سیدنا اویس القرنی ؒ کے متعلق روایات کی صحت!

 از    September 20, 2014

محترم حافظ زبیر صاحب          السلام علیکم ورحمۃ اللہ: مجھے کافی عرصہ سے حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ سے متعلق کچھ سوالات کے جواب معلوم کرنا تھے  مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔
۱۔        جنگ اُحد میں آپ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہونے پر اپ یعنی اویس قرنی نے اپنے تمام دانت توڑ لئے کیا یہ درست ہے۔ کیا ایسا کرنا اور خود کو نقصان پہنچانا جائز ہے؟
۲۔       نبی اکرم ﷺ نے صحابہ ؓ خاص طور سے ابو بکر اور عمر ؓ کو فرمایا کہ آپ ان سے دعا کروایا کریں؟ کیا یہ درست ہے؟ جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں صحابہ ؓ کا رتبہ ان سے بلند ہے اور ان کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہے۔۔۔
۳۔       آپ رحمہ اللہ اپنے والدین کی خدمت میں مشغولی کے باعث نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکے۔ والدین کی خدمت اپنی جگہ درست۔ میں نے کہیں پڑھا تھا غالباً یوں کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی اولاد اس کے ماں باپ سے زیادہ اس کو عزیز نہ ہو جائیں۔ مہربانی فرما کر اس کی بھی تقحیح فرما دیجئے اور جواب بھی تحریر فرمائیے۔ (والسلام لیاقت علی راولپنڈی)

سیدنا اویس القرنی ؒ کا قصہ

الجواب:
۱۔        یہ روایت کہ سیدنا اویس بن عامر القرنی رحمہ اللہ نے اپنے تمام دانت توڑ دیئے تھے، بے اصل اور من گھڑت روایت ہے جو کہ جاہل عوام میں مشہور ہو گئی ہے۔ محدثین کی کتابوں میں اس روایت کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اپنے آپ کو نقصان پہنچانا جائز نہیں ہے۔
۲۔       سیدنا اویس القرنی رحمہ اللہ کے بارے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف تھا لیکن صحیح و محقق بات یہی ہے کہ ان کا وجود ثابت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ‘‘ إن خیر التابعین رجل یقال لہ أویس، ولہ والدۃ، وکان بہ بیاض، فمر وہ فلیستغفر لکم ’’ تابعین میں سے بہترین انسان وہ شخص ہے جسے اویس کہتے ہیں، اس کی والدہ (زندہ ) ہے اور اس ( کے جسم) میں سفیدی ہے ۔ اس سے کہو کہ تمہارے لئے دعا کرے۔ (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل اویس القرنی ح ۲۵۴۲ و ترقیم دارالسلام  : ۶۴۹۱)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اویس رحمہ اللہ مستجاب الدعوات تھے یعنی اللہ تعالٰی آپ کی دعا خاص طور پر قبول فرماتا تھا۔صحیح مسلم کی دوسری روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی والدہ کی خدمت کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر نہ ہو سکے جس میں آپ ﷺ کی رضا مندی شامل تھی۔
روایات اویس میں سیدنا ابو بکر ؓ  کا کوئی ذکر نہیں تاہم سیدنا عمر ؓ کا ان سے استغفار ( دعا کی درخواست) کرانا مذکور ہے(صحیح مسلم، ترقیم دارالسلام:۶۴۹۲)
کسی افضل شخص کا مفضول شخص سے دعا کروانا توہین کی بات نہیں ہوتی۔ سیدنا عمر ؓ  سیدنا عباس ؓ سے افضل تھے مگر ان سے آپ کا (استسقاء کی) دعا کروانا ثابت ہے، دیکھئے صحیح بخاری(۱۰۱۰ ، ۳۷۱۰)
تنبیہ بلیغ: سیدنا اویس رحمہ اللہ بذاتِ خود دوسرے مفضول اور غیر افضل افراد سے دعا کرواتے تھے، دیکھئے صحیح مسلم(ح۶۴۹۲ترقیم دارالسلام) لہذا اس قسم کی باتوں سے پریشان نہیں ہونا چاہیئے۔
۳۔       اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ نبی کریم ﷺ سے اپنے ماں باپ ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرے(دیکھئے صحیح بخاری:۱۵و صحیح مسلم:۴۴)
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ﷺ کے زمانے میں اسلام لانے والے تمام تابعین پر یہ فرض و واجب تھا کہ وہ ضرور آپ ﷺ کی ملاقات کرتے اگرچہ ان کے پاس حاضر نہ ہو سکنے کا شرعی عذر بھی تھا۔ دوسرے یہ کہ راقم الحروف نے حدیث کی روشنی میں عرض کر دیا ہے کہ اویس رحمہ اللہ کا مدینہ منورہ تشریف نہ لانا آپ ﷺ کی اجازت سے تھا ورنہ آپ ﷺ انہیں حکم دیتے کہ مدینہ حاضر ہو جاؤ۔ واللہ اعلم

تنبیہ: اویس قرنی والی روایت امام مسلم اور جمہور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ امام بخاری کا اس پر جرح کرنا صحیح نہیں ہے۔ (۱۱ذو القعدہ ۱۴۲۷ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.