زکر کی فضیلت

 از    December 6, 2014

تصنیف : امام ضیاء الدین المقدسی ؒ
ترجمہ و فوائد: حافظ ندیم ظہیر

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اولادِ آدم میں سے ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیں، جس نے اللہ عزو جل کی بڑائی، اللہ عزوجل کی تعریف، اللہ عزوجل کی تہلیل (لا الٰہ اِلا اللہ) ، اللہ عزوجل کی تسبیح (سبحان اللہ) اور استغفر اللہ کہا اور لوگوں کے راستے سے پتھر یا کانٹے یا ہڈی (وغیرہ ) کو ہٹایا اور نیکی  کا حکم دیا یا برائی سے روکا تو تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد کے برابر اس دن چلتا ہے اور (اس نے ) اپنے آپ کو (جہنم کی ) آگ سے بچا لیا۔

صحیح مسلم:۱۰۰۷

فوائد:
اس حدیث میں ذکر کی فضیل وارد  ہے خصوصاً ، لا الٰہ الا اللہ، سبحان اللہ اور استغفر اللہ کی اور ان کی اپنے مقام پر وضاحت منقول ہے۔ دوسرے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی بھی نیکی کو حقیر نہیں جاننا چاہیئے اور نہ ادنیٰ سمجھ کر چھوڑنا ہی چاہیئے۔ امر بالمعروف اور نہی  عن المنکر کی اہمیت بھی مسلم ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں ترغیباً و ترہیباً بہت زیادہ احادیث مروی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم ضرور نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر کوئی عذاب بھیج دے۔ پھر تم اس سے دعائیں کرو گے لیکن وہ قبول نہیں کی جائیں گی۔ [ ترمذی: ۲۱۶۹، حسن]لہٰذا ذکر الٰہی، راستے کے حقوق اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانا چاہیے۔

 سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہو جاتا ہے جو ایک (وقت کا) کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرے یا کوئی بھی چیز پی کر اُس کا شکر ادا کرے۔

مسلم: ۲۷۳۴

فوائد:

 
کھانے پینے کے بعد اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے نہ صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے بلکہ رزق میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے (لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَ زِیْدَنَّکُمْ) اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔ [ابراہیم: ۷]
 

 سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے کو کوئی نعمت عطا کرے اور وہ کہے: (الحمد اللہ) تو اس نے جو دیا وہ اُس سے افضل ہے جو اُس نے لیا۔

سنن ابن ماجہ : ۳۸۰۵و اسنادہ حسن

فوائد:
 
اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کا الحمدللہ کہنا اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ کلمہ الحمد للہ افضل ہے اس نعمت سے جو اللہ نے اپنے بندے کو عطا کی یعنی ذکرِ الٰہی افضل ہے نعمتِ الٰہی سے۔

 سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اُن کے پاس سے گزرے اور وہ (ابو ہریرہ ) درخت لگا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابو ہریرہ!تم کیا چیز لگا رہے ہو؟ میں نے کہا: درخت لگا رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تجھے ایسے درخت کے بارے میں نہ بتاؤں  جو تیرے لئے اس سے بہتر ہے ؟ (ابو ہریرہ ؓ نے) کہا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا : کہہ (سبحان اللہ و الحمد للہ و لا إلٰہ إلا اللہ واللہ أکبر) تیرے لئے ہر ایک (کلمے) کے بدلے جنت میں ایک درخت لگایا جائے گا۔

سنن ابن ماجہ: ۸۰۷ و اسنادہ ضعیف

فوائد:
 
اس روایت کی سند عیسیٰ بن سنان ابو سنان کی وجہ سے ضعیف ہے کیونکہ اسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن مذکورہ کلمات کی فضیلت صحیح  احادیث سے بھی ثابت ہے جیسا کہ پہلی حدیث میں گزر چکا ہے۔
 
 سیدنا نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے جلال میں سے جو تم ذکر کرتے ہو (وہ ) تسبیح ، تہلیل اور تمہید ہے۔ (یہ کلمات) عرش کے گرد گھومتے ہیں، شہد کی مکھی کی طرح ان کی بھنبھناہٹ ہے( اور اللہ کے حضور) اپنے کہنے  والے کا ذکر کرتے ہیں۔ کیا تم میں سے کوئی چاہتا ہے کہ اُس کے لئے (ایسا ہی ) ہو یا (کوئی ) ہمیشہ اُس کا ذکر ( اللہ کے سامنے ) کرتا رہے۔
سنن ابن ماجہ : ۳۸۰۹ و اسنادہ حسن

فوائد:

ذکر اور ذاکر کی فضیلت واضح ہو رہی ہے۔
 

 سیدنا عبداللہ بن بسر ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھ پر اسلام کے قاعدے زیادہ ہو گئے ہیں، آپ مجھے ان میں سے (کوئی ایک) چیز بتا دیں جسے میں (پابندی کے ساتھ) ادا کرتا رہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہمیشہ تیری زبان اللہ کے ذکر سے تر رہے۔

سنن ابن ماجہ : ۳۷۹۳و سندہ حسن ، ترمذی:۳۳۷۵

فوائد:
 
