سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت کیوں؟

 از    August 18, 2014

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:”إن علیاً مني و أنا منہ وھو ولی کل مؤمن بے شک علی مجھ سے ہے اور میں اُن سے ہوں اور ہر مؤمن کے ولی ہیں۔ (الترمذی : ۳۷۱۲ و إسنادہ حسن)

یعنی رسول اللہ ﷺ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت کرتے ہیں اور علی رضی اللہ عنہ آپ سے محبت کرتے ہیں ۔ ہر مؤمن علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتاہے۔

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :”من کنت مولاہ فعلي مولاہ” جس کا میں مولیٰ ہوں تو علی اس کے مولی ہیں۔ (الترمذی : ۳۷۱۳ و سندہ صحیح)

لغت میں مخلص دوست کو مولیٰ کہتے ہیں۔ (دیکھئے القاموس الوحید ص :۱۹۰۰)

نبی کریم ﷺ نے زید بن حارثہ ؓ کو فرمایا: “أنت أخونا و مولانا” تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے ۔ (البخاری : ۲۶۹۹)

آپﷺ نے سیدنا جلیبیبؓ کے بارے میں فرمایا:”ھذا مني وأنا منہیہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ (صحیح مسلم : ۲۴۷۲/۱۳۱ و دارالسلام : ۶۳۵۸)

بعض روافض کا حدیثِ ولایت سے سیدنا علی ؓ کی خلافت بلافصل کا دعویٰ کرنا ان دلائل سابقہ و دیگر دلائل کی رُو  سے باطل ہے۔

ایک دفعہ سیدنا علیؓ بیمار ہوگئے تو نبی کریم ﷺ نے آپ کے لئے دعا فرمائی :”اللھم عافہ أو اشفہ اے اللہ اسے عافیت یا شفا عطا فرما،سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں کہ : میں اس کے بعد کبھی بیمار نہیں ہوا۔ (سنن الترمذی: ۳۵۶۴ وقال:”ھذا حدیث حسن صحیح“ و إسنادہ حسن)

مشہور تابعی ابو اسحاق السبیعی ؒ فرماتے ہیں کہ : میں نے آپ (امیر المؤمنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو منبر پر کھڑے دیکھا ۔ آپ کا سر اور داڑھی سفید تھی۔ (مصنف عبدالرزاق:۱۸۸/۳ ، ۱۸۹ح ۵۲۶۷ وسندہ صحیح)

اس سے معلوم ہوا کہ بالوں کو مہندی یا سرخ رنگ لگانا واجب (فرض) نہیں ہے۔

سیدنا ابوبکر الصدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: “ارقبوا محمداً ﷺ فی أھل بیتہ ” (سیدنا ) محمد ﷺ کی رضامندی  آپ ﷺ کے اہلِ بیت (کی محبت) میں تلاش کرو (صحیح البخاری : ۳۷۱۳)یعنی جو شخص سیدنا علی، سیدنا حسین، سیدنا حسن اور تمام صحابہ کرام ؓ سے محبت کرتا ہے تو قیامت کے دن وہ نبی کریم ﷺ کا ساتھی ہوگا۔

سیدنا زید بن ارقم ؓ نے فرمایا :”أول من أسلم علي سب سے پہلے علی (رضی اللہ عنہ)مسلمان ہوئے تھے۔ ابراہیم نخعی ؒ (تابعی صغیر) نے صحابی رسول کے اس قول کا انکار کرتے ہوئے کہا کہ : سب سے پہلے ابوبکر الصدیقؓ مسلمان ہوئے  تھے۔ (الترمذی : ۳۷۳۵ و قال :”ھذا حدیث حسن صحیح” وسندہ صحیح) یعنی بچوں میں سب سے پہلے سیدنا علی ؓمسلمان ہوئے اور مردوں میں سیدنا ابوبکر الصدیق ؓسب سے پہلے مسلمان ہوئے تھے ۔واللہ اعلم

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓفرماتے ہیں کہ :”أول من أسلم علي رضی اللہ عنہ
سب سے پہلے علی رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تھے۔ (معجم الصحابۃ للبغوی ج ۴ ص ۳۵۷ح ۱۸۱۰ وسندہ صحیح)

عروہ (بن الزبیر ، تابعی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں  کہ :علی ؓ آٹھ سال کی عمر میں مسلمان ہوئے تھے۔(معجم الصحابۃ للبغوی ج ۴ ص ۳۵۷ح ۱۸۱۰ وسندہ صحیح)

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ :”کنا نتحدث أن أفضل (أقضی) أھل المدینۃ علي بن أبي طالب” ہم باتیں کرتے تھے کہ اہلِ مدینہ میں سب سے افضل (اقضی) علی بن ابی طالب ہیں (فضائل الصحابہ للإمام أحمد ۶۰۴/۲ ح ۱۰۳۳وسندہ صحیح )

