نے معاویہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو گالیاں دی تھیں، انہوں نے اسے کئی کوڑے مارے۔ (تاریخ دمشق ۱۴۵/۶۲ و سندہ صحیح)
نیز دیکھئے ماہنامہ الحدیث : ۲۶ ص ۲۸،۲۷
مسند بقی بن مخلد میں امیر معاویہؓ کی بیان کردہ ایک سو تریسٹھ (۱۶۳) حدیثیں موجود ہیں۔ دیکھئے سیر اعلام النبلاء (۱۶۲/۳)
امیر معاویہ سے جریر بن عبداللہ البجلی ، السائب بن یزید الکندی ، عبداللہ بن عباس، معاویہ بن حدیج اور ابوسعید الخدری وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعینابو الشعثاء جابر بن زید، حسن بصری، سعید بن المسیب ، سعید المقبری، عطاء بن ابی رباح، محمد بن سیرین، محمد بن علی بن ابی طالب المعروف بابن الحنفیہ، ہمام بن منبہ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف وغیرہ تابعین رحمہم اللہ نے روایت بیان کی ہے ۔ (دیکھئے تہذیب الکمال ۲۰۲،۲۰۱/۱۸)
اہل السنۃ و الجماعۃ کے نزدیک تمام صحابہ عادل (روایت میں سچے) ہیں۔ (اختصار علوم الحدیث لابن کثیر ۴۹۸/۲)
ان کے درمیان جو اجتہادی اختلافات اور جنگیں ہوئی ہیں ، ان میں وہ معذور و ماجور ہیں اور ہمیں اس بارے میں مکمل سکوت کرنا چاہئے۔ اے اللہ ! ہمار ے دلوں کو تمام صحابہ کی محبت سے بھر دے اور  ان کی توہین و تنقیص سے بچا۔ آمین ۔         رضي اللہ عنھم أجمعین

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.