دفاع حدیث: خطبہ جمعہ کے دوران آنے والا دو رکعتیں پڑھے گا

 از    May 22, 2015

تحریر: حافظ ابویحییٰ نورپوری

دلیل نمبر ۱:

عن جابربن عبداللہ قال : جاء سلیک الغطفانی یوم الجمعۃ و رسول اللہ ﷺ یخطب، فجلس، فقال لہ، یا سلیک !  قم فارکع رکعتین، وتجوزفیھما، ثم قال: اذا جاء أحدکم، یوم الجمعۃ، والامام یخطب، فلیرکع رکعتین، ولیتجوز فیھما.

“سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما ر ہے تھے، سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ آئے اور بیٹھ گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا ،اے سلیک ! کھڑے ہو کر دو مختصر رکعتیں ادا کرو، پھر (لوگوں سے مخاطب ہو کر ) فرمایا، جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن امام کے خطبے کے دوران آئے تو دو مختصر سی رکعتیں پڑھے پھر بیٹھے۔”          (صحیح البخاری : ۱۱۶۶، صحیح مسلم : ۸۷۵، واللفظ لہ )

                دلیل نمبر ۲:

عن عیاض أن ابا سعید الخدری دخل یوم الجمعۃ و مروان یخطب فقام یصلی، فجاء الحرس لیجلسوہ فابیٰ حتی صلی، فلما انصرف أتیناہ فقلنا: رحمک اللہ ان کادوا لیقعوا بک، فقال: ماکنت لاترکھما بعد شیٔ رأیتہ من رسول اللہ ﷺ، ثم ذکر أن رجلا جاء یوم الجمعۃ فی ھیئۃ بذۃ و النبی ﷺ یخطب یوم الجمعۃ فأمرہ فصلی رکعتین والنبی ﷺ یخطب.

عیاض رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ جمعہ والے دن مروان کے خطبہ کے دوران مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی ، سپاہی آپ کو بٹھانے کے لیے  آئے ، لیکن آپ نے انکار کر دیا اور نماز پڑھی ، جب آپ فارغ ہو گئے تو ہم آپ کے پاس آئے اور عرض کی ، اللہ آپ پر رحم فرمائے ! یقیناً وہ سپاہی ( آپ کے انکار کے باعث ) آپ پر حملہ کر دیتے ، آپ نے فرمایا ، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذیل میں آنے والے واقعہ کو دیکھنے کے بعد کسی صورت میں بھی ان دو رکعتوں کو نہیں چھوڑ سکتا ، پھر آپ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے دوران ایک آدمی پراگندہ حالت میں داخل ہوا ، آپ نے اسے دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا ، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے دوران دو رکعتیں ادا کیں۔ ( جامع ترمذی ۵۱۱، مسند حمیدی:۳۲۶/۲- ۳۲۷ ، سنن کبری بیہقی:۱۹۴/۳ ، الاوسط لابن المنذر:۹۶/۴ ح: ۱۸۴۳، مسند دارمی:۱۵۹۳ و سندہ صحیح )

اس روایت کو امام ابن خزیمہ (۱۸۳۰) اور امام ابن حبان (۲۵۰۵)  رحمہما اللہ نے “صحیح” اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے “حسن صحیح” کہا ہے۔

امام عبداللہ بن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں :

کان الحسن یجی والامام یخطب فیصلی رکعتین.

“امام حسن بصری رحمہ اللہ دوران خطبہ تشریف لاتے تو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ “

( مصنف ابن ابی شیبہ:۱۱۱/۲ ، ح ۵۱۶۵، وسندہ صحیح )

 امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

انما فعل الحسن اتباعا للحدیث، وھو روی عن جابر عن النبیﷺ ھذا الحدیث.

