حدیث نور اور مصنف عبدالرزاق : ایک نئی دریافت کا جائزہ

 از    September 9, 2014

 الحمد للہ رب العالمین و الصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الأمین، أما بعد:

          مصنف عبدالرزاق کے نام سے حدیث کی ایک مشہور کتاب مطبوع اور متداول ہے۔ سنہ ۱۴۲۵؁ھ بمطابق ۲۰۰۵ م ایک چھوٹی سی کتاب الجزء المفقود من الجزء الأول من المصنف کے نام سے محمد عبدالحکیم شرف القادری (بریلوی) کی تقدیم اور عیسیٰ بن عبداللہ بن محمد بن مانع الحمیری (؟) کی تحقیق کے ساتھ (بریلویوں کے) مؤسسۃ الشرق، لاہور پاکستان سے شائع ہوئی ہے۔ اس نسخہ میں چالیس (۴۰) احادیث و آثار لکھے ہوئے ہیں۔ بریلوی حضرات اس میں درج حدیثِ نور کی وجہ سے خوشیاں منار ہے ہیں حالانکہ قلمی اور مطبوع کتابوں سے استدلال کی کئی شرائط ہوتی ہیں۔ اس مضمون میں اس “الجزء المفقود” کا جائزہ پیشِ خدمت ہے۔

بریلویوں کا شائع کردہ یہ “الجزء المفقود” سارے کا سارا موضوع اور من گھڑت ہے ۔ اس کے موضوع اور من گھڑت ہونے کے دلائل درج ذیل ہیں:

۱:        اس نسخہ کا ناسخ (لکھنے والا) اسحاق بن عبدالرحمٰن السلیمانی ہے جس کے خط (تاریخ نسخ ۹۳۳؁ھ) سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص دسویں صدی ہجری میں موجود تھا ۔ (دیکھئے الجزء المفقود ص ۱۰)
اس شخص کے حالات اور ثقہ و صدوق ہونا نا معلوم ہے لہذا یہ شخص مجہول ہے ۔
۲:        دسویں صدی ہجری والے اسحاق بن عبدالرحمٰن السلیمانی نے اپنے آپ سے لے کر امام عبدالرزاقؒ (صاحب المصنف) تک کوئی سند بیان نہیں کی اور نہ یہ بتایا کہ اس نے یہ نسخہ کہاں سے نقل کیا ہے لہذا یہ سارے کا سارا نسخہ بے سند ہے۔
۳:       اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ نسخہ کہاں کہاں اور  کس کس کے پاس رہا ہے ۔ حدیث کی کتابوں کے معتبر نسخوں پر علمائے کرام کے سماعات درج ہوتے ہیں۔ یعنی فلاں عالم نے یہ نسخہ فلاں تاریخ کو فلاں عالم سے سنا تھا۔ مثلاً دیکھئے مخطوطۃ مسند الحمیدی (الظاہریہ) پہلا صفحہ۔
جبکہ اس کے برعکس “الجزء المفقود” کے مقدمہ میں لکھا ہوا ہے کہ:

          “ولیس علی النسخۃ التی بین یدینا أیۃ سماعات ہمارے ہاتھوں میں (یہ) جو نسخہ موجود ہے اس پر کوئی سماعات نہیں ہیں۔ (دیکھئے ص ۱۴)

۴:       دارلکتب العلمیۃ بیروت لبنان سے مصنف عبدالرزاق کا جو نسخہ شائع ہوا ہے اسے پانچ نسخوں سے شائع کیا گیا ہے ۔
اول:    مراد ملا کا نسخہ (ترکی) یہ مکمل نسخہ ہے اور ۷۴۷؁ھ کا لکھا ہوا ہے ۔ (المصنف جلد ۱ ص ۱۱)
دوم:    فیض اللہ افندی کا نسخہ (ترکی ) یہ نامکمل نسخہ ہے اور ۶۰۶؁ھ کا لکھا ہوا ہے۔ (جلد ۱ ص ۱۱)
سوم:    المکتبۃ السعیدیۃ العامہ کا نسخہ (تونک) یہ ناقص نسخہ ہے اور ۱۳۷۳؁ھ کا لکھا ہوا ہے ۔
چہارم:  شیخ محمد نصیف کا نسخہ (جدہ) یہ نامکمل نسخہ ہے اور نویں صدی ہجری کا لکھا ہوا ہے ۔(ایضاً ج ۱ ص ۱۲)
پنجم:     حبیب الرحمٰن اعظمی کی تحقیق والا مطبوعہ نسخہ، اسے مراد ملا والے نسخہ سے شائع کیا گیا ہے۔

