تحفۃ الأَبرار في صحیح الأَذکار | صحیح دعائیں اور اذکار

 از    December 29, 2014

تحریر: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

۱۔      نیند سے بیدار ہونے کے بعد اذکار

۱:        نیند سے بیدار ہوکر یہ دعا پڑھیں:

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ  اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَا تَنَا وَ اِلَیْہِ النُّشُوْرُ۔
سب حمد و ثنا اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں موت دینے کے بعد (دوبارہ ) زندہ کیا اور اسی کی طرف( سب نے) اٹھ کرجانا ہے ۔ (صحیح بخاری: ۶۳۲۴)
۲:        جوشخص رات کو (اچانک ) بیدار ہوجائے تو یہ دعا پڑھے :
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَيْ ءٍ قَدِیْرٌ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سُبْحَانَ اللہِ وَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اَلَّا بِاللہِ، اَللّٰھُمَّ اغفِرْلِيْ۔
ایک اللہ کے سوا کوئی الٰہ(معبود برحق) نہیں، اس کاکوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی حمد و ثنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ حمدو ثنا اللہ کے لئے ہے اور اللہ پاک ہے ، اللہ کے سوا کوئی الٰہ (معبودِ برحق) نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے ۔ طاقب اور بدلنا صرف اللہ ہی کے پاس ہے ۔ اے اللہ مجھے بخش دے ۔ (صحیح بخاری: ۱۱۵۴)
اس کے بعد جو دعا مانگی جائے قبول ہوتی ہے اور اگر وضو کرکے نماز پڑھی جائے تو یہ نماز مقبول ہوتی ہے ۔ (صحیح بخاری: ۱۱۵۴)
۳:       آپﷺ رات کو (نیند سے بیدار ہوتے وقت) کافی دیر تک فرماتے:
            سُبْحَانَ اللہِ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ   پاک ہے اللہ (جو ) جہانوں کا رب ہے ۔
پھر فرماتے : سُبْحَانَ رَبِّيْ وَ بِحَمْدِہٖ       پاک ہے میرا رب اور اپنی حمد و ثنا کے ساتھ۔ (صحیح ابی عوانہ ج ۲ص ۳۰۳ و سندہ صحیح ، سنن النسائی  ۲۰۹/۳ ح ۱۶۱۹ ، وسنن ابن ماجہ : ۳۸۷۹)
۴:       نبی ﷺ رات کو (نیند سے ) بیدار ہوتے وقت یہ دعا پڑھتے تھے:
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ، رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ
کوئی الٰہ (معبودِ برحق) نہیں سوائے ایک اللہ کے جو سب پر غالب ہے ۔ وہ آسمانوں زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے اس(سب) کا رب ہے ۔ وہی زبردست اور معاف فرمانے والا ہے ۔ (السنن الکبریٰ للنسائی ۴۰۰/۴ ح ۷۶۸۸ و سندہ صحیح، دوسرا نسخہ ۷۶۴۱، صحیح ابن حبان ، الاحسان: ۵۵۰۵ دوسرا نسخہ: ۵۵۳۰، المستدرک للحاکم ۵۴۰/۱ ح ۱۹۸۰ و صححہ علیٰ شر ط الشیخین و وافقہ الذہبی!)
تنبیہ:    اس سلسلے میں اور بھی صحیح روایات ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں ۔جو بھی صحیح و ثابت ذکر، ایمان و اخلاص کی حالت میں کیا جائے موجبِ اجر و ثواب ہے ۔ ان دعاؤں کو متفرق بھی پڑھا جاسکتا ہے اور جمع بھی کیا جاسکتا ہے ۔
۵:       رات کے آخری حصے میں دعا قبول ہوتی ہے ۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے :
“ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات کو ، جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے ، آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے اور فرماتا ہے : کون جو مجھ سے دعا مانگے تو میں اس کی دعا قبول کرلوں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دے دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اسے بخش دوں؟ (صحیح بخاری: ۱۱۴۵و صحیح مسلم: ۷۵۸)
۶:        سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب تم میں سے کوئی شخص سوتاہے تو اس کےسر کے پچھلے حصے پر شیطان تین گرہیں لگا دیتا ہے(اور) ہر گرہ کے مقام پر (پھونک) مارتا ہے کہ رات لمبی ہے سوئے رہو۔ پھر جب وہ نیند سے بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ۔ پھر وہ جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے ۔ پھر جب وہ نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے ۔ یہ شخص صبح کو پاک نفس کے ساتھ خوش باش ہوتا ہے ۔ جب کہ دوسرا شخص (یہ کام نہ کرنے والا اور سویا رہنے والا) صبح کو خبیث نفس کے ساتھ سست ہوتا ہے ” (بخاری: ۱۱۴۲ و مسلم : ۷۷۶)
۷:       نیند سے بیدار ہونے کے بعد (تہجد پڑھنے سے پہلے) سب سے پہلے ، خوب مسواک کریں۔ (دیکھئے بخاری: ۲۴۵ و مسلم : ۲۵۵)
۸:       قضائے حاجت کی اگر ضرورت ہو تو اس سے فارغ ہو کر استنجا کرنے کے بعد ، مسنون وضو کریں۔

