تبرکات کی شرعی حیثیت

 از    March 27, 2015

تحریر: غلام مصطفے ظہیر امن پوری

                یہ نہایت اہم مسئلہ ہے، کیونکہ بسااوقات اس کی وجہ سے توحید کے منافی اقوال و افعال سرزد ہوجاتے ہیں، اولیاء و صلحاء کی عبادت کا بنیادی سبب ان کی ذات، آثار اور قبور کو متبرک سمجھنا تھا، شروع میں انہوں نے ان کے جسموں کو تبرک کی نیت سے چھوا، پھر ان کو پکارنے لگے، ان سے مدد مانگنے لگے، پھر ان اولیاء سے کام آگے بڑھا تو مختلف جگہیں، جمادات اور اوقات کو متبرک سمجھنے جانے لگا۔

                دارصل تبرک کا معنیٰ یہ ہے کہ اجر و ثواب اور دین و دنیا میں اضافے کےلئے کسی مبارک ذات یا وقت سے برکت حاصل کرنا ۔

                                محققین علماء کے نزدیک تبرک کی دو قسمیں ہیں:

۱…          مشروع تبرک:          جسے اللہ و رسول نے جائز قرار دیا ہو۔

۲…         ممنوع تبرک :            جو جائز تبرک میں شامل نہ ہو یا شارع نے اس سے منع فرما دیا ہو۔

ممنوع تبرک:

            ممنوع تبرک شرک میں داخل ہے ، اس کی دلیل یہ ہے :

                سیدنا ابوواقد اللیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کی طرف نکلے، اس وقت ہم نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، ایک بیری تھی، جس کے پاس مشرکین ٹھہرتے اور (تبرک کی غرض سے) اپنا اسلحہ اس کے ساتھ لٹکاتے ، اسے ذاتِ انواط کہا جاتا تھا، ہم نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول ! جس طرح مشرکین کا ذاتِ انواط ہے ، ہمارے لئے بھی ذاتِ انواط مقرر کردیجئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

                اللّٰہ اکبر، انھا السنن، قلتم، والذی نفسی بیدہ، کما قالت بنواسرائیل لموسی؛ ﴿اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃٌ﴾(الاعراف:۱۳۸)  لترکبن سنن من کان قبلکم.

                “اللہ اکبر  ! اللہ کی قسم، یہ پرانا طریقہ ہے ، تم نے اسی طرح کہا ہے ، جس طرح بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا:﴿ اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃٌ﴾(الاعراف:۱۳۸) (ہمارے لئے بھی کوئی معبود بنا دیجئے، جس طرح ان (کافروں) کے معبود ہیں) ضرور تم اپنے سے پہلے لوگوں کے نقشِ قدم پر چلو گے ۔ ”               (مسند الامام احمد : ۲۱۸/۵، جامع الترمذی: ۲۱۸۰، مسند الحمیدی: ۸۴۸، المعجم الکبیر للطبرانی: ۲۷۶/۳ صحیح)

                امام ترمذی نے اس حدیث کو “حسن صحیح” اور امام ابن حبان (۶۷۰۲) نے “صحیح” کہا ہے ۔

مشروع تبرک:

            آئیے اب مشروع تبرک کے بارے میں جانتے ہیں:

                عیسیٰ بن طہمان کہتے ہیں:

                                                ھذہ کانت عند عائشۃ حتی قبضت، فلما قبضت قبضتھا، وکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یلبسھا، فنحن نغسلھا للمرضیٰ یستشفیٰ بھا.

                “یہ سیدہ عائشہ کے پاس تھا، آپ فوت ہوئیں تو میں نے اپنے پاس رکھ لیا، نبی کریم ﷺ اسے زیبِ تن فرمایا کرتے تھے، ہم اسے بیماروں کے لئے شفا کی امید سے پانی میں ڈالتے ہیں۔”       (صحیح مسلم: ۱۹۰/۲، ح ۲۰۶۹)

                سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک پیالہ اپنے پاس رکھا ہوا تھا، جس میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ نے پانی پیا تھا، ابو حازم کہتے ہیں کہ سہل نے اسے نکالا اور ہم نے اس میں پانی پیا، اس کے بعد امام عمر بن عبدالعزیزؒ نے ان سے مانگا، انہوں نے ان کو تحفہ میں دے دیا۔             (صحیح بخاری: ۸۴۲/۲ ح ۵۶۳۷)

