بالوں کے احکام

 از    November 17, 2014

تحریر:ابراہیم بن بشیر الحسینوی
ہمارے پیارے دینِ اسلام کا موضوع انسان ہے ۔ مکمل اسلام انسان کی اصلاح کے لئے ہے مگر افسوس ! جس مسلمان نے پوری دنیا کو اسلامی تعلیمات کے ذریعے امن کا گہوارہ بنانا تھا وہ مسلمان اپنی اصلاح نہ کرسکا ۔ انسان کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ اپنے جسم کے تمام اعضاء کو اسلامی احکامات کے تابع نہ کرلیں اور ایسا کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ (انسانی اعضاء کے احکام و مسائل) سے واقف نہ ہوجائے ۔ اس موضوع پر ہم نے ایک مستقل کتاب لکھ رکھی ہے جس میں ایک فصل ہدیۂ قارئین پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ والحمدللہ علیٰ ذلک انھی بہت سے مسائل میں سے ایک مسئلہ “انسانی بالوں” کا ہے ۔ انسان کے مختلف اعضاء پر اگے ہوئے بالوں کی مختلف قسمیں ہیں ہم نے اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر عضو کے بالوں کے احکام جو درج ذیل ہیں، الگ الگ بیان کیا ہے ۔
  1.       سر کے بالوں کے احکام          
  2.         ابرؤوں (ابرواں) کے بالوں کے احکام
  3.        رخساروں کے بالوں کے احکام              
  4.        داڑھی کے احکام                 
  5.                        مونچھوں کے احکام
  6.         بغلوں کے بالوں کے احکام                   
  7.                  زیرِ ناف بالوں کے احکام
  8.       (کانوں کے اندرونی) سینہ، کمر، بازوؤں، ٹانگوں ، رانوں ، ہاتھوں اور پاؤں پر اگے ہوئے بالوں کے احکام
  9.         ناک میں اگے ہوئے بالوں کے احکام 
  10.      کنپٹی کے بالوں کے احکام۔

1:      سر کے بالوں کے احکام:
          یہ چار قسموں پر مشتمل ہوتے ہیں:
۱:        مسلمان مرد کے بالوں کے احکام              ۲:        نومسلم (New Muslim) کے بال
۳:       بچوں کے بال                            ۴:       مسلمان عورت کے بال
۱:        مسلمان مرد کے بالوں کے احکام
مسلمان مرد کے بال پاک ہیں خواہ وہ زندہ ہو یا مرا ہوا، اس کے دلائل درج ذیل ہیں:

۱:        جب محمد بن سیرین نے عبیدہ سے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کے بال ہیں جوہمیں سیدنا انسؓ یا سیدنا انسؓ کے گھر والوں کی طرف سے پہنچے ہیں، تو عبیدہ نے یہ (سن کر) فرمایا  کہلأن تکون عندي شعرۃ منہ أحب إلي من الدنیا و مافیھامیرے پاس اگر نبی ﷺ کا ایک بال (بھی) ہوتا تو یہ مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب تھا ۔ (صحیح البخاری : ۱۷۰)

۲:        سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بالوں کو منڈوایا تو سیدنا ابوطلحہؓ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے آپ ﷺ کے بالوں کو لیا تھا۔ (صحیح البخاری ۱۷۱)

۳:       ان دونوں احادیث پر امام بخاری نے یہ باب باندھا ہےباب الماء الذي یغسل بہ شعر الإنسان
باب : اس پانی کے بارے میں جس میں انسان کے بالوں کو دھویا جاتا ہے ۔ (کتاب الوضوء باب ۳۳)

حافظ ابن حجرترجمۃ الباب کی توجیہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :أن الشعر طاھر و إلا لما حفظوہ ولا تمنی عبیدۃ أن یکون عندہ شعرۃ واحدۃمنہ، وإذا کان طاھراً فالماء الذي یغسل بہ طاھر یعنی بال پاک ہیں وگرنہ وہ (صحابۂ کرام) ان کی حفاظت نہ کرتے اور عبیدہ (تابعی) تمنا بھی نہ کرتے کہ ان کے پاس نبی کریم ﷺ کا ایک بال ہوتا، جب بال پاک ہیں تو جس پانی میں بالوں کو دھویا گیا ہے وہ بھی پاک ہے ۔ “ (فتح الباری ۳۶۳/۱)

