رفع یدین کے خلاف ایک نئی روایت : اخبار الفقہاء والمحدثین؟

 از    June 29, 2014

سوال: بعض لوگ رفع یدین کے خلاف ایک کتاب‘‘اخبار الفقھاء والمحدثین’’ کا حوالہ پیش کر رہے ہیں۔ 

مثلاً غلام مصطفیٰ نوری بریلوی لکھتے ہیں کہ:

”              آئیے ہم آپ کی خدمت میں وہ حدیث پیش کرتے ہیں  جس میں صریحاً یہ مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علی وسلم پہلے رکوع والا  رفع یدین کرتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا یہ حدیث صحیح صریح مرفوع ہے۔آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔امام حافظ ابو عبداللہ محمد بن حارث الخشنی القیرانی متوفی سنہ ۳۲۱ ھجری اپنی کتاب  اخبار الفقھاء و المحدثین کے صفحہ ۲۱۴ پر سند صحیح سے مرفوعاً یہ حدیث نقل کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ:حدثنی عثمان بن محمد قال: قال لی عبید اللہ بن یحیی: حدثنی عثمان بن سوادۃ بن عباد عن حفص بن میسرۃ عن زید بن اسلم عن عبداللہ بن عمر قال: کنا مع رسول اللہ ﷺ بمکۃ نرفع ایدینا فی بدء الصلوۃ و فی داخل الصلوۃ عند الرکوع فلما ھاجر النبی ﷺ إلی المدینۃ ترک رفع الیدین فی داخل الصلوۃ عند الرکوع وثبت علی رفع الیدین فی بدء الصلوۃ۔۔۔تو فی( اخبار الفقھاء و المحدثین ص ۳۱۲)
ترجمہ: جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علی وسلم کے ساتھ  مکہ میں تھے تو ہم رفع یدین کرتے تھے نماز کی ابتداء میں اور نماز کے اندر رکوع کے وقت اور جب نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے نماز کے اندر رکوع والا رفع یدین چھوڑ دیا اور ابتداء کی رفع یدین پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثابت رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ناظرین گرامی قدر:  یہ حدیث پاک رفع یدین عند الرکوع کے نسخ میں کتنی واضح ہے۔ پھر بھی اگر کوئی نہ مانے تو اس کی مرضی ہے”(ترکِ رفع یدین ص ۲۹۵، ۲۹۱ طبع اول جون ۲۰۰۴ء مکتبہ نوریہ رضوعیہ گلبرگ اے فیصل آباد)

عرض ہے کہ کیا یہ روایت صحیح ہے؟ تحقیق سے جواب دیں۔ جزا کم اللہ خیراً
الجواب:
جناب غلام مصطفیٰ نوری بریلوی صاحب کی پیش کردہ روایت کئی لحاظ سے موضوع اور باطل ہے۔
دلیل نمبر ۱:
اخبار الفقھاء و المحدثین نامی کتاب کے شروع(ص۵) میں اس کتاب کی کوئی سند مذکور نہیں ہے اور آخر میں لکھا ہوا ہے کہ : ‘‘ تم الکتاب و الحمدللہ حق حمدہ وصلی اللہ علیٰ محمد و آلہ و کان ذالک فی شعبان من عام ۴۸۳ھ”

یعنی : کتاب مکمل ہو گئی اور سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جیسا کہ اس کی تعریف کا حق ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آپ کی آل پر درود ہو۔ اور یہ (تکمیل ) شعبان ۴۸۳ ھ میں ہوئی ہے(ص ۲۹۳)

اخبار الفقھاء کی تکمیل کرنے اور لکھنے والا کون ہے؟ یہ معلوم نہیں، لہذا اس کتاب کا محمد بن حارث القیروانی کی کتاب ہونا ثابت نہیں ہے۔
دلیل نمبر ۲:
اس کے راوی عثمان بن محمد کا تعین ثابت نہیں ہے۔ بغیر کسی دلیل کے اس سے عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک قبری مراد لینا غلط ہے۔ اس ابن مدرک سے محمد بن حارث القیروانی کی ملاقات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

حافظ ذھبی لکھتے ہیں:‘‘عثمان بن محمد بن خشیش القیروانی عن ابن غانم قاضی إفریقیۃ، أظنہ کان کذاباً’’عثمان بن محمد بن خشیش القیروانی، ابن غانم قاضی افریقیۃ سے روایت کرتا ہے، میرا خیال ہے: یہ کذاب تھا۔(المغنی فی الضعفاء ج ۲ ص ۵۰ ت ۴۰۵۹)عثمان بن محمد: کذاب، قیروانی ہے اور محمد بن حارث بھی قیروانی ہے لہذا ظاہر یہی ہوتا ہے کہعثمان بن محمد سے یہاں مراد یہی کذاب ہے۔یاد رہے کہ عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک کا ثقہ ہونا معلوم نہیں ہے۔ 

