زمین کو ٹھیکے پر دینے کا شرعی جواز

 از    November 17, 2015

تحریر: حافظ ابو یحیٰی نور پوری

دنیاوی معاملات میں چونکہ اصل اباحت ہے اور حرمت کا ثبوت کسی صحیح و صریح دلیل کا محتاج ہوتاہے، لہٰذا اس اصول کے تحت زمین کو کرایہ، یعنی ٹھیکہ پر دینا بالکل جائز و درست ہے۔ اس کے خلاف کوئی دلیل نہیں۔

رہا سیدنا رافع بن خدیج اور دوسرے کئی صحابہ کرامﷺ کا نبی اکرمﷺ سے زمین کو ٹھیکے پر دینے کی ممانعت کرنا تو اس سے مراد حرمت نہیں، بلکہ محض نرمی کی ہدایت ہے۔ اگر کوئی خود زمین کاشت نہیں کرتا تو کسی دوسرے مسلمان کو بغیر عوض کے زمین دے دینا اس کے لیے بہتر اور کار ثواب ہے۔ رہا ٹھیکے پر دینے کا عمل تو اس میں سے صرف ظلم و زیادتی والی صورتوں کو آپﷺ نے ممنوع قرار دیا ہے، ہرطرح کے ٹھیکے کو نہیں، کیونکہ:

۱۔ اس ممانعت کو رسول اللہﷺ سے بیان کرنے والے صحابی رسول سیدنا رافع بن خدیج خود خالی زمین کو کرائے پر دینے کے قائل تھے۔ چنانچہ حنظلہ بن قیسؒ بیان کرتے ہیں:

سألت رافع بن خدیج عن کراء الأرض بالذھب والورق، فقال: لا بأس بہ، إنّما کان الناس یؤاجرون علی عھد جرون علی عھد النبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم علی الماذیانات، و أقبال الجداول، وأشیاء من الزرع ، فیھلک ھذا ویسلم ھذا، ویسلم ھذا و یھلک ھذا، فلم یکن للناس کراء إلّا ھذا، فلذلک زجر عنہ، فأمّاشیء معلوم مضمون، فلا بأس بہ۔ 

‘‘ میں نے سیدنا رافع بن خدیجؓ سے زمین کو سونے، چاندی( نقدی) کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا، اس میں کوئی حرج نہیں۔ (رہی بات رسول اللہﷺ کے منع فرمانے کی تو اصل بات یہ ہے کہ) نبی اکرمﷺ کے عہد مبارک میں لوگ ٹھیکے پر زمین اس شرط پر دیتے تھے کہ پانی کے قریب والی زمین، نالوں کے کناروں پر واقع زمین اور کئی طرح کا (متعین) غلہ ان کا ہو گا۔ اس صورت میں کبھی یہ ہلاک ہو جاتا (نقصان اٹھاتا) اور وہ سلامت رہ جاتا (نفع مند رہتا) اور کبھی یہ سلامت رہ جاتا اور وہ ہلاک ہو جاتا۔ ان دنوں میں لوگوں کے پاس زمین کو ٹھیکے پر دینے کی صرف یہی صورت تھی، اس لیے نبی اکرمﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔ رہا ٹھیکے کا وہ معاملہ جو معلوم و متعین ہو (نقدی کی صورت میں ہو) تو اس میں کوئی حرج نہیں۔’’

(صحیح البخاری: ۲۳۴۶، صحیح مسلم: ۱۶۶/۱۵۴۷، واللفظ لہ)

صحیح مسلم ( ۱۱۷/۱۵۴۷) کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:

کنّا أکثر الأرنصار حقلا، قال: کنّا نکری الأرض علی أنّ لنا ھذہ، ولھم ھذہ، فربما أخرجت ھذہ، ولم تخرج ھذہ، فنھانا عن ذلک، و أمّا الورق فلم ینھنا۔ 