مسنون وضو کا طریقہ درج ذیل ہے:
۱:        وضو کے شروع میں ﷽ پڑھیں۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے:
لا وضوء لمن لم یذکر اسم اللہ علیہ” جو شخص وضو (کے شروع) میں اللہ کا نام نہ لے اس کا وضو نہیں ہے ۔ (سنن ابن ماجہ : ۳۹۷ و سندہ حسن لذاتہ)
نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرامؓ کو حکم دیا کہ “وضو کرو، بسم اللہ” (سنن النسائی ۶۱/۱ ح ۷۸ و سندہ صحیح، صحیح ابن خزیمہ ۷۴/۱ ح ۱۴۴ و صحیح ابن حبان، الاحسان: ۶۵۱۰، دوسرا نسخہ: ۶۵۴۴)
۲:        وضو (پاک) پانی سے کریں۔ (دیکھئے سورۃ النسآء: ۴۳ و سورۃ المآئدۃ: ۶)

تنبیہ:    نبیذ، شربت ، دودھ یا ان جیسے مشروبات سے وضو کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ پانی کے حکم میں نہیں ہے اور نہ اس سے وضو کرنا ثابت ہے ۔

۳:       ہر وضو کے ساتھ مسواک کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
“اگر مجھے میری امت کے لوگوں کی مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسوا ک کا حکم دیتا ۔ ” (بخاری: ۸۸۷ و مسلم: ۲۵۲)
۴:       پہلے اپنی ہتھیلیاں تین دفعہ دھوئیں۔ (دیکھئے بخاری: ۱۵۹ و مسلم : ۲۲۶)
۵:       پھر تین دفعہ کلی کریں اور ناک میں پانی ڈالیں ۔ (بخاری: ۱۵۹ و مسلم : ۲۲۶)
تنبیہ:    بہتر یہی ہے کہ ایک ہی چلو سے کلی کریں اور ناک میں پانی ڈالیں جیساکہ صحیح بخاری (۱۹۱) و صحیح مسلم (۲۳۵) سے ثابت ہے ۔ لیکن اگر کلی علیحدہ اور ناک میں پانی علیحدہ ڈالیں تو یہ بھی جائز ہے جیسا کہ محدث ابن ابی خثیمہؒ کی کتاب “التاریخ الکبیر” سے ثابت ہے ۔ (ص ۵۸۸ح ۱۴۱۰ و سندہ حسن لذاتہ)
۶:        پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھوئیں ۔ (بخاری: ۱۵۹ و مسلم : ۲۲۶)
۷:       پھر تین دفعہ اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک (کہنیوں سمیت) دھوئیں۔
۸:       پھر (پورے) سر کا مسح کریں۔ (بخاری: ۱۵۹ و مسلم: ۲۲۶)
اپنے دونوں ہاتھوں کا مسح کریں۔ سر کے شروع سے ابتداء کرکے گردن کے پچھلے حصے تک لے جائیں اور وہاں سے واپس شروع والے حصے تک لے آئیں۔ (بخاری: ۱۸۵ و مسلم : ۲۳۵)
سر کا مسح ایک بار کریں۔ (سنن ابی داود: ۱۱۱ و سندہ صحیح)
تنبیہ:    بعض روایات میں سر کے تین دفعہ مسح کا بھی ذکر آیا ہے ۔ (دیکھئے سنن ابی داود: ۱۰۷ و سندہ حسن، ۱۱۰ و سندہ حسن)
لہٰذا دونوں طرح عمل جائز ہے ۔
۹:        پھر اپنے دونوں کانوں (کے اندر باہر) کا مسح ایک دفعہ کریں۔(النسائی ۷۳/۱ ح ۱۰۱ و سندہ حسن، سنن ابی داود: ۱۲۱ و سندہ حسن، ۱۳۷ و سندہ حسن، ابن خزیمہ : ۱۵۱، ۱۶۷ و سندہ حسن و الزیادۃ منہ ، عامر بن شقیق حسن الحدیث و ثقہ الجمہور ، مصنف ابن ابی شیبہ ۱۸/۱ ح ۱۷۶  و سندہ حسن، السنن الکبریٰ للنسائی: ۱۶۱)
