سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما

 از    December 12, 2017

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ

صحابی ابن صحابی، کاتب وحی اور امین وحی، مؤمنوں کے ماموں، سیدنا و محبوبنا ابوعبدالرحمٰن، معاویہ بن ابوسفیان بن حرب، قرشی، اموی بے شمار فضائل و مناقب کے حامل ہیں۔ آپ کو اسلام کا پہلا منصف بادشاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔
عباسی حکمران، القائم بامراللہ، ابوجعفر ابن القادر (391-467 ھ) نے 430ھ کے لگ بھگ ’’ الاعتقاد القادری“ کے نام سے مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ شائع کیا، جس کا مخالف باتفاقِ اہل علم فاسق و کافر قرار پایا۔ اس عقیدہ میں یہ بات بھی مندرج ہے :
ولا يقول فى معاوية رضي الله عنه إلا خيرا، ولا يدخل فى شيئ شجر بينهم، ويترحم علٰي جماعتهم .
’’ مسلمان سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں صرف اچھی بات کرے اور صحابہ کرام کے مابین جو اختلافات ہوئے، ان میں دخل نہ دے، بلکہ ان سب کے لیے رحمت کی دعا کرے۔“ [الاعتقاد القاردري، المندرج فى المنتظم لابن الجوزي : 281/15، وسنده صحيح ]

◈ تبع تابعی ابواسامہ حماد بن اسامہ رحمہ اللہ (م : 201ھ) سے پوچھا گیا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ زیادہ فضیلت والے ہیں یا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ
؟ تو انہوں نے فرمایا :
أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يقاس بهم أحد .
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے کسی کا بھی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔“ [الشريعة للآجري : 2011، جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر : 229/2، وسنده صحيح ]

◈ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
ما زال بي ما رأيت من أمر الناس فى الفتنة، حتٰي إني لـأتمنٰي أن يزيد الله عز وجل معاوية من عمري فى عمره .
’’فتنے کے دور میں لوگوں کے جو حالات میں دیکھتی رہی، ان میں ہمیشہ میری یہ تمنا تھی کہ اللہ تعالیٰ میری عمر، معاویہ رضی اللہ عنہ کو لگا دے۔“ [الطبقات لأبي عروبة الحراني، ص : 41، وسنده صحيح]

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بہت سے فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ سب سے بڑی فضیلت و منقبت توشرف صحابیت ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی ثابت نہ ہو تو بھی یہی فضیلت کافی ہے، کیونکہ ہر ہر صحابی کی الگ الگ معین فضیلت ثابت نہیں۔ صحیح احادیث میں معدودے چند صحابہ کرام کی معین فضیلت مذکور ہے۔ ایسا نہیں کہ باقی صحابہ کرام کی کوئی فضیلت تھی ہی نہیں۔ لہٰذا صرف صحابی ہونا ہی فضیلت کے لیے کافی ہے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بھی سب سے بڑی فضیلت ان کا صحابی رسول ہونا ہے۔ یہ ایک عمومی فضیلت ہے، اس کے علاوہ صحیح احادیث سے آپ کے کئی خصوصی فضائل بھی ثابت ہیں۔
بعض لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا انکار کرنے کے لیے امام نسائی رحمہ اللہ کی شہادت کے قصے سے دلیل لیتے ہیں، جس میں مذکور ہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کی نفی کی، لیکن یہ واقعہ باسند صحیح ثابت نہیں۔ اس کی سند میں ’’ مجہول“ اور غیر معتبر راوی موجود ہیں، لہٰذا ایسی بے سروپا روایات کا کوئی اعتبار نہیں۔

اسی طرح امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کی طرف یہ قول منسوب ہے :

لا يصح عن النبى صلى الله عليه وسلم فى فضل معاوية بن أبي سفيان شيئ .
’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کی فضیلت میں کچھ بھی ثابت نہیں۔“ [تاريخ دمشق لابن عساكر : 105/59، سير أعلام النبلاء للذهبي : 132/3 ]

لیکن یہ قول ثابت نہیں ہو سکا، کیونکہ اس کی سند میں ابوالعباس اصم کے والد یعقوب بن یوسف بن معقل،، ابوفضل، نیشاپوری کی توثیق نہیں ملی۔
بعض کتب میں اس سند سے ابوالعباس اصم کے والد کا واسطہ گر گیا ہے۔ آئیے صحیح احادیث کی روشنی میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل ملاحظہ فرمائیں :

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور کتابت ِ وحی

❀ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ :
ومعاوية، تجعله كاتبا بين يديك؟
’’ کیا آپ معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا کاتب مقرر فرمائیں گے ؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جی ہاں۔“ [صحيح مسلم : 304/2، ح : 2501]

❀ ایک روایت میں ہے :
وكان يكتب الوحي .
’’ آپ کاتب وحی تھے۔“ [دلائل النبوة للبيهقي : 243/6، وسنده صحيح]

◈ تبع تابعی، شیخ الاسلام، معافی بن عمران رحمہ اللہ (م : 186/185 ھ) فرماتے ہیں :
معاوية، صاحبه، وصهره، وكاتبه، وأمينه علٰي وحي الله .
’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی، آپ کے سالے، آپ کے کاتب اور، اللہ کی وحی کے سلسلے میں آپ کے امین تھے۔“ [تاريخ بغداد للخطيب : 209/1، تاريخ ابن عساكر : 208/59، البداية والنهاية لابن كثير : 148/8، وسنده صحيح]

◈ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ (571-499 ھ) فرماتے ہیں :
وأصح فى فضل معاوية حديث أبي جمرة عن ابن عباس، أنه كان كاتب النبى صلى الله عليه وسلم منذ أسلم .
’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں اصح حدیث ابوجمرہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کردہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ جب سے اسلام لائے،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے۔“ [البداية والنهاية لابن كثير : 128/8 ]

◈ امام ابومنصور معمر بن احمد، اصبہانی رحمہ اللہ (م : 428 ھ) اہل حدیث کا اجماعی عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وأن معاوية بن أبي سفيان كاتب وحي الله وأمينه، ورديف رسول الله صلى الله عليه وسلم، وخال المؤمنين رضي الله عنه .
’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو وحی الٰہی کے کاتب و امین ہونے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سواری پر سوار ہونے اور مؤمنوں کے ماموں ہونے کا شرف حاصل ہے۔“ [الحجة فى بيان المحجة للإمام قوام السنة أبي القاسم إسماعيل بن محمد الأصبهاني : 248/1، وسنده صحيح ]