                عبیدہؒ کہتے ہیں ، ہمارے پاس نبی کریم ﷺ کے بال مبارک تھے ، جنہیں ہم نے سیدنا انس یا ان کے گھر والوں سے لیا تھا، کہتے ہیں، اگر میرے پاس آپ کا ایک بال ہو تو مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ پیارا ہے ۔ (صحیح بخاری: ۲۹/۱ ، ح ۱۷۰)

                یاد رہے کہ یہ تبرک نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص تھا، اب کسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔

                حافظ شاطبی فرماتے ہیں:

                        ان الصحابۃ بعد موتہ لم یقع من أحد منھم شیء من ذلک بالنسبۃ الی من خلفہ، اذ لم یترک النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعدہ فی الأمۃ أفضل من أبی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ، فھو کان خلیفتہ، ولم یفعل بہ شیء من ذلک، ولا عمر رضی اللہ عنہ ، وھو کان أفضل الأمۃ بعدہ ، ثم کذلک عثمان، ثم علی، ثم سائر الصحابۃ الذین لا أحد أفضل منھم فی الأمۃ، ثم لم یثبت لوأحد منھم من طریق صحیح معروف أنّ متبرکاتبرک  بہ علی أحد تلک الوجوہ أو نحوھا، بل اقتصروا فیھم علی الاقتداء بالٔافعال و الٔاقوال و السیر التی اتبعوا فیھا النبی صلی اللہ علیہ وسلم، فھو اذا اجماع منھم علی ترک تلک الأشیاء.

                “صحابہ کرام نے آپ کی وفات کے بعد آپ کے علاوہ کسی کے لئے یہ (تبرک) مقرر نہ کیا، کیونکہ آپ کے بعد امت میں سب سے افضل سید نا ابوبکر الصدیق تھے ، آپ کے بعد خلیفہ بھی تھے  ، ان کے ساتھ اس طرح کا کوئی معاملہ نہیں کیا گیا، نہ سیدنا عمر نے ہی ایسا کیا ، وہ سیدنا ابوبکر کے بعد امت میں سب سے افضل تھے ، پھر اسی طرح سیدنا عثمان و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور دوسرے صحابہ کرام تھے ، کسی سے بھی باسندِ صحیح ثابت نہیں کہ کسی نے ان کے بارے میں اس طرح سے کوئی تبرک والا سلسلہ جاری کیا ہو، بلکہ ان (صحابہ ) کے بارے میں انہوں (دیگر صحابہ و تابعین) نے نبی اکرم ﷺ کے اتباع پر مبنی اقوال و افعال اور طریقہ کار پر اکتفا کیا ہے ، لہٰذا یہ ان کی طرف سے ترکِ تبرکات پر اجماع ہے ۔”            (الاعتصام: ۹-۸/۲)

                سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا:

                        لا تشد الرحل الا الی ثلاثۃ مساجد ، المسجد الحرام، و مسجدی ھذا، والمسجد الأقصیٰ.

                “(تبرک کی نیت سے) سامان صرف ان تین مسجدوں کی طرف باندھا جائے گا،  مسجدِ حرام ، میری مسجد (مسجدِ نبوی) اور مسجدِ اقصیٰ۔”      (صحیح بخاری: ۱۵۹/۱، ح ۱۱۸۹ ، صحیح مسلم : ۲۴۷/۱ ح ۱۳۹۷)

حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی ان تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور جگہ کی طرف سامان باندھ کر جانے کی نذر مان لے تو اس پر نذر کا پورا کرنا ضروری نہ ہوگا، اس بات پر ائمہ دین کا اتفاق ہے ۔      (مجموع الفتاویٰ : ۱۸۶/۲۷ مختصرا)

                حصولِ برکت کی خاطر انبیاء و صلحاء کی قبروں کی زیارت کے لئے سفر بدعت ہے ،صحابہ کرام و تابعین عظام نے ایسا نہیں کیا ، نہ نبی کریم ﷺ نے اس کا حکم دیا۔

                امام ابراہیم  نخعی تابعی فرماتے ہیں:

                        لا تشد الرحال الا الی ثلاثۃ مساجد؛  المسجد الحرام ، مسجد الرسول ، و بیت المقدس.

                “(برکت حاصل کرنے کی نیت سے) رختِ سفر صرف تین مسجدوں کی طرف باندھا جائے گا ، مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور بیت  المقدس ۔”  (مصنف ابن ابی شیبہ : ۶۵/۴، و سندہ صحیح)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.