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہما کانوں کے اندر اورباہر کا مسح کرتے تھے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۱ ص ۶۴ و سندہ صحیح)
سیدنا ابن عمرؓ جب وضو کرتے تو اپنی شہادت کی انگلیاں کانوں میں داخل کرکے ان کے ساتھ کانوں کے اندرونی حصے کا مسح کرتے اور بیرونی حصے کا مسح انگوٹھوں سے کرتے تھے ۔ (دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ ۱۸/۱ ح ۱۷۳ و سندہ صحیح)
۱۰:       پھر اپنے دونوں پاؤں، ٹخنوں تک تین تین بار دھوئیں۔ (بخاری: ۱۵۹ و مسلم : ۲۲۶)
تنبیہ:    اعضائے وضو کو تین تین بار دھونا چاہئے جیساکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے لیکن انہیں دو دو بار اور ایک ایک بار دھونا بھی جائز ہے ۔ (دیکھئے بخاری: ۱۵۷،۱۵۸)
۱۱:       وضو کے دوران میں (ہاتھ اور پاؤں کی ) انگلیوں کا خلال کرنا چاہئے ۔ ]ابوداود: ۱۴۲ و سندہ حسن (الترمذی: ۳۹ وقال: “ھٰذا حدیث حسن غریب”)[
۱۲:       داڑھی کا خلال بھی کرناچاہئے ۔ (الترمذی: ۳۱ وقال :”ھٰذا حدیث حسن صحیح “/ اس کی سند حسن ہے)
۱۳:      وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی چھڑکنا چاہئے ۔ (سنن ابی داود: ۱۶۸ عن رسول اللہ ﷺ وسندہ حسن )
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ جب وضو کرتے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ص ۱۶۷ ح ۱۷۷۵ و سندہ صحیح)
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا : اگر تم میں سے کوئی شخص وضو کرے تو مٹھی بھر پانی لے کر اپنی شرمگاہ پر چھڑک لے ۔ اس کے بعد اگر اسے (وسوسے کی وجہ سے ) کچھ (تری) محسوس ہو تو یہ سمجھے کہ یہ اسی پانی سے ہے (جو میں نے چھڑکا ہے ۔) (مسند مسدد بحوالہ المطالب العالیۃ: ۱۱۷ و سندہ صحیح ، وقال ابن حجر:”صحیح موقوف”/ مختصر المطالب العالیۃ : ۱۱۷)
تنبیہ:    وضو کے بعد رومالی پر پانی چھڑکنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔
۱۴:      وضو کرنے کے دوران میں کسی دعا کا پڑھنا ثابت نہیں ہے ۔
بعض لوگ وضو کے دوران میں “اللھم اغفرلي ذنبي ووسع لي في داري و بارک لي في رزقي” والی دعا بحوالہ عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنی (۲۸) و غیرہ پیش کرتے ہیں لیکن یہ روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے ۔ ابو مجلز کی سیدنا ابوموسیٰ الاشعریؓ سے ملاقات ثابت نہیں ہے ۔ دیکھئے نتائج الافکار لابن حجر (ج ۱ص ۲۶۳ مجلس : ۵۳) و تمام المنۃ للالبانی (ص ۹۵)

          اس کے برعکس سیدنا ابوموسیٰؓ سے ثابت ہے کہ وہ یہ دعا “اللھم اغفرلي ذنبي و یسّرلي في أمري و بارک لي في رزقي” نماز کے بعد پڑھتےتھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۲۹۷/۱ ح ۳۰۳۳ و سندہ صحیح ، یونس بن ابی اسحاق برئ من التدلیس)