معلوم ہوا کہ نسخہ بریلویہ پر سماعات کا نہ ہونا، کاتبِ نسخہ کا مجہول ہونا اور  نسخہ کا بے سند ہونا اس نسخہ کے مشکوک اور بے اصل ہونے کے لئے کافی ہے۔

۵:       اس نسخہ (نسخۂ بریلویہ ) کے  مقدمہ نگار نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ نسخہ مطبوعہ نسخہ سے زیادہ مضبوط نسخہ ہے ۔ (دیکھئے ص ۱۱) حالانکہ یہ نسخہ فاش غلطیوں والا ہے۔
مثال : بریلویوں کے “الجزء المقفود” میں لکھا ہوا ہے کہ:
          “عبدالرزاق عن ابن جریج قال: أخبرني البراء قال……” إلخ (ص۵۵ح ۲)

اس روایت  میں امام ابن جریح سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھے براء (بن عازبؓ) نے خبر دی إلخ۔ “الجزء المقفود” کا محقق لکھتا ہے :”ابن جریج حافظ ثقۃ و کان یدلس، فقد صرح ھنا بالإخبار

ابن جریج حافظ ثقہ ہیں، آپ تدلیس کرتے تھے ، پس آپ نے یہاں سماع کی تصریح کردی ہے ۔ (حاشیہ : ۱)
عرض ہے کہ ابن جریجؒ ۸۰؁ھ میں پیدا ہوئے ۔ (طبقات ابن سعد ج ۵ ص ۴۹۶)
جبکہ سیدنا البراءؓ ۷۲؁ھ میں فوت ہوئے ۔ (تقریب التہذیب: ۲۴۸)

سیدنا البراء بن عاذبؓ کی وفات  کے آٹھ سال بعد پیدا ہونے والے امام جریج یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں “أخبرني البراء” مجھے براء نے خبر دی۔ (!)