محمد بن الحارث القیروانی سے منسوب کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ :

‘‘قال خالد بن سعدـ عثمان بن محمد ممن عنی بطلب العلم و درس المسائل و عقد الوثائق مع فضلہ و کان مفتی أھل موضعہ توفی ۳۲۰’’خالد بن سعد نے کہاـ عثمان بن محمد طلبِ علم پر توجہ دینے والوں میں سے ہے اس نے مسائل پڑھائے اور فضیلت کے ساتھ دستاویزیں لکھیں۔ وہ اپنے موضع (علاقے ) کا مفتی تھا ، ۳۲۰ھ کو فوت ہوا۔[اخبار الفقھاء و المحدثین ص ۲۱۲]
اس عبارت میں توثیق کا نام و نشان نہیں ہے۔
غلام رسول نوری بریلوی نے اس عبارت کا ترجمہ درج ذیل لکھا ہےـ

‘‘جناب خالد بن سعد نے فرمایا کہ عثمان بن محمد ان میں سے ہے جنہوں نے مجھ سے علم حاصل کیا ہے اور مسائل کا  درس لیا ہے اور یہ پختہ عقد والے ہیں اور صاحبِ فضیلت ہیں اور اپنے موضع کے مفتی تھے’’[ترکِ رفع یدین ص ۴۹۳]

