بعض لوگوں کا یہ عقیدہ کہ (مجبوری میں بھی) کھڑے ہو کرپیشاب کرنا مکروہ (یعنی حرام)ہے

 از    August 11, 2014

تحریر : فضیلۃ الشیخ عمرو عبدالمنعم رحمہ اللہ
ترجمہ:حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

یہ عقیدہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث کے مخالف ہے جس میں آیا ہے کہ :

نبی ﷺ (کسی مجبوری کی وجہ سے) ایک قبیلے، کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر گئے تو وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ میں آپ کے لئے وضو کا پانی لایا۔ میں دور جانا چاہتا تھا مگر آپ نے مجھے بلا یا حتیٰ کہ میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا، آپ نے وضوء کیا او رموزوں پر مسح کیا (۱)۔

اور (میرے خیال میں) لوگوں کو اس صحیح حدیث میں غلط فہمی ہوئی ہے:

 ام المؤمنین اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ثابت ہے کہ :من حدثکم أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم کان یبول قائماً فلا تصدقوہ، ماکان یبول إلا قاعداً(۲)۔تمہیں جو شخص یہ بتائے کہ نبی ﷺ (ہمیشہ) کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تو اسے سچا نہ سمجھو۔ آپ (عام طور پر) صرف بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے۔

یہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اجتہاد ہی ہے (۳)

انہیں، نبیﷺ کی سنت سے جو معلوم تھا اسے بیان کردیا اور (صریح تعارض کی صورت میں) مثبتمنفی پر مقدم ہوتا ہے پس یہ ضروری ہے کہ حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کو (جواز کی دلیل کے طور پر) لازم پکڑا جائے کیونکہ اس کی بنیاد ، دیکھنے پر ہے جس کا تعلق حسِ بصارت سے ہے جبکہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کا تعلق علم کے ساتھ ہے ۔ (یہ ظاہر ہے کہ بعض اوقات) علم سے بعض چیزیں چھپی رہ جاتی ہیں۔

ام المؤمنین کا یہ اجتہاد ان کی اس تحقیق جیسا ہے جس میں انہوں نے دنیا میں نبی اکرم ﷺ کے اپنے رب کو دیکھنے کی نفی کی ہے ۔ جبکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کا اثبات کیا ہے (۴)
اس قسم کی اور بھی مثالیں ہیں جن کے ذکر سے یہ بحث طول پکڑ سکتی ہے اسی لئے امام ترمذی ؒ نے اپنی کتاب السنن (۱۸/۱) میں کہا ہے کہ :

“کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے ممانعت کا تعلق آداب (و اخلاق) سے ہے ، حرمت سے نہیں”

میں کہتا ہوں کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت والی مرفوع حدیث کو عمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ: مجھے نبی اکرمﷺ نے دیکھا، میں کھڑا ہو کر پیشاب کر رہا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا:”یا عمر لاتبل قائماً” اے عمر ! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو، اس کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا (۵)۔
اس حدیث کا دارومدار عبدالکریم بن ابی المخارق پر ہے جو کہ سخت ضعیف تھا۔ نسائیؒ اور دارقطنیؒ نے اسے متروک کہا۔السعدی  (الجوزجانی) اور نسائیؒ نے ایک دوسرے مقام پر کہا: وہ ثقہ نہیں تھا۔ (اسماء الرجال کے ماہر) علماء اسے ضعیف اور کمزور قرار دیتے ہیں اور مستحب یہی ہے کہ آدمی بیٹھ کر پیشاب کرے۔ اس میں انسانی وقار بھی ہے اور شرمگاہ کی حفاظت بھی ہوتی ہے ۔ انسان ، پیشاب کے چھینٹوں سے بھی محفوظ رہتا ہے اور اگر (کسی عذر و مجبوری کی وجہ سے) کھڑے ہو کر پیشاب کرلے تو جائز ہے لیکن اس میں یہ لازم ہے کہ پیشاب کے لئے نرم (پانی جذب کرنے والی ) زمین تلاش کرے تاکہ اس پر پیشاب کے چھینٹے نہ پڑیں۔ اور اپنی شرمگاہ کی لوگوں سے حفاظت کرے ۔ قضائے حاجت اور بیت الخلاء جانے کے آداب کا خیال رکھے۔
یہاں اس بات پر تنبیہ بھی ضروری ہے کہ لوگ ، عام پیشاب گاہوں اور ایسی لیٹرینوں میں آمنے سامنے ہو کر پیشاب کرتے ہیں جو ایک دوسری کے سامنے اور ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ ایسی حالت میں شرمگاہ کی بے پردگی اوردوسرے لوگوں کی نظر پڑنے کا (ہر وقت) خطرہ رہتا ہے ۔ ایسی لیٹرینوں میں بعض اوقات پانی بھی نہیں ہوتا جس سے طہارت کرنا مشکل (اور ناممکن) ہوجاتا ہے۔
مختصراً عرض ہے کہ نبی اکرمﷺ سے (بحالتِ عذرو مجبوری) کھڑے ہو کر پیشاب کرنا ثابت ہے لہذا اسے(مطلقاً) مکروہ کہنا غلط ہے ۔ ہاں اگر وہ حالتیں پائی جائیں جن کا ابھی تذکرہ ہوا ہے مثلاً شرمگاہ کی بے پردگی اور عدمِ طہارت تو پھر یہ مکروہ (یعنی حرام) ہے۔ صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت سے (کسی مجبوری کی وجہ سے) کھڑے ہوکر پیشاب کرنا ثابت ہے اس بھی مطلقاً حرمت والا قول ساقط ہوجاتا ہے اور فتویٰ جواز پر ہی رہتا ہے ۔

