خلفائے راشدین سے محبت

 از    July 11, 2014

مشہور صحابی سیدنا ابو عبدالرحمٰن سفینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، مولی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :“خلافۃ النبوۃ ثلاثون سنۃ، ثم یؤتی اللہ الملک أو ملکہ من یشاء” خلافتِ نبوت تیس سال رہے گی، پھر اللہ جسے چاہے گا اپنا ملک عطا فرمائے گا ۔ (سنن ابی داؤد ، کتاب السنۃ باب فی الخلفاء ح ۴۶۴۶ وسندہ حسن)
اس حدیث کو ترمذی نے حسن (۲۲۲۶) ابن حبان (الإحسان: ۶۹۴۳/۶۹۰۴) اور احمد بن حنبلؒ نے (السنۃ للخلال: ۶۳۶) نے صحیح کہا ہے ۔ نیز دیکھئے الحدیث : ۸ (ص۱۱)
اس حدیث کے راوی سیدنا سفینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے شاگرد کو خلفائے راشدین کی تعداد گن کر سمجھائی۔
(۱)ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو سال۔
(۲) عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دس سال۔
(۳)عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ سال۔ اور
(۴)علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھ سال۔
امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ : “خلافت کے بارے میں سفینہ کی (بیان کردہ) حدیث صحیح ہے اور میں خلفاء (راشدین کی تعداد) کے بارے میں اس حدیث کا قائل ہوں “ (جامع بیان العلم فضلہ ۲۲۵/۲، الحدیث :۸ ص ۱۲)
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ :
صلی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذات یوم، ثم أقبل علینا، فوعظنا موعظۃً بلیغۃً ذرفت منھا العیون ووجلت منھا القلوب، قال قائل: یا رسول اللہ ! کان ھذہ موعظۃ مودع، فماذا تعھد إلینا؟ فقال: أوصیکم بتقوی اللہ والسمع والطاعۃ و إن عبد حبشي، فإنہ من یعش منکم بعدي فسیری اختلافاً کثیراً، فعلیکم بسنتي وسنۃ الخلفاء المھدیین الراشدیین تمسکوابھا وعضوا علیھا بالنواجذ، وإیاکم و محدث الأمور، فإن کل محدثۃ بدعۃ و کل بدعۃ ضلالۃ”
ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر ہماری طرف رخ کرکے انتہائی فصیح اور بلیغ و عظ فرمایا جس سے (ہمارے) دل دھل گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ کسی نے کہا :یارسول اللہﷺ ! گویا یہ الوداع کہنے والے کا وعظ ہے، آپ ہمیں کیا (حکم) ارشاد فرماتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ اور اگر حبشی بھی تمہار ا امیر بن جائے تو (اس کا حکم) سننا اور اطاعت کرنا۔ کیونکہ میرے بعد جو شخص زندہ رہا وہ بہت اختلاف دیکھے گا ۔ پس میری سنت اور میرے خلفائے راشدین مھدیین کی سنت کو مضبوطی سے،دانتوں کے ساتھ پکڑ لینا۔ اور محدثات سے بچنا کیونکہ (دین میں) ہر محدث بدعت ہے۔ اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ (سنن ابی داؤد : ۴۶۰۷ واسنادہ صحیح)
اسے ترمذی (۲۶۷۶) ابن حبان (موارد:۱۰۲) حاکم (المستدرک ۱/۹۶،۹۵) اور ذہبیؒ نے صحیح کہا ہے۔
اس صحیح حدیث جن میں خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کا حکم دیا گیا ہے ان سے سیدنا ابوبکر الصدیق، سیدنا عمر الفاروق ، سیدنا عثمان ذوالنورین اور سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مراد ہیں۔
ان میں سے پہلے دو نبی ﷺ کے سسر اور دوسرے دو داماد ہیں۔ پہلے دونوں خلفائے راشدین میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سابق الایمان اور افضل بعد رسول ﷺ علّی الاطلاق ہیں۔ پھر شہید محراب کا نمبر ہے۔ دوسرے دونوں خلفائے راشدین میں سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، آپﷺ کی دوبیٹیوں کے شوہر ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خاوند ہیں۔
ابوالحسن الاشعری (متوفی ۳۲۴؁ھ) فرماتے ہیں:
ولدین اللہ بأن الأئمۃ الأربعۃ خلفاء راشدون مھدیون فضلاء لا یوازھم فی الفضل غیرھم”
اور ہمارا یہ مذہب ہے کہ ائمہ اربعہ (ابوبکروعمروعثمان و علی) خلفائے راشدین مھدیین ہیں۔ یہ سب (دوسروں سے) افضل تھے، دوسرا کوئی (امتی) فضلیت میں ان کے برابر نہیں ۔(الابانۃ عن اصول الدیانہ ص ۶۰فقرہ ۲۹)
ابو جعفر الطحاوی (متوفی ۳۲۱؁ھ) سے منسوب کتاب عقیدہ طحاویہ  میں بھی انہی خلفاء کو خلفائے راشدین قرار دیا گیا ہے ۔ دیکھئے شرح عقیدہ طحاویہ بتحقیق الشیخ الالبانی (ص ۵۳۳۔ ۵۴۸)
ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ ان خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے محبت رکھے۔
قارئین کرام !
محبت کے نام سے “الحدیث” میں جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے اسے انشاء اللہ آخر میں “محبت ہی محبت” کے نام سے شائع کیا جائے گا۔ الحدیث کے آئندہ شماروں میں بالترتیب سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت کے مضامین لکھے جائیں گے تاکہ اہلِ ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو۔ انشاء  اللہ العزیز

        تنبیہ : صحیح مسلم کے بعض نسخوں میں “عن أبي ریحانۃ عن سفینۃکی سندسے بیان کردہ ایک حدیث کے بعد لکھا ہوا ہے کہ :”قال:              وقد کان کبر و ما کنت أثق بحدیثہاس نے کہا: اور وہ بوڑھا ہوگیا تھا اور میں اس کی حدیث پر اعتماد نہیں کرتا تھا    (درسی نسخہ ج ۱ ص ۱۴۹ ح ۳۲۶و مع شرح النووی ج ۴ص ۹وفتح الملھم ج ۳ ص ۱۶۴)

اس قول میں بوڑھے سے مراد کون ہے ؟ اس کی تشریح میں امام نووی ؒ وغیرہ فرماتے ہیں کہ : “ھو سفینۃ” وہ سفینہ ہے ۔ (شرح صحیح مسلم للنووی ۹/۴)

جبکہ حافظ ابن حجر کے طرزِ عمل اور ابن خلفون کے قول سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ “گو ابوریحانۃ” وہ ابوریحانہ (عبداللہ بن مطر ) ہے۔ دیکھئے تہذیب التہذیب (ج۶ ص ۳۵،۳۴) اور یہی بات راجح ہے ، یعنی اسماعیل بن ابراہیم (عرف ابن علیہ) کے نزدیک ابوریحانہ عبداللہ بن مطر بوڑھا ہوگیا تھا اور وہ (ابن علیہ) اس (ابوریحانہ) پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔
یادرہے کہ جمہور محدثین کے نزدیک ابوریحانہ موثق ہے لہذا وہ حسن الحدیث ہے ۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.