لطیفہ:    الجزء المفقود کے محقق نے اپنے الفاظ بھول کر دوسرے مقام پر لکھا ہے کہ :
          “عبدالرزاق قال: أخبرنی الزھري عن سفیان بن شبرمۃ…” (ص ۸۸ ح ۲۸)
اس روایت میں امام عبدالرزاقؒ، جناب زہریؒ سے سماع کی تصریح کررہے ہیں حالانکہ امام زہریؒ ۱۲۵؁ھ یا اس سے ایک دو سال پہلے فوت ہوئے (دیکھئے التقریب التہذیب : ۶۲۹۶) اور امام عبدالرزاقؒ ۱۲۶؁ھ میں پیدا ہوئے ۔ (تقریب التہذیب : ۴۰۲۶)
امام زہری ؒ کی وفات کے ایک سال بعد پیدا ہونے والے امام عبدالرزاقؒ کس طرح “أخبرني الزھري” کہہ سکتے ہیں؟
لطیفہ:    اسی کتاب کے ایک دوسرے مقام پر “محقق” صاحب لکھتے ہیں کہ:
          “ھذا الإسناد فیہ انقطاع بین عبدالرزاق و الزھري” اور اس سند میں عبدالرزاق اور زہری کے درمیان انقطاع ہے (ص۹۴ ح ۴۰ کا حاشیہ : ۳)
۷:       سابقہ نمبر میں جو روایت لکھی ہوئی ہے ۔ اس کے راوی “سفیان بن شبرمۃ” کے حالات معلوم نہیں ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ یہ “سفیان عن ابن شبرمۃ” ہے۔ جیساکہ مصنف ابن ابی شیبہ (۱۵/۱ ح  ۱۳۲) میں لکھا ہواہے۔
یعنی سفیان الثوری عن عبداللہ بن شبرمۃ۔
میں جناب محمد عبدالحکیم شرف القادری (بریلوی) اور تمام آل بریلی سے پوچھتا ہوں کہ “سفیان بن شبرمۃ” کون ہے ؟ اگر یہ کاتب یا کمپوزر کی غلطی ہے تو پھر غلطیوں والے اس بے سند نسخہ پر آپ کیوں خوشیاں منا رہے ہیں؟
۸:       امام زہری المدنی کی تاریخ ولادت میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں ۵۰یا ۵۱
امام یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر (پیدائش: ۱۵۴؁ھ وفات: ۲۳۱؁ھ) تلمیذٕ امام لیث بن سعد فرماتے ہیں کہ :زہری ۵۶؁ھ میں پیدا ہوئے ۔ (تاریخ دمشق ۲۲۸/۵۸ وسندہ صحیح ، الزہری لابن عساکر ص ۳۶ ح ۱۰)
سیدنا عقبہ بن عامرؓ ۶۰؁ھ کے قریب فوت ہوئے (تقریب التہذیب  : ۴۶۴۱) آپ کی قبر مقطم (مصر) میں ہے (سیراعلام النبلاء ج ۲ ص ۴۶۸) یعنی آپ مصر میں فوت ہوئے !
الجز المفقود میں لکھا ہوا ہے کہ :”عن ابن جریج عن الزھری أنہ سمع عقبۃ بن عامر ….” (ص ۸۴ ح ۲۴)

حالانکہ (مدینہ طیبہ میں پیدا ہونے والے ) امام زہریؒ کی عقبہؓ سے ملاقات ثابت نہیں ہے ۔ حافظ نور الدین الہیثمیؒ لکھتے ہیں کہ:”والزھري لم یسمع من عقبۃ بن عامر” اور زہریؒ نے عقبہ بن عامرؓ سے کچھ نہیں سنا ۔ (مجمع الزوائد ج ۱ ص ۳۳۱، آخر: باب فضل الاذان)

معلوم ہوا “الجزء المفقود” کے مجہول ناسخ نے اس بے سند نسخے میں ایک سند وضع کرکے امام زہریؒ پر جھوٹ بول رکھا ہے۔ کہ انہوں نے سیدنا عقبہؓ سے سنا ہے !

