سیدنا ابوہریرہؓ پر منکرینِ حدیث کے حملے

 از    December 21, 2014

تحریر:حافظ زبیر علی زئی
سوال:    ایک صاحب کی زبانی واقعہ سننے کا اتفاق ہوا : “ایک دن مسجد نبویﷺ کے صحن میں حضرت ابوہریرہؓ تشریف فرما تھے اور کچھ حاضرین کو کوئی حدیث بیان کررہے تھے، جب حضرت عمرؓ کو اس بات کا علم ہوا تو کہنے لگے : ابوہریرہ! جو بات آپ بیان کررہے ہیں، جب یہ واقع رونما ہوا اس وقت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا اور یہ بات ہرگز ایسے نہ تھی ، آپ کو رسول اللہ ﷺ سے غلط بات منسوب کرتے ہوئے خدا کا خوف محسوس نہ ہو ااور اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں (عمر) اس کی گردن مار دیتا ” العیاذ باللہ
کیا یہ واقعہ صحیح ثابت ہے ؟
ساتھ ہی گفتگو کے دوران ان صاحب نے اس بات کا بھی اضافہ کیا کہ
“ایک دفعہ حضرت ابوہریرہؓ سے ایک شخص نے دریافت کیا : اب آپ بہت سی احادیث روایت کرتے ہیں جبکہ حضرت عمرؓ کی زندگی میں ایسانہیں تھا، تو حضرت ابوہریرہؓ فرمانے لگے : اس وقت مجھے اپنی گردن ماری جانے کا خوف تھا”
کیا یہ واقعات صحیح ہیں؟          (فخر الحسن گیلانی ، راولپنڈی ۲۱ نومبر ۲۰۰۶؁ء)

الجواب:

            الحمد للہ رب العالمین و الصلوٰۃ  والسلام علیٰ رسولہ الأمین، أما بعد:
          یہ واقعہ بے سند ہونے کی وجہ سے موضوع اور باطل ہے ۔  مجھے کسی کتاب میں یہ واقعہ باسند صحیح نہیں ملا۔ اس بے اصل قصے کے سراسر برعکس سیدنا عمرؓ سیدنا ابوہریرہؓ پر مکمل اعتماد کرتے تھے۔ اس کی دلیل کے طور پر صحیح احادیث سے دو حوالے پیشِ خدمت ہیں:

سیدنا عمرؓ اور سیدنا ابوہریرہؓ

۱:        سیدنا عمرؓ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو کھال پر سوئی سے گود کر لکھتی تھی تو عمرؓکھڑے ہوگئےاور (صحابۂ کرام سے) فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم میں سے کسی نے نبی ﷺ سے سوئی سے گودنے کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟ ابوہریرہؓ کھڑے ہوگئے اور کہا : اے امیر المؤمنین ! میں نے سنا ہے ۔ سیدنا عمرؓ نے پوچھا : کیا سنا ہے ؟ سیدنا ابوہریرہؓ نے فرمایا:میں نے نبی ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے  کہ((لا تشمن ولا تستوشمن) گودنے کا کام نہ کرو اور  نہ کسی سے گدواؤ۔ (بخاری: ۵۹۴۶)

          سیدنا عمرؓ کا سیدنا ابوہریرہؓ سے حدیث کے بارے میں پوچھنا اور اس پر اعتراض نہ کرنا اس کی واضح دلیل ہے کہ وہ سیدنا ابوہریرہؓ کو سچا اور قابلِ اعتماد سمجھتے تھے۔


۲:        ایک دفعہ سیدنا حسان بن ثابتؓ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے کہ وہاں سے سیدنا عمرؓ گزرے تو انہوں نے سیدنا حسانؓ کو گوشۂ چشم سے (غصے کے ساتھ) دیکھا۔ سیدنا حسانؓ نے فرمایا: میں تو اس وقت بھی مسجد میں اشعار پڑھتا تھا جب اس میں آپ سے بہتر شخص سیدنا رسول اللہ ﷺ موجود ہوتے تھے پھر انہوں نے سیدنا ابوہریرہؓ کی طرف دیکھ کر کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ((أَجِبْ عَنَّيْ، اَللّٰھُمَّ أَیَّدْہُ بِرُوْحِ القُدُسِ.))میری طرف سے جوا ب دو، اے اللہ ! اس (حسان) کی روح القدوس کے ذریعے سے مدد فرما؟
سیدنا ابوہریرہؓ نے فرمایا: جی ہاں ۔ (صحیح مسلم : ۲۴۸۵/۱۵۱ ۶۳۸۴)

