دوغیر ثابت قصے

 از    December 23, 2014

مصنف : الشیخ ابوعبدالرحمٰن الفوزی                                                         مترجم:    محمد صدیق رضا

 نبی ﷺ اور ایک شادی (کی تقریب ) کا قصہ

          سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :میں نے کبھی اس چیز کا ارادہ نہیں کیا جس کا اہل جاہلیت اراد ہ کرتے تھے ۔ زندگی میں دو بار کے علاوہ، دونوں ہی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بچا لیا۔           ایک دن میں نے اپنے ایک قریشی جوان ساتھی سے کہا ، جو بالائی مکہ میں میرے ساتھ اپنی بکریا ں چراتا تھا : تم میری بکریوں کا خیال رکھو، میں آج رات مکہ میں جاگ کر گزاروں گا جیساکہ نوجوان جاگتے رہتے ہیں، تو میرے ساتھی نے کہا: جی ہاں ، ٹھیک ہے ۔ پھر میں نکلا، جب میں مکہ کے گھروں میں سے ایک قریبی گھر کے پاس پہنچا پس میں نے گانے بجانے کی آواز سنی تو میں نے کہا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتلایاکہ فلاں قریشی آدمی کی فلاں عورت سے شادی ہوئی ہے ۔ میں اس گانے اور آواز کی طرف مائل ہوا تو مجھ پر نیند غالب آگئی اور مجھے کسی چیز نے نہیں جگایا سوائے سورج کی تپش کے ، پھر میں لوٹ گیا تو میں نے اس قسم کی آوازیں سنیں اور مجھ سے وہی کہا گیا جو پہلے کہا گیا تھا ۔میں اس آواز کی طرف مشغول ہوا ہی تھا کہ مجھ پر نیند غالب آئی میری آنکھ لگ گئی اور مجھے نہیں جگایا مگر سورج کی تپش نے پھر میں اپنے ساتھی کی طرف لوٹ گیا، اس نے کہا کہ آپ نے کیا کیا ؟ میں نے بتلایا کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی قسم اس کے بعد دوبار ہ کبھی میں اس کا اراد ہ نہیں کیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شرفِ نبوت سے سرفراز فرمایا۔ (یہ منکر روایت ہے)تخریج:   حاکم (ج۴ص ۲۴۵) دیلمی (مسند الفردوس ج ۴ ص ۹۰) بزار (مسند البزارج ۲ ص ۲۴۱) ابن راہویہ (المسند بحوالہ المطالب العالیہ ق ۱۲/ط) الفاکہی (تاریخ مکہ ج۳ ص ۲۱) ابن جریر(التاریخ ج ۱ ص ۵۲۰) ابن حبان (صحیح ابن حبان ج ۸ ص ۵۶ ح ۶۲۳۹  دوسرا نسخہ: ۶۲۷۲) ابو نعیم : دلائل النبوۃ ص ۱۸۶) بیہقی (دلائل النبوۃ ج ۲ص ۱۳۳) بخاری (التاریخ الکبیر ج ۱ص ۱۳۰) اور ابن اسحٰق نے “السیرۃ” (ص ۵۸) میں “محمد بن عبداللہ بن قیس بن مخرمۃ عن الحسن بن محمد بن علي عن أبیہ عن جدہ علي بن أبي طالب” کی سند سے یہ قصہ بیان کیا ۔