“بلاشبہ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے حدیث کی اتباع میں یہ کام کیا ہے ، انہوں نے ہی جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے ۔”         ( جامع ترمذی تحت حدیث: ۵۱۱ )

امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ (م۱۹۸ھ)  جو کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کے راوی ہیں ، خطبہ جمعہ کے دوران آنے پر دو رکعت ادا کر کے بیٹھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیتے تھے ۔

 امام ترمذی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں :

قال ابن أبی عمر: کان سفیان بن عیینہ یصلی رکعتین اذا جاء والامام یخطب وکان یامر بہ.

“محمد بن یحییٰ بن ابی عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ جب امام کے خطبہ جمعہ کے دوران آتے تو دو رکعت ادا فرماتے تھے ، نیز اس کا حکم بھی دیتے تھے ” ( جامع ترمذی ح ۵۱۱)

امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ امام ابوعبدالرحمن عبداللہ بن یزید المقری رحمہ اللہ (م۲۱۳ھ)  کا بھی یہی خیال تھا ۔ ( جامع ترمذی تحت حدیث ۵۱۱)

امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

والقول الاول أصح.

“پہلا قول ( خطبہ کے دوران دو رکعت ادا کرنا ) راجح ہے ۔ “( جامع ترمذی تحت حدیث ۵۱۱)

امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل تھے ۔ ( جامع ترمذی تحت حدیث ۵۱۱، وسندہ صحیح)

 امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف ہے ۔ ( جامع ترمذی تحت حدیث ۵۱۱، مسائل احمد لابنہ عبداللہ : ۱۲۲)

 امام اسحٰق بن راہویہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ ( جامع ترمذی تحت حدیث ۵۱۱)

عن أبی مجلز قال: اذا جئت والامام یخطب یوم الجمعۃ فان شئت رکعت رکعتین وان شئت جلست.

 “امام ابو مجلزکی بات کا دوسرا جزنبی کریم ﷺ کے فرمان کے موافق نہیں ، لہذا ان کی یہ بات قابل قبول نہیں۔

فائدہ:

٭           امام ترمذی رحمہ اللہ ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں:

                لأن ابن عمر ھو روی عن رسول اللہ ﷺ، وھو أعلم بمعنیٰ ما رویٰ.

                “سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت بیان کی ہے اور وہی اپنی روایت کے مفہوم کو بخوبی جانتے ہیں۔”     (جامع ترمذی تحت حدیث: ۱۲۴۵)

٭           علامہ عینی حنفی لکھتے ہیں:

              الصحابی الراوی أعلم بالمقصود.

                “حدیث کو روایت کرنے والے صحابی اپنی روایت کے مقصود کو سب سے بڑھ کر جاننے والے ہوتے ہیں۔”             (عمدۃ القاری: ۱۶/۴)

٭           مشہور غیر اہلحدیث جناب محمد سرفراز خاں صفدر دیوبندی حیاتی صاحب لکھتے ہیں:

                “اور یہ بات باقرارمبارکپوری صاحب اپنے مقام پر آئے گی کہ راوی حدیث خصوصا جبکہ صحابی ہو ، اپنی مروی حدیث کو مراد کو دوسروں سے بہتر جانتا ہے ۔”                (احسن الکلام : ۲۶۸/۱)

                رسول اکرم ﷺ سے خطبہ کے دوران دو رکعت نماز کے حکم کو بیان کرنے والے صحابی سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے آپ کی وفات کے بعدمروان کے دور حکومت میں خطبہ کے دوران دو رکعت پڑھنا، ہم پیچھے ثابت کرآئے ہیں۔

                محدثین تو مانتے ہی ہیں ، اب دیوبندی اصول کے مطابق بھی ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا عمل خصوصا اور امام حسن بصری و سفیان بن عینیہ رحمہما اللہ کا عمل عموما اس حدیث سے سلیک رضی اللہ عنہ کے علاوہ بھی ہر آدمی سے جو خطبہ جمعہ کے دوران آتا ہے ، دو رکعات نماز ادا کرنے کا تقاضا کرتا ہے ۔