حافظ ابن حجر مزید فرماتے ہیں: “جمہور علماء بھی بالوں کو پاک سمجھتے ہیں اور یہی ہمارے نزدیک صحیح ہے “                                                                      (فتح الباری ۳۶۴/۱)

(ام المؤمنین سیدہ ام سلمہؓ کے پاس نبی کریم ﷺ کے کچھ بال تھے جسے انہوں نے ایک چھوٹے پیالے میں رکھا ہوا تھا۔ یہ بال مہندی کی وجہ سے سرخ تھے۔ جب کسی شخص کو نظرلگ جاتی یا کوئی بیمار ہوجاتا تو وہ اپنا پانی کا برتن سیدہ ام سلمہؓ کے پاس بھیج دیتا۔ (آپؓ اس برتن کےپانی میں وہ بال ڈبو دیتیں) (صحیح البخاری : ۵۸۹۶، فتح الباری ۳۵۳/۱۰)

  1. معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کے بالوں سے تبرک حاصل کرنا  جا ئز ہے ۔
  2.  انسانی بالوں کی خرید و فروخت ناجائز ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَاور ہم نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو عزت دی (بنیٓ اسرآئیل: ۷۰) کے خلاف ہے ۔
  3. انسانی بالوں کی خرید و فروخت میں انسان کی تکریم نہیں رہتی بلکہ تذلیل ہے۔
  4.   بالوں کی تکریم کرنا ضروری ہے (دیکھئے سنن ابی داؤد: ۴۱۶۳ و سندہ حسن، اسے ابن حجر نے فتح الباری ۳۶۸/۱۰ میں حسن کہا ہے۔
بالوں کی تکریم درج ذیل چیزیں آتی ہیں:
  1.   پہلی دائیں طرف سے کنگھی کرنا اور یہ بہت زیادہ مستحب ہے۔
  2. ایک دن چھوڑ کر کنگھی کی جائے۔

کنگھی کرنے کے آداب

         سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں ((کان النبي ﷺ یعجبہ التیمن في تنعلہ و ترجلہ)) نبی کریم ﷺ جوتا پہننے میں اور کنگھی کرنے میں دائیں طرف کو پسند فرماتے ۔ (صحیح البخاری : ۵۹۲۶)

ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ (النسائی ۱۳۲/۸ ح ۵۰۶۱ و سندہ صحیح)

فائدہ:حائضہ عورت اپنے خاوند کی کنگھی کر سکتی ہے ۔ امام بخاریؒ نے باب قائم کیا ہےباب ترجیل الحائض زوجھا  (کتاب اللباس قبل ح : ۵۹۲۵)

3) بالوں میں مانگ نکالنی چاہئے اور یہ مستحب ہے ۔

سیدنا عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ “رسول اللہ ﷺ اپنے بالوں کو چھوڑا کرتے تھے اور مشرکین اپنے بالوں میں مانگ نکالتے تھے جبکہ اہل کتاب اپنے بالوں کو چھوڑا کرتے تھے۔ جس کام میں آپ کو کوئی حکم نہیں دیا جاتا تھا تو آپ اس میں اہل کتاب کی موفقت پسند کرتے تھے پھر آپﷺ نے اس کے بعد مانگ نکالی” (صحیح بخاری :۳۵۵۸، صحیح مسلم : ۲۳۳۶)

۱:       مانگ تالو سے نکالنی چاہئے۔

          سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ “جب میں رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک کے بالوں میں مانگ نکالتی “صدعت الفرق من یافوخہ و أرسل ناصیتہ بین عینیہ“تالو سے (بالوں کے دو حصے کرکے) مانگ چیرتی اور آپ ﷺ کی پیشانی کے بال دونوں آنکھوں کے درمیان چھوڑتی ۔ ” (ابو داود :۴۱۸۹ و سندہ حسن)

تنبیہ:    ٹیڑھی مانگ اور انگریزی حجامت سے ہر صورت بچنا ضروری ہے کیونکہ اس سے کفار سے مشابہت ہوجاتی ہے ۔

اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے : ((من تشبہ بقوم فھو منھم)) جو شخص کسی قسم سے مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں ہوگا (ابوداود ۴۰۳۱ و سندہ حسن، و الطحاوی فی مشکل الآثار ۸۸/۱)

۲:      بالوں میں تیل لگانا

          رسول اللہ ﷺ جب اپنے بالوں میں تیل لگاتے تو پھر آپ ﷺ کے جو چند سفید بال تھے نظر نہیں آتے تھے اور جب تیل نہ لگاتےتو یہ بال نظر آتے تھے ۔(صحیح مسلم: ۲۳۴۴)

