دینی تعلیم و تدریس پر اجرت کا جواز

 از    August 16, 2014

جناب ضیاء الحق صاحب ، نیو ٹاؤن راولپنڈی کے نام
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
  آپ نے کسی نامعلوم و مجہول شخص کا لکھا ہوا پمفلٹ “دینداری اور دکانداری” بھیجا ہے جس کے بتیس (۳۲) صفحات ہیں۔ اس پمفلٹ کے مفصل جواب کے لئےمحترم مولانا ڈاکٹر ابوجابر عبداللہ دامانوی حفظه اللہ کی کتاب“دینی امور پر اجرت کا جواز” پڑھ لیں۔کتاب کے کل صفحات: ۸۰
مطبوعہ : مکتبہ دار الرحمانیہ، جامع مسجد رحمانیہ ، نزد بوہرہ پیر، کراچی۔

         مختصراً عرض  ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”إن أحق ما أخذتم علیہ أجراً کتاب اللہ تم جس پر اجرت لیتے ہو ان میں سب سے زیادہ مستحق کتاب اللہ ہے ۔ (صحیح البخاری : ۵۷۳۷)

اس حدیث کو امام بخاریؒ کتاب الإجارہ، باب ما یعطی فی الرقیۃ علی أحیاء العرب بفاتحۃ الکتاب ، قبل ح ۲۲۷۶ میں بھی لائے ہیں۔ اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ: “واستدل بہ للجمھور فی جواز أخذ الأجرۃ علی تعلیم القرآناور اس سے جمہو رکے لئے دلیل لی گئی ہے کہ تعلیم قرآن پر اجرت لینا جائز ہے ۔ (فتح الباری ج ۴ ص ۴۵۳) اب چند  آثار پیشِ خدمت ہیں۔
۱: حکم بن عتیبہ (تابعی صغیر) رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”ما سمعت فقیھاً یکرھہ” میں نے کسی فقیہ کو بھی اسے (اجرتِ معلم کو ) مکروہ (کراہتِ تحریمی) قرار دیتے ہوئے نہیں سنا۔ (مسند علی بن الجعد : ۱۱۰۵ و سندہ صحیح)

۲: معاویہ بن قرہ ؒ(تابعی) فرماتے ہیں:”إني لأرجو أن یکون لہ في ذلک خیر” مجھے امید ہے کہ اس میں اس کے لئے اس میں اجر ہوگا(مسند علی بن الجعد : ۱۱۰۴ وسندہ صحیح)

۳:  ابو قلابہ (تابعی) رحمہ اللہ تعلیم دینے والے معلم کی اجرت (تنخواہ) میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے (دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ ج ۶ ص ۲۲۰ ح ۲۰۸۲۴ وسندہ صحیح)
۴: طاؤس ؒ (تابعی) بھی اسے جائز سمجھتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ ایضاً ، ح : ۲۰۸۲۵ وسندہ صحیح)
۵: محمد بن سیرین ؒ (تابعی) کے قول سے بھی اس کا جواز ثابت ہوتا ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۲۲۳/۶ ح ۲۰۸۳۵ و سندہ صحیح)
۶: ابراہیم نخعیؒ (تابعی صغیر) فرماتے ہیں کہ: “کانوا یکرھون أجر المعلم وہ (اگلے لوگ، سلف صالحین) معلم کی اجرت کو مکروہ (کراہتِ تنزیہی ) سمجھتے تھے ۔ (مسند علی بن الجعد : ۱۱۰۶ و سندہ قوی)
اس پر استدراک کرتے ہوئے امام شعبہ بن المحجاج ؒ، امام ابو الشعشاء جابر بن یزید ؒ (تابعی) سے نقل کرتے ہیں کہ: بہتر و افضل یہی ہے کہ تعلیم و تدریس کی اجرت نہ لی جائے تا ہم اگر کوئی شخص اجرت لے لیتا ہے تو جائز ہے ۔
       تنبیہ (۱):  سب آثا ر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، ابراہیم نخعیؒ کے قول “یکرھون” میں کراہت سے کراہتِ تنزیہی مراد  ہے اور حکم بن عتیبہ ؒ کے قول “یکرھہ” میں کراہتِ تحریمی مراد ہے۔ واللہ اعلم!
تنبیہ(۲):  بعض آثار صحیح بخاری  (قبل ح ۲۲۷۶) میں بعض اختلاف کے ساتھ مذکور ہیں۔ اجرت تعلیم القرآن کا انکار کرنے والے بعض الناس جن آیات و روایات سے استدلال کرتے ہیں ان کا تعلق دو امور سے ہے ۔
۱: اجرتِ تبلیغ (یعنی جو تبلیغ فرض ہے اس پر اجرت لینا)
﴿لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا﴾ اور ﴿وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًاقَلِیْلًاوغیرہ آیات کا یہی مفہوم ہے ۔ نیز دیکھئے “دینی امور پر اجرت کا جواز” ص ۷۶

۲: قرأت  قرآن پر اجرت (یعنی نمازِ تراویح میں قرآن سنا کر اجرت لینا) حدیث “اقرؤا القرآن ولا تأکلوابہ” وغیرہ کا یہی مطلب و مفہوم ہے دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (ج۲ ص ۴۰۰ اباب فی الرجل یقوم الناس فی رمضان فیعطی، ح ۷۷۴۲) وما علینا إلا البلاغ

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.