رمضان کےروزوں کی قضا

 از    March 30, 2015

قارئین کے سوالات

 جواب بزریعہ غلام مصطفے ظہیر امن پوری

سوال:      کیا رمضان میں کسی عذر کی بنا پر چھوڑے گئے روزوں کی قضائی رمضان کے فوراً بعد دینا ضروری ہے؟

جواب:     رمضان کے چھوڑے گئے  روزوں کی قضائی پے در پے مستحب تو ہے ، ضرور ی نہیں ، کیونکہ:

۱…          فرمانِ باری تعالیٰ ہے : ﴿فَعِدَّۃٌ مِّنْ أَیَّامٍ أُخَرَ﴾ (البقرۃ:۱۸۵) “دوسرے دونوں کی گنتی ہے۔

۲…         سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں: کان یکون علیّ الصوم من رمضان فما أستطیع أن أقضیہ إلّا فی شعبان.               “مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضائی ہوتی ، میں انہیں شعبان سے پہلے نہ رکھ سکتی تھی۔”         (صحیح بخاری: ۱۹۵۰، صحیح مسلم: ۱۱۴۶)

                حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:” اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان کی قضاء کو مطلق طور پر مؤخر کرنا جائز ہے ، خواہ عذر کی وجہ سے یا بغیر عذر کے ۔”     (فتح الباری : ۱۹۱/۴)

۳…         سیدنا عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: لا یضرّک کیف قضیتھا، إنّما ھی عدّۃ من أیام أخر.

                ” تجھے کوئی نقصان نہیں، جیسے جی چاہے قضائی دے، صرف دوسرے دنوں کی گنتی (پوری کرنا ضروری) ہے ۔” (تغلیق التعلیق لابن حجر: ۱۸۶/۳، وسندۃ صحیح)

۴…         امام عطاء بن أبی رباحؒ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ، دونوں نے فرمایا: فرقہ إذا أحصیتہ. “جب تو گنتی رکھے، تو وقفے میں کوئی حرج نہیں۔” (سنن دار قطنی: ۱۹۳/۲، وسندہ حسن)

۵…         سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: یو اترہٗ إن شاءَ.

                “چاہے ، تو پے در پے رکھ لے ۔ “  (مصنف ابن ابی شیبہ: ۳۴/۳، وسندہ صحیح)

۶…          بکر بن عبداللہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں:

                أنہٗ کان لا یری بہٖ بأسا، ویقول؛ إنّما قال اللّٰہ﴿فَعِدَّۃٌ مِّنْ أَیَّامٍ أُخَرَ﴾.

                “آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وقفے یا تأخیر میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف دوسرے دنوں کی گنتی کا ذکر فرمایا ہے  ۔”                (السنن الکبریٰ للبیہقی: ۲۵۸/۴ و سندہ صحیح)

۷…         أبو عامر الہوزنی کہتے ہیں:

                سمعت أبا عبیدۃ بن الجراح رضی اللّٰہ عنہ سئل عن قضاء رمضان فقال؛ إنّ اللّٰہ لم یرخص لکم فی فطرہٖ و ھو یرید أن یشق علیکم فی قضائہٖ، فأحص العدۃ واصنع ماشئت.

                “میں نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنا، آپ سے رمضان کی قضاء کے بارے پوچھا گیا ، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے روزہ چھوڑنے کی رخصت اس لئے نہیں دی کہ قضاء میں تم پر مشقت ڈال دے ، آپ گنتی شمار کریں اور جو چاہیں کرلیں۔” (السنن الکبری للبیہقی: ۲۵۸/۴ ،  سنن دارقطنی : ۱۹۱/۲، وسندہ حسن)

۸…         سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےفرمایا:  فرق قضاء رمضان، وأحص العدّۃ.

                “رمضان کی قضاء کو وقفے سے پورا کرلو، لیکن گنتی شمار کرو۔”             (سنن دار قطنی : ۱۹۲/۲، وسندہ حسن)

۹…          امام حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ وقفے سے قضاء رمضان میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے ۔       (ابن ابی شیبہ: ۳۳/۳ و سندہ صحیح)

۱۰…        جعفر بن میمون کہتے ہیں:

                قضاء رمضان عدّۃ من أیام أخر. “قضاء رمضان میں صرف دوسرے دنوں کی گنتی (پوری کرنا) ضروری ہے۔” (ابن ابی شیبہ : ۳۳/۳، و سندہ صحیح)

فوری قضائی کے قائلین کے دلائل:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قضائے رمضان کے بارے میں فرماتے ہیں:

                یتابع بینہ. “اس میں پے در پے روزہ رکھا جائے گا ۔”     (مصنف ابن أبی شیبہ: ۳۴/۳، وسندہ صحیح)

                عروہؒ فرماتے ہیں:  یواتر قضاء رمضان. “رمضان کے روزوں کی قضاء لگاتار دے گا ۔”                           (مصنف ابن ابی شیبہ : ۳۴/۳، وسندہ صحیح)

سعید بن مسیب فرماتے ہیں:  یقضیہ کھیأتہٖ.

جس طرح چھوڑے تھے، اسی طرح قضائی دے گا۔”   (مصنف ابن ابی شیبہ:۳۴/۳، وسندہ صحیح)

محمد بن سیرین کہتے ہیں:  أحب إلیّ  أن یصومہ کما أفطرہ.

مجھے محبوب یہی ہے کہ جس طرح روزے چھوڑے تھے ، اسی طرح قضائی دے ۔” (ابن أبی شیبہ: ۳۴/۳، وسندہ صحیح)

حکم بن عتیبہ کہتے ہیں: “لگاتار قضائی دینا مجھے پسند ہے ۔” (ابن ابی شیبہ: ۳۴/۳، وسندہ صحیح)

قاسم بن محمد کہتے ہیں: صمہ متتابعا، إلا أن یقطع بک کما قطع بک فیہ.

“لگاتار روزے رکھ ، الا یہ کہ (قضائی میں بھی) وہی عارضہ پیش آجائے ، جو پہلے پیش آیا تھا۔ ”                (ابن ابی شیبہ: ۳۴/۳، وسندہ صحیح)

ان سب اقوال کو استحباب پر محمول کیا جائے گا ، جیساکہ امام عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں:

یقضیہ متتابعاً أحبّ إلیّ و إن فرق أجزأہٗ.

رمضان کی قضائی لگاتار ہو، تو مجھے محبوب ہے ، اگر وقفہ آجائے ، تو کفایت کرجائے گی ۔”  (مصنف ابن أبی شیبہ: ۳۵/۳ ، وسندہ صحیح)

روزوں کی قضائی پے در پے مستحب ہے ، ضروری نہیں ، جو لوگ لگاتار قضائی کو ضروری قرا ر  دیتے ہیں، ان کے پاس نہ تو کوئی دلیل ہے ، نہ سلف صالحین میں سے ان کا کوئی حامی ہے ۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.