بیت الخلا اور انگوٹھی اُتارنا

 از    December 22, 2014

سوال:ایک روایت میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بیت الخلا میں داخل ہوتے تھےتو اپنی انگوٹھی (جس پر محمد رسول اللہ لکھاہواتھا۔ ﷺ) اُتار دیتے تھے ۔محترم زبیر علی زئی صاحب کیا یہ روایت صحیح ہے ؟ (طارق مجاہد یزمانی ۱۴۲۷/۱۱/۱۴ ھ)

الجواب:بیت الخلا جانے سے پہلے انگوٹھی اتارنے والی روایت درج ذیل سند سے مروی ہے  : “ھمام عن ابن جریج عن الزھري عن أنسرضي اللہ عنہ (سنن ابی داود: ۱۹، وقال: “ھٰذا حدیث منکر” سنن الترمذی: ۱۷۴۶، وقال : “ھٰذا حدیث حسن صحیح غریب” الشمائل للترمذی: ۹۳ سنن النسائی : ۱۷۸/۸ ح ۵۶۱۶، سنن ابن ماجہ : ۳۰۳، السنن الکبریٰ للبیہقی ۹۵/۱ وقال :”وھٰذ شاھد ضعیف واللہ أعلمأي حدیث ھمام، اخبار اصبہان ۱۱۱/۲)

ابن جریج مشہور مدلس ہیں ۔ دیکھئے طبقات المدلسین (۳/۸۳) و تقریب التہذیب (۴۱۹۳) و جامع التحصیل (ص ۱۰۸) وکتاب المدلسین لابی زرعۃ ابن العراقی (۴۰) و المدلسین للسیوطی (۳۶) و سوالات الحاکم النیسابوری للدارقطنی (۲۶۵) و علل الحدیث لابن ابی حاتم (۲۰۷۸) و سوالات البرذعی (ص ۷۴۳ قول ابی مسعود احمد بن الفرات)

ابن جریج مدلس کی یہ روایت عن سے ہے اور عام طالب علموں کو بھی معلوم ہے کہ (غیر صحیحین میں) مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے ۔

اگر کسی شخص کو اس روایت میں ابن جریج کے سماع کی تصریح مل گئی ہے تو باحوالہ پیش کرے ورنہ اس روایت سے استدلال کرنا مردود ہے ۔ (۱۴۲۷/۱۱/۴ ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.