امام مجتہد بن المنذر النیسابوری نے کہا کہ:“نبی اکرمﷺ کے صحابہ مثلاً عمر بن الخطاب ، زید بن ثابت، ابن عمر اور سھل بن سعد(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) سے ثابت ہے کہ انہوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے اور یہی فعل ، علی ، انس اور ابوہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) سے مروی ہے ۔ محمد بن سیرین اور عروہ بن زبیر (تابعین) نے (بھی) کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے” (الاوسط ج ۱ص ۳۳۳)

یہ عقیدہ کہ صرف مٹی کے ساتھ استنجا کرنا کافی نہیں ہے
بدعات میں یہ بھی ہے کہ (عام) لوگ، پیشاب و رفع حاجت کی طہارت کے لئے صرف مٹی سے استنجا کرنا کافی نہیں سمجھتے ہیں(۶)
۔ حالانکہ یہ بات غلط ہے اور اس کے غلط ہونے پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث (بھی)دلالت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا: ایک دفعہ نبی ﷺ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا تو مجھے حکم دیا کہ میں مٹی کے تین ڈھیلے لاؤں۔ مجھے دو ڈھیلے ملے مگر تیسرا نہ مل سکا۔ لہزا میں نے ایک لید اٹھالی اور آپﷺ کے پاس آیا۔ آپﷺ نے ڈھیلےتو لے لئے اور لید کو پھینک دیا۔ آپﷺ نے فرمایا:”ھذا رکس یہ پلید ہے (۷)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کے پیچھے چلا ۔ آپﷺ قضائے حاجت کے لئے جارہے تھے۔ آپﷺ اِدھر اُدھر نہیں دیکھتے تھے۔میں آپﷺ کے قریب ہوا تو آپﷺ نے فرمایا:”میرے لئے ڈھیلے لاؤجن سے میں استنجا کروں گا۔ یا اس مفہوم کی بات فرمائی، ہڈی اور لید نہ لانا۔
اپنے کپڑے کے کنارے پر میں تین ڈھیلے لے آیا۔ انہیں آپ ﷺ کے پاس رکھا اور (دور)چلا گیا۔ جب آپﷺ ، قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو میں آپﷺ کے ساتھ چلا(۸) یہ حدیثیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صرف ڈھیلوں کے ساتھ بھی استنجاء جائز ہے۔ ڈھیلے استعمال کرنے کے بعد پانی کا استعمال فرض نہیں ہے ۔ تاہم پانی کا استعمال، ڈھیلوں سے بہتر ہے۔ (اگر ڈھیلوں کے بعد پانی استعمال کریں تو بھی بہتر ہے مگر یاد رکھیں کہ) صرف مٹی کے ڈھیلوں کے ساتھ، صحیح طریقے پر استنجاء کرنا بھی کافی ہے ۔ واللہ اعلم

امام ترمذیؒ فرماتے ہیں :“صحابہ کرامؓ اور بعد کے اکثر علماء کا یہی خیال ہے کہ (صرف) ڈھیلوں کے ساتھ استنجاء کرنا جائز ہے ، اگر چہ (ان کے  بعد) پانی کا استعمال نہ کرے ، بشرطیکہ پیشاب اور پاخانے کا اثر خوب زائل ہوجائے ۔ یہی قول : سفیان ثوریؒ ، عبداللہ بن المبارک ؒ، شافعیؒ ، احمد بن حنبلؒ اور اسحاق بن راھویہ ؒ کا ہے “ (جامع ترمذی ج ۱ ص ۲۴)