۹:        الجزء المفقود  میں لکھا ہوا  ہے کہ :
عبدالرزاق عن معمر عن الزھري عن أبي سعید الخدري عن أبیہ عن جدہ عن أبي سعید” إلخ (ص ۸۰، ۸۱ ح ۲۰)
اس روایت میں بقول اسحاق بن عبدالرحمٰن السلیمانی: امام زہری سیدنا ابو سعید الخدری (سعد بن مالک بن  سنان الانصاری)رضی اللہ عنہ عن ابیہ (مالک بن سنان) عن جدہ (سنان بن عبید) عن ابی سعید سے روایت کر رہے ہیں حالانکہ سیدنا ابو سعید الخدریؓ کے دادا سنان بن عبید کا صحابہ میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے اور نہ سنان بن عبید کے استاد ابو سعید کا کہیں تذکرہ ملتا ہے ۔ الجزء المفقود کے “محقق” نے ابوسعید الخدری عن ابیہ عن جدہ عن ابی سعید میں ابو سعید الخدری  کو ردبیح (ربیح) بن عبدالرحمٰن بن ابی سعید بنا دیا ہے حالانکہ ربیح کی کنیت ابو سعید ، معلوم نہیں ہے اور نہ اس کے شاگردوں میں امام زہریؒ کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے (دیکھئے تہذیب الکمال ج ۶ ص ۱۲۴)
۱۰:       احادیث کی کتابوں میں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ان کی روایات (سندیں اور متون ) دوسری کتابوں میں بھی ملتی ہیں مثلاً مصنف عبدالرزاق کی پہلی متصل مرفوع حدیث “عبدالرزاق عن مالک عن عمرو بن یحیی عن أبیہ عن عبداللہ بن زید” کی سند سے مروی ہے ۔ یہی روایت امام احمد بن حنبلؒ نے “حدثنا عبدالرزاق قال: أخبرنا مالک عن عمرو بن یحیی عن أبیہ عن عبداللہ بن زید” کی سند سے اسی متن کے ساتھ بیان کر رکھی ہے ۔ (مسند احمد ج ۴ ص ۳۹ ح ۱۶۴۳۸  و سندہ صحیح)
عبدالرزاق کی سند سے یہ روایت صحیح ابن خزیمہ میں بھی موجود ہے (۸۰/۱ ح ۱۵۵)
امام مالک عن عمرو بن یحیی عن أبیہ عن عبداللہ بن زید” کی سند سے یہی روایت موطا امام مالک (۱۸/۱ ح ۳۱) و صحیح بخاری (۱۸۵) و صحیح مسلم (۲۳۵) میں موجود ہے ۔ جب کہ بریلویوں کی پیش کردہ روایات الجزء المفقود کا وجود حدیث کی دوسری باسند کتابوں میں نہیں ملتا ۔ معلوم ہوا کہ دال میں  ضرور کچھ کالا کالا ہے ۔

ان دس دلائل سے معلوم ہوا کہ “الجزء المفقود” کے نام سے مطبوع کتاب بے اصل، بے سند اور موضوع ہے ۔ لہذا اس سے استدلال کرنا حلال نہیں ہے ۔

امام عبدالرزاق بن ہمام الصنعانی رحمہ اللہ
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام عبدالرزاقؒ (متوفی ۲۱۱؁ھ) ثقہ حافظ امام تھے۔ جمہور محدثین نے ان کی توثیق کی ہے لیکن ثقہ ہونے کے ساتھ وہ مدلس بھی تھے۔ ان کی تدلیس کے لئے دیکھئے کتاب الضعفاء للعقیلی (ج۳ ص ۱۱۱،۱۱۰ وسندہ صحیح ) و طبقات المدلسین للحافظ ابن حجرؒ۔
مدلس راوی کے بارے میں یہ عام اصول ہے کہ غیر صحیحین میں اس کی عن والی روایت ضعیف و مردود ہوتی ہے ، لہذا اگر یہ من گھڑت اور موضوع “الجزء المفقود” (بفرض محال ) ثابت بھی ہوتا تو اس میں نور والی روایات باطل اور مردود ہیں۔
۲:        امام عبدالرزاق آخری عمر میں نابینا ہونے کے بعد اختلاط کا شکار ہوگئے تھے۔ (دیکھئے الکواکب النیرات ص ۵۳ ت ۳۴)
امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ: ہم ۲۰۰؁ھ سے پہلے عبدالرزاق کے پاس آئے تھے، اس وقت ان کی نظر صحیح تھی۔ جس نے ان کی نظر ختم ہونے کے بعد ان سے سنا ہے تو اس شخص کا سماع ضعیف ہے ۔ (تاریخ ابی زرعہ الدمشقی : ۱۱۶۰و سندہ صحیح) امام احمد نے مزید فرمایا کہ :”لا یعبأ بحدیث من سمع منہ وقد ذھب بصرہ، کان یلقن أحادیث باطلۃ” جس نے اس کے نابینا ہونے کے بعد اس سے احادیث سنی ہیں، ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ وہ باطل حدیثوں کی تلقین قبول کرلیتے (اور انہیں بیان کردیتے ) تھے۔ (سوالات ابن ھانی؛ ۲۲۸/۵ و سندہ صحیح)
اس مطبوعہ بے سند نسخے میں عبدالرزاق کا شاگرد ہی معلوم نہیں ہے لہذا اس پر کس طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے ؟

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.