یہ حدیث محدثین کی نظر میں:

                اب ہم محدثین کرام کے ارشادات کی روشنی میں نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کا جائزہ لیتے ہیں کیونکہ محدثین اپنی روایات کو مقلدین سے بہتر جانتے ہیں اور بقول جناب سرفراز خاں صفدر صاحب اس روایت کو بیان کرنے والے محدثین خصوصا نہ سہی عموما تو اپنی روایات کو دوسرے لوگوں سے بہتر جانتے ہیں۔

                امام الائمہ ابن خزیمہ رحمہ اللہ (۲۲۳- ۳۱۱ھ) اس حدیث پر یوں باب قائم فرماتے ہیں:

                باب الأمر  بتطوع رکعتین عند دخول المسجد وان کان الامام یخطب خطبۃ الجمعۃ، ضد قول من زعم انہ غیر جائز أن یصلی داخل المسجد والامام یخطب.

” امام جمعہ کا خطبہ بھی دے رہا ہو تو مسجد میں داخل ہونے والے کو دو نفل پڑھنے کا حکم کا بیان ، بخلاف اس شخص کے جو امام کے خطبہ کے دوران مسجد میں داخل ہونے والے کے لئے اس کو ناجائز قرار دیتا ہے “ (صحیح ابن خزیمہ باب ۹۱، ح: ۱۸۳۰ )

امام ابن المنذر رحمہ اللہ (م ۳۱۸ ھ) فرماتے ہیں:

یصلی اذا دخل والامام یخطب رکعتین خفیفتین صلی فی منزلہ او لم یصل، لأن النبی ﷺ أمر بذالک الداخل فی المسجد وأمرہ علی العموم.

“امام کے خطبہ کے دوران کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ دو رکعت نماز ادا کرے گا ، خواہ اس نے گھر میں نماز پڑھی ہو یا نہ پڑھی ہو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں داخل ہونے والے کو بالعموم یہ حکم دیا ہے ” ( الاوسط لابن المنذز ۹۴/۴ تحت حدیث ۵۳۵)

امام ابومحمد عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی رحمہ اللہ(۱۸۱- ۲۵۵ھ) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور امام حسن بصری رحمہ اللہ کا اس پر عمل ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

 أقول بہ.                 “میرا بھی یہی فتوی ہے ” ( سنن دارمی: ۹۷۱/۲ ، تحت حدیث : ۱۵۹۴ )

حافظ ابن حزم رحمہ اللہ(م۴۵۶ھ) کا فتوی بھی ملاحظہ فرمائیں:

ومن دخل یوم الجمعۃ والامام یخطب فلیصل رکعتین قبل أن یجلس.

“جو جمعہ کے دن خطبہ کے دوران آئے اسے چاہیے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعات ادا کر لے ” (المحلی لابن حزم ۶۸/۵ ، مسئلہ ۵۳۱)

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

نقول و نأمر من دخل المسجد والامام یخطب، والمؤذن یؤذن، ولم یصل رکعتین، أن یصلیھما ونأمر أن یخففھما، فانہ روی فی الحدیث أن النبی أمر بتخفیھما.

“ہم یہی کہتے ہیں اور حکم بھی دیتے ہیں کہ جو شخص خطبہ جمعہ یا اذان کے دوران مسجد میں داخل ہو ، اس نے دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں تو وہ دو رکعتیں پڑھ لے ، نیز ہم اسے مختصر پڑھنے کا حکم دیں گے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے ان کو مختصر کرنے کا حکم فرمایا تھا ” (الام ۲۲۷/۱)

حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

ھذہ الأحادیث کلھا صریحۃ فی الدلالۃ لمذھب الشافعی و أحمد و اسحاق و فقھاء المحدثین أنہ اذا دخل الجامع یوم الجمعۃ و الامام یخطب استحب أن یتجوز فیھما لیسمع بعدھما الخطبۃ وحکی ھذا المذھب أیضا عن الحسن البصری وغیرہ من المتقدمین.