۱۵:      وضو (اورغسل) کے بعد جسم پونچھنا اور نہ پونچھنا ، دونوں طرح سے جائز ہے ۔
نبی ﷺ نے غسل کے بعد (جسم پونچھنے کے لئے) تولیا نہیں لیا۔ (صحیح بخاری: ۲۷۶ و مسلم : ۳۱۷)
سیدنا انس بن مالکؓ وضو کے بعد، تولئے کے ساتھ اپنا چہرہ پونچھتے تھے ۔(الاوسط لابن المنذر ۴۱۵/۱ ث ۴۲۲ و سندہ حسن)
سیدنا بشیر بن ابی مسعودؓ (صحابی بلحاظ رؤیت) تولئے سے پونچھتے تھے ۔(الاوسط ۴۱۵/۱ ث ۴۲۴ و سندہ صحیح)
۱۶:       درج ذیل کاموں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے:
پیشاب کرنا، پاخانہ کرنا، ہوا کا (دبر یا قبل سے)خارج ہونا، سوجانا ، بیوی کو (شہوت سے ) چھونا، شرمگاہ کو ہاتھ لگانا، مذی یا منی کا خارج ہونا، جماع کرنا،شرمگاہ کا شرمگاہ سے مل جانا اور اونٹ کا گوشت کھانا ۔
۱۷:      وضو کے بعد درج ذیل دعائیں پڑھیں:
٭       اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لِہٗ، وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی اِلٰہ (معبودِ برحق ) نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد (ﷺ) اس (اللہ) کے بندے اور رسول ہیں۔ (مسلم : ب ۲۳۴/۱۷ و ترقیم دارالسلام: ۵۵۴)
          جو شخص پورا (مسنون) وضو کرکے یہ دعا پڑھتا ہے (پھر دو رکعتیں پڑھتا ہے ) اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جس میں سے چاہے گا وہ داخل ہوگا۔ (مسلم: ۲۳۴)
تنبیہ:    سنن الترمذی (۵۵) کی ضعیف روایت میں “اللھم اجعلني من التوابین و اجعلني من المتطھرین” کا اضافہ موجود ہے لیکن یہ روایت، سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ ابو ادریس الخولانی اور ابو عثمان (سعید بن ہانئ / مسند الفاروق لابن کثیر ۱۱۱/۱) دونوں نے سیدنا عمرؓ سے کچھ بھی نہیں سنا، نیز دیکھئے میری کتاب “انوار الصحیفۃ فی الاحادیث الضعیفۃ” (ت:۵۵)
٭       سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ، اَشْھَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ۔
اے اللہ ! تو پاک ہے اور حمد ثنا تیری (ہی) ہے  ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی  الٰہ (معبودِ برحق) نہیں، تجھی سے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور میں نے تیری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے ۔ (النسائی فی الکبریٰ : ۹۹۰۹ و سندہ صحیح،  عمل الیوم و اللیلۃ: ۸۱ وقال النسائی: “ھٰذا خطأ والصواب موقوف” و الموقوف رواہ النسائی فی الکبریٰ: ۹۹۱۰ و سندہ صحیح ، والموقوف والمرفوع صحیحان والحمدللہ)
تنبیہ:    وضو کے بعد، آسمان کی طرف نظر اٹھا کر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے دعائے وضو کا پڑھنا ثابت نہیں ہے ۔ سنن ابی داود (۱۷۰) کی جس روایت میں آسمان کی طرف نظر اٹھانے کا ذکر آیا ہے اس کی سند ابن عم زہرہ (مجہول) کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ ابن عم زہرہ کو حافظ منذری نے مجہول کہا ہے ۔ (دیکھئے عون المعبود ۶۶/۱ مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان)
۱۸:      اس کے بعد دو دو رکعت کرکے رات کی نماز پڑھیں اور ہر دو رکعت پر سلام پھیردیں۔ (مسلم : ۷۳۶)
۱۹:       صبح کی اذان سے پہلے ، رات کی آخری نماز، ایک رکعت وتر پڑھیں۔ (بخاری: ۹۹۰ و مسلم : ۷۴۹)

