سجدہِ تلاوت سنت ہے یا واجب؟

 از    August 4, 2014

سوال:

1۔         قرآن مجید میں بعض ایسی آیات ہیں جن کی تلاوت  پر سجدہ کیا جاتا ہے ۔ کیا یہ سجدہِ تلاوت واجب ہے یا سنت ؟ 

2۔   قرآن مجید کی مکمل تلاوت سے فارغ ہونے کے بعد اگر یہ سجدے اکٹھے بالترتیب ادا کردئیے جائیں تو ایسا کیا کرنا جائز ہے ؟ 

3۔  قرآن مجید میں سورہ حج کے آخر میں آیت نمبر ۷۷ کے باہر لکھا ہوا ہے کہ “السجدۃ عند الشافعی” یعنی امام شافعی ؒ کے نزدیک یہاں سجدہ تلاوت ہے۔ اس سے کیا مراد ہے ؟ قرآن مجید میں یہ شافعی و غیر شافعی والی بات کہاں سے آگئی ہے؟بینوا تو جروا ۔ 

الجواب:

1۔  سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:         “أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم سجد بالنجمبے شک نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے سورہ نجم پڑھی اور سجدہ کیا ۔(صحیح البخاری: ۱۰۷۱)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سجدہ تلاوت کرنا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ :قرأت علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم (والنجم) فلم یسجد فیھا میں نے نبی ﷺ کو سورہ نجم پڑھ کر سنائی تو آپ ﷺ نے سجدہ نہیں کیا۔ (صحیح البخاری : ۱۰۷۳ و صحیح مسلم: ۵۷۷)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سجدہ تلاوت کرنا واجب یا ضروری نہیں ہے۔

خلیفہ راشد امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ :فمن سجد فقد أصاب ومن لم یسجد فلا إثم علیہ” پس جو (تلاوت والا) سجدہ کرے تو اس نے صحیح کام کیا اور جو سجدہ نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔(صحیح البخاری : ۱۰۷۷)

    معلوم ہوا ہے کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں بلکہ سنت و مستحب ہے۔ اور یہی قول امام شافعی و امام احمدؒ کا ہے دیکھئے سنن الترمذی (ح ۵۷۶)
2۔  اس کا کوئی ثبوت ہمارے علم میں نہیں ہے۔
3۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سورہ حج میں دو سجدے کرتے تھے۔ (مؤطا امام مالک ؒ ج ۱ ص ۲۰۶ ح ۴۸۳ و سندہ صحیح )

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورہ حج میں دو سجدے کرتے تھے ۔ (السنن الکبری للبیہقی ۳۱۸/۲ و سندہ صحیح) 

تنبیہ:  خالد بن معدان تدلیس کے الزام  سے بری ہے (الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ۲/۲۶) اور عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر نے اس کی متابعت کر رکھی ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۱/۲ ح ۴۲۸۹ والبیہقی ۳۱۸/۲)

سیدنا عمر (بن الخطاب) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی تو سورہ حج میں دو سجدے کئے ۔ (البیہقی ۳۱۷/۲ و سندہ صحیح ، وابن ابی شیبہ ۱۱/۲ ح ۴۲۸۸)

ابو العالیہ (تابعی) نے کہا : سورہ حج میں دو سجدے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۱۲/۲ ح ۴۲۹۴ و سندہ صحیح)

زربن جیش (تابعی، قاری)اور ابو عبدالرحمٰن (قاری) دونوں سورہ حج میں دو سجدے کرتے تھے ۔ (ابن ابی شیبہ ۱۲/۲ ح ۴۲۹۶ وسندہ حسن)

ابو اسحاق السبیعی نے کہا: أدرکت الناس منذ سبعین سنۃ یسجدون فی الحج سجدتین میں نے ستر (۷۰) سال سے لوگوں کو سورہ حج میں دوسجدے (ہی) کرتے پایا ہے ۔ (ابن ابی شیبہ ۱۲/۲ ح ۴۲۹۵ و سندہ صحیح)

ان روایاتِ مذکورہ کے علاوہ دوسرے آثار بھی ہیں۔

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کیا سورہ حج میں دوسجدے ہیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا :”نعم ومن لم یسجد ھما فلا یقر أھما” جی ہاں ! اور جو شخص یہ دونوں سجدے نہ کرے تو وہ یہ دونوں آیتیں نہ پڑھے۔ (سنن ابی داؤد : ۱۴۰۲ و سندہ حسن)

ابن لھیعہ نے یہ روایت اختلاط سے پہلے بیان کی ہے اور سماع کی تصریح کردی ہے مشرح بن ھاعان : حسن الحدیث ہے، دیکھئے کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین ( ص ۱۷۱،۱۷۲)
اس حدیث میں اس شخص کو یہ آیتیں پڑھنے سے منع کیا گیا ہے جو سورہ حج کے دوسرے سجدے کی مسنونیت سے انکار کرتاہے ۔ جس شخص کے نزدیک سجودِ تلاوت واجب نہیں بلکہ سنت ہیں وہ اس حدیث کا مخاطب نہیں کیونکہ وہ سورہ حج میں دونوں سجدوں کے سنت ہونے کا قائل ہے ۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کے حاشیے پر “السجدۃ عند الشافعی” کے الفاظ کسی ایسے شخص نے لکھے ہیں جو اس سجدے کا منکر ہے ۔
اگر لکھنا ہی ہے تو اس طرح لکھیں “السجدۃ عند رسول اللہ ﷺ وعندہ عمر و عند عبداللہ بن عمر وعند أبی الدرداء و غیرھم من الصحابۃ رضی اللہ عنھم أجمعین“!
یہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ سورہ حج کے اس دوسرے سجدے سے قائلین و فاعلین ، امام شافعی ؒ کی پیدائش سے بہت پہلے گزرے ہیں۔ یادرہے کہ اگر سجدہ تلاوت نہ بھی کیا جائے تو دلائلِ سابقہ کی رو سے جائز ہے لہذا اگر کسی نے سورہ حج کا یہ دوسرا سجدہ نہیں کیا تو یہ اس کی دلیل نہیں ہے کہ وہ اس سجدے کے جواز یا سنیت کا بھی قائل نہیں تھا۔ 

وما علینا إلا البلاغ

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.