سر پر مہندی لگانا ناقص طہارت نہیں

 از    November 29, 2017

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : ایک عورت نے وضو کرنے کے بعد سر پر مہندی لگائی اور پھر نماز ادا کرنے لگی۔ کیا اس کی نماز درست ہے؟ اگر اس کا وضو ٹوٹ گیا تو کیا مہندی پر مسح کرے گی یا بال دھو کر ادائیگی نماز کے لئے وضو کرنا ہو گا؟
جواب : طہارت (صغری یا کبریٰ) حاصل کرنے کے بعد سر پر مہندی لگانا ناقض طہارت نہیں ہے۔ اگر عورت وضو یا غسل کے بعد سر پر لیپ کرے تو طہارت صغریٰ (وضو) کے لئے سر کا مسح کرنا کافی ہو گا۔ لیکن طہارت کبریٰ (غسل کرنے کی صورت) میں سر کا مسح کافی نہ ہو گا، بلکہ اس پر تین بار پانی ڈالنا ضروری ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ سیدہ ام سلمی رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے سر کے بالوں کو کس کر باندھتی ہوں، کیا غسل جنابت اور غسل حیض کیلئے انہیں کھولنا ہو گا؟
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا انما يكفيك أن تحثى على رأسك ثلاث حثيات، ثم تفيضين عليك الماء فتطهرين [صحیح مسلم رقم 330]
”نہیں، تیرے لئے یہی کافی ہے کہ تو سر پر تین لیپ پانی ڈال لے، پھر اپنے جسم پر پانی انڈیل کر غسل کر لے۔“
ویسے اگر عورت حیض کے بعد غسل کرتے وقت انہیں کھول لے تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ کچھ دیگر احادیث اس کی مؤید ہیں۔ والله ولي التوفيق

 

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.