۲۔     فجر کی نماز سے پہلے اذکار
۱:        جب مؤذن (فجر کی) اذان دے تو وہی الفاظ (سرًایا درمیانی آواز میں) پڑھیں جو مؤذن کہتا ہے سوائے درج ذیل کلموں کے :
٭       مؤذن جب “حي علی الصلوٰۃ” کہے تو لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ کہیں۔ (مسلم: ۳۸۵)
جو شخص (مذکورہ طریقے کے مطابق) یہ دعا صدقِ د ل سے (ہمیشہ) پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
اذان مکمل ہونے کے بعددرج ذیل دعا پڑھیں:
          اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ، رَضِیْتُ بِاللہِ رَبًّا وَّ بِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی الٰہ (معبودِ برحق ) نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ کے رب ہونے ، محمد (ﷺ) کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں۔
(مسلم : ۳۸۶) جو شخص یہ دعا پڑھتا ہے اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
پھر نبی ﷺ پر مسنون درود پڑھیں ۔ دیکھئے مختصر صحیح نمازِ نبوی: ۴۲
پھر یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَ الصَّلوٰۃِ الْقَآئِمَۃِ، آتِ مُحَمَّداًنِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ، وَ ابْعَثْہُ مَقَاماً مَّحْمُوْدًانِ الَّذِيْ وَعَدْتَّہٗ۔
اے میرے اللہ  ! اس مکمل ندا اور قائم و دائم نماز کے رب ! محمد (ﷺ) کو وسیلہ (جنت کا اعلیٰ ترین مقام)اور فضیلت عطا فرما ، اور جس مقامِ محمود کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے انہیں عطا فرما ۔(بخاری : ۶۱۴)

جو شخص یہ دعا (ہمیشہ) پڑھے گا تو نبی کریم ﷺ قیامت کے دن اس کی شفاعت فرمائیں گے ۔ بیہقی کی روایت میں ان الفاظ کے بعد یہ اضافہ ہے :            اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ                  بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔   (السنن الکبریٰ ۴۱۰/۱ و سندہ صحیح ، السنن الصغیر للبیہقی ۱۰۳/۱ ح ۲۷۰ و سند ہ صحیح)

۲:        پھر فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھے ۔ پہلی رکعت میں ﴿قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ﴾ (والی سورت) اور دوسری رکعت میں ﴿قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾ (والی سورت) پڑھیں۔  (دیکھئے مسلم : ۷۲۶)
ان کے علاوہ دوسری قراءت بھی کی جاسکتی ہے ۔(دیکھئے صحیح مسلم: ۷۲۷)
۳:       اگر فجر کی دو رکعتیں (گھر میں) پڑھیں تو ان کے بعد دائیں کروٹ لیٹ جانا مسنون ہے ۔ (دیکھئے بخاری: ۶۲۶ و مسلم : ۷۳۶)
سیدنا ابن عمرؓ ان دو رکعتوں کے بعد نہیں لیٹتے تھے ۔ )مصنف ابن ابی شیبہ ۲۴۸/۲ ح ۶۳۸۵ و سندہ صحیح )
سیدنا عمرؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ و ہ دورکعتوں کے بعد لیٹا ہوا ہے فرمایا:
احصبوہ” اسے کنکریاں مارو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۲۴۸/۲ ح ۶۳۸۷ و سندہ قوی، سعید بن المسیب کا سیدنا عمرؓ کو دیکھنا ثابت ہے لہٰذا یہ سند متصل ہے )
لہٰذا دو رکعتوں کے بعد نہ لیٹنا بھی جائز ہے۔
۴:       پھر (فرض نماز پڑھنے کے بعد) مسجد جائیں ۔ نماز کے لئے جاتے وقت درج ذیل دعا پڑھنا ثابت ہے:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِيْ قَلْبِيْ نُوْرًا، وَّفِيْ لِسَانِيْ نُوْرًا، وَّاجْعَلْ فِيْ سَمْعِيْ نُوْرًا، وَّاجْعَلْ فِيْ بَصَرِيْ نُوْرًا، وَّاجْعَلْ مِنْ خَلْفِيْ نُوْرًا، وَّمِنْ اَمَامِيْ نُوْرًا، وَّاجْعَلْ مِنْ فَوْقِيْ نُوْرًا، وَّمِنْ تِحْتِيْ نُوْرًا، اَللّٰھُمَّ اَعْطِنِيْ نُوْرًا۔
اے اللہ میرے دل میں نور (روشنی) پیدا فرما، میری زبان ،کان اور نظر میں نور بنا ۔ میرے پیچھے آگے اوپر نیچے نور بنا، اے اللہ مجھے نور عطا فرما۔ (مسلم : ۷۶۳/۱۹۱ و ترقیم دارالسلام : ۱۷۹۹)
۵:       مسجد میں داخل ہوتے وقت، پہلے دائیاں پاؤں رکھیں۔ اس کی دلیل وہ حدیث ہے کہ جس میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ تمام امور دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے ۔ (دیکھئے بخاری: ۴۲۶ و مسلم : ۲۶۸)
۶:        مسجد میں داخل ہوتےوقت نبی کریم ﷺ پر سلام پڑھیں۔ (سنن ابی داود: ۴۶۵ و اسنادہ صحیح)
یعنی “اَلسَّلَامُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللہِ” (رسول اللہ پر سلام ہو ) کہیں۔
پھر “اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِيْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ” اے اللہ ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، پڑھیں۔ (مسلم : ۷۱۳)
اور یہ دعا پڑھیں:
اَعُوْذُ بِاللہِ الْعَظِیْمِ، وَ بِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ، وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔
میں پناہ مانگتا ہوں اللہ عظیم کی اور اس کے کریم چہرے اور قدیم سلطنت کے ذریعے سے کہ وہ مجھے شیطان رجیم سے محفوظ رکھے ۔ (ابوداود : ۴۶۶ و سندہ صحیح)
جو شخص یہ دعا پڑھے گا تو سارا دن شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا۔
۷:       مسجد سے جب نکلیں تو نبی کریم ﷺ پر سلام پڑھیں۔ (ابن ماجہ : ۷۷۳ و سندہ حسن و
صححہ ابن خزیمہ: ۴۵۲ و ابن حبان، الموارد: ۳۲۱ والحاکم ۲۱۰/۱ والذہبی)
اور یہ پڑھیں : اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِيْ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
اے اللہ ! مجھے شیطان رجیم سے محفوظ رکھ ۔ (ابن ماجہ : ۷۷۳ و سندہ حسن)
یا یہ دعا پڑھیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِيْ مِنَ الشَّیْطِانِ الرَّجِیْمِ
اے اللہ ! مجھے شیطان رجیم سے اپنی پناہ میں رکھ ۔ (صحیح ابن خزیمہ : ۴۵۲ و سندہ حسن)
(پھر) یہ دعا پڑھیں:   اَللّٰھُمَّ اِنَّيْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ
                    اے اللہ ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔ (مسلم : ۷۱۳)

