سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی و مناقب

 از    January 19, 2015

تحریر:حافظ شیر محمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! ہر مومن جو میرے بارے میں سن لیتا ہے ، مجھ سے محبت کرتا ہے ۔ ابو کثیر یحییٰ بن عبدالرحمٰن السحیمی نے پوچھا : آ پ کو یہ کیسے معلوم ہوا ؟ انہوں نے فرمایا: میری ماں مشرکہ تھی ، میں اسے اسلام (لانے) کی دعوت دیتا تھا اور وہ اس کا انکار کرتی تھی۔ ایک دن میں نے اسے دعوت دی تو اس نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ایسی باتیں کردیں جنہیں میں ناپسند کرتا تھا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور روتے ہوئے آپ ﷺ کو ساراقصہ بتا دیا ۔ میں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ میری ماں کی ہدایت کے لئے دعا کریں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے ۔ میں اس دعا کی خوشخبری کےلئے بھاگتا ہوا نکلا اور اپنے گھر کے پاس پہنچا تو دروازہ بند تھا اور نہانے والے پانی کے گرنے کی آواز آرہی تھی ۔ میری ماں نے جب میری آواز سنی تو کہا : باہر ٹھہرے رہو ۔ پھر اس نے لباس پہن کر دروازہ کھولا تو (ابھی) ڈوپٹہ اوڑھ نہ سکی اور کہا :”أشھد أن لا إلہ إلا اللہ و أن محمدًا عبدہ و رسولہ” میں اس کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور بےشک محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ﷛ نے فرمایا : پھر میں اس حالت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا کہ میں خوشی سے رو رہا تھا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! خوش ہوجائیے اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت عطا کردی ہے۔ (آپﷺ نے) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور خیر کی بات کہی ، میں نے کہا : آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اور میری ماں کو مومنوں کا محبوب بنا دے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ((اللھم حبّب عبیدک ھٰذا و أمہ إلی عبادک المؤمنین وحبب إلیھم المؤمنین.)) اے اللہ ! اپنے اس بندے (ابوہریرہ)اور اس کی ماں کو مومنوں کا محبوب بنادے اور ان کے دل میں مومنوں کی محبت ڈال دے ۔ (مسلم : ۲۴۹۱)
          سیدنا ابوہریرہ﷛ کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ نبی کریم ﷺ کی دعا مقبول ہوتی ہے لہٰذا وہ بصیغۂ جزم  یہ فرماتے تھے کہ ہر مومن مجھ سے محبت کرتا ہے ۔

          سیدنا ابوہریرہ﷛ نے فرمایا :میں مسکین آدمی تھا، پیٹ بھر کھانے پر ہی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لگا رہتا تھا جبکہ مہاجرین تو بازاروں میں اور انصار اپنے اموال (اور زمینوں) کی نگہداشت میں مصروف رہتے تھے ۔پھر (ایک دن )رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ((من بسط ثوبہ فلن ینسی شیئًا سمعہ مني)) جو شخص (اب) اپنا کپڑا بچھائے تو وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات کبھی نہیں بھولے گا۔ پھر میں نے کپڑا بچھایا حتیٰ کہ آپ ﷺ حدیثیں بیان کرنے سے فارغ ہوئے پھر میں نے اس کپڑے کو اپنے سینے سے لگا کر بھینچ لیا تو میں نے آپ سے (اس مجلس میں اور اس کے بعد ) جو سنا اسے کبھی نہیں بھولا ۔ (صحیح بخاری: ۲۰۴۷ و صحیح مسلم : ۲۴۹۲)

          سیدنا عبداللہ بن عمر ﷛ نے ایک دفعہ سیدنا ابوہریرہ﷛ سے فرمایا: آپ ہم میں سے رسول اللہ ﷺ کے پاس زیادہ  رہتے تھے اور آپ ﷺ کی حدیث کو سب سے زیادہ یادکرنے والے تھے۔ (سنن الترمذی: ۳۸۳۶ و سندہ صحیح ، ماہنامہ الحدیث : ۳۲ ص ۱۰،۱۱)

سیدنا ابوبکر الصدیق﷛ نے حجۃ الوداع کے موقع پر سیدنا ابوہریرہ﷛ کو منادی کرنے والا مقرر کرکے بھیجا تھا ۔ (صحیح بخاری: ۳۶۹)

ایک دفعہ سیدنا ابوہریرہ﷛ نے ایک حدیث بیان کی تو ام المؤمنین  سیدہ عائشہ﷞ نے فرمایا: “صدق أبوھریرۃ” ابوہریرہ نے سچ کہا ہے ۔          (طبقات ابن سعد  ۴/۳۳۲ و سندہ صحیح ، الحدیث : ۳۲ ص ۱۱)

امام بخاری ﷫ نے حسن سند سے روایت کیا ہے کہ  “عن أبي سلمۃ عن أبي ھریرۃ عبدشمس“إلخ (التاریخ الکبیر ۶/۱۳۲ ت ۱۹۳۸)

معلوم ہوا کہ قبولِ اسلام سے پہلے سیدنا ابوہریرہ﷛ کا نا م عبد شمس تھا۔

          سیدنا ابوہریرہ﷛ نے فرمایا: میں تین سال رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہا ہوں۔ (کتاب المعرفۃ و التاریخ۳/۱۶۱ و سندہ صحیح)