غزوۂ خبیر کے موقع پر مرحب یہودی کو للکار کر جواب دیتے ہوئے سیدنا علی ؓ نے فرمایا:أنا الذي سمتنی أمي حیدرۃ” میرا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے، میں وہ (حیدر/شیر) ہوں۔
(صحیح مسلم : ۸۰۷ا دارالسلام : ۴۷۸)

پھر آپؓ نے مرحب یہودی کو قتل کردیا اور فتح خیبر آپ ؓ کے ہاتھ پر ہوئی ۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ :رسول اللہ ﷺ ابوبکر ، عمر، علی ، طلحہ اور زبیر (رضی اللہ عنہم) حراء (پہاڑ) پر تھے کہ وہ (زلزلے کی وجہ سے) ہلنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رک جا، اس وقت تیرے اوپر نبی، صدیق اور شہید (ہی) کھڑے ہیں۔(صحیح مسلم : ۴۱۷ودارالسلام : ۶۲۴۷)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”من آذی علیاً فقد آدانيجس نے علی (رضی اللہ عنہ) کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔ (فضائل الصحابۃ/زیادات القطیعی: ۱۰۷۸) وسندہ حسن ولہ شاہد عندابن حبان، الموارد: ۲۲۰۲ و الحاکم ۱۲۳/۳ وصححہ و وافقہ الذہبی)

ایک دفعہ (بعض) لوگوں نے (سیدنا) علی ؓ کی شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا :”أیھا الناس لا تشکوا علیاً فو اللہ إنہ لأخشن في ذات اللہ أو في سبیل اللہ” لوگوں ! علی کی شکایت نہ کرو، اللہ کی قسم بے شک وہ اللہ کی ذات یا اللہ کے راستے میں بہت زیادہ خشیت (خوف) رکھتے ہیں (مسند احمد ۸۶/۳ والحاکم ۱۳۴/۳ و صححہ و وافقہ الذھبی و سندہ حسن)

سیدنا علی ؓ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میں، عثمان، طلحہ اور زبیر (رضی اللہ عنہم) ان لوگوں میں ہوں گے جن کا ذکر اللہ نے (قرآن مجید) کیا ہے ۔ ﴿وَ نَزَعۡنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۴۷(الحجر : ۴۷) اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ہم اسے نکال دیں گے اور وہ چارپائیوں  پر ، بھائی بنے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (فضائل الصحابہ/ زیادات القطیعی : ۱۰۵۷ و سندہ صحیح)

ابواسحاق السبیعی فرماتے ہیں کہ :”رأیت علیاً …. ضخم اللحیۃ” میں نے علی ؓ کو دیکھا، آپ کی بڑی اور گھنی داڑھی تھی۔ (طبقات     ابن سعد ۲۵/۳ و سندہ صحیح، یونس بن أبی إسحاق برئ من التدلیس )

امام اہلِ سنت: احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ:ماجاء لأحد من أصحاب رسول اللہ ﷺ من الفضائل ماجاء لعلي بن أبی طالب رضی اللہ عنہ” جتنے فضائل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے (احادیث میں) آئے ہیں اتنے فضائل کسی دوسرے صحابی کے نہیں آئے۔ (مستدرک الحاکم ۱۰۷/۳ ، ۱۰۸ ح ۴۵۷۲ وسندہ حسن)

مختصر یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدری، من السابقین  الاولین ، امیر المؤمنین خلیفہ راشد اور خلیفہ چہارم تھے۔ آپ ؓکے فضائل بے شمار ہیں جن کے احاطے کا یہ مختصر مضمون متحمل نہیں ہے۔

امام ابو بکر محمد بن الحسین الآجری رحمہ اللہ (متوفی ۳۶۰؁ھ ) فرماتے ہیں کہ:جان لو، اللہ ہم اور تم پر رحم کرے ، بے شک اللہ کریم نے امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اعلیٰ فضیلت عطا فرمائی ۔ خیر میں آپ ؓ کی پیش قدمیاں عظیم ہیں اور آپ ؓکے مناقب بہت زیادہ ہیں ۔ آپ ؓ عظیم فضیلت والے ہیں۔ آپؓ جلیل القدر، عالی مرتبہ اور بڑی شان والے ہیں ۔آپ ؓ رسول اللہ ﷺ کے چچازادبھائی ، حسن و حسن کے ابا، مسلمانوں کے مردِ میدان ، رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرنےوالے، ہم پلہ لوگوں سے لڑنے والے ، امام عادل زاہد، دنیا سے بے نیاز (اور) آخرت کے طلبگار ، متبع حق، باطل سے دور اور ہر بہترین اخلاق والے ہیں۔ اللہ و رسول آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ اللہ و رسول سے محبت کرتے ہیں۔ آپ ایسے انسان ہیں آپ سے متقی مومن ہی محبت کرتا ہے اور آپ سے صرف منافق بدنصیب ہی بغض رکھتا ہے۔ عقل ، علم ، بردباری اور ادب کا خزانہ ہیں، رضی اللہ عنہ (الشریعۃ ص ۷۱۴، ۷۱۵) اے اللہ ! ہمارے دلوں کو سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان ، سیدنا علی اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی محبت سے بھر دے، آمین!

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.