‘‘ مجھ پر اسلام کے قاعدے زیادہ ہو گئے ہیں’’ سے مراد نفلی امور ہیں۔ اس سے نماز ، روزہ ، ذکوٰۃ اور حج وغیرہ مراد لینا قطعاً غلط ہے جیسا کہ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ نماز ، روزہ ہو یا نہ ہو لیکن ذکر کی محفلوں کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیئے۔ یاد رہے کہ فرائض کو ترک اور نوافل کی پابندی کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہو سکتا جب تک فرائض کو لازم اور پھر نوافل کا خیال نہ رکھا جائے۔ اس حدیث میں ذکرِ الٰہی کی فضیلت اور اس سے ہمیشہ زبان کو تر رکھنے کی ترغیب بھی ثابت ہو رہی ہے۔
 سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ پر گواہی دیتے ہوئے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو قوم بھی اللہ کا ذکر کرتی ہے تو فرشتے ان کا احاطہ کر لیتے ہیں( اللہ کی) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے مقرب فرشتوں میں فرماتا ہے۔
صحیح مسلم: ۲۷۰۰
 
فوائد:
 

اس حدیث میں مطلقاً ذکر کی فضیلت ہے کہ جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں ہوتاہے اور اللہ اس کا تذکرہ اپنے قریب والوں میں کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے اپنے بارے میں  گمان کے مطابق ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ میرا ذکر اپنے دل میں کرتا ہے تو میں بھی اپنے دل میں اس کو یاد کرتا ہوں اور اگر وہ میرا ذکر کسی مجلس میں کرتا ہے تومیں اس کا ذکر ایسی مجلس میں کرتا ہوں جو اس سے بہتر ہوتی ہے۔[صحیح مسلم:۲۶۷۵، صحیح بخاری: ۷۴۰۵]

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (فَاذْ کُرُوْ نِیْ اَذْ کُرْکُمْ) تم مجھے یاد کرو میں تمھیں یاد کروں گا۔[البقرۃ: ۱۵۲]

مذکورہ حدیث سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ ‘‘حلقے بنا کر اجتماعی شکل میں ہوُ ہُو کی ضربوں والا ذکر بھی جائز ہے۔’’
 
اس سے قبل کئی مقامات پر اس کی وضاحت ہو چکی ہے کہ ذکر سے مراد یہ لینا کہ ‘‘ضربیں لگائی جائیں’’ قطعاً درست نہیں ہے۔ ذکر سے مراد نماز بھی ہے اور تلاوتِ قرآن مجید بھی ۔ [دیکھئے طٰہٰ: ۱۳، النحل:۴۴]
 
جب یہ معلوم ہو گیا کہ ذکر کا مفہوم محدود نہیں ہے تو پھر کس طرح اس حدیث سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ‘‘حلقے بنا کر ذکر کی ضربیں لگانا جائز ہے’’ جبکہ اس کے برعکس سلف صالحین سے اس کی مخالفت بھی ثابت ہو۔ دوسرے یہ کہ صحیح مسلم ہی کی دوسری حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(ما اجتمع قوم فی بیت من بیوت اللہ یتلون کتاب اللہ و یتدار سونہ بینھم إلا نزلت علیھم السکینۃ وغشیتھم الرحمۃ وحفتھم الملاءکۃ و ذکرھم اللہ فیمن عندہ) جب کوئی قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر (مسجد وغیرہ) میں جمع ہو کر قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہے اور آپس میں (کتاب اللہ کو) پڑھتی پڑھاتی ہے تو اس پر سکینت نازل ہوتی ہے ، اللہ کی رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے اس کو گھیر لیتے ہیں اور اس کا ذکر جو اللہ کے پاس ہیں ان میں ہوتا ہے۔[صحیح مسلم :۲۶۹۹]

معلوم ہوا کہ مجالسِ ذکر سے مراد بدعتیوں کی اجتماعی ذکر والی صوفیانہ مجلسیں نہیں بلکہ تلاوتِ قرآن، تدریس و قراءت اور علم وفقہ کے تذکرے کی مجلسیں ہیں۔ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ‘‘ یہاں ذکر سے مراد وہ الفاظ ادا کرنا ہے جن کی ترغیب یا کثرت کے بارے میں دلائل موجود ہیں مثلاً الباقیات الصالحات، یہ (سبحان اللہ) (الحمد للہ ) (اللہ اکبر)  اور (لا الٰہ الا اللہ) ہیں۔ اسی طرح ان کے موافق (حسبی اللہ) اور استغفار وغیرہ کا حکم ہے۔ دنیا اور آخرت کی خیر مانگنا بھی اس میں شامل ہے اور واجب یا مستحب عمل پر ہمیشگی کرنا بھی اللہ کا ذکر ہے مثلاً تلاوتِ قرآن ، قراءت حدیث، تدریس علم اور نفل نمازیں ’’ [تحفۃ الاحوذی ۹؍۳۱۴]

صحابہ کرام ؓ اور سلف صالحین سے حلقے بنا کر ذکر کرنے کی مذمت کے لئے دیکھئے سنن دارمی، البدع و النہی عنہا لابن وضاح اور  عبادات میں بدعات اور سنت سے  ان کا رد

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.