‘‘ ہم سب انصار سے بڑھ کر کاشتکاری کرنے والے تھے۔ ہم زمین کو اس شرط پر ٹھیکے پر حاصل کرتے تھے کہ زمین کا یہ حصہ ہمارے لیے اور یہ حصہ ،ان (ملکوں) کے لیے ہے۔ بسا اوقات ایسے ہوتا کہ زمین کا ایک خطہ اچھا غلہ اگاتا اور دوسرا خطہ نہ اگاتا۔ اس طریقے سے ہمیں رسول اللہﷺ نے منع فرما دیا۔ رہی چاندی (نقدی کے عوص ٹھیکے کا معاملہ کرنا) تو اس سے آپﷺ نے ہمیں منع فرمایا۔’’

صحیح بخاری کی ایک روایت میں سیدنا رافع خدیجؓ یوں بیان فرماتے ہیں:

و أمّا الذھب والورق، فلم یکن یومئذ۔ 

‘‘ رہا سونے اور چاندی کے عوض ٹھیکے کا معاملہ تو یہ ان دنوں میں تھا ہی نہیں، جب رسول اللہﷺ نے منع فرمایا تھا۔

(صحیح البخاری: ۲۳۲۷)

امام بغوی رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

فیہ دلیل علی جواز إجارۃ الأراضی، و ذھب عامّۃ أھل العلم إلی جوازھا بالدراھم و الدنانیز، و غیرھا من صنوف الأموال، سواء کانت ممّا تنبت الأرض،أولا تنبت، إذا کان معلوما بالعیان، إو بالوصف، کما یجوز إجارۃ غیر الأراضی من العبید و الدوابّ و غیرھا، و جملتہ إن ما جاز بیعہ، جاز أن یجعل أجرۃ فی الإجازۃ۔ 

‘‘ اس حدیث میں زمین کو ٹھیکے پر لینے دینے کی دلیل ہے۔ اکثر اہل علم سونے، چاندی (نقدی) اور مال کی دوسری اقسام کے عوض زمین کے ٹھیکے کے جواز کے قائل ہیں، خواہ وہ چیز زمین سے اگتی ہو یا نہ اگتی ہو، بشرطیکہ اس کی مقدار اور کیفیت معلوم ہو۔ یہ (زمین کا کرایہ پر لینا دینا) اسی طرح جائز ہے، جیسے زمین کے علاوہ دوسری چیزیں، مثلاً غلام، جانور وغیرہ کو کرائے پرلینا دینا جائز ہے۔ خلاصہ یہ  کہ جس چیز کی خرید و فروخت جائز ہے، اس کو اجرت کے بدلے کرائے پر لینا دینا بھی جائز ہے۔۔۔’’

(شرح السنۃ للبغوی: ۲۶۳/۸)

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

و ذھب جمیع فقھاء الحدیث الجامعون لطرقہ کلّھم، کأحمد بن حنبل و أصحابہ کلّھم من المتقدّمین، والمتأخّرین، وإسحاق بن راھویہ، وأبی بکر أبی شبیۃ، وسلیمان بن داود الھاشمیّ، و أبی خیثمۃ زھیر بن حرب، و أکثر فقھاء الکوفّیین، کسفیان الثوری،  و محمّد بن عبدالرحمن بن أبی لیلی، و أبی داوٗد، وجماھیر فقھاء الحدیث من المتأخّرین: کابن المنذر، وابن خزیمۃ، والخطّابیّ، وغیرھم، و أھل الظاھر، و أکثر أصحاب أبی حنیفۃ إلی جواز المزراعۃ والمؤعۃ و نحو ذلک اتّباعا لسنّۃ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم وسنّۃ خلفائہ و أصحابہ و ما علیہ السلف و عمل جمھور المسلمین۔ 

‘‘ سنت رسول، خلفائے راشدین اور دوسرے صحابہ کرامؓ کے عمل، سلف صالحین اور اکثر مسلمانوں کی روش کی پیروی میں اس حدیث کی ساری روایات کو جمع کرنے والے فقہائے حدیث، مثلا امام احمد بن حنبل، آپؒ کے تمام متقدین و متاخرین اصحاب، امام اسحاق بن راہویہ، امام ابوبکر بن ابی شیبہ، امام سلیمان بن داؤد ہاشمی، امام ابو خیثمہ زہیر بن حرب، اکثر فقہائے کوفہ، جیساکہ امام سفیان ثوری، محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلٰی، امام ابو حنیفہ کے دونوں شاگرد ابو یوسف و محمد، امام بخاری، امام ابوداؤد اور جمہور متاخرین فقہائے حدیث، مثلا امام ابن منذر، امام ابن خزیمہ، خطابی اور اہل ظاہر، امام ابو حنیفہ کے اکثر پیروکاروں کا مذہب ہے کہ مزارع اور ٹھیکہ وغیرہ جائزہ ہے۔۔۔۔’’