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کبھی تیل لگانا چاہئے اور کبھی نہیں لگانا چاہئے۔

اگر ضرورت ہو تو دن میں دو دفعہ بھی بالوں میں تیل لگایا جاسکتا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ بعض اوقات دن میں دو دفعہ تیل لگاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۳۹۲/۸ ح ۲۵۵۴۹  و سندہ صحیح)

۳:      بالوں میں خوشبو لگانا

          سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیںکنت أطیب رسول اللہ ﷺ بأطیب مایجد....” میں رسول اللہ ﷺ (کے بالوں) میں سب سے اچھی خوشبو لگاتی جو آپ کو دستیاب ہوتی ۔ (صحیح البخاری : ۵۹۲۳)

اس حدیث پر امام بخاریؒ نے یہ باب باندھا ہے کہباب الطیب فی الرأس و اللحیۃ یعنی “سر اور داڑھی میں خوشبو لگانے کا باب”

فائدہ:    اگر کوئی شخص کسی کو خوشبو دے تو اسے واپس نہیں کرنی چاہئے بلکہ خوشبو لے لینی چاہئے۔ (صحیح بخاری: ۵۹۲۹)
۴:      بالوں کی چوٹی بنا کر یا انہیں گوندھ کر نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔

          سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے عبداللہ بن حار ثؓ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور ان کا سر پیچھے سے گوندھا ہوا تھا۔ آپ کھڑے ہوئے اور اس کو کھول دیا۔ جب عبداللہ بن حارثؓ نے نماز مکمل کرلی تو آپ کی طرف متوجہ ہو کر کہا: آپ کو کیا ہے میرے سر کے (بالوں کے) بارے میں؟ تو عبداللہ بن عباسؓ نے کہا کہ بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو (بالوں کو گوندھنے والے آدمی کے بارے میں) فرماتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا : ((إنما مثل ھٰذا مثل الذي یصلي وھو مکتوف)) یہ تو اس آدمی کی طرح لگ رہا ہے جسے باندھا گیا ہو۔” (صحیح مسلم: ۴۹۲)

(فائدہ:    اس روایت کو مدِنظر رکھتے ہوئے بعض علماء نے “کف الشوب” (کپڑا لپیٹنے) سے ممانعت والی حدیث (البخاری : ۸۰۹، ۸۱۰ ومسلم : ۴۹۰) سے یہ استدلال کیا ہے کہ آستینیں چڑھا کر نماز نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ اس سے “کف الشوب” لازم آتا ہے ۔)
۵:      بال درج ذیل طریقوں سے رکھنا جائز ہیں
۱:        نصف کانوں تک۔

          سیدنا انسؓ فرماتے ہیں:کان شعر رسول اللہ ﷺ إلی نصف أذنیہرسول اللہ ﷺ کے بال نصف کانوں تک تھے ۔(صحیح مسلم: ۲۳۳۸)

۲:       کندھوں سے اوپر اور کانوں کی لَو سے نیچے تک

          سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن غسل کرلیا کرتے تھے ۔ وکان لہ شعر فوق الجمۃ و دون الوفرۃ آپﷺ کے بال کندھوں کے اوپر اور کانوں کی لو سے نیچے تھے ۔(ابو داود : ۴۱۸۷ و سندہ حسن) اس حدیث کے بارے میں امام ترمذیؒ نے فرمایا : “حسن صحیح غریب” (۱۷۵۵)

۳:       کانوں کی لو کے برابر

          سیدنا براء بن عازبؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا قد درمیانہ تھا، دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا ۔ عظیم الجمۃ إلیٰ شحمۃ أذنیہآپﷺ کے بال بہت لمبے تھے جو کانوں کی لو تک پڑتے تھے ۔ (صحیح البخاری ۳۵۵۱، صحیح مسلم: ۲۳۳۷ و اللفظ لہ)

۶:      بالوں کو کسی چیز سے چپکانا (بھی) صحیح ہے

          سیدنا عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہرأیت رسول اللہ ﷺ ملبداً میں نے رسول اللہ ﷺ کے بالوں کو لیس دار چیز یا گوند سے چپکا ہوا دیکھا۔ (صحیح البخاری : ۵۹۱۴) اور یہ حج  کا موقع تھا۔ (صحیح البخاری: ۵۹۱۵)

