جہری نمازوں میں اونچی آواز میں آمین کہنا نبیﷺ اور صحابہ کی عظیم سنت

 از    June 19, 2014

آمین بالجہر کی چند صحیح و حسن روایات درج ذیل ہیں۔
 
پہلی حدیث:  قال الإمام ابو داود رحمہ اللہ:
‘‘حد ثنا محمد بن کثیر: أخبرنا سفیان عن سلمۃ عن حجرأبی العنبس الحضر می عن وائل بن حجر قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذاقرأ ولاالضالّین قال: آمین ورفع بھا صوتہ’’
یعنی آپ ﷺ ولاالضالین کی قرأت کے بعد آمین کہتے اور اپنی آواز اس کے ساتھ بلند فرماتے۔
(سنن ابی داودج اص ۱۴۱، ۱۴۲ح:۹۳۲باب التامین وراءالامام)
 
یہ روایت مسند الدارمی(ج ا ص ۲۸۴ح:۱۲۵۰) پر بھی اسی سند سے موجود ہے وہاں‘‘ ویرفع بھا صوتہ’’ کے الفاظ ہیں اور ترجمہ انہی الفاظ کے مطابق لکھا گیا ہے۔

(((سند کا تعارف)))

(ا) محمد بن کثیر العبدی البصری ، صحیح بخاری و صحیح مسلم کاراوی ہے۔ اس کی صحیح بخاری میں ساٹھ(۶۰) سے اوپر روایتیں ہیں۔(مفتاح صحیح البخاری ۱۵۶)
صحیح مسلم میں اس کی حدیث(ج ۲ص۲۴۴ح ۲۲۶۹ کتاب الرؤیا، باب فی تأویل الرؤیا) میں موجود ہے۔ اس پر امام یحیی بن معین کی جرح مردود ہے۔ قال ابن حجر‘‘ثقۃ ولم یصب من ضعفہ’’ (تقریب التھذیب ص ۴۶۸) ابن معین کی جرح محمد بن کثیر المصیصی کے بارے میں ہے(حاشیہ میزان الاعتدال ج۴ص۱۸) المصیصی دوسرا شخص تھا۔محمد بن کثیر العبدی کی متابعت ابو داود الحفری(السنن الکبری للبیھقی ج۴ص۵۷) اور الفریابی(سنن دار قطنی ج ا ص۳۳۳) نے کر دی ہے والحمدللہ
(۲)سفیان بن سعید الثوری ، صحیح بخاری و صحیح مسلم کے مرکزی راوی ہیں اور کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ان کی تدلیس کی بحث آگے آرہی ہے۔
(۳)      سلمۃ بن کھیل، صحیح بخاری و صحیح مسلم کے مرکزی راوی ہیں اور ‘‘ثقہ’’ ہیں(تقریب ص ۲۰۲)
(۴)      حجر ابو العنبس ‘‘ثقہ’’ ہیں (الکاشف للذھمی ج ا ص ۱۵۰) انہیں خطیب بغدادی وغیرہ نے ثقہ کہا ہے۔
(۵)      وائل بن حجر مشہور صحابی ہیں رضی اللہ عنہ۔
 
معلوم ہوا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ والحمدللہ۔

(((ایک اعتراض کا جواب)))

پرائمری ماسٹر: محمد امین صفدر اوکاڑوی حیاتی دیوبندی، نے لکھا ہے:“حضرت وائل بن حجر ؓ  کی حدیث ابو داود سے جو پیش کرتے ہیں نہ صحیح ہے، کیونکہ اس میں سفیان مدلس ، علاء بن صالح شیعہ، محمد بن کثیر ضعیف ہے۔ نہ دوام میں صریح ہے’”  (مجموعہ رسائل ج ۳ ص ۳۳۱ طبع اول، غیر مقلدین کی غیر مستند نماز ، حوالہ نمبر ۸۷، تجلیات صفدر ج ۵ ص ۴۷۰)
الجواب(۱): سفیان بن سعید الثوری کے بارے میں امام بخاری نے فرمایا:
 
‘‘ولا أعرف لسفیان الثوری عن حبیب بن أبی ثابت ولا عن سلمۃ بن کھیل ولا عن منصور و ذکر مشائخ کثیرۃ، لا أعرف لسفیان عن ھولاء تدلیساً (ما) أقل تدلیسہ’’(علل الترمذی الکبیرج ۲ ص ۹۶۶)
یعنی سفیان ثوری، سلمہ بن کہیل سے تدلیس نہیں کرتے تھے۔
 