۳:       سیدنا ابن عمرؓنے سیدنا ابوہریرہؓ سے فرمایا:

          “یا أبا ھریرۃ! أنت کنت أَلزمنا لرسول اللہ ﷺ و أحفظنا لحدیثہ
          اے ابوہریرہ! آپ ہم سے رسول اللہ ﷺ کے پاس سب سے زیادہ رہتے تھے اور آپﷺ کی حدیث کو سب سے زیادہ یاد کرنے والے تھے ۔ (سنن الترمذی: ۳۸۳۶ و سندہ صحیح، وقال الترمذی: “ھٰذا حدیث حسن” و صححہ الحاکم ۵۱۰،۵۱۱/۳ ح ۶۱۶۷ و وافقہ الذہبی)

سیدنا ابوبکر الصدیقؓ اور سیدنا ابوہریرہؓ

          سیدنا ابوبکر الصدیقؓ نے سیدنا ابوہریرہؓ  کو (حجۃ الوداع میں) منادی کرنے والا بنا کر بھیجا تھا۔ (صحیح بخاری: ۳۶۹)

          اس صحیح روایت سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابوبکر الصدیقؓ کے نزدیک سیدنا ابوہریرہؓ کا بہت بڑا مقام تھا۔ یاد رہے کہ اس حج میں سیدنا رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علیؓ کو منادی کرنے والا بنا کر بھیجا تھا۔

سیدہ عائشہؓ کی تصدیق
          ایک دفعہ سیدنا ابوہریرهؓ نے ایک حدیث بیان کی تو سیدہ عائشہؓ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا پس انہوں نے فرمایا:

صدق أبوھریرۃ” ابوہریرہؓ نے سچ کہا ہے ۔ (طبقات ابن سعد ۳۳۲/۴ و سندہ صحیح) 

          سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی نمازِ جنازہ سیدنا ابوہریرہؓ نے پڑھائی تھی۔ (التاریخ الصغیر للبخاری ص ۵۵ دوسرا نسخہ ۱۲۹،۱۲۸/۱ و سندہ صحیح ، ابن وہب رواہ عن ابن جریج و الراوی عنہ ابن صالح أو ابن عیسیٰ المصری وکلاہما ثقتان)

سیدنا رسول اللہ ﷺ اور ابوہریرہؓ

سیدنا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے میرے اللہ ! ابوہریرہ اور اس کی ماں کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے ۔ (صحیح مسلم: ۲۴۹۱/۱۵۸ ۶۳۹۶)

یہ دعا قبول ہوئی۔ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں : ہر مومن جو میرے بارے میں سن لیتا ہے تو بغیر دیکھے ہی مجھ سے محبت کرتا ہے ۔ (صحیح مسلم: ۲۴۹۱ نحوالمعنٰی)

خلاصۃ التحقیق:     یہ ساری روایات اور دیگر احادیثِ صحیحہ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسئولہ بالا قصہ بے اصل اور موضوع ہے ۔

