بیماری کا علاج دَم اور اَذکار سے

 از    October 14, 2014

سوال:     اگو کوئی شخص جنات یا جادو کے اثر سے بیمار ہو تو کیا کسی عامل سے اس کا علاج کرانا جائز ہے؟ (ایک سائل)
الجواب:   اگر کوئی شخص (جادو یا جنات کے اثر، وغیرہ کی وجہ سے) بیمار ہو تو اس کا علاج کرانا جائز ہے۔ اگر کسی عامل سے علاج کرائیں تو صحیح العقیدہ عامل کا انتخاب کریں۔

          رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((من استطاع منکم أن ینفع أخاہ فلیفعل)) جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکے تو ضرور پہنچائے ۔(صحیح مسلم: ۲۱۹۹و ترقیم دارالسلام : ۵۷۲۷)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ((تداووا)) علاج کرو (سنن ابی داؤد: ۳۸۵۵ وسندہ صحیح و صححہ الترمذی: ۲۰۳۸ و الحاکم ۳۹۹/۴ والذہبی)
حرام (مثلاً شرکیہ منتروں) سے علاج نہیں کرنا چاہئے۔

طارق بن سوید الجعفیؓ نے نبی کریم ﷺ سے دوائیوں میں خمر (شراب ) کے استعمال کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے انہیں منع کیا اور فرمایا: ((إنہ لیس بدواء و لکنہ داء)) یہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے ۔ (صحیح مسلم : ۱۹۸۴ وترقیم دارالسلام : ۵۱۴۱)

سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا:”إن اللہ عزوجل لم یجعل شفاء کم فیھا حرّم علیکم
بے شک اللہ تعالیٰ ﷻ نے جو چیزیں تم پر حرام قرار دی ہیں ان میں تمہارے لئے (کوئی) شفا نہیں رکھی۔
                                        (کتاب الاشربۃ للامام احمد: ۱۳۰ و سندہ صحیح، و صحیح البخاری قبل ح ۵۶۱۴)
دَم اگر شرکیہ نہ ہو تو اس کا جواز صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔
          (دیکھئے صحیح مسلم ، الطب/ السلام، باب لابأس بالرقٰی مالم یکن فیہ شرک، ح ۲۲۰۰ و ترقیم دارالسلام: ۵۷۳۲)
ان دلائل و دیگر دلائل کی رُو سے یہ علاج کرانا صحیح اور جائز ہے ۔ والحمدللہ
                                                                      (۱۳ ربیع الثانی ۱۴۲۷؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.