امام ترمذی ؒ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ:“اگرچہ ڈھیلوں کے ساتھ استنجاء (کرنا) جائز ہے  تاہم ان (علماء) کے نزدیک پانی سے استنجاء مستحب اور افضل ہے ” (ایضاً ص ۳۱)

اس سلسلہ میں وسوسہ کے مریضوں کی اور بھی کئی بدعات ہیں مثلاً السلت ، النتر، الخنحۃ، المشی ، التفز، الحبل، التفقد، الوجور ، الحشو، العصابۃ اور الدرجہ ، السلت کا مطلب یہ ہے کہ آلۂ تناسل کو اس کی جڑ سے، اس کے سر کی طرف دبا کر کھینچا جائے تا کہ اس میں رکا ہوا پیشاب باہر نکل آئے۔ النتر اور الخنحۃ، شدید روز لگا کر پاخانہ نکالنے کو کہتے ہیں۔ المشی، پیشاب کے بعد (کافی دیر) چلنے کو کہتے ہیں تاکہ آلۂتناسل سے پیشاب کے قطرے باہر نکل جائیں۔ القفز، زمین سے چھلانگ لگانے کا نام ہےتاکہ پیشاب کے قطرے ٹپک پڑیں۔ الحبل، رسی کو کہتے ہیں ۔
 وسوسہ کے مریض بعض اوقات رسی سے لٹک کر اپنےآپ کو زمین پر گراتے ہیں ۔ التفقد ، آلۂ تناسل میں سے اس کا منہ کھول کر پیشاب نکالنے کا نام ہے ۔ اگر ایسا کرکے اس میں اسی حالت میں ڈالا جائے تو یہ الوجو ر کہلاتا ہے ۔ الحشو ، کاٹن وغیرہ رکھنے اور العصابۃ کپڑے کی پٹی باندھنے کو کہتے ہیں ۔ الدرجہ کا یہ مطلب ہے کہ آہستہ آہستہ سیڑھی چڑھا جائے پھر تیزی کے ساتھ اترا جائے ۔
یہ سب حالتیں ، وسوسہ اور وہم کے مریضوں کی بدعات ہیں جن پر شریعت میں کوئی دلیل نہیں ہے (۹)
سوائے “السلت” کے جس میں ایک منکر حدیث مروی ہے جسے عیسی بن یزداد نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “إذا بال أحدکم فلینترذکرہ ثلاث مرات” جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو اپنے ذکر کو تین دفعہ جھاڑے (۱۰)۔
یہ (ضعیف) روایت، نبی اکرم ﷺ کی سنت کے مخالف ہے ۔

امام ابن القیم ؒ “زاد المعاد” میں کہتے ہیں:وہم وسوسہ والے حضرات ، ذکر کا جھاڑنا، الخنحہ، چھلانگ لگانا، رسی کو پکڑنا ، سیڑھیاں چڑھنا، ذکر میں روئی رکھنا اور اند پانی پہنچانا، وقتاً فوقتاً اسے خوب دیکھنا (کہ کہیں قطرہ نہ ہو) اور اس قسم کی دیگر جتنی بدعات گامزن ہیں۔ ان میں کسی ایک کابھی ثبوت نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے ۔ (ج۱ ص ۱۷۳) 

میں (یعنی عمرو عبدالمنعم) یہ کہتاہوں کہ سلف صالحین سے ،وسوسہ والے ان حضرات کے سراسر خلاف ثابت ہے ۔ 

مثلاً ابراہیم النخعیؒ نے کہا:

جس انسان نے (استنجاء کے بعد) اپنے آلۂ تناسل کے اردگرد تری تلاش کرنے کی کوشش کی تو وہ ایسی چیز دیکھ لےگا جو اسے بری محسوس ہوگی (۱۱)۔

یہ ابلیس ہے جو اپنے دوستوں کو ایسی چالیں سکھاتا ہے جو انہیں، دینِ قیم ، صراطِ مستقیم اور سنتِ نبویﷺ سے (دور) ہٹا کر فتنے میں مبتلا کردیتی ہیں۔ وہ انسان کے آلۂ تناسل کو چھوتا ہے یا اسے بھگونے کی کوشش کرتا  ہے جس سے انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کا وضوء ٹوٹ چکا ہے!