“یہ ساری کی ساری احادیث امام شافعی ، احمد ، اسحٰق رحمہم اللہ اور فقہاء محدثین کے مذہب پر صریح دلالت کرتی ہیں ، جو شخص دوران خطبہ مسجد میں داخل ہو ، اس کے لئے دو رکعت بطور تحیۃ المسجد مستحب ہیں، ان کو ادا کئے بغیر بیٹھنا مکروہ ہے ، ان دو رکعتوں میں اختصار سے کام لینا بھی مستحب ہے ، تاکہ ان کے بعد خطبہ سنا جا سکے ، یہی مذہب امام حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ متقدمین ائمہ سے منقول ہے” ( شرح مسلم للنووی ۲۸۷/۱)

تنبیہ:

                جناب محمد سرفراز خاں صفدر دیوبندی حیاتی صاحب کہتے ہیں:

                “امام نووی رحمہ اللہ شرح مسلم ص ۷۸۲ ج ۱ میں لکھتے ہیں:

          وقال الملک واللیث وابو حنیفۃ والثوری و جمھور السلف من من الصحابۃ والتابعین لایصلیھا وھو مروی عن عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنھم اجمعین و حجتھم الامر بالانصات للامام…… (خزائن السنن : ۴۱۹- ۴۲۰)

                جناب دیوبندی صاحب کی دیانتِ علمی کا اندازہ لگائیں ،دلائل و براہین سے تہی دست ہو کر تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے قاضی عیاض کی یہ عبارت حافظ نووی رحمہ اللہ کے ذمہ تھوپ  دی جبکہ حافظ نووی رحمہ اللہ کا واضح موقف ہم ذکر کر چکے ہیں۔

                جہاں تک قاضی عیاض کی عبارت کا تعلق ہے تو یہ سراسر باطل اور مردود ہے ، جمہور تو درکنار کسی ایک صحابی سے بھی یہ بات قطعاًثابت نہیں ہے کہ دوران خطبہ آنے والا دو رکعت نہ پڑھے ، بلکہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی رسول مرمٹنے کے لئے تیار ہوگئے ، مگر دوران خطبہ دو رکعتیں نہیں چھوڑیں ،

                جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں:

                ویقضی العجب من الشیخ النووی کل العجب حیث حکی عن القاضی عیاض أنہ ھو مذھب الجمھور من الصحابۃ و الخلفاء و الراشدین.

“یہ بہت ہی تعجب کی بات ہے کہ امام نووی نے قاضی عیاض سے نقل کردیا ہے کہ یہی جمہور صحابہ کرام اور خلفائے راشدین کا مذہب ہے ۔” (فیض الباری از انور شاہ کشمیری  : ۳۳۸/۲)

                مقلدین کو چاہیے کہ وہ اپنے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے باسند صحیح دوران خطبہ ان دو رکعتوں کی ممانعت ثابت کریں ، ورنہ ماننا پڑے گا کہ وہ اس مسئلہ میں ابو حنیفہ کے مقلد نہیں ہیں۔

                ہمارا  دعوی ہے کہ تقلید پرستوں کے پاس اس مسئلہ میں کوئی ضعیف روایت بھی نہیں ہے۔

مانعین کے دلائل:

دلیل نمبر ۱:

                جناب محمد سرفراز خاں صفدر دیوبندی حیاتی صاحب کہتے ہیں:

“بخاری ص ۱۲۱ ج ۱ ، مسلم ص ۲۸۳ ج ۱اور موارد الظمان  ص ۱۴۸ میں ہے ، واللفظ للبخاری  یصلی ما کتب لہ ثم ینصت اذا تکلم الامام. الحدیث ، اور موارد الظمان میں یہ لفظ  ہیں : ثم رکع ماشاء اللہ ان یرکع ثم انصت اذا خرج امامہ. اس صحیح روایت سے پتا چلا کہ امام کے خطبہ سے پہلے تو نماز پڑھ سکتا ہے لیکن  اذا تکلم الامام کے بعد گنجائش نہیں ہے ۔  (خزائن السنن: ۱۷۰/۲)

اولاً :          سرفراز صاحب کے مشارالیہ روایت کے مکمل الفاظ ملاحظہ ہوں :

                عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال : من اغتسل ثم أتی الجمعۃ فصلی ماقدرلہ ثم انصت حتی یفرغ من خطبتہ ثم یصلی معہ غفرلہ مابینہ و بین الجمعۃ الأخری و فضل ثلثۃ ایام.