◈ علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ (م : 620 ھ) مسلمانوں کا عقیدہ یوں بیان فرماتے ہیں :
ومعاوية خال المؤمنين، وكاتب وحي الله، وأحد خلفاء المسلمين .
’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مؤمنوں کے ماموں، کاتب وحی الٰہی اور مسلمانوں کے ایک خلیفہ تھے۔“ [لمعة الاعتقاد، ص : 33]

پہلے بحری بیڑے کی کمان اور جہاد فی سبیل اللہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ گرامی ہے :
أول جيش من أمتي يغزون البحر، قد أوجبوا
’’ میری امت میں سے پہلا گروہ جو سمندری جہاد کرے گا، انہوں نے (مغفرت و جنت کو) واجب کر لیا۔“ [صحيح البخاري : 410/1، ح : 2924 ]

◈ شارحِ صحیح بخاری، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852-773ھ) فرماتے ہیں :
وقوله : قد أوجبوا، أى فعلوا فعلا، وجبت لهم به الجنة .
’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ انہوں نے واجب کر لیا، کی مراد یہ ہے کہ انہوں نے وہ کارِ خیر سرانجام دیا، جس کی بنا پر ان کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“ [فتح الباري : 103/6]

◈ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنة ملحان، فاتكأ عندها، ثم ضحك، فقالت : لم تضحك يا رسول الله؟ فقال : ناس من أمتي يركبون البحر الـأخضر فى سبيل الله، مثلهم مثل الملوك على الـأسرة .
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن (سیدہ ام حرام ) بنت ِ ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور وہاں ٹیک لگا کر بیٹھ گئے، (اسی حالت میں سو گئے ) پھر آپ (بیدار ہوئے اور ) مسکرائے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کیوں مسکرائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں کچھ لوگ جہاد کے لیے سبز سمندر میں سفر کریں گے۔ وہ تختوں پر براجمان بادشاہوں کی طرح ہوں گے۔“ [ صحيح البخاري : 403/1، ح : 2877، 2878، صحيح مسلم : 142-141/2، ح : 1912]

صحیح مسلم میں ہے کہ اس سمندری جہاد کی سعادت و قیادت اور فضیلت بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی۔ اس بات پر امت کا اجماع و اتفاق ہے کہ پہلا لشکر جس نے بحری جہاد کیا، اس کے کمانڈر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ اس حدیث سے آپ رضی اللہ عنہ کی منقبت و فضیلت کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ ثابت ہوا کہ یقیناً آپ رضی اللہ عنہ کو جنت کی سند حاصل ہے۔

◈ امامِ اندلس، علامہ، ابن عبدالبر رحمہ اللہ (463-368 ھ) فرماتے ہیں :
وفيه فضل لمعاوية رحمه الله، إذ جعل من غزا تحت رايته من الـأولين، ورؤيا الـأنبياء، صلوات الله عليهم، وحي .
’’ اس حدیث میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بوحی الٰہی) ان کی کمان میں جہاد کرنے والوں کو اولین قرار دیا ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام کے خواب وحی ہی ہوتے ہیں۔“ [التمهيد لما فى المؤطإ من المعاني والأسانيد : 235/1 ]

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں
❀ سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوعمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا : اللهم اجعله هاديا مهديا، واهده، واهد به، ولا تعذبه .
’’ اے اللہ ! معاویہ کو ہدایت یافتہ اور ہدایت کنندہ بنا۔ ان کو بھی ہدایت دے اور ان کے ذریعے لوگوں کو بھی۔ ان کو عذاب سے بچا۔“ [مسند الإمام أحمد : 216/4، سنن الترمذي : 3842، وقال : حسن غريب، التاريخ الكبير للبخاري : 240/5، الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم : 1129، الشريعة للآجري : 1914، والسياق له، تاريخ بغداد للخطيب : 208-207/1، وسنده حسن]

❀ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
كنت ألعب مع الصبيان، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتواريت خلف باب، قال : فجائ، فحطأني حطأة، وقال : ’اذهب، وادع لي معاوية‘، قال : فجئت، فقلت : هو يأكل، قال : ثم قال لي : ’اذهب، فادع لي معاوية‘، قال : فجئت، فقلت : هو يأكل، فقال : ”لا أشبع الله بطنه “ .
’’ میں بچوں کے ساتھ کھیل میں مصروف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں ایک دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پیار سے ) میرے کندھوں کے درمیان تھپکی لگائی اور فرمایا : جاؤ اور معاویہ کو میرے پاس بلاؤ۔ میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوبارہ فرمایا کہ جاؤ اور معاویہ کو میرے پاس بلاؤ۔ میں دوبارہ گیا تو وہ ابھی کھانا ہی کھا رہے تھے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان کے پیٹ کو نہ بھرے۔“ [صحيح مسلم : 325/2، ح : 2604]

یہ حدیث سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کرتی ہے۔ اس سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلام بطور بددعا نہیں تھا، بلکہ بطور مزاح اور بطور تکیہ کلام تھا۔ کلامِ عرب میں ایسی عبارات کا بطور مزاح یا بطورِ تکیہ کلام استعمال ہونا ایک عام بات ہے۔ عربی لغت و ادب کے ادنیٰ طلبہ بھی اس سے واقف ہیں۔

