خلع والی عورت کی عدت کتنی ہوگی؟

 از    April 28, 2015

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری

                خلع والی عورت کی عدت ایک حیض ہے کیونکہ:

۱٭         ثابت بن قیس بن شماس نے اپنی بیوی جمیلہ بنت عبداللہ بن اُبی کو مارا ، اس کاہاتھ توڑ دیا ، ان کا بھائی نبیٔ کریم ﷺ کی خدمت میں اس کی شکایت لے کر آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف آدمی بھیجا ، اسے فرمایا:

                خذالّذی لھا علیک وخلّ سبیلھا، قال ؛  نعم ، فأمر رسول اللہ ﷺ أن تتربّص حیضۃً واحدۃً، فتلحق بأھلھا.

                “تم وہ حق مہر رکھ لو جو اس عورت کا تمہارے ذمہ ہے اور اس کا راستہ چھوڑ دو ، اس نے کہا ، ٹھیک ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس (جمیلہ) کو ایک حیض انتظار کرنے کا حکم دیا ، پھر وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جائے ۔”        (سنن نسائی: ۳۵۲۷ ، وسندہ صحیح)

۲٭        عن عبادۃ بن الصّامت عن الرّبیع بنت معوّذ بن عفراء، قال ؛ قلت لھا ؛ حدثینی حدیثک، قالت ؛ اختلعت من زوجی، ثمّ جئت عثمان،  فسألت ؛ فماذا علی من العدّۃ؟ فقال ؛ لا عدّۃ علیک الّا أن یکون حدیث عھد بک فتمکثین عندہٗ حتّٰی تحیضین حیضۃً، قالت ؛ وانّما تبع فی ذٰلک قضاء رسول اللہ ﷺ فی مریم المُغَالِیَۃِ وکانت تحت ثابت ابن قیس، فاختلعت منہ.

                “سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفرا سے کہا کہ مجھ سے اپنی آپ بیتی بیان کرو، اس نے کہا، میں نے اپنے خاوند سے خلع لے لیا،  پھر میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور سوال کیا کہ کیا مجھ پر کوئی عدت ہے؟ آپ نے فرمایا ، تجھ پر کوئی عدت نہیں، ہا ں شروع شروع میں تو اس کے پاس ٹھہر حتی کہ ایک حیض گزار لے ، کہتی ہیں کہ سیدنا عثمان نے اس فیصلے میں رسولِ کریم ﷺ کے اس فیصلے کی پیروی کی ہے ، جو آپ نے مریم المغالیہ کے بارے میں فرمایا تھا ، وہ ثابت بن قیس کے نکاح  میں تھیں ، پھر ان سے خلع لے  لیا۔”           (سنن ابن ماجہ : ۲۰۵۸ ، السنن الصغریٰ للنسائی : ۳۵۲۸، السنن الکبریٰ للنسائی : ۵۶۹۲، المعجم الکبیر للطبرانی : ۲۶۶/۲۴۔۲۶۵ ، وسندہٗ حسن)

۳٭        عن الربیع بنت معوذ بن عفراء أنھا اختلعت علیٰ عھد النبی ﷺ، فأمرھا النبی ﷺ أو أمرت أن تعتد بحیضۃٍ.

                “ربیع بنت معوذ بن عفرا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے عہدِ مبارک میں خلع لیا، ان کو نبیٔ کریم ﷺ نے حکم دیا یا اسے ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا گیا ۔”              (سنن ترمذی: ۱۱۸۵  ، وسندہ صحیح و صححہ ابن الجارود: ۷۶۳)

۴٭        عن ابن عباس أن امراۃ ثابت بن قیس اختلعت من زوجھا علیٰ عھد النبی ﷺ ، فأمرھا النبی ﷺ أن تعتدّ بحیضۃٍ.

                “سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نے نبی اکر م ﷺکے عہدِ مبارک میں اپنے خاوند سے خلع لیا، آپ نے اسے ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا ۔ ”   (سنن ابی داود : ۲۲۲۹ ، سنن ترمذی  : ۱۱۸۵/م ، وسندہٗ صحیح)

                امام ترمذی نے اس حدیث کو “حسن غریب” قرار دیا ہے ۔

                ابنِ عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عدّۃ المختلعۃ حیضۃ.      “حائضہ کی عدت ایک حیض ہے ۔”               (موطا الامام مالک بروایۃ یحییٰ : ۵۶۵/۲ ، سنن أبی داود : ۲۲۳۰، وسندہ صحیح)

نافع بیان کرتے ہیں:   وکان ابن عمر یقول: تعتد ثلاث حیض ، حتّٰی قال ھٰذا عثمان ، فکان یُفتی بہ ویقول : خیرنا و أعلمنا.

                “سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما (پہلے) فرماتے تھے کہ وہ (خلع  والی عورت) تین حیض عدت گزارے گی ، یہاں تک کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ (ایک حیض عدت کا حکم)  فرمایا تو آپ اسی (ایک حیض) کے مطابق فتویٰ دینے لگے اور فرمایا کرتے تھے، آپ (عثمان رضی اللہ عنہ ) ہم میں سے بہتر اور زیادہ علم والے ہیں۔”     (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۱۴/۵ ،  وسندہٗ صحیح)

تنبیہ:

            امام ترمذیؒ فرماتے ہیں:

                فقال أکثر أھل العلم من أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرھم: انّ عدّۃ المختلعۃ عدّۃ المطلقۃ، ثلاث حیض.