دلیل نمبر ۳:
عثمان بن سوادہ بن عباد کے حالات‘‘اخبار الفقھاء و المحدثین’’ کے علاوہ وہ کسی کتاب میں نہیں ملے۔ اخبار الفقھاء میں لکھا ہوا ہے کہ ـ ‘‘قال عثمان بن محمد قال عبیداللہ بن یحیی کان عثمان بن سوادۃ ثقۃ مقبولاً عند القضاۃ والاحکام۔۔۔’’
چونکہ عثمان بن محمدمجروح یا مجہول ہے لہذا عبید اللہ بن یحیی سے یہ توثیق ثابت نہیں ہے۔
نتیجہـ عثمان بن سوادہ مجہول الحال ہے اس کی پیدائش اور وفات بھی نامعلوم ہے۔
دلیل نمبر ۴:
عثمان بن سوادہ کی حفص بن میسرہ سے ملاقات اور معاصرت ثابت نہیں ہے۔ حفص کی وفات ۱۸۱ ھ ہے۔
دلیل نمبر ۵:
محمد بن حارث کی کتابوں میں ‘‘اخبار القضاۃ و المحدثین’’ کا نام تو ملتا ہے مگر‘‘اخبار الفقھاء و المحدثین’’ کا نام نہیں  ملتا دیکھئے الاکمال لابن ماکولا(۳؍۲۶۱) الانساب للسمعانی (۲؍۳۷۶)
ہمارے اس دور کے معاصرین میں سے عمر رضا کی لہ نے‘‘ اخبار الفقھاء و المحدثین’’ کا ذکر کیا ہے۔ (معجم المؤلفین ۳؍۲۰۴)
اس طرح معاصر خیر الدین الزرکلی نے بھی اس کتاب کا ذکر کیا ہے(الاعلام ۶؍۷۵)
جدید دور کے یہ حوالے اس کی قطعی دلیل نہیں ہیں کہ یہ کتاب محمد بن حارث کی ہی ہے۔ قدیم علماء نے اس کتاب کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
دلیل نمبر ۶:
مخالفین رفع یدین جس روایت سے دلیل پکڑ رہے ہیں اس کے شروع میں لکھا ہوا ہے کہ:
‘‘وکان یحدث بحدیث رواہ مسنداً فی رفع الیدین وھو من غرائب الحدیث وأراہ من شواذھا’’
اور وہ رفع یدین کے بارے میں ایک حدیث سند سے بیان کرتا تھا۔ یہ غریب حدیثوں میں سے ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ شاذروایتوں میں سے ہے۔(اخبار الفقھاء و المحدثین ص۲۱۴)
یہ عام طالب علموں کو بھی معلوم ہے کہ شاذ روایت ضعیف ہوتی ہے۔
غلام مصطفیٰ نوری صاحب نے ‘‘کمال دیانت’’ سے کام لیتے ہوئے‘‘ من شواذھا’’ کی جرح کو چھپا لیا ہے۔
ان دلائل کا تعلق سند کے ساتھ ہے۔ اب متن کا جائزہ پیش خدمت ہے۔
دلیل نمبر ۷:
اس روایت کے متن میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد رکوع والا رفع یدین چھوڑ دیا۔ جبکہ صحیح و مستند احادیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں رفع یدین کرتے تھے۔
ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتے تو تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرتے اور جب رکوع کرتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے اور فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔(صحیح مسلم ۱؍۱۶۸ح۳۹۱و صحیح بخاری۱؍۱۰۲ح۷۳۷و نور العینین ص ۸۳)
مالک بن حویرث اللیثی رضی اللہ عنہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ میں) غزوہ تبوک کی تیاری کر رہے تھے دیکھئے   فتح الباری (ج۲ص۱۱۰ح۶۲۸)
وائل بن حجر الحضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔(صحیح مسلم ج ۱ص۱۷۳ح۴۰۱و نور العینین ص ۸۹)
عینی حنفی لکھتے ہیں کہ :‘‘ وائل بن حجر أسلم فی المدینۃ فی سنۃ تسع من الھجرۃ’’ اور وائل بن حجر مدینہ میں نو(۹) ہجری کو مسلمان ہوئے تھے(عمدۃ القاری ج ۵ص ۶۷۴)
۹ھ میں جو وفود نی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے، حافظ ابن کثیر الدمشقی نے ان میں وائل رضی اللہ عنہ کی آمد کا ذکر کیا ہے(البدایہ و النھایہ ج ۵ص۷۱ونور العینین ص۹۰)
معلوم ہوا کہ آپ حلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں رفع یدین نہیں چھوڑا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں بھی رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین کرتے تہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اخبار الفقھاء والی روایت موضوع ہے۔
دلیل نمبر ۸:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروع نماز، رکوع سے پہل ےاور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔(صحیح ابن خزیمہ۱؍۳۴۴ح۶۹۴،۶۹۵وسندہ حسن، نور العینین ص ۱۰۴)
یہ بات عام طالب علموں کو بھی معلوم ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ میں تشریف لائے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری چار سالوں میں آپ کے ساتھ رہے ہیں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والا رفع یدین کرتے تھے(جزء رفع الیدین للبخاری بتحقیقی :۲۲و نور العینین ص ۱۴۷)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس روایتِ مذکورہ میں شاگر اور امام ابو حنیفہ کے استاد عطاء بن ابی رباح بھی رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین کرتے تھے۔ (جزء رفع الیدین: ۶۲ و سندہ حسن)
معلوم ہوا کہ مدینہ منورہ میں رکوع والا رفع یدین متروک یا منسوخ بالکل نہیں ہوا تھا لہذا‘‘اخبار الفقھاء’’ والی روایت جھوٹی روایت ہے۔
دلیل نمبر ۹:
مشہور تابعی نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد اور دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے وقت (چاروں مقامات پر ) رفع یدین کرتے تھے۔    
(صحیح بخاری ۲؍۱۰۲ح۷۳۹و نور العینین ص ۸۱)
یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کے مطابق رفع یدین منسوخ ہو جائے اور پھر بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ رفع یدین کرتے رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ ضلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں سب سے آگے تھے۔
دلیل نمبر ۱۰:
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جس شخص کو دیکھتے کہ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین نہیں کرتا تو اسے کنکریاں سے مارتے تھے۔(جزء رفع الیدین:۱۵و نور العینین ص ۱۴۶و سندہ صحیح)
علامہ نووی اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:
‘‘باسنادہ الصحیح عن نافع’’ یعنی نافع تک اس کی سند صحیح ہے(المجموع شرح المذھب ج ۳ص۴۰۵)
یہ کس طرح ممکن ہے کہ رفع یدین بروایتِ ابن عمر منسوخ ہو جائے پھر اس کی ‘‘منسوخیت’’ کے بعد بھی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس نامعلوم و مجہول جاھل کو ماریں جو رفع یدین نہیں کرتا تھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
کسی ایک صحابی سے رفع یدین کا نہ کرنا ثابت نہیں ہے۔ [دیکھئے جزء رفع الیدین ۴۰،۷۶،و المجموع للنووی۳؍۴۰۵ ونور العینین ص ۱۵۱ ]
معلوم ہوا ہے کہ رفع یدین نہ کرنےو الا  آدمی ۔ صحابہ کرام میں سے نہیں تھا۔ بلکہ کوئی مجہول و نامعلوم شخص ہے۔
خلاصۃ التحقیق:
ان دلائل سابقہ سے یہ بات اظہر من الشّمس ہے  کہ ‘‘اخبار الفقہاء و المحدثین’’ والی روایت موضوع اور باطل ہے۔ لہذا غلام مصطفیٰ نوری بریلوی صاحب کا اسے ‘‘حدیث صحیح’’ کہنا جھوٹ اور مردود ہے۔ وما علینا الا البلاغ(۲۱محرم ۱۴۲۶ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.