◈ مشہور لغوی، شارحِ مسلم، حافظ یحییٰ بن شرف نووی رحمہ اللہ (676-631 ھ) فرماتے ہیں :
إن ما وقع من سبه ودعائه ونحوه، ليس بمقصود، بل هو مما جرت به عادة العرب فى وصل كلامها بلا نية، كقوله : ”تربت يمينك“، ”وعقرٰي حلقٰي‘، وفي هٰذا الحديث : ”لا كبرت سنك“، وفي حديث معاوية : ”لا أشبع الله بطنه“، ونحو ذٰلك، لا يقصدون بشيئ من ذٰلك حقيقة الدعاء .
’’ بعض احادیث میں (صحابہ کرام کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو بددعا وغیرہ منقول ہے، وہ حقیقت میں بددعا نہیں، بلکہ یہ ان باتوں میں سے ہے جو عرب لوگ بغیر نیت کے بطور تکیہ کلام بول دیتے ہیں۔ (بعض احادیث میں کسی صحابی کو تعلیم دیتے ہوئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ تربت يمينك (تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو)، (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ ) عقرى حلقي (تو بانجھ ہو اور تیرے حلق میں بیماری ہو)، اس حدیث میں یہ فرمان کہ لا كبرت سنك (تیری عمر زیادہ نہ ہو) اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ لا اشبع الله بطنه (اللہ تعالیٰ ان کا پیٹ نہ بھرے )، یہ ساری باتیں اسی قبیل سے ہیں۔ ایسی باتوں سے اہل عرب بددعا مراد نہیں لیتے۔“ [شرح صحيح مسلم: 152/16]

◈ مشہورلغوی، ابومنصور، محمد بن احمد، ازہری (م : 370 ھ) ایسے کلمات کے بارے میں : مستند لغوی ابوعبید سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وهٰذا علٰي مذهب العرب فى الدعائ على الشيئ من غير إرادة لوقوعه، لا يراد به الوقوع .
’’ ایسی باتیں عربوں کے اس طریقے کے مطابق ہیں، جس میں وہ کسی کے بارے میں بددعا کرتے ہیں لیکن اس کے وقوع کا ارادہ نہیں کرتے، یعنی بددعا کا پورا ہو جانا مراد ہی نہیں ہوتا۔“ [تهذيب اللغة : 145/1]

شارحِ صحیح بخاری، علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (م : 449 ھ) اس طرح کی ایک عبارت کے بارے میں فرماتے ہیں :
هي كلمة لا يراد بها الدعائ، وإنما تستعمل فى المدح، كما قالوا للشاعر، إذا أجاد، : قاتله الله، لقد أجاد .
’’ یہ ایسا کلمہ ہے کہ اس سے بددعا مراد نہیں ہوتی۔ اسے صرف تعریف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ جب کوئی شاعر عمدہ شعر کہے تو عرب لوگ کہتے ہیں : قاتله الله ”اللہ تعالیٰ اسے مارے“، اس نے عمدہ شعر کہا ہے۔“ [شرح صحيح البخاري : 329/9]

صحیح مسلم کی یہ حدیث اسی معنی و مفہوم کی مؤید ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
كانت عند أم سليم يتيمة، وهى أم أنس، فرآي رسول الله صلى الله عليه وسلم اليتيمة، فقال : ’آنت هيه؟ لقد كبرت، لا كبر سنك‘، فرجعت اليتيمة إلٰي أم سليم تبكي، فقالت أم سليم : ما لك يا بنية؟ قالت الجارية : دعا على نبي الله صلى الله عليه وسلم، أن لا يكبر سني، فالآن لا يكبر سني أبدا، أو قالت : قرني، فخرجت أم سليم مستعجلة تلوث خمارها، حتٰي لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم : ’ما لك يا أم سليم؟‘ فقالت : يا نبي الله ! أدعوت علٰي يتيمتي، قال : وما ذاك يا أم سليم ؟ قالت : زعمت أنك دعوت أن لا يكبر سنها، ولا يكبر قرنها، قال فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال : ’يا أم سليم ! أما تعلمين أن شرطي علٰي ربي، أني اشترطت علٰي ربي، فقلت : إنما أنا بشر، أرضٰي كما يرضي البشر، وأغضب كما يغضب البشر، فأيما أحد دعوت عليه، من أمتي، بدعوة ليس لها بأهل، أن يجعلها له طهورا وزكاة، وقربة يقربه بها منه يوم القيامة‘ .
’’ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جو کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں، ان کے ہاں ایک لڑکی، تھی۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو دیکھا تو فرمایا : یہ تو ہے ؟ تو تو بڑی ہو گئی ہے۔ تیری عمر بڑی نہ ہو۔ یہ سن کر وہ لڑکی روتی ہوئی سیدہ ام سلیم کی طرف دوڑی۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا : بیٹی ! تجھے کیا ہوا ؟ اس نے عرض کیا : میرے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا فرما دی ہے کہ میری عمر نہ بڑھے۔ اب تو میری عمر کبھی نہیں بڑھے گی۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جلدی سے اپنی چادر زمین پر گھسیٹتے ہوئے گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ام سلیم ! آپ کو کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! آپ نے اس لڑکی کے لیے بددعا فرمائی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بات کیا ہے ؟ عرض کیا : لڑکی کہتی ہے کہ آپ نے اس کو یہ بددعا دی ہے کہ اس کی عمر نہ بڑھے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : ام سلیم ! کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے اپنے رب سے یہ شرط منظور کرائی ہے اور دُعا کی ہے کہ میں ایک انسان ہوں، انسانوں کی طرح راضی بھی ہوتا ہوں اور ناراض بھی۔ لہٰذا جس کے لیے بھی میں بددعا کر دوں جس کا وہ مستحق نہ ہو، تو اس بددعا کو اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور طہارت بنا دے، نیز اس بددعا کو روزِ قیامت اپنے تقرب کا ذریعہ بنا دے۔“ [صحيح مسلم : 2603]

اب کوئی بتائے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو کسی ناراضی یا غصہ کی بنا پر یہ الفاظ کہے تھے، جو اس لڑکی اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے لیے پریشانی کا سبب بھی بن گئے ؟ اور کیا ان الفاظ سے اس لڑکی کی کوئی تنقیص ثابت ہوتی ہے ؟ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ یہ الفاظ بطور بددعا نہیں تھے اور ایسے الفاظ یقیناً سننے والے کے لیے بسا اوقات پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کر دی کہ اللہ تعالیٰ ایسے الفاظ کو مخاطبیں کے لیے اجر و ثواب اور اپنے تقرب کا ذریعہ بنا دے۔

