Tohed Banner

تخلیق نور محمدی ﷺ پر حدیث جابر کے نام سے مشہور من گھڑت روایت

 از    June 28, 2014

  بریلوی حضرات کا عقیدہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نور من نور اللہ تھے (نعوزباللہ یعنی اللہ کے نور میں سے نور جو کھلم کھلا اللہ رب العزت کی ذات میں شرک ہے)۔ اپنا یہ گمراہ کن عقیدہ ثابت کرنے کے لئے پندرھویں صدی میں معرض وجود میں آنے والا یہ فرقہ ایک من گھڑت روایت پیش کرتا ہے جو حدیث کی کسی کتاب میں موجود نہیں، اس روایت کا مفہوم کچھ اس طرح ہے:
” نبی ﷺ نے فرمایا کہ اے جابر  اللہ نے سب سے پہلےتیرے نبی ﷺ کا نور پیدا کیا ۔۔۔”
چند سال پہلے پاکستانی بریلویوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حدیث جابر رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور اس من گھڑت روایت کی سند دریافت کر لی ہے. پندرھویں صدی میں کیے جانے والے اس مضحکہ خیز دعوے کا علمی رد ایک تحقیقی مقالے کی صورت میں پیش خدمت ہے۔

الجواب
((قلمی اور مطبوعہ کتابوں سے استدلال کی شرائط))

قرآن مجید ، اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو اس نے اپنے بندے اور رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل فرمائی اور مسلمانوں کے ہاتھوں اور سینوں میں بعینہ و مِن و عَن محفوظ ہے۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ من و عن اور بعینہ محفوظ ہیں۔ ان دونوں کتابوں کی صحت پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ دیکھئے علوم الحدیث لابن الصلاح (ص۴۱،۴۲) و اختصار علوم الحدیث (ص۱۲۸،۱۲۴)
شاہ ولی اللہ الدہلوی الحنفی فرماتے ہیں کہ:”صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بارے میں تمام محدثین متفق ہیں کہ ان میں تمام کی تمام متصل اور مرفوع حدیث یقیناً صحیح ہیں۔ یہ دونوں کتابیں اپنے مصنفین تک بالتواتر پہنچی ہیں، جو ان کی عظمت نہ کرے وہ بدعتی ہے جو مسلمانوں کی راہ کے خلاف چلتا ہے” (حجۃ اللہ البالغہ، اردو: ۲۴۲/۱، مترجم:عبدالحق حقانی)
ان تینوں کتابوں کے علاوہ دنیا کی کسی کتاب سے بھی استدلال کرنے کے لئے درج ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے ۔