دوسرا قصہ: گردن ماری جانے کا خوف

یہ قصہ بھی بے اصل اور موضوع ہے ۔ اس سلسلے میں چند دیگر روایات کی تحقیق درج ذیل ہے :
۱:        محمد بن عجلان سے روایت ہے کہ ابوہریرهؓ فرماتے تھے کہ میں ایسی حدیثیں بیان کرتا ہوں ، اگر میں عمرؓ کے زمانے میں یہ حدیثیں بیان کرتا تو آپ میرا سر (مارمار کر) زخمی کردیتے۔ (البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر ۱۱۰/۸ ، و سیراعلام النبلاء للذہبی ۶۰۱/۲)
          عبداللہ بن وہب المصریؒ سے نیچے سند غائب ہونے کے ساتھ ساتھ یہ روایت سخت منقطع ہے ۔ دیکھئے الانوار الکاشفہ (ص ۱۵۵) ابن عجلان مدلس بھی تھے ۔دیکھئے طبقات المدلسین لابن حجر (۳/۹۸، المرتبۃ الثالثۃ) و مشکل الآثار للطحاوی (۱۰۰،۱۰۱/۱)
۲:        صالح بن ابی الاخضر عن الزہر یعن ابی سلمۃ کی سندسے روایت ہے کہ ابوہریرہؓ فرماتے تھے : ہم عمرؓ کی وفات سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان نہیں کرسکتے تھے۔ (البدایۃ والنہایۃ ۱۱۰/۸)
یہ سند ضعیف و مردود ہے ۔ صالح بن ابی الاخضر : “ضعیف یعتبربہ” ہے ۔ (التقریب : ۲۸۴۴)
          امام زہری مدلس تھے۔ دیکھئے طبقات المدلسین (۳/۱۰۲، المرتبۃ الثالثۃ) اور شرح معانی الآثار للطحاوی (۵۵/۱ باب مس الفرج)
صالح بن ابی الاخضر سے نیچے والی سند یہاں غائب ہے  اور سیر اعلام النبلاء (۶۰۲/۲) میں اس کاصالح سے راوی یزید بن یوسف الرجی ضعیف ہے لہٰذا یہ سند صالح سے بھی ثابت نہیں ہے ۔
۳:       بغیر سند کے “محمد بن یحیی الذھلي: ثنا عبدالرزاق عن معمر عن الزھري” کی سند سے مروی ہے کہ ابوہریرہؓ نے فرمایا : میں عمرؓ کی زندگی میں یہ حدیثیں بیان نہیں کرسکتا تھا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ میری پیٹھ پر کوڑا برسے گا۔ (البدایۃ و النہایۃ ۱۱۰/۸)
یہ روایت کئی وجہ سے مردود ہے: (۱) امام زہریؒ نے سیدنا ابوہریرہؓ سے کچھ بھی نہیں سنا۔ ان کی سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت منقطع ہوتی ہے ۔ دیکھئےا لاتحاف المہرۃ لابن حجر (۵۹۰/۱۵) و تحفۃ التحصیل فی ذکر رواۃ المراسیل للعراقی (ص ۲۸۹) و جامع التحصیل (ص ۲۶۹)
۲:        امام زہریؒ کی تدلیس کے علاوہ امام عبدالرزاق بن ہمام الصنعانیؒ بھی مدلس تھے۔ دیکھئے طبقات المدلسین (۲/۵۸، المرتبۃ الثانیۃ، صحیح یہ ہےکہ وہ مرتبۂ ثالثہ سے ہیں) و کتاب الضعفاء للعقیلی (۱۱۰،۱۱۱/۳ و سندہ صحیح)
          صرف یہ روایت ثابت ہے کہ سیدنا عمر ؓنے سیدنا ابوہریرہؓ سے فرمایا:

تم رسول اللہ ﷺ سے (کثرت سے) حدیث بیان کرنا چھوڑ دو ورنہ میں تمہیں (تمہارے قبیلے) دوس میں بھیج دوں گا۔ (تاریخ ابی زرعۃ الدمشقی : ۱۴۷۵، وسندہ صحیح)

          یہ روایت اس پر محمول ہے کہ سیدنا عمرؓ کثرت سے احادیث بیان کرنا پسند نہیں کرتےتھے تا کہ لوگ فتنے میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ (دیکھئے البدایۃ و النہایۃ ۱۱۰/۸)

          سیدنا عمرؓ نے اس طرح دوسرے صحابہ کو بھی منع کیا تھا کہ کثرت سے حدیثیں بیان نہ کریں ۔ دیکھئے سیر اعلام النبلاء للذہبی (۶۰۱/۲)