جرح:    اس کی سند ضعیف ہے اس میں محمد بن عبداللہ بن قیس بن مخرمہ مجہول ہے ۔

حوالہ:    دیکھئے ابن ابی حاتم کی الجرح وا لتعدیل (ج۷ ص ۳۰۳) تقریب التہذیب (۶۰۴۴ وقال: مقبول) اور تہذیب الکمال (ج۲۵ ص ۵۳۳)
          حاکم نے کہا کہ “یہ حدیث صحیح ہے ” اور ایسا نہیں ہے جیسا کہ انہوں نے کہا اگرچہ ذہبی نے ان کی موافقت بھی کی ہے جیساکہ اس کی سند پر کلام میں گزرا ہے ۔
اور ابن کثیر نے البدایۃ النہایۃ (ج۲ ص ۲۸۷) میں اس حدیث کو لانے کے بعد فرمایا : یہ حدیث بہت ہی غریب ہے ۔ (دیکھئے ص ۱۸)
ایک شاہد :           اس کا ایک شاہد ہے : طبرانی نے المعجم الصغیر (ج۲ ص ۱۳۸) میں “محمد بن إسحٰق بن إبرھیم الفارس: حدثنا أبي: حدثنا سعد بن الصّلت : حدثنا مسعر ابن کدام عن العباس بن خدیج عن زیاد بن عبداللہ العامري عن عمار بن یاسر” کی سند سے یہ روایت بیان کی ہے ۔
          علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد (ج۸ ص ۲۲۶) میں فرمایا: اسے طبرانی نے روایت کیا ہے تینوں کتابوں (المعجم الکبیر ، المعجم الاوسط اور المعجم الصغیر) میں اور اس کی سند میں کچھ ایسے راوی ہیں جنہیں میں نہیں پہچانتا الخ لہٰذا اس کی سند ساقط ہے اورالبانی نے فقہ السیرۃ (ص ۹۵) میں اپنی تعلیق میں فرمایا ؒ اس کی سند میں ایک جماعۃ ہے جسے میں نہیں جانتا۔
عرضِ مترجم:      صحیح مسلم شریف میں سیدنا انسؓ رسول اللہ ﷺ کے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
          رسول اللہ ﷺ ایک دن بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ اسی دوران جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور آپ کو سیدھا الٹا دیا پھر (سینہ چاک کرکے) آپ کے بابرکت قلب کو نکالا اور اس کو چیرا پھر اس میں خون کی ایک پھٹکی نکالی اور فرمایا کہ یہ شیطان کا حصہ تھا۔ پھر سونے کے ایک طشت پر آبِ زمزم سے آپ کے مبارک دل کو دھویا پھر اسے جوڑا اور اپنے مقام پر رکھ دیا ۔ بچے یہ واقعہ دیکھ کر دوڑتے ہوئے آپ ﷺ کی (رضاعی) والدہ کے پاس پہنچے اور کہا کہ محمد(ﷺ) کو قتل کردیا گیا ۔ (یہ سن کر ) وہ سب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اس وقت آپﷺ کے چہرۂ اقدس کی رنگت بدلی ہوئی تھی ، سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے مبارک سینہ میں سلائی کے نشان دیکھا کرتا تھا۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان ، باب الاسراء ، ج ۱ص ۹۲ ح ۱۶۳)

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ بچپن ہی سے اللہ تعالیٰ کی خاص خفاظت میں تھے ، لہو و لغو امور کی طرف ایک لمحہ بھی آپ کا دھیان نہیں گیا، آپ ہمیشہ معصوم رہے جیساکہ بکثرت دلائل سے ثابت ہو تا ہے ۔

]تنبیہ:   محمد بن عبداللہ بن قیس والی یہ سند حسن ہے ۔ محمد بن عبداللہ بن قیس بن مخرمہ کو ابن حبان،حاکم اور ذہبی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اس سے روایت لی ہے لہٰذا وہ حسن الحدیث ہے ۔ فوزی صاحب کا اس روایت کو ضعیف قرار دیناغلط ہے بلکہ حق یہی ہے کہ یہ روایت حسن ہے ۔ [

    سیدنا عمرؓکی طرف منسوب ایک قصہ

          ابوجعفرسے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا علیؓ سے ان کی بیٹی کا رشتہ مانگا تو علیؓ نے کہا کہ وہ چھوٹی ہے ۔ عمرؓ نے فرمایا : وہ بڑی ہوگئی ہے ، پس آپ بار بار اس سلسلے میں گفتگو فرماتے تو علیؓ نے ان سے کہا کہ ہم انہیں آپ کے پاس بھیج دیتے ہیں ۔          پھر عمرؓ نے ان (علیؓ کی بیٹی) کی پنڈلی پر سے کپڑا اٹھایا، تو اس نے کہا : کپڑا چھوڑ دیجئے اگر آپ امیر المؤمنین نہ ہوتے تو میں آپ کی آنکھیں پھوڑ ڈالتی۔

تخریج:   یہ روایت سعید بن منصور (سنن سعید بن منصور ج ۱ص ۱۴۷ ح ۵۲۱) او رعبدالرزاق (مصنف عبدالرزاق ج ۶ ص ۱۶۳ ح ۱۰۳۵۲) نے “سفیان عن عمرو بن دینار عن أبي جعفر قال” کی سند سے بیان کی ہے ۔

جرح:    اس کی سند انقطاع (منقطع ہونے) کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ اس لئے کہ ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب کی عمر بن الخطابؓ سے ملاقات ثابت نہیں ۔ حوالے کے لئے دیکھئے ابن ابی حاتم کی المراسیل (۱۴۹)

اور عبدالرزاق نے المصنف (ج۶ ص۱۶۳ ح ۱۰۳۵۳) میں “ابن جریج قال: سمعت الأعمش یقول:” کی سند سے یہ قصہ بیان کیا ہے ۔اس کی سند بھی سابقہ سند کی طرح ضعیف ہے اس لئے کہ سلیما ن بن مہران الاسدی کی سیدنا عمرؓ سے ملاقات ثابت نہیں ۔

عرضِ مترجم:      

سیدنا عمر فاروقؓ جیسے جلیل القدر غیور صحابی قطعاً ایسا نہیں کرسکتے اور معلوم نہیں کہ ابوجعفر نے کس سے یہ بات سنی تھی؟
          باقی یہ بات درست ہے کہ سیدنا عمرنے سیدہ اُم کلثوم بنت علیؓ کا رشتہ مانگا اور علیؓ نے اسے قبول بھی فرمایا اور اپنی لختِ جگر کا نکاح امیر المؤمنین عمرؓ سے کردیا جیساکہ بالاتفاق مروی ہے ۔ 

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.