۱: صاحبِ کتاب ثقہ و مصدوق ہو، مثلاً امام ابوداؤد (صاحب السنن ) امام ترمذی (صاحب الجامع) امام نسائی (صاحب المجتبی و الکبری) امام ابن ماجہ (صاحب السنن ) امام مالک (صاحب المؤطا) وغیرہم ثقہ بلکہ فوق الثقہ تھے۔
اگر صاحبِ کتاب ثقہ و صدوق نہ ہو بلکہ مجروح و مجہول و ساقط العدالت ہو تو اس کی کتاب سے استدلال باطل ہوجاتا ہے مثلاً احمد بن مروان بن محمد الدینوری صاحب المجالسۃ وجواھر العلم (یضع الحدیث: لسان المیزان ۳۰۹/۱ وثقہ مسلمۃ و مسلمۃ مجروح) الدولابی صاحب الکنی (ضعیف) محمد بن الحسن الشیبانی صاحب المؤطا (کذاب بقول ابن معین ) ابوجعفر الکلیبی صاحب الکافی (رافضی غیر موثق) یہ سب ساقط العدالت تھے لہذا ان کتابوں سے استدلال مردود ہے۔
۲:  کتاب کے مخطوطے کا ناسخ و کاتب : ثقہ  وصدوق ہو۔
حافظ ابن الصلاح الشہرزوری فرماتے ہیں کہ :
“وھو أن یکون ناقل النسخۃ من الأصل غیر سقیم النقل ، بل صحیح النقل، قلیل السقط”
اور(تیسری ) شرط یہ ہے کہ اصل کتاب سے نسخے کا ناقل (کاتب و ناسخ) غلط نقل کرنے والا نہ ہو، بلکہ صحیح نقل کرنے اور کم غلطیاں کرنے والا ہو(علم الحدیث لا بن الصلاح ص ۳۰۳، نوع: ۲۵)
اس شرط سے معلوم ہوا کہ اگر کتاب کا کاتب غیر ثقہ اور مجہول ہو تو اس کتاب سے استدلال جائز نہیں ہے۔
حبیب الرحمٰن اعظمی دیوبندی کی تحقیق سے چھپی ہوئی مسند الحمیدی  کے مخطوطے (مخطوطہ دیوبندیہ ، نوشتہ ۱۳۲۴ حبیب الرحمٰن اعظمی دیوبندی کی تحقیق سے چھپی ہوئی مسند الحمیدی  کے مخطوطے (مخطوطہ دیوبندیہ ، نوشتہ ۱۳۲۴ھ) اور نسخہ سعیدیہ (نوشتہ ۱۳۱۱ھ) کے کاتبین کا ثقہ و مصدوق ہونا نامعلوم ہے ، ان کے نسخوں کے مطالعے سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں حضرات کثیر الغلاط ہیں۔ مسند حمیدی للاعظمی کے نسخے کا کوئی صفحہ بھی نکالیں ، غلطیوں اور تصاحیف سے بھرا ہوا ہے مثلاً ص۱ پر لکھا ہوا ہے کہ “فی الأصل: یزید ، والصواب زید” یعنی اس نسخے کی ابتداء ہی غلط ہے۔ ایک جگہ اعظمی صاحب خود لکھتے ہیں: “فی الأصل :تقوت ، وھی محرفۃ” (مسند الحمیدی ۱۵/۱ تحت ح ۲۴) یعنی اصل میں “تقوت” کا لفظ محرف ہے، تحریف ہوگئی ہے۔
عرض ہے کہ ایسی محرف کتابوں سے وہی لوگ استدلال کرتے ہیں جو تحریفات و اکاذیب سے محبت رکھتے ہیں۔
۳: ناسخ مخطوطہ سے صاحب کتاب تک سند صحیح ہو، مثلاً
ابن ابی حاتم الرازی کی کتاب “اصول الدین” کی سند، صاحب مخطوطہ سے لے کر ابن ابی حاتم تک صحیح ہے۔(دیکھئے الحدیث حضرو، ج اشمارہ :۲ ص ۴۱)جبکہ شرح السنہ للبر بہاری کی سند میں دو راوی مجروح ہیں۔
اول : غلام خلیل کذاب ہے (الحدیث :۲، ص۲۵)
دوم: قاضی احمد بن کامل متساھل (ضعیف) ہے (ایضاً ص۲۵)
لہذا اس کتاب(شرح السنہ للبر بہار ی: مطبوع و مخطوط ) سے استدلال صحیح نہیں ہے۔
                  ۴: مخطوطہ (کتاب کے قلمی نسخے) کا محل وقوع ، خط، تاریخ نسخ پہچاننا اور قدامت کی تحقیق  ضروری ہے، جو نسخہ پرانا اور قلیل الغلط ہو، اسے بعد والے تمام نسخوں پر فوقیت حاصل ہے۔
۵: نسخہ پر علمائے  کرام اور ائمہ دین کے سماعات ہوں، مثلاً مسند حمیدی کا مخطوطہ ظاہریہ ، نسخہ دیوبندیہ و نسخہ سعیدیہ سے قدیم ترین(نوشتہ ۶۸۹ھ) ہے اور اس پر جلیل القدر علماء کے سماعات بھی ہیں اور قلیل الغلط بھی ہے لہذا ان دونوں (دیوبندیہ و سعیدیہ ) پر فوقیت حاصل ہے ۔

(سماع کی جمع سماعات ہیں، جب ایک قلمی نسخہ علماء کرام خود پڑھتے یا انہیں سنایا جاتا تو وہ اس پر لکھ دیتے تھے کہ یہ فلاں فلاں نے پڑھایا سنا ہے، اسے سماعات کہتے ہیں)