                “صحابہ کرام اور ان کے علاوہ اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ خلع والی عورت کی عدت مطلقہ عورت کی طرح تین حیض ہے ۔” (جامع الترمذی تحت حدیث : ۱۱۸۵/م)

 امام ترمذی کی یہ بات محل نظر ہے ، کسی صحابی سے خلع والی عورت کی عدت تین حیض ہونا ثابت نہیں ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جو روایت ہے ، اس سے آپ کا رجوع بھی ثابت ہے ، والحمدللہ !  امام اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

«ان ذهب ذاهب الی هذا ، فهو مذهب قوی»

” جس کا یہ مذہب ہے کہ خلع والی عورت کی عدت ایک حیض ہے تو یہ مذہب قوی ہے۔  “ ( جامع ترمذی تحت حدیث ۱۱۸۵/م )

اعتراض نمبر ۱ :

                جناب تقی عثمانی دیوبندی حیاتی پہلی حدیث پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں:

                ]جمہور کے نزدیک حدیثِ باب میں “حیضۃ” سے مراد جنسِ حیض ہے ، اس پر بعض ان روایات سے اشکال ہوتا ہے ، جن میں “حیضۃ” کے ساتھ “واحدۃ” کی قید مصرح  ہے ، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ راوی کا تصرف ہے ، دراصل اس “حیضۃ” میں “ۃ” تائے وحدت نہیں بلکہ بیانِ جنس کے لئے “ۃ” لائی گئی ہے ۔[          (درسِ ترمذی  از تقی : ۴۹۶/۳)

تبصرہ:

                یہ تحکمِ محض ہے ، آلِ تقلید اور منکرینِ حدیث کی مشترکہ کاوش ہے کہ جو حدیث اپنے مذہب کے خلاف پاتے ہیں ، اس کو “راوی کا تصرف” وغیرہ کہہ کر دینِ اسلام کو مطعون و مشکوک گردانتے ہوئے ذرا جھجک محسوس نہیں کرتے ۔

                “حیضۃ” یہ حاض یحیض کا مصدر ہے ، یہ اصل میں “حیض” تھا، اس میں “ۃ” وحدت کی ہے ، ثلاثی مجرد کا مصدر “فَعْلَۃٌ” کے وزن پر آئے تو وحدت کا فائدہ دیتا ہے ، ثلاثی مجرد کا مصدر یا تو “ۃ” سے خالی ہوگا یا “ۃ” کے ساتھ مستعمل ہوگا جیسے “رحمۃ” ہے ، اگر “ۃ” سے خالی ہو اور اس سے وحدت مراد لینی ہو تو “ۃ” لائی جائے گی ، اگر پہلے پہلے سے “ۃ” کے ساتھ مستعمل ہوتو وحدت مراد لینے کے لئے “واحدۃ” کی قید بڑھائی جائے گی ، جیسے “رَحِمْتُۃٗ رَحْمَۃً وَاحِدَۃً”.

                بالفرض و التقدیر ان کی یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ “حیضۃ” میں “ۃ” جنس کے لئے ہے اور جنس واحد ، تثنیہ اور جمع کو شامل ہوتی ہے تو ہم روایت کے لفظ “واحدۃ” کے ساتھ جنس سے وحدت مراد لے لیں گے ، کیونکہ واحد بھی جنس کے افراد میں سے ہے ۔

نبوی فیصلے کی پیروی میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ خلع والی عورت کی عدت ایک حیض ہے ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے فتویٰ سے رجوع کرکے اس عثمانی فتویٰ کو قبول فرمایا،  امام اسحاق اس کو قوی مذہب قرار دیتے ہیں ، اس کے باوجود “بعض الناس” حدیث میں “واحدۃ” کے لفظ کو راوی کا تصرف کہتے نہیں تھکتے ، اس پر سہا گہ یہ کہ ان سے پہلے یہ اعتراض کسی مسلمان سے ثابت نہیں۔

اعتراض نمبر ۲:

                جناب تقی عثمانی دیوبندی اس حدیث پر دوسرا اعتراض یوں وارد کرتے ہیں:

                “نیز یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ روایت جو خبرِ واحد ہے ، نصِّ قرآنی ﴿وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُؤءٍ﴾ (سورۃ البقرۃ: ۲۲۸) کا معارضہ نہیں کرسکتی ۔                (درسِ ترمذی : ۴۹۶/۳)

تبصرہ:

۱٭         یہ واضح طور پر منکرینِ حدیث کی روش ہے ، یہی وہ خطرناک ہتھیار صدیوں سے ردِّ حدیث کے لیے استعمال کرتے چلے آرہے ہیں، ثابت ہوا کہ فتنۂ انکارِ حدیث دراصل تقلیدِ ناسدید کا پروردہ ہے ، حالانکہ آیتِ کریمہ کاحکم عام ہے ، جس طرح نصِّ قرآنی سے حاملہ عورت کی عدت اس کے عموم سے مستثنیٰ ہے کہ : ﴿وَاُولاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ﴾ (الطلاق: ۴) یعنی : “حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے” اسی طرح نصِّ حدیث سے خلع والی عورت کی عدت اس آیت کے عموم سے خاص و مستثنیٰ ہے ۔

۲٭        یہ آیت “عام مخصوص منہ البعض” ہے تو احناف کے نزدیک “عام مخصوص منہ البعض ” کی تخصیص خبرِ واحد سے بالاتفاق جائز ہے، کیونکہ ان کے نزدیک “عام مخصوص منہ البعض” ظنی ہے اور خبرِ واحد بھی ظنی ہے ، ظنی کی تخصیص ظنی سے ان کے نزدیک بلا اختلاف جائز ہے ۔

۳٭        اس آیتِ کریمہ کا تعلق طلاق سے ہے ، جبکہ حدیثِ مذکورہ خلع  کے متعلق ہے اور خلع طلاق نہیں بلکہ فسخِ نکاح ہے ۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.