ایک آدمی نے عبداللہ بن عباس ؓ سے شکایت کی کہ: میں جب نماز میں ہوتا ہوں تو مجھے یہ خیال آتا ہے کہ میرے ذکر پر پیشاب کی تری ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ غارت کرے شیطان کو، شیطان، نماز میں انسان کے ذکر کو اس لئے چھوتا ہے تاکہ وہ خیال کرنے لگے کہ اس کا وضوء ٹوٹ چکا ہے ۔ پس اگرتو وضوء کرے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لیا کر۔ اگر تجھے تری کا خیال آئے گا تو یہ سمجھ لے گا کہ یہ چھڑکا ہوا پانی ہے اس آدمی نے اس پر عمل کیا تو وسوسہ کی بیماری ختم ہوگئی(۱۲)۔

اس طرح کی بات منصور بن المعتمر سے بھی ثابت ہے کہ شیطان، ذکر کو بھگونے کی کوشش کرتاہے (۱۳)۔
اس کا علاج اور دوا اسی میں ہے کہ (وضوء کے بعد) شرمگاہ، ازار کے اندر اور باہر پانی چھڑک لے پھر اسے تری کا اثر محسوس ہو تو یہ سمجھے کہ یہ میرے چھڑکے ہوئے پانی سے ہے۔اس طرح سلف صالحین کا عمل تھا اور اسی طریقے سے وہ اپنے آپ کو ان بدعات اور وسوسوں سے بچاتے تھے۔

نافع مولی ابن عمر (سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب وضوء کرتے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکتے تھے(۱۴)۔

محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ جب وضوء سے فارغ ہوتے تو ہتھیلی میں پانی لے کر اپنے ازار پر ڈال لیتے تھے (۱۵)۔

داؤد بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن کعب القرظی سے پوچھا کہ میں وضوء کرتا ہوں اور (وضوء کےبعد) تری محسوس کرتا ہوں تو انہوں نے کہا:جب تو وضوء کرے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لیا کر، پھر اگر تجھے ایسا محسوس ہو تو یہ سمجھ کہ یہ میرے چھڑکے ہوئے پانی میں سے ہے کیونکہ شیطان تجھے (سکون سے نماز پڑھنے کےلیے) نہیں چھوڑے گا ۔ حتیٰ کہ وہ تجھے تکلیف میں مبتلا کردے (اور مسجد سے نکال دے)(۱۶)۔