امام مسلم رحمہ اللہ نے اسی حدیث کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ نقل فرمائے ہیں کہ : لا اشبع الله بطنه ’’ اللہ تعالیٰ ان کا پیٹ نہ بھرے۔“
یوں یہ الفاظ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے باعث تقرب الٰہی اور باعث منقبت و فضیلت ہیں۔ علمائے اہل سنت و اہل حق کا یہی فہم ہے۔
◈ اسی لیے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں :
فركب مسلم من الحديث الـأول، وهٰذا الحديث فضيلة لمعاوية .
’’ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو پہلی حدیث کے متصل بعد ذکر کیا ہے۔ یوں اس حدیث سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔“ [البداية والنهاية : 120-119/8]

◈ وکیل صحابہ، شارحِ صحیح مسلم، حافظ نووی رحمہ اللہ (676-631 ھ) فرماتے ہیں :
وقد فهم مسلم رحمه الله من هٰذا الحديث أن معاوية لم يكن مستحقا للدعائ عليه، فلهٰذا أدخله فى هٰذا الباب، وجعله غيره من مناقب معاوية، لأنه فى الحقيقة يصير دعاء له .
’’ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث سے یہ فہم لیا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بددعا کے مستحق نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو اس باب میں ذکر کیا ہے۔ امام مسلم کے علاوہ دیگر اہل علم نے بھی اس حدیث کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مناقب میں شامل کیا ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ حقیقت میں ان کے لیے دُعا بن گئے تھے۔“ [شرح صحيح مسلم : 156/16]

یہ تو بات تھی ان الفاظ کے بارے میں جو بطور مدح وتکیہ کلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے صادر ہوئے تھے، جبکہ معاملہ اس سے بھی کہیں آگے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن صحابہ کرام کے لیے بتقاضائے بشریت حقیقی بددعا کر دی، اللہ تعالیٰ نے اس بددعا کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے ان کے لیے باعث رحمت بنا دیا، جیسا کہ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے :
اللهم ! إنما أنا بشر، فأيما رجل من المسلمين سببته، أو لعنته، أو جلدته، فاجعلها له زكاة ورحمة
’’ اے اللہ ! میں ایک بشر ہوں، لہٰذا مسلمانوں میں سے جس شخص کو میں برا بھلا کہوں یا اس کے لیے بددعا کروں یا اسے ماروں تو ان چیزوں کو اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔“ [صحيح مسلم : 89/2601]

❀ ایک روایت (صحيح مسلم : 91/2601) میں یہ الفاظ ہیں :
اللهم ! إنما محمد بشر، يغضب كما يغضب البشر، وإني قد اتخذت عندك عهدا لن تخلفنيه، فأيما مؤمن آذيته، أو سببته، أو جلدته، فاجعلها له كفارة، وقربة، تقربه بها إليك يوم القيامة
’’ اے اللہ ! بلاشبہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بشر ہیں، انہیں انسانوں کی طرح غصہ آ جاتا ہے۔ میں نے تجھ سے ایسا وعدہ لیا ہوا ہے، جس کو تو نہیں توڑے گا۔ وہ یہ ہے کہ جس مؤمن کو میں تکلیف دوں یا اسے برا بھلا کہوں یا اسے ماروں، تو ان چیزوں کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دے اور روزِ قیامت دے ان چیزوں کو اس کے لیے اپنے تقرب کا ذریعہ بنا دے۔“

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
دخل علٰي رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلان، فكلماه بشيئ، لا أدري ما هو، فأغضباه، فلعنهما، وسبهما، فلما خرجا، قلت : يا رسول الله ! من أصاب من الخير شيئا، ما أصابه هذان، قال : ’وما ذاك؟‘ قالت : قلت : لعنتهما وسببتهما، قال : ’أو ما علمت ما شارطت عليه ربي؟‘، قلت : ’اللهم ! إنما أنا بشر، ف أى المسلمين لعنته، أو سببته، فاجعله له زكاة وأجرا‘ .
’’ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کی میں وہ بات سمجھ نہیں پائی۔ ان کی بات کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا۔ آپ نے ان کو برا بھلا کہا اور بددعا دی۔ جب وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے گئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا اتنی تکلیف بھی کسی کو پہنچی ہو گی جتنی ان کو پہنچی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا مطلب ؟ میں نے عرض کیا : آپ نے انہیں برا بھلا کہا اور بددعا دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا آپ کو وہ شرط معلوم ہے جو میں نے اپنے رب پر رکھی ہے ؟ میں نے اپنے رب سے یہ شرط رکھی ہے کہ اے اللہ ! میں ایک بشر ہوں، لہٰذا جس مسلمان کو میں بددعا دوں یا برا بھلا کہوں، تو اسے اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور اجر کا باعث بنا دے۔“ [صحيح مسلم : 2600]

ثابت ہوا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے میں کسی صحابی کے لیے حقیقی بددعا بھی کر دی تو وہ بھی اس صحابی کے لیے اجر و ثواب اور مغفرت و تقرب الٰہی کا باعث بن گئی۔ چہ جائیکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناراض ہونے کی کوئی دلیل بھی نہیں۔

اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تاخیر کی بنا پر غصے میں یہ الفاظ کہے تو بھی ہماری ذکر کردہ احادیث کی روشنی میں یہ الفاظ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت اور تقربِ الٰہی کی بین دلیل ہیں۔

اس حدیث کا سیاق بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت پر دلالت کرتا ہے، مسند طیالسی ( 2869، وسندہ صحیح ) میں اسی حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
إن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم بعث إلٰي معاوية، يكتب له .
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ کے لیے وحی کی کتابت کریں۔“
یعنی اس حدیث سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا کاتب وحی ہونا ثابت ہو رہا ہے، جو کہ باجماعِ امت بہت بڑی فضیلت و منقبت اور شرف ہے۔ اسی لیے :
حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ (571-499 ھ) اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں :
وأصح ما روي فى فضل معاوية .
’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں مروی سب سے صحیح حدیث یہی ہے۔“ [تاريخ دمشق : 106/59، البداية والنهاية لابن كثير : 131/8]

