جماع کے بعد غسل کرنا واجب ہے

 از    January 2, 2018

فتویٰ : شیخ ابن جبرین حفظ اللہ

سوال : بوقت جماع دخول تو ہوا مگر رحم میں انزال نہیں ہوا تو کیا اس صورت میں بیوی پر غسل جنابت واجب ہے؟ اگر عورت کے رحم میں مانع حمل مصنوعی جھلی رکھی ہو تو کیا اس صورت میں بھی اس پر غسل واجب ہو گا یا جسم اور اعضاء کا دھونا ہی کافی ہو گا ؟
جواب : ہاں! محض دخول سے ہی غسل جنابت واجب ہو جائے گا اگرچہ وہ کتنا ہی کم ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشار ہے:
إذا جلس أحدكم بين شعبها الأربع ثم جهدها، فقد وجب الغسل، وإن لم ينزل [متفق عليه]
”جب آدمی نے عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ کر کوشش کی تو غسل واجب ہو گیا، چاہے انزال نہ ہوا ہو۔“
دوسری حدیث میں ہے:
اذا جاوز الختان الختان وجب الغسل [رواه الترمذي وابن ماجة وأحمد] )
”جب دو ختنے (شرمگاہیں) باہم مل جائیں تو غسل واجب ہو گیا۔“
رحم میں مانع حمل چیز رکھنے کی صورت میں بھی غسل واجب ہو گا، کیونکہ اس سے عام طور پر دخول اور انزال ہو جاتا ہے۔ وضو صرف اسی صورت میں کفایت کرے گا جب دخول کے بغیر محض لمس ہوا ہو۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.