(۲)      آل تقلید کے نزدیک یہاں تدلیس مضر نہیں ہے۔ ظفر احمد تھانوی دیوبندی نے کہا:
‘‘والتدلیس و الإرسال فی القرون الثلاثہ لا یضر عندنا’’(اعلاء السنن ج ا ص ۳۱۳)
 
(۳)      سفیان ثوری ترکِ رفع یدین والی حدیث المنسوب الی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، کے بنیادی راوی ہیں اور ‘‘عن’’ سے روایت کر رہے ہیں۔ دیو بندی اور بریلوی حضرات کا سفیان کی یہاں تدلیس کے بارے میں کیا خیال ہے؟  ابو بلال محمد اسماعیل جھنگوی دیوبندی کی ‘‘تحفہ اہلِ حدیث’’ حصہ دوم(ص ۱۵۵،۱۵۴(بھی دیکھ لیں۔
 
باقی جوابات کو اختصار کی وجہ سے حذف کر رہا ہوںمثلاً یحیی بن سعید القطان کی سفیان ثوری سے روایت وغیرہ۔ العلاء بن صالح ہماری روایت کی سند میں ہے ہی نہیں اور محمد بن کثیر العبدی کو ضعیف کہنا مردود ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ یاد رہے کہ راوی کے تعین کے لئے اس کے شیوخ و تلامیذ کو مدِ نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ایک روایت میں امام ابو داود نے کہا:
‘‘حدثنا محمد بن کثیر نا سفیان عن منصور’’ تو خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی نے کہا:
‘‘ [حدثنا محمد بن کثیر] العبدی أبو عبداللہ البصری۔۔۔قال ابن معین لم یکن بثقۃ و ذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال أحمد بن حنبل: ثقہ’’(بذل المجہودج ا ص ۱۳۹ ح ۵۵)
 
ابن معین کی جرح مردود ہے جیسا کہ اس سے پہلےگزر چکا ہے۔
  • عملِ صحابہ اور مخالفین آمین بالجہر کے پاس عدم دلیل کی رو سے یہ صحیح حدیث دوام پر دلیل ہے والحمدللہ
  • لعلاء بن صالح پر جرح بھی مردود ہے جمہور محدثین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے لہذا اس کی حدیث حسن لذاتہ ہے ۔
دوسری حدیث:        امام ابن ماجہ القزوینی نے کہا:
‘‘حدثنا أسحاق بن منصور: أخبرنا عبدالصمد بن عبدالوارث : ثنا حماد بن سلمۃ : ثنا سھیل بن أبی صالح عن أبیہ عن عائشہ رضی اللہ عنھا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال بما حسدتکم الیھود علی شیءٍ، ماحسدتکم علی السلام و التامین’(سنن ابن ماجہ ج ا ص ۲۷۸ح ۸۵۶)
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا : یہود قوم {تمھارے آپس میں }سلام کرنے اور {امام کے پیچھے }آمین بولنے پر جسقدر حسد کرتی ہے اسقدر کسی اور چیز پر حسد نہیں کرتی ۔
اسے منذری (متوفی ۶۵۶ھ) اور بوصیری دونوں نے صحیح کہا ہے(الترغیب و الترھیب ج ا ص ۳۶۸ وزوائد سنن ابن ماجہ للبوصیری)

(((سند کا تعارف)))

(۱)       اسحاق بن منصور بن بہرام الکوسج ابو یعقوب التمیمی المروزی نزیل نیسابور (تھذیب الکمال للمزی ج ۲ ص ۷۴، ۷۵) صحیح بخاری و صحیح مسلم کا راوی اور ‘‘ثقہ ثبت’’ ہے(تقریب ص۳۸)
(۲)      عبدالصمد بن عبدالوارث بن سعید العنبری، صحیح بخاری و صحیح مسلم کا راوی اور ‘‘صدوق ثبت فی شعبہ’’ تھا(تقریب ۳۲۲) اس کے بارے  میں عبدالباقی بن قانع (ضعیف) نے کہا : ‘‘ثقہ یخطئی’’ (تھذیب التھذیب ج ۶ص۲۹۲) یہ جرح مردود ہے۔
(۳)      حماد بن سلمہ صحیح مسلم کا راوی ہے۔ جمہور محدثین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ اُس پر جرح مردود ہے۔ حماد بن سلمہ سے عبدالصمد کی روایت صحیح مسلم (کتاب الجھاد باب استحباب الدعاء عند لقاء العدوح ۱۷۴۳) میں موجود ہے لہذا ثابت ہوا کہ عبدالصمد کا حماد سے سماع قبل از اختلاط و تغیر ہے۔ دیکھیئے مقدمۃ ابن الصلاح مع شرح العراقی(ص ۳۶۶، النوع:۲۶) لہذا اختلاط و تغیر کا الزام بھی مردود ہے۔ خالد بن عبداللہ الطحان نے یہی حدیث سہیل سے بیان کر رکھی ہے۔ (صحیح ابن خزیمۃ ج ا ص ۲۸۸ح۵۷۴)
(۴)      سہیل بن ابی صالح، صحیح مسلم کا راوی ‘‘ صدوق تغیر حفظہ بأخرہ، روی لہ البخاری مقروناً و تعلیقاً’’ ہے۔ (تقریب ص ۲۱۵)
سہیل بن ابی صالح سے حماد بن سلمہ کی روایت صحیح مسلم (کتاب البروالصلہ، باب النھی عن قول : ھلک الناس ح ۲۶۲۳) پر موجود ہے جو اس کی دلیل ہے کہ حماد کا سہیل سے سماع قبل از اختلاط ہے۔ لہذا سہیل پر ‘‘تغیر حفظہ بأخرہ’’ والی جرح یہاں مردود ہے۔
(۵)      ابو صالح ذکوان، صحیح بخاری و صحیح مسلم کا راوی اور ‘‘ثقہ ثبت’’ ہے(تقریب ص ۱۵۱)
(۶) ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں۔
 