◈ مشہور اہل حدیث عالم، علامہ، ناصرالدین، البانی رحمہ اللہ (1420-1332 ھ) فرماتے ہیں :
وقد يستغل بعض الفرق هٰذا الحديث، ليتخذوا منه مطعنا فى معاوية رضي الله عنه، وليس فيه ما يساعدهم علٰي ذٰلك، كيف؟ وفيه أنه كان كاتب النبى صلى الله عليه وسلم؟
’’ بعض گمراہ فرقے اس حدیث کو غلط استعمال کرتے ہوئے اس سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اس حدیث میں ایسی کوئی بات نہیں جو ان کی تائید کرتی ہو۔ اس حدیث سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص کیسے ثابت ہو گی، اس میں تو یہ ذکر ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب ِ وحی تھے ؟۔“ [سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها : 82]
اتنی تصریحات کے بعد بھی اگر کوئی شخص اس حدیث کی فضیلت کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت کی دلیل نہ مانے تو اس سے بڑا ظالم اور جاہل کوئی نہیں۔

➋ سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا :
اللهم ! علمه الكتاب والحساب، وقه العذاب .
’’ اے اللہ ! انہیں قرآنِ کریم کی تفسیر اور حساب سکھا دے اور ان کو عذاب سے بچا لے۔“ [مسند الإمام أحمد : 127/4، الشريعة للآجري : 1973-1970، وسنده حسن]
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (1938) اور امام ابن حبان (7210) نے ’’ صحیح“ قرار دیا ہے۔
اس کا راوی حارث بن زیاد شامی جمہور کے نزدیک ’’ حسن الحدیث“ ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
للحديث شاهد قوي . ’’ اس حدیث کا ایک قوی شاہد بھی موجود ہے۔“ [سير أعلام النبلاء : 124/3]

علم وفقہ اور خوبیاں

ابن ابوملیکہ تابعی بیان کرتے ہیں :
قيل لابن عباس : هل لك فى أمير المؤمنين معاوية؟ فإنه ما أوتر إلا بواحدة، قال : أصاب، إنه فقيه .
’’ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ آپ امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ انہوں نے صرف ایک رکعت وتر ادا کیا ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا : انہوں نے درست کیا ہے، بلاشبہ وہ فقیہ ہیں۔“ [صحيح البخاري : 351/1، ح : 3765]

❀ ایک روایت میں یوں ہے :
أوتر معاوية بعد العشاء بركعة، وعنده مولي لابن عباس، فأتي ابن عباس، فقال : دعه، فإنه قد صحب رسول الله صلى الله عليه وسلم .
’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نماز عشاءکے بعد ایک رکعت وتر ادا فرمایا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا غلام ان کے پاس تھا۔ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا (اور یہ بات بتائی ) تو انہوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں۔ بلاشبہ معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔“ [صحيح البخاري : 351/1، ح : 3764]

❀ سیدنا سعد بن ابووقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
ما رأيت أحدا بعد عثمان أقضٰي بحق من صاحب هٰذا الباب، يعني معاوية .
’’ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر حق کے مطابق فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔“ [تاريخ دمشق ابن عساكر : 161/59، وسنده حسن]

❀ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں :
ما رأيت أحدا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أسود من معاوية .
’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر شان و شوکت والا کوئی نہیں دیکھا۔“ [تاريخ دمشق لابن عساكر : 173/59، وسنده حسن]

❀ سیدنا ابو درداء رضی اللہ فرماتے ہیں :
ما رأيت أحدا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم، أشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم أميركم هٰذا، يعني معاوية .
’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم والی نماز پڑھنے والا کوئی نہیں دیکھا۔“ [الفوائد المنتقاة للسمرقندي : 67، وسنده صحيح ]

◈ ربیع بن نافع، ابوتوبہ، حلبی فرماتے ہیں :
معاوية ستر لأصحاب النبى صلى الله عليه وسلم، فإذا كشف الرجل الستر اجترأ علٰي ما وراءه .
’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اصحابِ رسول کے لیے پردہ ہیں۔ جب کوئی شخص پردے کو ہٹا دیتا ہے تو پردے کے پیچھے والی چیزوں پر جسارت کرنے لگتا ہے۔“ [تاريخ بغداد للخطيب : 209/1، تاريخ دمشق لابن عساكر : 209/59، وسنده حسن]

◈ امام محمد بن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
عمل معاوية بسيرة عمر بن الخطاب سنين، لا يخرم منها شيئا .
’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سالہا سال سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سیرت پر یوں عمل کیا کہ اس میں ذرا برابر بھی کوتاہی نہیں کی۔“ [السنة لأبي بكر الخلال : 683، وسنده صحيح ]

◈ جلیل القدرتابعی ابومسلم خولانی رحمہ اللہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :
أما بعد ! فلا والله، ما أبغضناك منذ أحببناك، ولا عصيناك منذ أطعناك، ولا فارقناك منذ جامعناك، ولا نكثنا بيعتنا منذ بايعناك، سيوفنا علٰي عواتقنا، إن أمرتنا أطعناك، وإن دعوتنا أجبناك، وإن سبقتنا أدركناك، وإن سبقناك نظرناك .
’’ اللہ کی قسم ! ہم نے جب سے محبت کرنا شروع کی ہے، آپ سے نفرت نہیں کی۔ جب سے آپ کی اطاعت میں آئے ہیں، نافرمانی نہیں کی۔ جب سے ملے ہیں، آپ سے جدا نہیں ہوئے۔ جب سے آپ کی بیعت کی ہے، بیعت نہیں توڑی۔ ہماری تلواریں کندھوں پر ہیں، اگر آپ کا حکم ہوا تو ہم سرموانحراف نہیں کریں گے۔ اگرآپ نے پکارا تو لبیک کہیں گے۔ اگر آپ ہم سے آگے نکل گئے تو ہم آپ کے پیچھے جائیں گے اور اگر ہم آگے نکل گئے تو آپ کا انتظار کریں گے۔“ [مسائل الإمام أحمد برواية ابنه أبي الفضل صالح : 330، وسنده حسن]

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور خلافت و ملوکیت

◈ شمس الدین، ابوعبداللہ، محمد بن احمد بن عثمان، المعروف حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748-673 ھ) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان الفاظ سے خراجِ عقیدت پیش فرماتے ہیں :
أمير المؤمنين، ملك الإسلام .
’’ امیر المؤمنین اور شاہِ اسلام۔“ [ سير أعلام النبلاء : 120/3]