(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: ۹۵-۹۴/۲۹، القواعد النوانیۃ الفقھیۃ: ۱۶۳)

شیخ اسلام ثانی، عالم ربانی، امام ابن القیمؒ لکھتے ہیں:

و قال ابن المنذر: قد جائت الأخبار عن رافع بعلل، تدلّ علی أنّ النھی کان بتلک العلل۔ 

‘‘ سیدنا رافع بن خدیجؓ سے آنے والی (ٹھیکے کی ممانعت والی) روایات میں کئی وجوہات بیان ہوئی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹھیکے کی ممانعت انہی وجوہات کی وجہ سے تھی (مطلق طور پر ٹھیکے کا معاملہ حرام نہ تھا)،’’

( حاشیۃ ابن القیم علی سنن ابی داوٗد: ۱۸۶/۹)

نیز لکھتے ہیں:

المخابرۃ التی نھاھم عنھا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم ھی التی کانوا یفعلونھا من المخابرۃ الظالمۃ الجائزۃ، و ھی التی جائت مفسّرۃ فی أحادیثھم۔ 

‘‘ زمین کے جس معاملے سے رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے، وہ اس معاملے کی وہ صورتیں ہیں، جو ظلم و زیادتی پر منبی تھیں، ان کی وضاحت صحابہ کرامؓ کی بیان کردہ احادیث میں آگئی ہے۔۔’’

(حاشیۃ ابن القیم علی سنن ابی داوٗد: ۱۹۳/۹)

امام ابن دقیق العیدؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

فیہ دلیل علی جواز کراء الأرض بالذھب والورق، وقد جاءت أحادیث مطلقۃ فی النھی عن کرائھا، وھذا مفسّر لذلک الإطلاق۔۔۔ 

‘‘ اس حدیث میں زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض ٹھیکے پر لینے کا جواز موجود ہے۔ کچھ مطلق احادیث زمین کے ٹھیکے سے ممانعت کے بارے میں آئی ہیں، یہ حدیث اس اطلاق کی تفسیر و تقیید کرتی ہے (یعنی بتاتی ہے کہ ٹھیکہ نا جائز نہیں)۔۔۔۔’’

(احکام الاحکام شرح عمدۃ الاحکام لابن دقیق العید: ص ۳۸۰)

معلوم ہوا کہ ٹھیکے کی غلط صورتوں سے نبی اکرمﷺ نے منع فرمایا تھا، نہ کہ مطلق ٹھیکے سے، کیونکہ خودراویٔ حدیث سیدنا رافع خدیجؓ نے وضاحت فرما دی ہے کہ انصار ٹھیکے کے وقت جگہ مقرر کر لیتے تھے کہ زمین کے اس ٹکڑے کی پیدوار ٹھیکے والے کو اور اس ٹکڑے کی مالک کو ملے گی، یوں کبھی ٹھیکے والے کو نقصان ہو جاتا کبھی مالک کو۔ اسی طرح معاملہ یوں طے پاتا کہ زمین سے پیداوار کم ہو یا زیادہ، مالک نے مقررہ مقدار غلہ لینا ہے۔ اس صورت میں بھی ایک فریق کو نقصان کا خدشہ ہوتا تھا، اس لیے اسے بھی شریعت نے ممنوع ٹھہرایا۔ رہی نقدی کے عوض ٹھیکے کی صورت تو یہ اس دور میں تھی ہی نہیں، جب آپﷺ نے منع فرمایا ہے، لہٰذا یہ ممنوع کیسے ہو سکتی ہے؟ فقہائے کرام اور محدثین عظام کا فہم بھی یہی ہے۔ اس بارے میں حدیث رسول بھی ملاحظہ فرمائیں:

۲۔ سیدنا رافع بن خدیجؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

إنّما یزرع ثلاثۃ: رجل منح أرضا فھو یزرع ما منح، و رجل لہ أرض فھو یزرعھا، و رجل استکرٰی أرضا بذھب أو فضۃ۔ 