ثابت ہوا کہ اس روایت کی سند صحیح ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہودی لوگ، مسلمانوں سے دو (اہم) باتوں پر حسد کرتے ہیں(۱) ایک دوسرے کو السلام علیکم کہنا (۲) آمین کہنا۔
یہ ظاہر ہے کہ وہ سلام اور آمین سنتے ہیں لہذا اسی وجہ سے حسد کرتے ہیں۔
 
تیسری حدیث:        خطیب بغدادی نے تاریخ (۱۱؍۴۳) اور ضیاء المقدسی نے ‘‘المختارۃ’’ (۵؍۱۰۷ح۱۷۱۲۹،۱۷۳۰) میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ (الفاظ خطیب کے ہیں ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
‘‘إن الیھود لیحسد و نکم علی السلام و التأمین’’  بے شک  یہود تم سے سلام اور آمین پر حسد کرتے ہیں۔
اس کے سارے راوی ثقہ و صدوق ہیں اور اس کی سند صحیح ہے۔
ان روایات کی تایید میں عرض ہے کہ ایک روایت میں اس حسد کی وجہ مسلمانوں کا ‘‘ وقولھم خلف إمامھم فی المکتوبۃ: آمین’’ امام کے پیچھے آمین کہنا ہے (الترغیب و الترھیب ج ا ص ۳۲۸، ۳۲۹ وقال : ‘‘بإسناد حسن’’ مجمع الزوائد ج ۲ص۱۱۳وقال: اسنادہ حسن)
 
اس طرح آمین بالجہر کی اور بھی بہت ساری روایات ہیں دیکھئےکتاب ‘‘القول المتین فی الجہر بالتامین’’ وغیرہ، ان احادیث سے معلوم ہوا کہ امام مسلم رحمۃ اللہ  کا یہ دعویٰ بالکل صحیح ہے کہ ‘‘ نبی ﷺ کا آمین بالجہر کہنا متواتر احادیث کے ساتھ ثابت ہے۔’’ مانعین کے پیش کردہ دلائل: غیر صریح ، مبہم، ضعیف اور بلاسند ہیں لہذا صحیح و متوتر احادیث کے مقابلے میں مردود و باطل ہیں۔

(((صحابہ کرام کا عمل)))

عبدالرزاق نے اپنی کتاب ‘‘المنصف’’ میں کہا:‘‘ عن ابن جریج عن عطاء قال قلت لہ: أکان ابن الزبیر  یؤمن علیٰ إثرأم القرآن ؟ قال: نعم، و یؤمن من وراء ہ حتی أن للمسجد للجۃ، ثم قال: إنما آمین دعاء، وکان أبو ھریرۃ یدخل المسجد وقد قام الإمام قبلہ فیقول : لا تسبقنی بآمین’’(ج۲ص۹۶، ۹۷ح۲۶۴۰وعلقہ البخاری فی صحیحہ مع الفتح ۲؍۲۶قبل ح۷۸۰، کتاب الأذان باب ۱۱۱)ابن جریج سے روایت ہے کہ میں نے عطاء (بن ابی رباح) سے پوچھا: کیا ابن زبیر (رضی اللہ عنہما) سورۃ فاتحہ کے بعد آمین کہتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں اور ان کے مقتدی بھی آمین کہتے تھے حتی کہ مسجد گھونج اٹھتی تھی۔ پھر فرمایا: آمین تو دعا ہے اور ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ) مسجد میں داخل ہوتے اور امام (اقامت کے بعد) پہلے کھڑا ہو چکا ہوتا تو اسے کہتے : مجھ سے پہلے آمین نہ کہنا۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابن جریح نے عطاء بن ابی رباح سے ‘‘قلت لہ’’ کے ساتھ سماع کی تصریح کر دی ہے لہذا تدلیس کا الزام باطل ہے۔ ابن جریح صحیح  بخاری و صحیح مسلم کا بنیادی راوی ہے اس پر حبیب اللہ ڈیروی حیاتی دیوبندی کی جرح مردود ہے۔ اُس پر تہمتِ متعہ ثابت نہیں اور اگر اسے ثابت مانا بھی جائے تو بھی دو وجہ سے مردو دہے۔
 