۷:      درج ذیل صورتوں میں سر کے تمام بال منڈوانا جائز ہے
۱:        جب کوئی کافر مسلمان ہو (تفصیل بعد میں آئے گی انشاء اللہ)
۲:        جب بچہ پیدا ہو تو پیدائش کے ساتویں دن (تفصیل بعد میں آئے گی انشاء اللہ)
۳:       بطور ضرورت ۔

          سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا جعفر کی اولاد کو (ان کے شہید ہونے کے بعد) تین دن مہلت دی، پھر آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ آج کے بعد میرے بھائی (جعفرؓ) پر مت رونا۔ پھر فرمایا کہ میرے بھتیجوں کو میرے پاس لے کر آؤ چنانچہ ہم سب آپ ﷺ کی خدمت میں لائے گئے اور اس وقت ہم چُوزوں کی طرح (بہت کم سن) تھے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ “بال مونڈنے والے کو بلا کر میرے پاس لاؤ ” (جب وہ آگیا تو) آپﷺ نے اسے (ہمارے بال) مونڈنے کا حکم دیا اور اسی نے ہمارے سروں کو مونڈا۔ “ (ابو داود : ۴۱۹۴، و سندہ صحیح و صححہ النووی فی ریاض الصالحین : ۱۶۴۲ علیٰ شرط البخاری و مسلم، النسائی : ۵۲۲۹)

          سیدنا ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ “رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا جس کا آدھا سر مونڈا ہوا تھا اور  آدھا نہیں مونڈا ہواتھا، آپ ﷺ نے فرمایا : ((احلقوہ کلہ أو اترکوہ کلہ)) اس کے سر کے سارے بالوں کو مونڈدو یا سارے بال چھوڑ دو ۔ ” (ابوداود : ۴۱۹۵ و سندہ صحیح)

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سر کے تمام بالوں کو بطور ضرورت مونڈنا صحیح ہے .

سیدنا عبداللہ بن عمرؓنے میدنے میں قربانی کی اور اپنا سر مونڈا یعنی مونڈوایا۔
                              (مصنف ابن ابی شیبہ ۲۳۷/۳ ح ۱۳۸۸۸ وسندہ صحیح، طبعۃ دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

بہتر یہی ہے کہ حج اور عمرے کے علاوہ عام دنوں میں سر نہ منڈایا جائے لیکن اگر کوئی بیماری یا عذر ہو تو ہر وقت سر منڈوانا جائز ہے ۔ جو کام بچوں کے لئے جائز ہے وہ کام بڑوں کے لئے بھی جائز ہے اِلا یہ کہ کوئی صریح و خاص دلیل مردوں کو اس سے خارج کردے۔ خوارج کے ساتھ خشوعِ نماز، قراءتِ قرآن اور سر منڈانے میں مشابہت کا یہ مطلب غلط ہے کہ یہ افعال ناجائز ہیں۔[
۴:       حج اور عمرہ کے موقع پر

          قرآن مجید میں ہے ﴿لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمۡ وَ مُقَصِّرِیۡنَ ۙ لَا تَخَافُوۡنَ ؕتم لوگ مسجد حرام میں ضرور داخل ہوگے ان شاء اللہ اس حال میں کہ تم سر منڈائے اور بال ترشوائے ہوگے کسی کا خوف نہ ہوگا۔ (الفتح : ۲۷)

حدیث میں ہے کہ سیدنا ابن عمرؓفرمایا کرتے تھے :حلق رسول اللہ ﷺ في حجتہرسول اللہ ﷺ نے حج کے موقع پر اپنے سر کے بال منڈوائے ۔ (صحیح البخاری : ۱۷۲۶)

تفصیل کے لئے دیکھئے صحیح البخاری (۱۷۲۶۔ ۱۷۳۰)س جانور ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوایا جائے تو بھی صحیح ہے  (صحیح بخاری : ۱۷۲۱) عمرہ کے بعد سر کے بال منڈوانا صحیح ہے ۔ (صحیح البخاری : ۱۷۳۱) حج یا عمرہ میں بالوں کو کٹوانا بھی صحیح ہے ۔ (صحیح البخاری: ۱۷۲۷، ۱۷۳۱)
فائدہ (۱): مذکورہ صورتوں میں بالوں کا مونڈنا تو ثابت ہے لیکن یہ بھی یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تمام مونڈنے سے منع بھی نہیں فرمایا جس کام میں خاموشی ہو اس کا کرنا جائز ہے چنانچہ سر  کے تمام بالوں کو مونڈنا جائز ہے مگر افضل و سنت یہی ہے کہ بال (وفرہ، جمہ ، لمہ) رکھے جائیں کیونکہ احرام کھولنے کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کے بالوں کی یہی کیفیت بیان ہوئی ہے ۔ (دیکھئے احکام و مسائل شیخ نور پوری۵۳۱/۱)
فائدہ(۲):         سر کے بال قینچی سے کٹوانا بھی جائز ہے ۔