                “سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا ، جو شخص  غسل کرتا ہے ، پھر جمعہ میں حاضر ہوتا ہے ، جتنی اللہ توفیق دے نماز ادا کرتا ہے ، پھر (امام کے ) خطبہ سے فارغ ہونے تک خاموش رہتا ہے ، پھر اس کے ساتھ (جمعہ کی) نماز ادا کرتا ہے ، اس کے پچھلے جمعہ سے اب تک کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ساتھ ساتھ تین دنوں کےگناہ مزید معاف کردیے جاتے ہیں۔”

                غور فرمائیں کہ سرفراز صفدر صاحب نے کج فہمی یا محض تعصب کی وجہ سے اس روایت سے استدلال کیا ہے حالانکہ ہمارا نزاع دوران خطبہ آنے والے شخص کے بارے میں ہے ، نہ کہ امام کے آنے سے پہلے ہی مسجد میں پہنچ جانے والے آدمی کے بارے میں۔

                جو آدمی امام سے پہلے ہی مسجد میں پہنچ کر نوافل ادا کررہا ہے ، اس کے بارے میں تو ہمارا بھی یہی موقف ہے کہ وہ نوافل پڑھنا بند کرکے امام کا خطبہ  سنے گا ، اس روایت کو پیش کرکے صفدر صاحب نے کوئی علمی پہاڑ سر نہیں کیا بلکہ اس سے تو صرف اس مسئلہ میں ان کی بے بسی ظاہر ہوئی ہے ۔

ثانیاً:         نبی ﷺ کے صریح فرمان  اذا جاء احدکم یوم الجمعۃ والامام یخطب فلیرکع رکعتین کے بعد ان دو رکعتوں سے روکنے والے پر لازم ہے کہ وہ دوران خطبہ خاص ان دو رکعتوں کی ممانعت میں کوئی صریح دلیل پیش کرے.

ثالثاً:         ثم ینصت اذا تکلم الامام سے دوران خطبہ دو رکعتوں کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی ،کیونکہ یہ دو رکعتیں انصات کے خلاف نہیں ، آپ کے اقوال آپس میں متعارض نہیں ہوسکتے۔

                خود احناف بھی تو اسے انصات کے خلاف نہیں سمجھتے  ،جب کوئی آدمی قرآن سنے تو اسے انصات کا حکم ہے ، لیکن کیا وجہ ہے کہ احناف کے ہاں صبح کی نماز کے دوران قرآت آنے والا بھی جلدی سے دورکعت نفل ادا کرسکتا ہے ، کیا صفدر صاحب کو یہاں انصات کا خیال نہیں رہا؟

دلیل نمبر ۲:

                جناب محمد سرفراز خاں صفدر دیوبندی حیاتی صاحب لکھتے ہیں:

                “مجمع الزوائد ص ۱۷۱ج ۲میں روایت ہے : عن نیشۃ الھذلی کہ نبی ﷺ نے فرمایا : فان لم یجد الامام خرج صلی ما بدالہ وان وجد الامام قد خرج جلس فاستمع وانصت، الحدیث ، علامہ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : رواہ أحمد ورجالہ رجال الصحیح خلا شیخ أحمد وھو ثقہ.       (خزائن السنن : ۱۷۰/۲)

جواب:

اولاً:         صفدر صاحب  کی خدمت میں عرض ہے کہ صرف علامہ ہیثمی رحمہ اللہ کا قول  رجالہ رجال الصحیح  نقل کرنے سے روایت صحیح نہیں ہوجائے گی ، کیونکہ اصول حدیث میں کسی روایت کی صحت کے لئے صرف راویوں کا ثقہ ہونا کافی نہیں ، بلکہ اتصال سند بھی ضروری ہے ، جس سے آپ بہت گریزاں ہیں ، ذرا عطاء الخراسانی جوکہ “حسن الحدیث” راوی ہیں ، ان کا نبیشہ الہذلی رضی اللہ عنہ سے سماع تو ثابت کریں ، اس روایت میں دو علتیں ہیں:

۱٭         عطاء الخراسانی رحمہ اللہ مدلس اور کثیر الارسال راوی ہیں ، یہاں سماع کی صراحت نہیں مل سکی ۔

۲٭        ان کا نبیشہ الہذلی رضی اللہ عنہ سے تو کجا کسی بھی صحابی سے سماع سرے سے ہی ثابت نہیں۔ (تقریب التہذیب)

ثانیاً:         صفدر صاحب نے علامہ ہیثمی رحمہ اللہ کا رجالہ رجال الصحیح کہنا بلا نکیر نقل کردیا ہے ، یہ بھی ان کی خطاء یا تغافل ہے ، کیونکہ عطاء الخراسانی رحمہ اللہ صحیح بخاری کے راوی نہیں ہیں ،جیساکہ فضیلۃ الشیخ ارشا الحق اثری حفظہ اللہ تعالیٰ نے توضیح الکلام ص ۱۷۲ ج ۲میں محقق و مدلل بحث سے ثابت کردیا ہے ، شائقین مراجعت فرما کر مستفید ہوں۔

۳٭        جناب محمد سرفراز خاں صفدر دیوبندی حیاتی صاحب لکھتےہیں:

                “جمہوریہ جواب دیتے ہیں کہ آنے والے کا نام سلیک عطفانی تھا، یہ شخص بڑ ا فقیر اور خستہ حال تھا، آپ لوگوں سے اس کے لئے چندہ مانگنا چاہتے تھے ، آپ نے اس کو حکم دیا کہ اٹھ کر دو رکعت پڑھ، مطلب یہ تھا کہ لوگ اس کی خستہ حالی کو دیکھ لیں اور اس پر صدقہ کریں ،چنانچہ نسائی ص ۱۵۸ ج ۱میں روایت ہے : جاء رجل….. (خزائن السنن : ۱۷۰/۲ – ۱۷۱)

جواب:

اولاً:         ہم صفدر صاحب سے یہ پوچھنے کی جسارت کریں گے کہ جمہور کون ہیں ؟ کیا سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ، سفیان بن عینیہ، حسن بصری، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام اسحٰق راہویہ ، امام ترمذی ، امام بخاری، امام مسلم ، شیخ بخاری عبداللہ بن یزید المقری ، امام ابن خزیمہ ، امام ابن المنذر ، امام دارمی ، علامہ ابن حزم اور امام ابن حبان رحمہم اللہ کے مقابلے میں امام ابن سیرین ، امام سفیان ثوری اور عروہ رحمہم اللہ جمہور کہلائیں گے ؟ ہم پچھلے صفات میں ثابت کرچکے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ سے بسند صحیح ان دورکعتوں کی ممانعت ثابت نہیں ، نیز جمہور صحابہ تو درکنار کسی ایک صحابی سے بھی یہ بات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچ سکی ۔

٭           حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتےہیں:

                کل من نقل عنہ یعنی من الصحابہ منع الصلاۃ و الامام یخطب محمول علی من کان داخل المسجد لأنہ لم یقع عن أحدمنھم التصریح بمنع التحیۃ وقد ورد فیھا حدیث یخصھا فلا یترک بالاحتمال.

