“حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں” روایت کی تحقیق

 از    September 30, 2014

سوال:”کچھ حدیثیں ارسال کر رہا ہوں، مہربانی فرما کر اسماء الرجال کی نظر میں (تحقیق کریں کہ) یہ روایات کیسی ہیں ؟
نمبر۱:     حضرت اُ م فضل فرماتی ہیں ایک روز میں نے دیکھا رسول اللہﷺ کی آنکھیں برس رہی تھیں۔ میں نے پوچھا : میرے ماں باپ قربان آپ کیوں گریہ فرما رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل () آئے اور مجھے بتایا کہ میری اُمت میرے اس بیٹے کو قتل کرے گی ۔ جبرائیل اس جگہ کی سرخ مٹی بھی میرے پاس لائے جہاں اسے قتل کیا جائے گا ۔ مشکوٰۃ، بیہقی فی دلائل النبوت۔
نمبر۲:    حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو حسین سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے۔ حسین میری نسلوں میں سے ایک نسل ہے ۔ مستدرک حاکم جلد ۳ ص ۱۵۹ (فضل حسین ، قلعہ دیدار سنگھ)
الجواب:
۱:        ام الفضل بن الحارثؓ سے منسوب روایت دلائل النبوۃ للبیہقی ( ۴۶۹/۶) میں بحوالہ محمد بن مصعب: حدثنا الاوزاعی عن شداد بن عبداللہ کی سند سے مذکور ہے ۔ اس کی سند محمد بن مصعب کی وجہ سے ضعیف ہے ۔(اضواء المصابیح فی تحقیق مشکوٰۃ المصابیح: ۶۱۷۱)
محمد بن معصب بن صدقہ القرقسائی پر جمہور محدثین نے جرح کر رکھی ہے ۔
امام احمد بن حنبل نے فرمایا: محمد بن مصعب القرقسانی کی اوزاعی سے حدیث مقارب (یعنی صحت و تحسین کے قریب) ہوتی ہے ۔ (مسائل ابی داؤد : ۳۲۸ بحوالہ موسوعۃ اقوال الامام احمد ۳۱۷/۳ ، ۳۱۸ ، تاریخ بغداد ج ۳ ص ۲۷۷ وسندہ صحیح)
اس کے مقابلے میں ابوزرعہ الرازی نے کہا:”محمد بن مصعب یخطئ کثیراً عن الأوزاعي وغیرہ محمد بن مصعب اوزاعی وغیرہ سے بہت غلطیاں کرتا ہے ۔ (کتاب الضعفاء لابی زرعۃ الرازی ج ۲ ص ۴۰۰)
حافظ ابن حبان نے محمد بن مصعب کی اوزاعی سے ایک روایت کو “باطل” کہا (کتاب المجروحین ۲۹۴/۲)

ابو احمد الحاکم نے کہا :”روی عن الأوزاعي أحادیث منکرۃ اس نے اوزاعی سے منکر حدیثیں بیان کی ہیں۔

                                                  (تہذیب التہذیب ج۹ص ۴۶۱، ولعلہ فی کتاب الکنٰی لأبی احمدا لحاکم)

معلوم ہواکہ قولِ راجح میں محمد بن مصعب کی اوزاعی سے بھی روایت ضعیف ہی ہوتی ہے ، اُسے “مقارب” کہنا صحیح نہیں ہے۔
۲:        یہ روایتحسین مني و أنا من حسین، أحب اللہ من أحب حسیناً، حسین سِبط من الأسباط کے متن کے ساتھ عبداللہ بن عثمان بن خثیم عن سعید بن ابی راشد عن یعلی العامری کی سند سے درج ذیل کتابوں میں موجود ہے ۔
مسند الامام احمد (۱۷۲/۴)  و فضائل الصحابۃ للامام احمد (ح ۱۳۶۱) مصنف ابن ابی شیبہ (۱۰۲،۱۰۳/۱۲ ح ۳۲۱۸۶) المستدرک للحاکم (۱۷۷/۳ ح ۴۸۲۰ وقال : ھذا حدیث صحیح الاسناد وقال الذھبی: صحیح) صحیح ابن حبان (الاحسان: ۶۹۳۲، دوسرا نسخہ: ۶۹۷۱) المعجم الکبیر للطبرانی (۳۳/۳ ح ۲۵۸۹ و ۲۷۴/۲۲ ح ۷۰۲) سنن ابن ماجہ (۱۴۴) سنن الترمذی (۳۷۷۵ وقال :”ھذا حدیث حسن”)
اس حدیث کی سند حسن ہے ۔ اسے ابن حبان، حاکم اور ذہبی نے صحیح اور ترمذی نے حسن قرار دیا ہے ۔ بوصیری نے کہا :”ھذا إسناد حسن، رجالہ ثقات
اس کا راوی سعید بن ابی راشد: صدوق ہے۔ حافظ ذہبی نے کہا : صدوق (الکاشف ۲۸۵/۱ ت ۱۹۰۰) اسے ابن حبان، ترمذی اور حاکم نے ثقہ و صدوق قرار دیا ہے ۔ بعض الناس کا یہ کہنا کہ “اس کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے ” باطل ہے۔
شیخ البانیؒ نے غلط فہمی کی بنیاد پر سعید بن ابی راشد پر جرح کرنے کے باوجود اس حدیث کو شواہد کی وجہ سے حسن قرار دیا ہے اور اسے اپنی مشہور کتاب السلسلۃ الصحیحہ میں داخل کیا ہے دیکھئے (ج ۳ ص ۲۲۹ ح ۱۲۲۷)
خلاصہ التحقیق: یہ روایت حسن لذاتہ اور صحیح لغیرہ ہے ۔ والحمد للہ                 (۲۰صفر ۱۴۲۷؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.