          قرآن مجید میں ہے کہ ﴿لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمۡ وَ مُقَصِّرِیۡنَ ۙ لَا تَخَافُوۡنَ ؕتم لوگ مسجد حرام میں ضرور داخل ہوگے ان شاء اللہ اس حال میں کہ تم سر منڈائے اور بال ترشوائے ہوگے کسی کا خوف نہ ہوگا۔ (الفتح : ۲۷)

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ((اے اللہ رحمت کر سرمنڈوانے والوں پر، صحابہؓ نے عرض کیا : اور بال ترشوانے والوں پر اے اللہ کے رسول ﷺ، آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ رحمت کر سرمنڈوانے والوں پر ، صحابہؓ نے عرض کیا اور بال ترشوانے والوں پر، آپﷺ نے فرمایا : اور  بال ترشوانے والوں پر ))(صحیح البخاری : ۱۷۲۷)

          سیدنا عبداللہ بن مسعودؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ ؓ کی ایک جماعت نے سر منڈوایا اور بعض صحابہؓ نے بال ترشوائے ۔ (صحیح البخاری: ۱۷۲۹)

فائدہ (۳):          کا ٹے ہوئے بالوں کو دفن کرنا ضروری نہیں ہے ۔ حافظ ابن حجر نے صحیح بخاری کی (۵۹۳۸) حدیث سے یہ استدلال کیا ہے ۔ (فتح الباری  ۴۶۱/۱)
]عبداللہ بن عمرؓ سے ثابت ہے کہ و ہ بالوں ( اور ناخنوں ) کو (زمین میں) دفن کردیتے تھے۔
(کتاب الترجل للخلال : ۱۴۶ وسندہ حسن، عبداللہ بن عمر العمری حسن الحدیث عن نافع و ضعیف الحدیث عن غیرہ، و محمد بن لی ھو حمدان بن علی بن عبداللہ بن جعفر : ثقۃ)

امام احمدؒ بھی انہیں دفن کرنے کے قائل تھے۔ (الترجل : ۱۴۶ و سندہ صحیح)

قاسم بن محمد بن ابی بکر اپنے بال منیٰ میں دفن کرتے تھے ۔(مصنف ابن ابی شیبہ ۴۱۷/۸ ح ۲۵۶۵۴ و سندہ صحیح)

معلوم ہوا کہ بالوں کو دفن کرنا جائز یا بہتر ہے اور اگر نہ کئے جائیں تو بھی بہتر اور جائز ہے ۔ [
اعتراض کا جواب:   بعض کہتے ہیں کہ سرمنڈانا منع ہے کیونکہ حدیث میں آتا ہے سر منڈانا خارجیوں کی علامت ہے ۔حالانکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو خارجی ہے وہ سرمنڈاتا ہے یہ مقصود نہیں ہے کہ جو سر منڈاتا ہے وہ خارجی ہے ۔(دیکھئے احکام و مسائل للشیخ نورپوری ۵۳۱/۱)
فائدہ (۴):          دائیں طرف سے پہلے بالوں کو کٹوائیں۔ تفصیلی بحث کے لئے دیکھیں فتح الباری (۳۶۴/۱)
۹:      سفید بالوں کے احکام :       اس کی درج ذیل صورتیں ہیں:
          ۱:        سفید بالوں کو اکھیڑنا              ۲:        سفید بالوں کو رنگ کرنا۔
۱:       سفید بالوں کو اکھیڑنا حرام ہے ۔

         عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((لا تنتفوا الشیب فإنہ نور المسلم)) إلخ سفید بالوں کو نہ اکھیڑو کیونکہ بڑھاپا (بالوں کا سفید ہونا) مسلمان کے لئے نورہے  جو شخص حالتِ اسلام میں بڑھاپے کی طرف قدم بڑھاتا ہے (جب کسی مسلمان کا ایک بال سفید ہوتا ہے ) تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے ۔ “
(ابوداود: ۴۲۰۲ و سندہ حسن، ابن عجلان صرح بالسماع) امام ترمذی (۲۸۲۱) نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ۔