◈ حبر امت اور ترجمانِ قرآن، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
ما رأيت رجلا أخلق للملك من معاوية .
’’ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اقتدار کے لیے موزوں شخص نہیں دیکھا۔“ [الأمالي من آثار الصحابة للإمام عبد الرزاق : 97، السنة لأبي بكر الخلال : 637، مجموع فيه مصنفات لأبي العباس الأصم : 578 (162)، وسنده صحيح]

❀ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنكم فى نبوة ورحمة، وستكون خلافة ورحمة، ثم يكون كذا وكذا، ثم يكون ملكا عضوضا، يشربون الخمور، ويلبسون الحرير، وفي ذٰلك ينصرون إلٰي أن تقوم الساعة
’’ تمہارے پاس نبوت اور رحمت رہے گی اور عنقریب خلافت اور رحمت آئے گی، پھر ایسا اور ایسا ہو گا (بادشاہت اور رحمت آئے گی )، پھر کاٹ کھانے والی بادشاہت آئے گی۔ لوگ شرابیں پئیں گے اور ریشم پہنیں گے، لیکن اس کے باوجود قیامت تک وہ منصور رہیں گے۔“ [المعجم الأوسط للطبراني : 345/6، ح : 6581، وسنده حسن]

یعنی خلافت کے بعد ایک خاص زمانہ، جسے كذاوكذا سے تعبیر کیا گیا ہے اور وہ ہے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بادشاہت کا زمانہ۔ اس کے بعد جا کر کاٹ کھانے والی ملوکیت کا دور شروع ہو گا۔ لہٰذا جن روایات میں خلافت کے بعد ملک عضوض کا ذکر ہے، وہ اختصار پر مبنی ہیں۔ اس کی تائید ایک دوسری صریح روایت سے ہوتی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أول هٰذا الـأمر نبوة ورحمة، ثم يكون خلافة ورحمة، ثم يكون ملكا ورحمة، ثم يكون إمارة ورحمة .
’’ پہلے نبوت اور رحمت ہے، پھر خلافت اور رحمت ہو گی، پھر بادشاہت اور رحمت ہو گی، پھر امارت اور رحمت ہو گی۔“ [المعجم الكبير للطبراني : 88/11، ح : 11138، السلسلة الصحيحة : 3270، وسنده حسن]
اور اسی کی تائید اجماعِ امت سے ہوتی ہے، جیساکہ :
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس حدیث کی روشنی میں فرماتے ہیں :
فكانت نبوة النبى صلى الله عليه وسلم نبوة ورحمة، وكانت خلافة الخلفاء الراشدين خلافة نبوة ورحمة، وكانت إمارة معاوية ملكا ورحمة، وبعده وقع ملك عضوض .
’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، نبوت و رحمت تھی۔ خلفاء راشدین کی خلافت، خلافت نبوت اور رحمت تھی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت رحمت والی بادشاہت تھی۔ اس کے بعد کاٹ کھانے والی بادشاہت شروع ہو گئی۔“ [جامع المسائل : 154/5]

◈ نیز فرماتے ہیں :
واتفق العلمائ علٰي أن معاوية أفضل ملوك هٰذه الـأمة، فإن الـأربعة قبله كانوا خلفاء نبوة، وهو أول الملوك، كان ملكه ملكا ورحمة، كما جائ فى الحديث ……….، وكان فى ملكه من الرحمة والحلم ونفع المسلمين ما يعلم أنه كان خيرا من ملك غيره .
’’ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس امت کے سب سے افضل بادشاہ تھے۔ آپ سے پہلے چاروں حکمران خلفائے نبوت تھے۔ آپ ہی سب سے پہلے بادشاہ ہوئے۔ آپ کی حکمرانی باعث رحمت تھی، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔ آپ کی بادشاہت مسلمانوں کے لیے اتنی فائدہ مند تھی اور اس میں اتنی رحمت و برکت تھی کہ اس کے دنیا کی سب سے اچھی بادشاہت ہونے کے لیے یہی دلیل کافی ہے۔“ [مجموع الفتاوٰي : 478/4 ]
یعنی یہ اجماعی بات ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت و ملوکیت باعث رحمت تھی۔ ملوکیت عضوض (کاٹ کھانے والی بادشاہت ) آپ کے دور اقتدار کے بعد میں شروع ہوئی۔

◈ صدرالدین، محمد بن علاء الدین علی، امام ابن ابوالعز حنفی (792-731 ھ) فرماتے ہیں :
وأول ملوك المسلمين معاوية رضی اللہ عنہ، وهو خير ملوك المسلمين .
’’ مسلمانوں کے سب سے پہلے اور افضل بادشاہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔“ [ شرح العقيدة الطحاوية، ص : 722 ]

◈ سنی مفسر، ابوفداء، اسماعیل بن عمر، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وأجمعت الرعايا علٰي بيعته فى سنة إحدٰي وأربعين، كما قدمنا، فلم يزل مستقلا بالـأمر فى هٰذه المدة إلٰي هٰذه السنة التى كانت فيها وفاته، والجهاد فى بلاد العدو قائم، وكلمة الله عالية، والغنائم ترد إليه من أطراف الـأرض، والمسلمون معه فى راحة وعدل، وصفح وعفو .
تمام رعایا نے 41 ہجری میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت پر اجماع کیا، جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنی وفات (60 ہجری ) تک خود مختار حکمران رہے۔ آپ کے دور میں دشمنان اسلام کے علاقوں میں جہاد جاری تھا، کلمہ اللہ بلند تھا اور اطراف زمین سے مال غنیمت آ رہا تھا۔ مسلمان آپ کی حکومت میں خوش و خرم تھے، انہیں عدل و انصاف مہیا تھا اور حکومت کا ان کے ساتھ نہایت شفقت و درگزر والا سلوک تھا۔“ [البداية والنهاية : 119/8 ]