                “جن صحابہ سے حالت خطبہ میں نماز  سے روکنا منقول ہے وہ مسجد میں پہلے سے موجود لوگوں کے بارے میں ہے ،کیونکہ کسی ایک صحابی سے بھی ان دورکعتوں کا بطور تحیۃ المسجد صراحتاً ممنوع ہونا ثابت نہیں ، اس بارے میں خصوصا ایک حدیث بھی آگئی ہے ، لہٰذا اسے احتمالاً ترک کرنا درست نہیں۔”             (فتح الباری : ۱۱۴/۲ ، تحفۃ الاحوذی : ۳۶۴/۱)

لہذا صفدر صاحب کی اس کاوش کو تحقیق کا نتیجہ تو نہیں کہا جاسکتا ، البتہ تقلید کا شاخسانہ ضرور قرار دیا جائے گا۔

ثانیاً:         اپنی تاویل کی دلیل میں انہوں نے جو روایت بحوالہ نسائی پیش کی  ہے ، اس کے راوی سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں ، اور جناب ہی کے بقول صحابی راوی خصوصا اپنی روایت کو دوسروں سے بہتر جانتا ہے ، لہٰذا جب ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اس روایت کا حکم ہر شخص کے لئے عام سمجھتے ہیں ، تو ایک مقلد کو کیا حق پہنچا ہے کہ وہ ان کی مخالفت کرکے اس کو خاص کر دے ؟

                سنن نسائی کی اس روایت کا فہم کم از کم امام نسائی رحمہ اللہ سے ہی لے لیتے تو صفدر صاحب کی کچھ تسلی ہوجاتی ، امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت سے دوران خطبہ دو رکعت سے ممانعت ثابت نہیں کی بلکہ خطبہ جمعہ کے دوران صدقہ کے لئے لوگوں کو آمادہ کرنے کا جواز ثابت کیا ہے اور اس سے آٹھ روایات پیچھے آئیں تو معلوم ہو گا کہ امام موصوف نے خطبہ جمعہ کے دوران نماز پڑھنا جابر بن عبداللہ کی حدیث سے ثابت کیا ہے ، حدیث کے فہم میں محدثین کی بات معتبر ہے یا مقلدین کی؟

                موارد الظمان کے حوالہ سے جو روایت صفدر صاحب نے پیش کی ہے کہ ارکع رکعتین ولاتعودن لمثل ھذا، اس کی سند میں وہی محمد بن اسحٰق بن یسار ہے ، جس کے بارے میں صفدر صاحب نے (احسن الکلام) میں لکھا ہے کہ اسے ۹۰ فیصد محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے اور کذاب تک جرح نقل کی ہے ، ہمارا سوال ہے کہ ایسے راوی کی روایت بطور تائید پیش کرتے ہوئے شرم نہ آئی؟

                دوسری بات یہ ہے ولا تعودن لمثل ھذا سے مراد کون سا کام ہے ؟ کاش کہ صفدر صاحب آگے بھی پڑھ لیتے ! اس کے بارے میں امام ابن حبان رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں:

                قولہ : لا تعودن لمثل ھذا أراد الابطاء فی المجییٔ الی الجمعۃ، لا الرکعتین  اللتین أمر بھما، والدلیل علی صحۃ ھذا خبر ابن عجلان الذی تقدم ذکرنا لہ أنہ أمرہ فی الجمعۃ الثانیۃ أن یرکع رکعتین مثلھما.

                “نبی اکرم ﷺ  کے اس فرمان سے آپ کی مراد جمعہ میں دیر سے آنا ہے ، نہ کہ و ہ دو رکعتیں جن کا اسے حکم دیا گیا تھا، اس بات کی تائید ابن عجلان کی حدیث سے بھی ہوتی ہے ، جو ہم پیچھے ذکر کر چکے ہیں ، کہ آپ نے اسے دوسرے جمعہ میں بھی اسی طرح دو رکعتیں ادا کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ ”   (صحیح ابن حبان : ۳۵۰/۶، تحت حدیث : ۲۵۰۴)

شارح بخاری جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں:

بل ھو نھی عن الابطاء عن الجمعۃ و حضورہ فی وقت الخطبۃ حتی لزمہ امساکھا.