۲:      سفید بالوں کو رنگنا۔
          بالوں کو رنگنا خضاب کہلاتا ہے  اور اس کی درج ذیل صورتیں اور قسمیں ہیں:
۱:        رسول اللہ ﷺ نے بالوں کو رنگنے کا حکم دیا ہے ۔

          سیدنا ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ((غیر و الشیب ولا تشبھوا بالیھود)) بڑھاپے (بالوں کی سفیدی) کو (خضاب کے ذریعے ) بدل ڈالو اور (خضاب نہ لگانے میں) یہودیوں کی مشابہت نہ کرو۔ (الترمذی: ۱۷۵۲ و قال : “حسن صحیح وسندہ حسن”)

          ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہودی اور نصرانی (عیسائی) خضاب نہیں لگاتے لہٰذا تم ان کے خلاف کرو(تم خضاب لگاؤ) (صحیح البخاری : ۵۸۹۹ ، صحیح مسلم: ۲۱۰۳)

۲:        مہندی کا خضاب(رنگ) لگانا یا مہندی میں کوئی چیز ملا کر سفید بالوں کو رنگین کرنا بھی جائز ہے ۔
۳:       زرد خضاب لگانا بھی ٹھیک ہے ۔

          سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ “رسول اللہ ﷺ دباغت دیئے ہوئے اور بغیر بال کے چمڑے کا جوتا پہنتے تھے اور اپنی ریش مبارک (داڑھی) پر آپ ورس (ایک گھاس جو یمن کے علاقے میں ہوتی تھی) اور زعفران کے ذریعے زرد رنگ لگاتے تھے ” (ابوداود : ۴۲۱۰ وسندہ حسن ، النسائی : ۵۲۴۶)
          احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے بعض دفعہ سرخ اور زرد خضاب لگایا ہے اور بعض دفعہ نہیں بھی لگایا۔ نیز دیکھئے فتح الباری (۳۵۴/۱۰)

          شیخ نور پوری حفظہ اللہ لکھتے ہیں :”احادیث میں رسول اللہ ﷺ کے بالوں کو رنگنے کا بھی ذکر ہے اور نہ رنگنے کا بھی، جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے رنگنے سے تعلق امرندب پر محمول ہے البتہ کل کے کل بال سفید ہوجائیں کوئی ایک بال بھی سیاہ نہ رہے تو پھر رنگنے کی مزید تاکید ہے ۔” (احکام و مسائل شیخ نورپوری ۵۳۱/۱)

۴:       سفید بالوں میں سیاہ خضاب (رنگ) لگانا درج ذیل دلائل کی روشنی میں حرام ہے :

۱:        سیدنا جابر بن عبداللہ ؓسے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن سیدنا ابوبکرؓ کے والد ابوقحافہؓ کو لایاگیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال بالکل سفید تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :غیر واھذا بشیئ و اجتنبوا السواد اس کا رنگ بدلو اور کالے رنگ سے بچو۔ (صحیح مسلم : ۵۵۰۹/۲۱۰۲)

۲:        سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ایسی قومیں آخر زمانہ میں آئیں گی جو کبوتر کے پپوٹوں کی طرح کالے رنگ کا خضاب کریں گی وہ جنت کی خوشبوتک نہ پائیں گی”                                                  (ابوداود: ۴۲۱۲ وسندہ صحیح، النسائی: ۵۰۷۸)

]اس کا راوی عبدالکریم الجزری (مشہور ثقہ ) ہے ۔ دیکھئے شرح السنہ للبغوی ۹۲/۱۲ ح ۳۱۸۰[
          درج ذیل علامء نے بھی کالے خضاب کو دلائل کی روشنی میں حرام قرار دیا ہے :
۱:        امام نووی (شرح مسلم: ۱۹۹/۲)             ۲:        حافظ ابن حجر (فتح الباری : ۵۷۶/۶)
۳:       ابوالحسن سندھی (حاشیہ ابن ماجہ: ۱۶۹/۴)     ۴:       عبدالرحمٰن مبارکپوری (تحفۃ الاحوذی : ۵۷/۳)
تفصیل کے لئے دیکھیں (سیاہ خضاب کی شرعی حیثیت از امام بدیع الدین شاہ راشدی )
۱۰:     مصنوعی بال (وِگ) لگانا حرام ہے ۔