۱۔        ابن جریح سے اس مسئلہ میں رجوع مروی ہے (فتح الباری ج ۹ ص ۱۷۳)
۲۔       عین ممکن ہے کہ اُن تک متعہ کی حرمت والی احادیث نہ پہنچی ہوں۔ ظاہر ہے کہ عدمِ علم کی وجہ سے انسان غیر عقائدی اُمور میں معذور ہوتا ہے۔
یہاں پر بطور تنبیہ عرض ہے کہ خود ڈیروی صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے کہ:
‘‘اس کی سند میں ابن جریج راوی واقع ہے جو کہ ثقہ ہے مگر سخت قسم کا مدلس ہے’’ (نور الصباح ص ۲۲۲ طبع دوم ۱۴۰۶ ھ) ظاہر ہے کہ ثقہ کی روایت ، عدمِ شذوذ اور عدمِ علت کی حالت میں صحیح ہوتی ہے۔
 
اس صحیح روایت سے معلوم ہوا کہ آمین ایسی دعاء ہے جسے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور اُن کے مقتدی اونچی آواز کے ساتھ کہتے تھے، کسی صحابی سے عبداللہ بن الزبیر پر اس مسئلے میں رد و اختلاف مروی نہیں لہذا ثابت ہوا کہ آمین بالجہر پر صحابہ کرام کا اجماع ہے رضی اللہ عنہم اجمعین۔؎
 
اس کے مقابلے میں کسی صحیح یا حسن حدیث سے جہری نمازوں میں آمین بالسر ثابت نہیں۔
 
رائے ونڈ  میں اتوار کے دن دیو بندی مولوی لاؤڈ سپیکر پر جہری دعا پڑھتا ہے اور بے شمار لوگ اس کی جہری دعا پر آمین بالجہر کہتے ہیں۔ اسی طرح بریلوی و دیوبندی حضرات اور بھی بہت سی دعائیں جہراً پڑھتے ہیں لہذا‘‘ ادعو اربکم تضرعاً وخفیۃ’’ سے اُن کا استدلال صحیح نہیں۔ دوسروں کو بھی وہی نصیحت کرنی چاہیئے جس پر آدمی خود کاربند ہو، ورنہ ‘‘لم تقولون مالاتفعلون’’ والا سوال ہو جاتا ہے جس کا جواب دینا پڑے گا۔
 
شعبہ سے مروی روایت ‘‘وأخفیٰ بھا صوتہ’’ (اور آپ نے آمین کے ساتھ اپنی آواز خفیہ رکھی)شذوذ و علت کی وجہ سے مردود ہے ۔ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو اس کا صرف یہی مطلب ہے کہ ساری نمازوں میں آہستہ آمین کہنی چاہیئے۔
 
تنبیہ: اس روایت کے بارے فنِ حدیث کے ماہر جمہور محدثین کی تحقیقی ہی معتبر ہے۔
 
بشر بن رافع کی روایت ، جو آمین بالجہر کے بارے  میں مروی ہے وہ سخت ضعیف و مردود ہے۔ درج بالا روایات کی موجودگی میں ہمیں اُس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر کسی صحیح العقیدہ عالم نے اسے پیش کیاہے تو ان صحیح روایات کی تایید میں ہی پیش کیا ہو گا۔ یا پھر اسے اُس کی اجتہادی غلطی قرار دیا جائے گا۔ دیو بندی و بریلوی حضرات بھی اپنی کتابوں میں ضعیف روایات پیش کرتے ہیں۔ مثلاً دیکھئے‘‘حدیث اور اہل حدیث’’ اور ‘‘جاءالحق’’ وغیرھما۔اس مسئلے  میں ہماری تحقیق یہی ہے کہ صرف صحیح یا حسن حدیث سے ہی استدلال کرنا چایئے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ کسی صحیح محتمل الوجھین روایت کا مفہوم ، معمولی ضعیف (جس کا ضعف شدید نہ ہو) سے متعین کیا جا سکتا ہے واللہ اعلم  

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.