جنتی کون ہے ؟

 از    July 1, 2014

 وعن أبي ھریرۃ، قال: أتی أعرابي النبي ﷺ، فقال: دلني علی عمل إذا عملتہ دخلت الجنۃ، قال:”تعبد اللہ ولا تشرک بہ شیئاً، وتقیم الصلاۃ المکتوبۃ، وتؤدي الزکاۃ المفروضۃ، وتصوم رمضان” قال: والذي نفسي بیدہ لا أزید علی ھذا شیئاً ولا أنقض منہ، فلما ولی، قال النبي ﷺ:”من سرہ أن ینظر إلی رجل من أھل الجنۃ فلینظر إلی ھذا” متفق علیہ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک اعرابی (دیہاتی شخص) آیا اور کہا”آپ ﷺ مجھے ایسا عمل سکھائیں جسے کرکے میں جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپﷺ نے فرمایا:اللہ کی عبادت کر اور کسی چیز میں اس کے ساتھ شرک نہ کر ، فرض نماز قائم کر اور فرض زکوۃ ادا کر، رمضان کے (مہینے کے) روزے رکھ۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم  جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کم کروں گا۔ پس جب وہ واپس چلا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا:”جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہتا ہے تو اس شخص کو دیکھ لے” ، متفق علیہ
(البخاری:۱۳۹۷، مسلم: ۱۴/۵)
فقہ الحدیث:
۱: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ارکانِ اسلام ادا کرنے والا شخص (اگر نواقضِ اسلام کا ارتکاب نہ کرے) ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ چاہے ابتداء سے ہی اس کے سارے گناہ معاف کرکے اسے جنت میں داخل  کردیا جائے یا اسے گناہوں کی سزا دے کر آخر کار جنت میں داخل کیا جائے۔ کافر و مشرک اگر بغیر توبہ کے مرگیا تو ابدی جہنمی ہے جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔
۲:  اس اعرابی کے نام میں اختلاف ہے، جس کا ذکر اس حدیث میں آیا ہے۔ بعض کہتے ہیں سعد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ عبداللہ بن اخرم ہے۔ کچھ لوگوں کی تحقیق میں اس سے مراد لقیط بن عامر یا ابن المنفق ہے، دیکھئے التوضیح لمبھمات الجامع الصحیح لابن العجمی (قلمی ص ۸۲)
اعرابی کے نام  میں اختلاف چنداں مضر نہیں ہے اور نہ یہ ضروری ہے کہ ضرور بالضرور اس کا نام معلوم ہوجائے۔
۳: اللہ کی عبادت سے مراد اس پر ایمان، مکمل اطاعت اور شرک و کفر سے کلی اجتناب ہے۔
۴: اس حدیث میں حج کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس وقت حج فرض نہیں ہوا تھا۔
۵: احادیث سابقہ کی طرح یہ حدیث بھی مرجئہ پر زبردست رد ہے جو اعمال کو ایمان سے خارج سمجھتے ہیں۔
۶: ایک روایت میں ایک چیز کا ذکر نہ ہو اور دوسری میں ذکر ہو تو اس حالت میں عدمِ ذکر نفی ذکر کی دلیل نہیں ہوتا۔
۷: بعض لوگ اس حدیث سے استنباط کرتے ہیں کہ سنتیں اور نوافل ضروری نہیں ہیں۔ سیدنا سعید بن المسیب ؒ(تابعی)فرماتے ہیں کہ:
أوتر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ولیس علیک وضحی ولیس علیک و صلی الضحی ولیس علیک وصلی قبل الظھر ولیس علیک”
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے وتر پڑھا ہے اور یہ تجھ پر لازم نہیں ہے ۔ آپ نے قربانی کی اور یہ تجھ پر واجب نہیں ہے ۔ آپ نے چاشت کی نماز پڑھی، یہ تجھ پر ضروری نہیں ہے ۔ آپ نے ظہر سے پہلے نماز پڑھی اور یہ تجھ پر لازم نہیں ہے۔ (مسند علی بن الجعد:۹۴۵ وسندہ صحیح)
تاہم بہتر اور افضل یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کیا جائے اور تمام سننِ ثابتہ کو اپنی زندگی میں اپنایا جائے ۔ قیامت کے دن فرائض کی کمی سنن و نوافل سے پوری کی جائے گی۔
۸: رسول اللہ ﷺ کی حدیث پر عمل کرنے سے ہی انسان اپنے رب کے فضل سے جنت کا حقداربن سکتا ہے ۔
۹: مبشرین بالجنۃ کا عدد دس میں محصور نہیں ہے بلکہ قرآن وحدیث سے جن کا جنتی ہونا ثابت ہے وہ جنتی ہے۔

۱۰: اللہ پر ایمان اور عقیدہ توحید کے بعد ہی اعمالِ صالحہ فائدہ دے سکتے ہیں۔

ہر بدعت گمراہی ہے                                           
امام محمد بن نصر المروزی ؒ (متوفی ۲۹۴؁ھ) فرماتے ہیں:
حدثنا إسحاق (أنبأ) وکیع عن ھشام بن الغاز أنہ سمع نافعاً یقول: قال ابن عمر: کل بدعۃ ضلالۃ وإن رآھا الناس حسناً”
ہمیں اسحاق (بن راہویہ) نے حدیث سنائی: ہمیں وکیع (بن الجراح) نے خبر دی، وہ ہشام بن الغاز سے وہ نافع (مولیٰ ابن عمر) سے روایت بیان کرتے ہیں کہ (سیدنا) ابن عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) نے فرمایا:ہر بدعت گمراہی ہے اگر چہ لوگ اسے اچھا (بدعتِ حسنہ ) سمجھتے ہوں۔
(کتاب السنۃ ص ۲۴ ح ۸۲ وسندہ صحیح، شرح أصول اعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ ح ۱۲۶، المدخل للبیھقی ح ۱۹۱)
معلوم ہوا کہ جس دینی کام کا ثبوت کتاب و سنت و اجماع اور آثار سلف صالحین سے نہیں ملتا، وہ کام بدعتِ ضلالت ہے اگرچہ لوگ اسے بدعتِ حسنہ ہی سمجھتے ہوں۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.