۳۔     فجر کی نماز کے بعد : اذکار

۱:        سلام پھیرتے ہی اونچی آواز میں اَللہُ اَکْبَرُ (اللہ بہت سے بڑا ہے ) کہیں۔ (بخاری: ۸۴۲ و مسلم : ۸۵۳)
یہ ذکر ہر فرض نمازکے بعد ہے ۔
۲:        تین دفعہ استغفار کریں: اَسْتَغْفِرُاللہَ، اَسْتَغْفِرُاللہَ، اَسْتَغْفِرُاللہَ کہیں اور یہ دعا پڑھیں: اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ ، تَبَارَکْتَ ذَالجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِ
اے اللہ تو سلام ہے ، تجھی سے سلامتی ہے ۔ تو برکتوں والا ہے اے جلالت و اکرام والے۔ (مسلم : ۵۹۱)
یہ ذکر بھی ہر نماز کے بعد ہے ۔
۳:       صبح او رشام کی (فرض) نمازوں کے بعد درج ذیل دعاسات مرتبہ پڑھیں:
اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِيْ مِنَ النَّارِ                   اےمیرے اللہ ! مجھے آگ سے اپنی پناہ میں رکھ۔ (ابوداود: ۵۰۷۹ و سندہ حسن وصححہ ابن حبان، الموارد: ۲۳۴۶)
تنبیہ:    اس حدیث کے راوی حارث بن مسلم کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور بعض علماء نے اسے صحابہ میں ذکر کیا ہے۔ ایسے راوی کی حدیث حسن کے درجے سے نہیں گرتی۔ ]نیز دیکھئے التلخیص الحبیر (ج۱ ص ۴۷ ح ۷۰ جدۃ رباح)[
حافظ ابن حجر نے اس روایت کو “حسن ” کہا ہے ۔ (نتائج الافکار ج ۲ ص ۳۲۶ مجلس : ۱۹۱)
منذری نے اس کے حسن ہونے کی طرف اشارہ کیا ۔ (الترغیب و الترہیب ۳۰۳/۱، ۳۰۴)
اور ہیثمی نے حارث بن مسلم کو ثقہ قرار دیا۔ (مجمع الزوائد ۹۹/۸)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.