رفع یدین کے خلاف ایک بے اصل روایت اور طاہر القادری صاحب

 از    January 13, 2015

سوال:    جناب حافظ زبیر علی زئی صاحب بندہ آپ کے “الحدیث” کا مطالعہ کرتا ہے الحمد للہ آپ خوب محنت شاقہ سے اس کا اصدار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو قائم و دائم رکھے۔ آمین
          پچھلے دنوں ہمارے ایک محسن ڈاکٹر طاہر حسین صاحب جو ہمارے قریب ہی ٹیکسٹائل یونیورسٹی میں لیکچرار ہیں، انہوں نے بتایا کہ طاہر القادری کی کتاب انٹرنیٹ پر انہوں نے دی ہے ۔ جس کا نام منہاج السوی انہوں نے رکھا ہے اور اس کے اندر رفع یدین کی احادیث کو صحیحین اور دوسری کتب میں توڑمروڑ کر ذکر کیا ہے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ ان کا جواب مطلوب ہے تو الحمد للہ کو شش کرنے کے بعد آپ کی کتاب نورالعینین مل گئی جس میں مطلوبہ جواب بھی حاصل ہوگئے مگر ایک دلیل جو انہوں نے ۱۱۴ نمبر پر ذکر کی ہے جس کا متن یہ ہے :
          “عن ابن عباس رضي اللہ عنھما أنہ قول: إن العشرۃ الذین بشرلھم رسول اللہ ﷺ بالجنۃ ماکانوا یرفعون أیدیھم إلا لإفتتاح الصلاۃ، قال السَّمر قندي: وخلاف ھٰؤلاء الصحابۃ قبیح
اس کی تخریج انہوں نے کی ہے ۔ اخرجہ السمر قندی فی تحفۃ الفقہاء (۱/۱۳۲،۱۳۳) والکاسانی فی بدائع الصنائع (۱/۲۰۷) والعینی فی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری (۵/۲۷۲)
          تو نور العینین میں تلاش کرنے سے اس کا جواب نہیں مل سکا لہٰذا معذرت سے آپ کو تکلیف دی جاتی ہے کہ اس اثر کی پوری تحقیق کرکے بندہ کو ارسال کردیں۔ جوابی لفافہ ساتھ ہے اور اگر پہلے یہ آپ کی نظر سے نہیں گزری تو الحدیث میں بھی اس کو تحریر کریں تاکہ باقی قارئین الحدیث بھی اس سے فائدہ اٹھائیں۔ جزاکم اللہ خیرًا فی الدنیا و الآخرۃ. (سید عبدالحلیم چک نمبر ۲۰۳ ر ۔ ب مانا نوالہ فیصل آباد)

الجواب:
         الحمد للہ رب العالمین و الصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ الأمین، أما بعد:
مشہور ثقہ امام عبداللہ بن المبارک المروزیؒ نے فرمایا:
          “الإسناد من الدین ولولا الإسناد لقال من شاء ما شاء
          اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے دل میں جو آتا کہتا۔
                    (صحیح مسلم، ترقیم دارالسلام: ۳۲، ماہنامہ منہاج القرآن لاہور ج ۲۰ شمارہ: ۱۱، نومبر ۲۰۰۶؁ء ص ۲۲)

اس سنہری قول سے معلوم ہوا کہ بے سند بات مردود ہوتی ہے ۔ ادارہ منہاج القرآن کے بانی محمد طاہر القاری صاحب اس کی تشریح میں فرماتے ہیں:

“پس روایت حدیث، علم حدیث ، علم تفسیر اور مکمل دین کا مدار اسناد پر ہے ۔ سند کے بغیر کوئی چیز قبول نہ کی جاتی تھی” (ماہنامہ منہاج القرآن ج ۲۰ شمارہ : ۱۱ ص ۲۳)

اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ علاء الدین محمد بن احمد بن ابی احمد السمرقندی نے تحفۃ الفقہاء نامی کتاب میں لکھا ہے:

 والصحیح مذھبنا لما روي عن ابن عباس أنہ قول: إن العشرۃ الذین بشرلھم رسول اللہ ﷺ بالجنۃ ما کانوا یرفعون أیدیھم إلا لإفتتاح الصلوٰۃ.
قال السمر قندي: وخلاف ھٰؤلاء الصحابۃ قبیحاور صحیح ہمارا (حنفی) مذہب ہے ، اس وجہ سے کہ جو ابن عباس(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : بے شک عشرہ مبشرہ جنھیں رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری دی، وہ شروع نماز کے سوا رفع یدین نہیں کرتے تھے ، سمر قندی نے کہا : اور ان صحابہ کی مخالفت بُری (حرکت) ہے ۔ (ج۱ص ۱۳۲،۱۳۳، دوسرا نسخہ ص ۶۶،۶۷)

          سمرقندی کے بعد تقریباً یہی عبارت علاء الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی (متوفی ۵۸۷؁ھ) نے بحوالہ بدائع الصنائع اپنی کتاب عمدۃ القاری (ج۵ ص ۲۷۲) میں نقل کر رکھی ہے۔ ملا کاسانی نے بدائع الصنائع کے شروع میں یہ اشارہ کردیا ہے کہ انہوں نے اپنے استاد محمد بن احمد بن ابی احمد السمرقندی سے لے کر اپنی کتاب مرتب کی ہے ۔ (ج۱ ص ۲)
معلوم ہوا کہ اس روایت کا دارو مدار سمرقندی مذکور پر ہے ۔ سمرقندی صاحب ۵۵۳ ہجری میں فوت ہوئے۔ دیکھئے معجم المؤلفین (ج۳ ص ۶۷ ت ۱۱۷۵۰)
یعنی وہ پانچویں یا چھٹی صدی ہجری میں پیدا ہوئے تھے ۔ فقیر محمد جہلمی تقلیدی نے انہیں حدیقۂ ششم (چھٹی صدی کے فقہاء و علماء کے بیان) میں ذکر کیا ہے۔ (حدائق الحنفیہ ص ۲۶۷)
          سمرقندی مذکور سے لے کر صدیوں پہلے ۶۸؁ھ میں فوت ہونے والے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ تک کوئی سند اور حوالہ موجود نہیں ہے لہٰذا یہ روایت بے سند اور بے حوالہ ہونے کی وجہ سے مردود ہے ۔
تنبیہ بلیغ: ایسی  بے سند و  بے حوالہ روایت کو “أخرجہ السمرقندي في تحفۃ الفقھاء…..إلخ” اس کی تخریج سمرقند نے تحفۃ الفقہاء میں کی ہے الخ کہہ کر سادہ لوح عوام کو دھوکا نہیں دینا چاہئے۔ لوگ تو یہ سمجھیں گےکہ سمرقندی کوئی بہت بڑا محدث ہوگا جس نے یہ روایت اپنی سند کے ساتھ اپنی کتاب تحفۃ الفقہاء میں نقل کر رکھی ہے ۔حالانکہ سمرقندی کا محدث ہونا ہی ثابت نہیں ہے بلکہ وہ ایک تقلیدی فقیہ تھا جس نے یہ روایت بغیر کسی سند اور حوالے کے “رُوي” کے گول مول لفظ سے لکھ رکھی ہے ۔ اب عوام میں کس کے پاس وقت ہے کہ اصل کتاب کھول کر تحقیق کرتا پھرے ۔!
          عام طور پر غیر ثابت اور ضعیف روایت کے لئے صیغۂ تمریض “رُوِيَ” وغیر ہ کے الفاظ بیان کئے جاتے ہیں، دیکھئے مقدمۃ ابن الصلاح مع شرح العراقی (ص۱۳۶ نوع ۲۲)
لہٰذا جس روایت کی کوئی سند سرے سے موجود ہی نہ ہو اور پھر بعض الناس اسے  “رُوِيَ“وغیرہ الفاظ سے بیان کریں تو ایسی روایت موضوع، بے اصل اور مردود ہی ہوتی ہے ۔ سمر قندی و کاسانی کی پیش کردہ یہ بے سند و بے حوالہ روایت متن اور اصولِ روایت و اصولِ درایت کے لحاظ سے بھی مردود ہے ۔
دلیل اول:       امام ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ (متوفی ۲۳۵؁ھ) فرماتے ہیں:

          “حدثنا ھشیم قال: أخبرنا أبوجمرۃ قال: رأیت ابن عباس یرفع یدیہ إذا افتتح الصلوٰۃ و إذا رکع و إذا رفع           ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو جمرہ نے خبر دی ، کہا : میں نے ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا آپ شروع نماز اور رکوع کرتےوقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۲۳۵ ح ۲۴۳۱)

اس روایت کی سند حسن لذاتہ یا صحیح ہے ۔ معلوم ہوا کہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ بذاتِ خود رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین کرتے تھے لہٰذا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انہوں نے رفع یدین کے خلاف کوئی روایت بیان کررکھی ہو ۔ من ادعی خلافہ فعلیہ أن یأتي بالدلیل.

دلیل دوم:        عشرۂ مبشرہ میں سے اول صحابی سیدنا ابوبکر الصدیقؓ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتےتھے ۔ دیکھئے امام بیہقی کی کتاب السنن الکبریٰ (ج۲ ص ۷۳)
وقال:    “رواتہ ثقات” اس کے راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں۔
تنبیہ:     اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے اور اس پر بعض الناس کی جرح مردود ہے۔ دیکھئے میری کتاب نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین (ص ۱۱۹ تا ۱۲۱)

دلیل سوم :        سیدنا عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ سے بھی رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین مروی ہے ۔ دیکھئے نصب الرایہ (ج۱ ص ۴۱۶)  و مسند الفاروق لابن کثیر (ج ۱ ص ۱۶۵،۱۶۶) و شرح سنن الترمذی لابن سیدالناس (قلمی ج ۲ ص ۲۱۷) و سندہ حسن، دیکھئے نور العینین (ص ۱۹۵ تا ۲۰۴) اس روایت کی سند حسن ہے اور یہ روایت شواہد کے صحیح لغیرہ ہے ۔

دلیل چہارم:     سیدناابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر عشرۂ مبشرہ میں سے کسی ایک صحابی سے بھی رکوع سےپہلے اور بعد والا رفع یدین کا ترک، ممانعت یا منسوخیت قطعاً ثابت نہیں ہے ۔
تنبیہ:     طاہر القادری صاحب نے سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ اور سیدنا علیؓ سے ترک رفع یدین کی تین روایات لکھی ہیں۔ (المنہاج السوی طبع چہارم ص ۲۲۸،۲۲۹ ح ۲۵۸، ۲۶۰، ۲۶۱) یہ تینوں روایات اُصولِ حدیث کی رُو سے ضعیف ہیں۔ دیکھئے نور  العینین (ص ۲۳۱،۲۳۴،۲۳۶)          
ان میں سے پہلی روایت کے راوی محمد بن جابر پر خود امام دارقطنی و امام بیہقی نے جرح کر رکھی ہے ۔ اہل سنت کے جلیل القدر امام احمد بن حنبلؒ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہی: “ھٰذا حدیث منکر” یہ حدیث منکر ہے ۔  (المسائل: روایۃ عبداللہ بن احمد ج ۱ ص ۲۴۲ ت ۳۲۷)

ابھی تک ماہنامہ الحدیث حضرو اور نور العینین کی محولہ تنقید و جرح کا کوئی جواب ہمارے پاس نہیں آیا  ۔والحمدللہ
خلاصۃ التحقیق:     محمد طاہر القادری صاحب کے مسئولہ روایتِ مذکورہ بےسند اور بے حوالہ ہونے کی وجہ سے بے اصل ، باطل اور مردود ہے ۔ وما علینا إلا البلاغ (۹ فروری ۲۰۰۷؁ء)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.