◈ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمانِ باری تعالیٰ :
ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لوليه سلطانا [بني إسرائيل17 : 33]
” اور جو شخص ظلم سے قتل کر دیا جائے، ہم نے اس کے ولی کو اختیار دیا ہے“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
وقد أخذ الإمام الحبر ابن عباس من عموم هٰذه الـآية الكريمة ولاية معاوية السلطنة، أنه سيملك، لأنه كان ولي عثمان .
’’ حبر امت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کریمہ کے عموم سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولایت ثابت کی ہے کہ وہ عنقریب حکمران بنیں گے، کیونکہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ولی تھے۔“ [تفسير ابن كثير : 142/4، بتحقيق عبد الرزاق المهدي]

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کی یہ بات بلادلیل نہیں، اس کے لیے یہ روایت ملاحظہ فرمائیں :
◈ ثقہ تابعی، ابومسلم، زہدم بن مضرب جرمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كنا فى سمر ابن عباس، فقال : إني محدثكم بحديث، ليس بسر ولا علانية، إنه لما كان من أمر هٰذا الرجل ما كان، يعني عثمان، قلت لعلي : اعتزل، فلو كنت فى جحر طلبت حتٰي تستخرج، فعصاني، وايم الله ! ليتأمرن عليكم معاوية، وذٰلك أن الله عز وجل يقول : ﴿ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لوليه سلطانا فلا يسرف فى القتل إنه كان منصورا﴾ [الإسرائ17: 33 ]
’’ ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس رات کی محفل میں شریک ہوئے۔ انہوں نے فرمایا : میں تمہیں ایسی بات بیان کرنے والا ہوں جو نہ مخفی ہے نہ ظاہر۔ جب عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا معاملہ ہوا تو میں نے علی رضی اللہ سے کہا: اس معاملے سے دُور رہیں، اگر آپ کسی بل میں بھی ہوں گے تو (خلافت کے لیے ) آپ کو تلاش کر کے نکال لیا جائے گا، لیکن انہوں نے میری بات نہیں مانی۔ اللہ کی قسم ! معاویہ رضی اللہ عنہ ضرور تمہارے حکمران بنیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لوليه سلطانا فلا يسرف فى القتل إنه كان منصورا﴾ اور جو شخص ظلم سے قتل کر دیا جائے، ہم نے اس کے ولی کو اختیار دیا ہے، وہ قتل کرنے میں زیادتی نہ کرے، اس کی ضرور مدد کی جائے گی۔“ [المعجم الكبير للطبراني : 320/10، وسنده حسن]

◈ معروف مؤرخ، حافظ محمد بن سعد، المعروف ابن سعد رحمہ اللہ (230-168 ھ) فرماتے ہیں :
فكانت ولايته على الشام عشرين سنة أميرا، ثم بويع له بالخلافة، واجتمع عليه بعد على بن أبي طالب رضي الله عنه، فلم يزل خليفة عشرين سنة حتٰي مات ليلة الخميس، للنصف من رجب، سنة ستين .
’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیس سال تک شام کے گورنر رہے، پھر ان کی خلافت پر بیعت ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد امت مسلمہ کا ان پر اتفاق ہو گیا۔ وہ بیس سال خلیفہ رہے اور آخرکار 15 رجب، 30 ہجری کو جمعرات کی رات وفات پا گئے۔“ [الطبقات الكبرٰي لابن سعد : 285/7]

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن

بعض لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرتے ہیں، حالانکہ صحابہ کرام کو برا کہنے والا خود برا ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ گرامی ہے :
لا تسبوا أحدا من أصحابي
’’ میرے کسی صحابی کو برا بھلا نہ کہو۔“ [صحيح مسلم : 2541]

عظیم تابعی، امام حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن زبیر کو برا بھلا کہتے ہیں اور ان پر لعنت کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا :
علٰي أولٰئك الذين يلعنون، لعنة الله .
’’ ان پر لعنت کرنے والے اللہ کی لعنت کے مستحق ہیں۔“ [تاريخ دمشق لابن عساكر : 206/59، وسنده صحيح]

◈ ابراہیم بن میسرہ کہتے ہیں :
ما رأيت عمر بن عبد العزيز ضرب إنسانا قط، إلا إنسانا شتم معاوية، فإنه ضربه أسواطا .
’’ میں نے امام عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو کبھی کسی انسان کو مارتے ہوئے نہیں دیکھا، انہوں نے صرف اس شخص کو کوڑے مارے جس نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا تھا۔“ [تاريخ دمشق لابن عساكر : 211/59، وسنده حسن]

◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728-661ه) فرماتے ہیں :
فمن لعنهم، فقد عصي الله ورسوله .
’’ جس نے صحابہ کرام پر لعنت کی، وہ اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔“ [مجموع الفتاوٰي : 66/35 ]

◈ نیز فرماتے ہیں :
من لعن أحدا من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم، كمعاوية ابن أبي سفيان، وعمرو بن العاص، ونحوهما، فإنه مستحق للعقوبة البليغة باتفاق أئمة الدين .
’’ جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب، سیدنا معاویہ اور عمرو بن عاص وغیرہم رضی اللہ عنہم پر لعنت کرتا ہے، وہ باتفاقِ ائمہ دین سخت سزا کا مستحق ہے۔“ [مجموع الفتاوٰي : 58/35]

◈ مزید فرماتے ہیں :
ومعاوية لم يدع الخلافة، ولم يبايع له بها حين قاتل عليا، ولم يقاتل علٰي أنه خليفة، ولا أنه يستحق الخلافة، ويقرون له بذٰلك، وقد كان معاوية يقر بذٰلك لمن سأله عنه، ولا كان معاوية وأصحابه يرون أن يبتدوا عليا وأصحابه بالقتال ولا يعلوا .
’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت طلب نہیں کی تھی، نہ ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی کے وقت ان کی خلافت پر بیعت کی گئی تھی۔ انہوں نے اس بنا پر لڑائی نہیں کی تھی کہ وہ خلیفہ ہیں یا خلافت کے مستحق ہیں۔ البتہ صحابہ کرام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اقراری تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بھی جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ ان کی خلافت کا اقرار کرتے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے لڑائی کرنے یا ان پر غلبہ حاصل کرنے کے خواہاں نہیں تھے۔“ [مجموع الفتاوٰي : 72/35]