اللہ کے بندو! اللہ کے لئے ان بدعات سے بچ جاؤ، ابلیس لعین ،لوگوں کو ان میں سے نام نہاد “احتیاط” کے بہانے سے ہی مبتلا کرتا ہے ۔ اگر شیطان کا دل و دماغ پر قبضہ ہوجائے تو انہیں خراب کرکے ہی چھوڑتا ہے ۔ والیعاذ باللہ!
……………………………………………………
حوالاجات
(۱)صحیح بخاری ، کتاب الوضوء ، باب البول قائماً و قاعداً ، ح ۲۲۴ صحیح مسلم ، کتاب الطھارہ، باب المسح علی الخفین ح ۲۷۳ مسند احمد ۳۸۲/۵ ، ۴۰۱ ، المسند المنسوب إلی أبی حنیفہ ص ۲۳
(۲)حسن، سنن الترمذی ، ابواب الطھارۃ، باب ماجاء فی النھی عن البول قائماً ح ۱۲
(۳) یہ اجتہاد نہیں ہے بلکہ ام المؤمنین کی رؤیت اور گواہی ہے ۔ یاد رہے کہ ام المؤمنین کی حدیث اور حدیثِ حذیفہ میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ عام طور پر بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے۔ صرف ایک دفعہ (کسی عذر کی وجہ سے) آپ نے کھڑے ہو پیشاب کیا لہذا بیٹھ کر پیشاب کرنا ہی مسنون ہے تاہم کسی عذرو مجبوری کی وجہ سے پردہ اور ضروری شرائط کے ساتھ کھڑے ہو کر پیشاب کرلینا جائز ہے۔
(۴) اُم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ : جو شخص اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ محمد ﷺ نے (دنیا کی زندگی میں) اپنے رب کو دیکھا ہے تو یہ بہت بڑا افتراء ہے ۔(صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب اذا قالاحد کم آمین۔۔ ح ۳۲۳۴ و صحیح مسلم ، کتاب الإیمان باب معنی قول اللہ عزوجل و لقدرآہ نزاتہ اخری۔۔ ح ۱۷۷) جبکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: آپﷺ نے اپنے رب کو اپنے دِل (کی آنکھوں ) سے (دو دفعہ) دیکھا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب من قول اللہ عزوجل : ولقدرآہ نزلہ اخری۔۔ح۱۷۶)
یعنی خواب یا عالمِ مثال میں روحانی طور پر دیکھا ہے۔ حدیثِ عائشہؓ میں دنیاوی رؤیت کی نفی ہے اور حدیثِ ابن عباسؓ میں روحانی رؤیت کا اثبات ، لہذا دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔
(۵) ضعیف جداً ، سنن ابن ماجہ ، الطھارۃ و سننھا باب فی البول قاعداً (ح۳۰۸) اس کی سند عبدالکریم بن ابی امیہ کی وجہ سے سخت ضعیف ہے ۔تاہم سیدنا امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موقوفاً ثابت ہے کہ وہ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے (مسند بزار بحوالہ کشف الاستارللھیثمی ج ۱ص۱۳۰ ح ۲۴۴ واسنادہ صحیح) مسند بزار (کشف ۲۶۶/۱ ح ۵۴۷)اور طبرانی (اوسط ۴۷۱،۴۷۰/۶ ح ۵۹۹۵) کی ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھڑے ہو کر (بغیر کسی عذر کے) پیشاب کرنا بد اخلاقی اور ظلم ہے ۔ (اس کی سند حسن ہے، مؤلفِ کتاب کا جرح کرنا صحیح نہیں ہے)
(۶) ایسے ہی لوگ بعض (بالخصوص تبلیغی جماعت والے) صرف پانی سے استنجا کو بھی کافی نہیں جانتے یہ اپنے (Bathroom) وغیرہ میں مٹی کے ڈھیلے رکھتے ہیں پہلے مٹی کے ڈھیلوں سےاستنجاء کرتے ہیں پھر پانی سے بطورِ دلیل سنن کی ایک ضعیف روایت پیش کرتے ہیں ۔ حالانکہ انکے اس فعل سے (مساجد کی ) لیٹرینیں بند ہوجاتی ہیں ۔ جو دوسروں کی پریشانی کا سبب ہے ۔/حافظ ندیم ظہیر
(۷) صحیح البخاری، کتاب الوضوء باب لایستنجی بروث ح ۱۵۶
(۸)  صحیح البخاری، کتاب الوضوء باب الاستنجاء بالحجارۃ ح ۱۵۵
(۹) میں نے کئی دیوبندی تبلیغی جماعت والوں اور دوسرے لوگوں کو، کھلے راستوں پر، لوگوں کے سامنے ، پیشاب کے بعد عجیب و غریب حرکتیں ہوئے دیکھا ہے ۔ وہ اپنے خیال میں پیشاب کے قطرے باہر نکالنا چاہتے ہیں ۔ یہ سب حرکتیں ، وسوسہ کے مریضوں کی خاص علامت ہیں۔
(۱۰) ضعیف،  سنن ابن ماجہ ، الطھارۃ سننھا ، باب الإستبراء بعد البول ح ۳۲۶،  اس کا راوی زمعہ ضعیف ہے اور عیسی بن یزداد مجہول الحال ہے ۔ اس حدیث کو امام بخاریؒ ، امام ابوحاتم الرازی ؒ (وغیرھما) نے غیر صحیح قرار دیا ہے ۔
(۱۱) مصنف ابن ابی شیبہ (ج۱ص ۷۸ وفی نسخۃ ص ۹۶ا حدیث نمبر ۲۰۵۱) اس کی سند صحیح ہے۔
(۱۲) مصنف عبدالرزاق (ج۱ ص ۱۵۱ ح ۵۸۳) اس کی سند سفیان ثوریؒ اور اعمش ؒ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
(۱۳) صحیح، مصنف ابن ابی شیبہ (ج۱ ص ۱۹۶ح ۲۰۵۲) اسکی سند صحیح ہے۔
(۱۴) صحیح، مصنف ابن ابی شیبہ (ج۱ص ۱۶۷ ح ۱۷۷۵) اس کی سند صحیح ہے ۔
(۱۵) صحیح، مصنف ابن ابی شیبہ (ج۱ ص ۱۶۸ ح ۱۷۸۰) اس کی سند صحیح ہے۔

(۱۶) صحیح، مصنف عبدالرزاق (ج۱ ص ۱۵۲ح ۵۸۵) اس کی سند صحیح ہے ۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.