رسول اللہ ﷺ کو اختیار……

 از    January 21, 2015

﴿تُرۡجِیۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡہُنَّ وَ تُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ ؕ وَ مَنِ ابۡتَغَیۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکَ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ تَقَرَّ اَعۡیُنُہُنَّ وَ لَا یَحۡزَنَّ وَ یَرۡضَیۡنَ بِمَاۤ اٰتَیۡتَہُنَّ کُلُّہُنَّ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَلِیۡمًا ﴿۵۱﴾لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ رَّقِیۡبًا ﴿٪۵۲آپ ان (بیویوں) میں سے جس کی چاہیں (باری) موقوف کردیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور علیحدہ کرنے کے بعد جسے چاہیں اپنے پاس بلائیں تو آپ پر کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمزدہ نہ ہوں اور وہ سب کی سب اس پر راضی رہیں جو آپ انہیں دیں اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے ،اللہ جانتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا نہایت بردبار ہے ۔ اس کے بعد آپ کے لئے دوسری عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ جائز ہےکہ آپ ان (موجود ہ بیویوں) کے مقابلے میں کوئی اور بیویاں بدل لیں اگرچہ ان کا حسن آپ کو اچھا لگے البتہ لونڈیوں (کنیزوں ) کی آپ کو اجازت ہے اور اللہ ہر چیز پر خوب نگران ہے ۔ (الاحزاب: ۵۱،۵۲)

فقہ القرآن:
٭       سیدہ  عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے ان عورتوں پر بڑی غیرت آتی تھی جو اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے لئے ہبہ کرنے آتی تھیں اور میں کہتی: کیا عورت بھی اپنے آپ کو ہبہ کرسکتی ہے ؟ پھر جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

﴿ تُرۡجِیۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡہُنَّ وَ تُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ ؕ وَ مَنِ ابۡتَغَیۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکَ ؕ﴾ تو میں نے کہا : میں دیکھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی خواہش کے مطابق بلا تاخیر حکم فرما دیتاہے ۔ (صحیح بخاری: ۴۷۸۸)

٭       مذکورہ آیت میں رسول اللہ ﷺ کو اختیار دے دیا گیا تھا کہ آپ اپنی بیویوں میں سے جس کی چاہیں باری مقرر فرمائیں یا موقوف کردیں۔ لیکن صحیح احادیث سے معلوم ہوتاہے  کہ آپ ﷺ نے اختیار ملنے کے باوجود اپنی بیویوں کے درمیان باری اور تقسیم میں مساوات برقرار رکھی تھی۔

          سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس آیت﴿تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْھُنَّ …..إلخ﴾ کے نازل ہونے کے بعد بھی اگر آپ کسی بیوی کی باری میں کسی دوسری بیوی کے پاس جانا چاہتے (تو جس کی باری ہوتی) اس سے اجازت لیا کرتے تھے ۔ (راویہ معاذہ کہتی ہیں) میں نے ان (عائشہؓ) سے کہا : تو آپ (ایسی صورت میں نبی ﷺ سے ) کیا کہتی تھیں؟ عائشہؓ نے کہا : میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اگر مجھے یہ اختیار دیا جائے تو میں (آپ کی محبت کی وجہ سے ) کسی اور کو آپ پر ترجیح نہیں دے سکتی۔ (صحیح بخاری: ۴۷۸۹)

سیدہ عائشہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری زیادہ اور تکلیف شدید ہوگئی تو آپ نے اپنی بیویوں سے میرے گھر میں بیماری کے ایام گزارنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے اجازت دے دی…. الخ (صحیح بخاری: ۲۵۸۸)

٭       اللہ تعالیٰ کی طر ف سے نبی کریم ﷺ کو اختیار دیئے جانے سے ازواجِ مطہرات کی دلجوئی ، باہمی جذبۂ رقابت و مسابقت کا خاتمہ اور قلوب و اذہان میں وسعت پیدا کرنا بھی مقصود تھا تاکہ نبی کریم ﷺ کی طرف سے جو جس صورت میں مل جائے اس پر کبیدۂ خاطر ہونے کی بجائے اسی پر قناعت کریں اور یہ جان لیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی طرف سے ایسا نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کااختیار دیا ہے ۔

٭       ﴿وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ﴾ یعنی بیویوں میں سے بعض کی طرف آپ کے دلی میلان کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے ۔ چونکہ دل پر انسان کا اختیار نہیں ہے ،اس لئے اللہ تعالیٰ اس پر گرفت بھی نہیں فرمائے گا۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان (نان و نفقہ) عدل و انصاف سے تقسیم کرتے اور فرماتے : یا اللہ ! یہ میری تقسیم ہے جو میرے اختیار میں ہے لیکن جس چیز پر تیرا اختیار ہے، میں اس پر اختیار نہیں رکھتا ، اس میں مجھے ملامت نہ کرنا۔ (سنن ابی داود: ۲۱۳۴ و سندہ صحیح)

٭       ﴿لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ﴾ کی تفسیر میں دو قول ہیں:
۱:        اللہ تعالیٰ جن عورتوں کی تفصیل آیت : ۵۰ کے تحت بتلائی ہے ان کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح حلال نہیں ہے۔
۲:        نزولِ آیت کے وقت جو بیویاں موجود تھیں ان کے علاوہ کسی اور عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ اول الذکر قول کی تائید بعض روایات سے ہوتی ہے مثلاً دیکھئے سنن الترمذی (۲۳۱۶،۲۳۱۵) بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب ازواجِ مطہرات نے عیش و عشرت اور آسائشِ دنیا کے بجائے آخرت کو ترجیح دی تو اللہ تعالیٰ کو ان کا ایثار بہت پسند آیا اور نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ اب کسی اور کو شرفِ زوجیت نہ بخشا جائے ، لہذا اس کے بعد آپ نے کسی آزاد عورت سے نکاح نہیں کیا، البتہ کنیزوں کے متعلق رخصت بدستور باقی رکھی گئی ۔ (تفسیر ابن کثیر ۲۰۰/۵)
توجہ:   امام ابن جریرؒ فرماتے ہیں :﴿لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ﴾ کی تفسیر و تاویل میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے ۔ (تفسیر طبری ۲۱/۲۲)
اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اس سلسلے میں دونوں طرح کے کثیر اقوال ہیں لہٰذا روایات و آثار کی بنیاد پر اگر کسی قول کو ترجیح دی جائے تووہ اول الذکر قول ہی معلوم ہوتاہے ۔ واللہ اعلم

٭       حافظ ابن کثیر ؒ بیان کرتے ہیں: ﴿ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ نبی ﷺ کو مزید نکاح کرنے سے روک دیا گیا یا موجودہ بیویوں میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور سے نکاح کی ممانعت ہے ۔ (تفسیر ابن کثیر  ۲۰۲/۵)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.