‘‘ تین آدمی ہی زمین کاشت کرنے کے اہل ہیں، ایک وہ جس کو کوئی زمین تخفۃً دے دی گئی ہو اور وہ اس میں کاشت کرے اور دوسرا وہ شخص، جس کے پاس اپنی زمین ہو اور وہ اس میں کاشت کرے اور تیسرا وہ شخص، جو زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض ٹھیکے پر حاصل کرتا ہے اور اس میں کاشت کرتا ہے۔’’

(سنن النسائی: ۳۸۹۰، مصنف ابن ابی شیبۃ: ۸۵/۷، ح: ۲۲۸۷۲، السنن الکبرٰی للنسائی: ۴۶۱۷، سنن الدارقطنی: ۹۶/۳، ح: ۱۴۵، وسندہٗ حسنٌ)

یہ حدیث ممانعت والی احادیث کے مطلق نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے اور صراحت سے بتاتی ہے کہ نقدی کے عوض زمین کے ٹھیکے کا معاملہ بالکل جائز و درست ہے۔

۳۔ سیدنا زید بن ثابتؓ فرماتے ہیں:

یغفر اللہ لرافع بن خدیج! أنا واللہ أعلم بالحدیث منہ، إنّما أتی رجلان قد اقتتلا، فقال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم، إن کان ھذا شأنکم فلا تکروا المزارع، قال فسمع رافع قولہ: لا تکروا المزارع۔ 

‘‘ اللہ تعالی رافع بن خدیجؓ کو معاف فرمائے۔ میں اس (زمین کے ٹھیکے کی ممانعت والی) حدیث کو ان سے بہتر جانتا ہوں۔ دراصل آپﷺ کے پاس دو آدمی آئے، جو (ٹھیکے والے معاملے میں) لڑ پڑے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا، اگر تمہاری یہی صورت حال ہے تو پھر زمینوں میں ٹھیکے کا معاملہ نہ کیا کرو۔ سیدنا رافعؓ نے آپﷺ کا اتنا فرمان ہی سنا تھا کہ زمینوں میں ٹھیکے کا معاملہ نہ کیا کرو (ممانعت کی وجہ نہیں سن سکے)۔’’

(مسند الامام احمد: ۱۸۷/۵، سنن ابی داوٗد: ۳۳۹۰، سنن ابن ماجہ: ۲۴۶۱، سنن النسائی: ۳۹۲۷، السنن الکبرٰی: ۱۰۶/۳، وسندہٗ حسنٌ)

سیدنا زید بن ثابتؓ یہ خیال کرتے تھے کہ سیدنا رافع بن خدیجؓ زمین کے کرائے والی حدیث میں ممانعت کو مطلق سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک ہر طرح کا ٹھیکہ ناجائز ہے، اسی لیے ان سے حدیث سن کر سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے ٹھیکے کو ترک کر دیا تھا، لیکن ہم پیچھے ذکر کر چکے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیجؓ بھی اس حدیث کی ممانعت کو ظلم و زیادتی والی صورتوں کے ساتھ خاص سمجھتے تھے، نقدی کے عوض زمین کے ٹھیکے کو وہ بھی جائز سمجھتے تھے۔ معلوم ہوا کہ سیدنا زید بن ثابتؓ کے نزدیک بھی یہ حدیث مطلق نہیں اور ہر طرح کا ٹھیکہ ناجائز نہیں۔

۴۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں:

کنت أعلم فی عھد النبّی صلّی اللہ علیہ وسلّم أنّ الأرض تکری، ثمّ خشی عبداللہ أن یکون النبّی صلّی اللہ علیہ وسلّم قد أحدث فی ذلک شیئا لم یکن یعلمہ، فترک کراء الأرض۔ 

‘‘ میں جانتا ہوں کہ نبی اکرمﷺ کے عہد مبارک میں زمین ٹھیکے پر لی دی جاتی تھی۔ (سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ) پھر سیدنا عبداللہ بن عمرؓ (سیدنا رافع بن خدیج کی حدیث سن کر) اس بات سے ڈر گئے کہ شاید اس بارے میں نبی اکرمﷺ نے کوئی نیا حکم کردیا ہو، لہٰذا انہوں نے زمین کے ٹھیکے کا معاملہ چھوڑ دیا۔’’