مشہور تابعی حمید بن عبدالرحمٰن الحمیری ﷫ فرماتے ہیں کہ (سیدنا) ابوہریرہ﷛ چار سال نبی ﷺ کی صحبت میں رہے ۔ (سنن ابی داود : ۸۱ و سندہ صحیح ، سنن النسائی ۱/۱۳۰ ح ۲۳۹ و صححہ الحافظ ابن حجر فی بلوغ المرام : ۶)

ان دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ سیدنا ابوہریرہ﷛ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکمل  تین سال تک اور چوتھے سال کا کچھ حصہ رہے ، جسے راویوں نے اپنے اپنے علم کے مطابق بیان کردیا ہے۔

          سیدنا ابوہریرہ﷛ نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خبیر میں حاضر تھا۔     (تاریخ ابی زرعۃ الدمشقی : ۲۳۲ و سندہ صحیح)

          سیدنا ابوہریرہ﷛ رات کے ایک تہائی حصے میں قیام کرتے (تہجد پڑھتے) تھے اور ان کی زوجہ محترمہ ایک تہائی حصے میں قیام کرتیں اور ان کا بیٹا ایک تہائی حصے میں قیام کرتا تھا ۔ (کتاب الزہد للامام احمد ص ۱۷۷ ح ۹۸۶، کتاب الزہد لابی داود : ۲۹۸ و سندہ صحیح ، حلیۃ الاولیاء ۱/۳۸۲،۳۸۳)

          یعنی انہوں نے رات کے تین حصے مقرر کر رکھے تھے جن میں ہر آدمی باری باری نوافل پڑھتا تھا ۔ اس طریقے سے ساراگھرساری رات عبادت میں مصروف رہتا تھا۔ سبحان اللہ !

سیدنا ابوہریرہ﷛ اپنے دورِ امارت کے دوران میں بھی خود لکڑیاں اٹھا کر بازار سے گزرا کرتے تھے ۔ (دیکھئے الزہد لابی داود : ۲۹۷ و سندہ صحیح ، حلیۃ الاولیاء ۱/۳۸۴،۳۸۵)

عبداللہ بن رافع ﷫ سے روایت ہے کہ میں نے ابوہریرہ (﷛) سے پوچھا : آپ کو ابوہریرہ کیوں کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا : کیا تم مجھ سے نہیں ڈرتے؟ ابن رافع نے کہا : جی ہاں، اللہ کی قسم ! میں آپ سے ضرور ڈرتا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا :میں اپنے گھر والوں کے لئے بکریاں چراتا تھا اور میری ایک چھوٹی سی بلی تھی ۔ رات کو میں اسے ایک درخت پر چھوڑ دیتا اور دن کو اس سے کھیلتا تھا تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ مشہور کردی ۔ (طبقات ابن سعد ۴/۳۲۹ و سندہ حسن)

محمد بن سیرین ﷫ سے سیدنا ابوہریرہ ﷛ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : آپ کا رنگ سفید تھا اور آپ خوش مزاج نرم دل تھے ۔ آپ سرخ رنگ کا خضاب یعنی مہندی لگاتے تھے ۔آپ کاٹن کا کھردرا پھٹا ہوا لباس پہنتے تھے ۔ (طبقات ابن سعد ۴/۳۳۳،۳۳۴ و سندہ صحیح)

          سیدنا ابوہریرہ﷛ ہر اس شخص کے دشمن تھے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا دشمن تھا۔ (طبقات ابن سعد ۴/۳۳۵ و سندہ صحیح )

مشہور تابعی ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ﷫ سیدنا ابوہریرہ ﷛ کی بیماری کے دوران میں ان کے پاس گئے تو کہا: اے اللہ ! ابوہریرہ کو شفا دے ۔ سیدنا ابوہریرہ﷛ نے فرمایا : اے اللہ! مجھے واپس نہ کر ….. اے ابو سلمہ ! اگر مرسکتے  ہو تو مرجاؤ، اس ذات (اللہ) کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے ! علماء پر ایسا وقت آئے گا کہ ان کے نزدیک سرخ خالص سونے سے زیادہ موت پسندیدہ ہوگی اور قریب ہے کہ لوگوں پر ایسا وقت آجائے گاکہ آدمی جب کسی مسلمان کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا کہ کاش میں اس قبر میں ہوتا ۔ (طبقات ابن سعد ۴/۳۳۷،۳۳۸ و سندہ صحیح)

سیدنا ابوہریرہ﷛ کی وفات کا جب وقت آیا تو انہوں نے فرمایا:مجھ (میری قبر) پر خیمہ نہ لگانا اور میرے ساتھ آگ لے کر نہ جانا اور مجھے (قبرستان کی طرف) جلدی لے کر جانا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب نیک انسان یا مومن کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے : مجھے (جلدی) آگے لے چلو اور کافر یا فاجر کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے : ہائے میری تباہی مجھے کہاں لے کر جارہے ہو ؟ (مسند احمد ۲/۲۹۲ ح ۷۹۱۴ و سندہ حسن، طبقات ابن سعد ۴/۳۳۸)

          سیدنا ابوہریرہ﷛ نے فرمایا : جب میں مرجاؤں تو مجھ پر نوحہ (آواز کے ساتھ ماتم ) نہ کرنا کیونکہ رسول اللہ ﷺ پر نوحہ نہیں کیا گیا۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر ۷۱/۲۸۲و سندہ حسن)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.