۶: نسخہ علماء کے درمیان مشہور ہو۔
آج اگر کوئی شخص افغانستان ، قزاقستان ، گرجستان وغیرہ کے کسی کونے کھدرے سے خودساختہ نسخہ پیش کرکے شور مچانا شروع کردے کہ مخطوطہ مل گیا ہے تو علمی میدان میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
        ۷: اس کتاب کے دیگر نسخوں کو مدنظر رکھا جائے مثلاً قاسم بن قطلوبغا (کذاب) نے مصنف ابن ابی شیبہ کے ایک (نامعلوم) نسخہ سے “تحت السرۃ” کے اضافے والی حدیث نقل کی ہے جبکہ مصنف ابن ابی شیبہ کے دیگر نسخوں میں یہ اضافہ قطعاً موجود نہیں ہے خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی صاحب ایک اصول سمجھاتے ہیں کہ :
اگر ایک عبارت بعض نسخوں میں ہو اور بعض میں نہ ہو تو :”فعلی ھذا ھذہ العبارۃ مشکوک فیھا”
اس طرح سے یہ عبارت مشکوک ہوجاتی ہے ۔ (بذل المجھود ۴۷۱/۴ تحت ح : ۷۴۸)
۸:  اس کتاب کی عبارات و روایات کا ان کتابوں سے مقارنہ کیا جائے جن میں اس کتاب سے روایت یا نقل موجود ہے، مثلاً سنن ابی داؤد کی احادیث کا السنن الکبری للبیہقی میں احادیث ابی داؤد سے مقارنہ مقابلہ کیا جائے۔ امام بیہقیؒ اپنی سند کےساتھ امام ابوداؤد سے روایتیں نقل کرتے ہیں۔
۹:  یہ بھی شرط ہے کہ علمائے کرام اور محدثین عظام سے نسخہ مذکورہ پر طعن و جرھ نہ کر رکھی ہو۔
۱۰: صاحبِ کتاب سے اگر کتاب صحیح و ثابت ہو تو پھر بھی یہ شرط ضروری ہے کہ:
صاحبِ کتاب سے لے کر صاحبِ قول یا صاحبِ روایت تک سند  صحیح یا حسن لذاتہ ہو۔ ان شرائط میں اگر ایک شرط بھی موجود نہ ہو تو اس کتاب کی روایت سے استدلال کرنا باطل و مردود ہوجاتا ہے ۔

تنبیہ: محمد محب اللہ نوری بریلوی نے دعویٰ کیا ہے کہ:

“حال ہی میں فضیلۃ الشیخ عیسی مانع (سابق منسٹر اوقاف دبئی ) اور اہلسنت کے نامور عالم دین اور محقق حضرت علامہ محمد عباس رضوی کی جسجتو سے “مصنف عبدالرزاق” کا مخطوطہ افغانستان سے دستیاب ہوا ہے، جس میں “تخلیق نور محمدی” پر مستقل باب موجود ہے اور اس میں “حدیث جابر” کم و بیش پانچ سندوں کےساتھ درج ہے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ کوئی اشاعتی ادارہ اس مخطوطہ کی شایانِ شان اشاعت کا اہتمام کردے” (ماہنامہ اہلسنت گجرات ، اگست 2003 ء ص4)

عرض ہے کہ بریلوی و دیوبندی دونوں گروہ اہل سنت نہیں ہیں، ان کے اصول و عقائد اہل سنت سے مختلف ہیں۔
تنبیہ: بریلوی و دیوبندی حضرات حنفی بھی نہیں ہیں۔

مصنف عبدالرزاق کے  اس نو دریافت شدہ مخطوطے سے استدلال اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب اس میں درج ذیل شرائط موجود ہوں۔

۱: ناسخ مخطوطہ ثقہ و صدوق ہو۔
۲: اس بات کا ثبوت ہو کہ یہ مخطوطہ واقعی اسی ناسخ نے لکھا ہے۔
۳: صاحب ناسخ مخطوطہ سے لے کر امام عبدالرازق تک سند صحیح و حسن ہو۔
۴: امام عبدالرزاق سے لے کر رسول اللہ ﷺ یا صاحبِ قول تک سند صحیح و حسن ہو۔
۵: اس مخطوطے میں وہ تمام شرائط موجود ہوں جن کا تذکرہ اس مضمون میں کیا گیا ہے۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.