فائدہ : جلیل القدر تابعی، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إن المسور بن مخرمة أخبره : أنه قدم وافدا علٰي معاوية بن أبي سفيان، فقضٰي حاجته، ثم دعاه فأخلاه، فقال : يا مسور ! ما فعل طعنك على الأئمة؟ فقال المسور : دعنا من هٰذا، وأحسن فيما قدمنا له، قال معاوية : لا، والله ! ولتكلمن بذات نفسك، والذي تعيب علي، قال المسور : فلم أترك شيئا أعيبه عليه إلا بينته له، قال معاوية : لا برئ من الذنب، فهل تعد يا مسور ! ما نلي من الإصلاح فى أمر العامة، فإن الحسنة بعشر أمثالها ؟ أم تعد الذنوب وتترك الحسنات ؟ قال المسور : لا، والله ! ما نذكر إلا ما ترٰي من هٰذه الذنوب، قال معاوية : فإنا نعترف للٰه بكل ذنب أذنبناه، فهل لك يا مسور ! ذنوب فى خاصتك، تخشٰي أن تهلكك إن لم يغفرها الله ؟ قال مسور : نعم، قال معاوية : فما يجعلك أحق أن ترجو المغفرة مني ؟ فوالله لما ألي من الإصلاح أكثر مما تلي، ولكن والله لا أخير بين أمرين، بين الله وبين غيره، إلا اخترت الله تعالٰي علٰي ما سواه، وإنا علٰي دين يقبل الله فيه العمل، ويجزي فيه بالحسنات، ويجزي فيه بالذنوب، إلا أن يعفو عمن يشائ، فأنا أحتسب كل حسنة عملتها بأضعافها، وأوازي أمورا عظاما لا أحصيها ولا تحصيها، من عمل للٰه فى إقامة صلوات المسلمين، والجهاد فى سبيل الله عز وجل، والحكم بما أنزل الله تعالٰي، والـأمور التى لست تحصيها وإن عددتها لك، فتفكر فى ذٰلك، قال المسور : فعرفت أن معاوية قد خصمني حين ذكر لي ما ذكر، قال عروة : فلم يسمع المسور بعد ذٰلك يذكر معاوية إلا استغفر له .
’’ سیدنا مسور بن محرمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بیان کیا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس قاصد بن کر گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کا کام کر دیا، پھر انہیں علیحدہ بلا کر فرمایا : مسور ! حکمرانوں پر تمہاری عیب جوئی کا کیا بنا ؟ مسور کہنے لگے : اس بات کو چھوڑیں اور ہمارے موجودہ طرز عمل کی بنا پر ہم سے حسن سلوک روا رکھیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں، اللہ کی قسم ! تمہیں ضرور اپنے دل کی بات کہنا ہو گی اور اپنے خیال کے مطابق میرے عیوب بیان کرنا ہوں گے۔ مسور کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دل کی تمام بھڑاس نکال ڈالی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کوئی انسان (ماسوائے انبیاء) غلطی سے معصوم نہیں۔ اے مسور ! عوام کے معاملے میں جو اصلاحات ہم نے کی ہیں، کیا آپ انہیں کچھ وقعت دیتے ہیں ؟ نیکی تو دس گنا شمار ہوتی ہے۔ کیا آپ غلطیوں کو شمار کرتے ہیں اور نیکیوں سے صرفِ نظر کرتے ہیں ؟ مسور نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم ! ہم تو صرف ان غلطیوں کا تذکرہ کرتے ہیں، جو نظر آتی ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم ہر اس غلطی کا اعتراف کرتے ہیں جو ہم سے ہوئی، لیکن اے مسور ! کیا تم سے اپنے خاص لوگوں کے بارے میں کوئی ایسی غلطی نہیں ہوئی، جس کو اگر اللہ معاف نہ کرے تو تمہیں اپنی ہلاکت کا ڈر ہو ؟ مسور کہتے ہیں : بالکل ہم سے ایسی غلطیاں ہوئی ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تمہیں اپنے بارے میں مجھ سے بڑھ کر مغفرت کی امید کیوں ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں تم سے بڑھ کر اصلاح کی کوشش میں رہتا ہوں اور اگر مجھے اللہ کی فرمانبرداری اور اس کی نافرمانی میں سے انتخاب کا اختیار دیا جائے تو میں ضرور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کو ترجیح دوں گا۔ ہم ایسے دین کے پیروکار ہیں جس کے مطابق اللہ تعالیٰ عمل کو قبول کرتا ہے، نیکی کی جزا دیتا ہے اور برائی کی سزا دیتا ہے، ہاں جسے چاہے معاف بھی کر دیتا ہے۔ میں نے جو بھی نیکیاں کی ہیں، مجھے ان کے کئی گنا ثواب کی امید ہے اور میں ان امور کو سامنے رکھتا ہوں جنہیں نہ میں شمار کر سکتا ہوں، نہ تم، مثلاً اللہ کی رضا کے لیے مسلمانوں میں نظام صلاۃ کا قیام، اللہ کے راستے میں جہاد، اللہ کے نازل کردہ نظام کا نفاذ اور اسی طرح کے دوسرے امور جن کو میں ذکر بھی کروں تو تم شمار نہیں کر پاؤ گے۔ اس بارے میں غور کرو۔ مسور کہتے ہیں : مجھے معلوم ہو گیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ سب کچھ بیان کر کے مجھے (میرے خیالات کو) مات دے دی ہے۔ عروہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب بھی سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا، انہوں نے ان کے لیے استغفار فرمایا۔“ [تاريخ بغداد للخطيب : 223/1، وسنده صحيح]

دعوت ِ فکر
مشاجرات ِ صحابہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک صاحب، محمد علی مرزا جہلمی کے نظریات ہم نے مسلمانوں کی خیرخواہی کے لیے بیان کیے تھے دیکھیے : darulaslaf.blogspot.com
اللہ شاہد ہے کہ ہماری کسی سے کوئی ذاتی عداوت نہیں، لیکن تمام صحابہ کرام کی حمایت و وکالت ہماری ایمانی مجبوری ہے۔ ماہنامہ السنۃ کے یہ دو خصوصی مضامین (مشاجرات صحابہ میں اہل حدیث کا موقف اور سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما) مرزا صاحب اور تمام اہل اسلام کی خدمت میں پر اخلاص دعوت فکر ہیں۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کو سمجھنے اور اسے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.