(صحیح البخاری: ۲۳۴۵، صحیح مسلم: ۱۲۲/۱۵۴۷)

معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں زمین کے ٹھیکے کا معاملہ ہوتا تھا اور آپﷺ کے آخری عہد تک ہوتا رہا، سیدنا عبداللہ بن عمرؓ آپﷺ کی زندگی کے بعد بھی یہ معاملہ کرتے رہے، لیکن جب سیدنا رافع بن خدیجؓ کی حدیث ان تک پہنچی تو انہوں نے اسے مطلق سمجھ کر ٹھیکہ چھوڑ دیا، حالانکہ یہ بات بالصراحت گزر چکی ہے کہ اس سے مطلق ممانعت مراد نہیں تھی، بلکہ صرف کچھ خرابی والی صورتوں سے منع کیا گیا تھا۔

۵۔ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:

إنّ أمثل ما أنتم صانعون تستأجروالأرض البیصاء بالذھب والورق۔ 

‘‘ سب سے بہترین صورت یہ ہے کہ تم خالی زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض کرائے (ٹھیکے) پر حاصل کرو۔’’

(مصنف ابن ابی شیبۃ: ۸۷/۷، مصنف عبدالرزاق: ۴۹۲/۴، السنن الکبیٰری للبیھقی: ۱۳۳/۶، صحیح البخاری: قبل ۲۳۴۶، تعلیقا، وسندہٗ صحیحٌ)

۶۔ امام ابن شہاب زہریؒ نے سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کے صاحبزادے امام سالمؒ سے زمین کو نقدی کے عوض ٹھیکے پر لینے دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:

لا بأس بھا بالذھب والورق۔ 

‘‘ سونے، چاندی(نقدی) کے عوض ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔’’

(الموطا للامام مالک: ۱۳۹۲، وسندہٗ صحیحٌ)

۷۔ امام ابن  شہاب زہریؒ بیان کرتے ہیں:

‘‘ میں نے امام سعید بن مسیّب تابعی سے زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا، اس میں کوئی حرج نہیں۔’’

(الموطا للامام مالک: ۱۳۹۱، وسندہٗ صحیحٌ)

۸۔ امام عبیداللہ بن العمریؒ بیان کرتے ہیں:

‘‘ امام سالم بن عبداللہ بن عمر، امام سعید بن مسیب، امام عروہ زبیر اور امام زہریؒ سب زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض ٹھیکے پر لینے دینے کو کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔’’

(مصنف ابن ابی شیبۃ: ۲۲۸۷۷، وسندہٗ صحیحٌ)

۹۔ حجاج بن دینار، امام محمد بن علی بن حسین بن علی ابی طالب، المعروف ابو جعفر الباقرؒ کے بارے میں بیان کرتے ہیں:

‘‘ میں نے امام ابو جعفر الباقرؒ سے ایسی خالی زمین کے بارے میں پوچھا، جس میں کوئی درخت نہ ہو، کیا ہم اسے درہم و دینار کے عوض کرائے پر حاصل کر سکتے ہیں؟ آپؒ نے فرمایا، یہ بہت اچھا کام ہے، ہم مدینہ میں اس طرح کرتے ہیں۔’’

(مصنف ابن ابی شیبۃ: ۲۲۸۸۱، وسندہٗ حسنٌ)

۱۰۔ معاویہ بن ابی اسحاق بیان کرتے ہیں:

سألت سعید بن جبیر عن إجارۃ الأرض، فقال: لا بأس بھا۔ 

‘‘ میں نے امام سعید بن جبیرؒ سے زمین کو ٹھیکے پر لینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا، اس میں کوئی حرج نہیں۔’’

(مصنف ابن ابی شیبۃ: ۲۲۸۸۳، وسندہٗ حسنٌ)

الحاصل:

 نقدی کے عوض زمین کے ٹھیکے کا معاملہ بالکل درست ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔ حدیث رسول، فہم صحابہ، عمل تابعین اور جمہورامت کے تعامل سے یہی ثابت ہوتا ہے۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.