                “(احناف نےاسے دو رکعت سے ممانعت پر محمول کیا ہے ، ایسا نہیں ہے ) بلکہ یہ تو جمعہ میں لیٹ آنے سے منع کیا گیا ہے ، صحابی مذکور نے خطبہ میں لیٹ آنا مستقل معمول بنالیاتھا۔”       (فیض الباری : ۳۴۱/۲)

                تیسری بات یہ ہے کہ کیا رسول اکرم ﷺ کے اس فعل مبارک کے پیش نظر آپ بھی دوران خطبہ ایسے آدمی کو دورکعت ادا کرنے کا حکم دیں گے ؟ اگر جواب اثبات میں ہے ، تو آپ کا مذہب  باطل ، کیونکہ دوران خطبہ دو رکعت کا جواز خودبخود ثابت ہوجائے گا ، لیکن اگر جواب نفی میں ہے ، تو اس حدیث میں آپ کا کیا حصہ؟ اگر آپ اس پر عمل نہیں کرسکتے تو واضح ہے کہ آپ نے اپنی تقلید ناسدید کو بچانے کے احادیث کو تروڑنے مروڑنے کا کاروبار شروع کر رکھا ہے  اور کسی طرح سے بھی حدیث کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔

صفدر صاحب کی بد اعتقادی:

          جناب محمد سرفراز خاں صفدر دیوبندی حیاتی صاحب  کہتے ہیں:

                “ان روایات سے پتا چلا کہ یہ ایک مخصوص واقعہ تھا، ضابطہ اور قاعدہ نہ تھا، بعض راویوں نے اس کو ضابطہ کی شکل میں پیش کردیا ہے ۔”     (خزائن السنن : ۱۷۱/۲)

کبرت کلمۃ تخرج من أفواھھم ان یقولون الا کذبا.

“ان روایات” کی وضاحت ہم کرچکے ہیں ، ان سے ان کا مدعا ثابت نہیں ہوا، تقلید اتنی مہلک بیماری ہے کہ اس کا مریض انکار حدیث تک جاپہنچتا ہے ، صفدر صاحب کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ ذخیرہ حدیث کی ان کے ہاں کیا وقعت ہے ؟ یہ تو ایک روایت ہے ، جس پر طبع آزمائی کرنے صفدر صاحب کی عقل نارسا اس باطل نتیجے پر پہنچی ہے ، نامعلوم اور کتنی احادیث ہوں گی جن کو نبی سے سننے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دوسرے روایوں نے اپنی مرضی سے ضابطہ کی شکل میں پیش کردیا ہوگا؟ اعاذنااللہ من ھذہ الھفوات.

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے فروعی مسائل بیان کرنے والے کذاب اور خبیث راویوں کی روایات پر اندھا اعتماد اور دین کا انحصار ہے ، لیکن افسوس کہ بالاتفاق ثقہ راویوں کی روایت کردہ حدیث نبوی پر اتنی بداعتمادی اور بد اعتقادی ! تلک اذاً قسمۃ ضیزی.

دراصل یہ انکار حدیث کی ایک غیر مرئی شکل ہے ، صفدر صاحب کو چاہیے کہ وہ علی الاعلان حدیث نبوی سے برائت کا اظہار کردیں ، یوں حیلے بہانوں سے اس کے چہرے کو کیوں مخدوش کرتے ہیں؟

؎               خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہو

صاف چھپتے بھی نہیں ، سامنے آتے بھی نہیں

قارئین! خود اندازہ فرمائیں کہ حدیث نبوی کے بارے میں ایسے خیالات کے حامل ہوگ دین کے کتنے خیر خواہ ہوسکتےہیں؟ نیز

یہ حدیث کی موافقت ہے یا مخالفت ؟؟؟؟

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.