اس فاروقی اجتہاد کے مقابلے میں دیگر صحابہ مثلاً سیدہ عائشہؓ، سیدنا ابن عمرؓ، سیدناانس بن مالکؓ، سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاریؓ اور سیدنا ابوسعید الخدریؓ وغیرہم کثرت سے صحیح احادیث بیان کرتے تھے اور جمہور صحابہ کا یہی طرزِعمل راجح ہے ۔

سیدنا ابوہریرہؓ کے عظیم حافظے کا ایک صحیح واقعہ

          ابوزعیزعہ کاتبِ مروان سے روایت ہے کہ مروان بن الحکم نے (سیدنا) ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) کو بلایا اور (حدیثیں) پوچھنے لگا ۔ مروان نے مجھے پردے کے پیچھے بٹھا رکھا تھا تا کہ میں (یہ حدیثیں) لکھوں۔ اگلے سال مروان نے (سیدنا) ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) کو دوبارہ بلایا اور ان احادیث کے بارے میں پوچھنے لگا۔ اس نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں لکھی ہوئی کتاب کو دیکھتا رہوں ۔میں نے دیکھا کہ ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے ایک حرف کا بھی فرق نہیں کیا۔ (الاشراف علیٰ مناقب الاشراف لابن ابی الدنیا ص ۱۵۸،۱۵۷  ح ۳۱۱ و سندہ حسن، المستدرک للحاکم ۵۱۰/۳ ح ۶۱۶۴ وقال: “ھٰذا حدیث صحیح الاسناد” وقال الذہبی :”صحیح”)

سبحان اللہ ! اللہﷻ نے کیسا عظیم الشان حافظہ سیدنا ابوہریرہؓ کو عطا فرمایا تھا !۔

تنبیہ:    حاکم  اور ذہبی کی توثیق بذریعۂ تصحیح حدیث کے بعد ابوزعیزعہ کو مجہول کہنا غلط ہے ۔

سیدنا ابوہریرهؓ کی ایک عظیم الشان کرامت

          قاضی ابوالطیبؒ فرماتے ہیں کہ ہم جامع منصور میں ایک حلقے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک خراسانی نوجوان آیا تو اس نے جانور کے تھنوں میں دودھ روکنے کے مسئلے کے بارے میں پوچھا اور دلیل کا مطالبہ کیا تو ایک استدلال کرنے والے (محدث) نے اس مسئلے میں سیدنا ابوہریرہؓ کی بیان کردہ حدیث پیش کی تو وہ خبیث نوجوان بولا: “أبوھریرۃ غیر مقبول الحدیث” ابوہریرہ کی حدیث مقبول نہیں ہے ۔ قاضی ابو الطیب نے فرمایا: اس نوجوان نے اپنی بات پوری نہیں کی تھی کہ اتنے میں جامع مسجد کی چھت سے ایک بہت بڑا سانپ گر پڑا تو لوگ بھاگنے لگے اور وہ نوجوان بھی اس سانپ کے آگے بھاگنے لگا ۔ بعد میں یہ سانپ غائب ہوگیا ۔ (المنتظم لابن الجوزی ۱۰۶/۱۷  و سندہ صحیح)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں کوسیدنا ابوہریرہؓ کی محبت سے بھر دے ۔ آمین

سیدنا ابوہریرہؓ کے دفاع کے لئے علمائے حق نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں جن میں سے درج ذیل دو کتابیں انتہائی اہم ہیں:

۱:        دفاع عن ابی ہریرۃ     (تصنیف عبد المنعم صالح العلی العزی)
۲:        الانوار الکاشفۃ          (ص ۱۴۰ تا ۲۲۸، تصنیف عبدالرحمٰن بن یحییٰ المعلمیؒ)

فائدہ:    سیدناابوہریرہؓ سے سات سو سے زیادہ راویوں نے حدیث بیان کی ہے ۔ دیکھئے دفاع عن ابی ہریرۃ (ص ۲۷۳ تا ۳۱۴) اور بعض کہتے ہیں کہ آٹھ سو سے زیادہ راویوں نے ان سے روایت بیان کی ہے ۔ (۲۴نومبر ۲۰۰۶؁ء)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.