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ((لعن اللہ الواصلۃ والمستوصلۃ….))
          اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو بال جوڑنے اور جڑوانے والی پر ۔        (صحیح البخاری: ۵۹۳۳)

امام بخاریؒ اس مسئلے میں بہت سی احادیث لائے ہیں تفصیل کے لئے دیکھیں۔
                                        (صحیح البخاری: ۵۹۳۲- ۵۹۳۸  اور ۵۹۴۰- ۵۹۴۳)
۱۱:     وضو میں سر کا مسح کرنا:

۱:        سیدنا عبداللہ بن زید ؓ نے مسنون وضو کا طریقہ خود عمل کرکے دکھلایا ۔ اس میں آ پ نے سر کا مسح اس طرح کیا کہ “دونوں ہاتھ سر کے اگلے حصہ سے شروع کر کے گدی تک پیچھے لے گئے پھر پیچھے سے آگے اسی جگہ لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔ ” (صحیح بخاری : ۱۸۵، صحیح مسلم: ۲۳۵)

۲:        مکمل سر کا مسح کرنا چاہئے۔ قرآن مجید میں ہے ﴿وَامْسَحُوْا بِرُءُ وْسِکُمْ﴾ اور تم مسح کرو اپنے سروں کا ۔ (المآئدۃ: ۶)

          حمران مولیٰ عثمان ؒ نے سیدنا عثمان بن عفانؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، حمران بیان کرتے ہیں کہ “ثم مسح برأسہ” پھر آپؓ نے اپنے سر کا مسح کیا ۔ (صحیح البخاری : ۱۵۹)

اور سیدنا عبداللہ بن زیدؓ کی حدیث میں بھی یہی گزرا ہے ۔

امام بخاری نے باب قائم کیا ہے :”باب مسح الراس کلہ” مکمل سر کا مسح کرنا۔ (صحیح بخاری قبل ح :۱۸۵)

۳:       سر کا مسح ایک دفعہ ہی کرنا چاہئے۔ (صحیح بخاری: ۱۸۶، صحیح مسلم : ۲۳۵)

صحیح بخاری: ۱۹۲میں سر پر ایک مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے اور اس حدیث پر باب باندھا ہے “باب المسح الرأس مرۃ” سر پر ایک مرتبہ مسح کرنا ہے ۔

امام ابن القیم لکھتے ہیں کہوالصحیح أنہ لم یکرر مسح رأسہ صحیح بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے تکرار مسح الراس نہیں کیا۔ (ابن القیم) مزید لکھتے ہیں کہ “تکرار مسح کے بارے میں جو احادیث آتی ہیں اگر کوئی صحیح ہے تو وہ صریح نہیں ہے اور اگر صریح ہے تو وہ صحیح نہیں ہے ” (زاد المعاد :۹۳/۱)

تفصیلی بحث کے لئے دیکھیں عون المعبود (۹۳/۱ ط دار احیاء التراث ) اور تحفۃ الاحوذی (۴۴/۱- ۴۶)
صحیح مسلم (۱۲۳/۱) میں بھی سر پر ایک مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے۔ امام ابوداود نے بھی سر پر ایک دفعہ مسح کرنے کو ترجیح دی ہے ۔ (ابوداود تحت ح :۱۰۸) نیز دیکھئے سنن ترمذی(قبل ح : ۳۴)
۴:       بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ صرف چوتھائی سر کا مسح فرض ہے ، یہ بالکل غلط بات ہے ۔
۵:       پگڑی پر مسح کرنا صحیح ہے ۔

          جعفر بن عمرو اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے عمامہ مبارک پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ (صحیح بخاری: ۲۰۵)

۶:        پیشانی اور پگڑی دونوں پر بھی مسح کرنا صحیح ہے ۔

          سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، آپ نے اپنی پیشانی ، اپنی پگڑی اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ ” (صحیح مسلم: ۲۷۳)

۷:       سر پر مسح کے لئے نیا پانی لینا چاہئے۔

          سیدنا عبداللہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ “مسح برأسہ بماء غیر فضل یدہ” آپﷺ نے اپنے سر مبارک کا مسح تازہ پانی لے کر کیا۔ (صحیح مسلم : ۱۲۳/۱ درسی ح : ۲۳۶)

۸:       سر کے مسح کے لئے نیا پانی نہ لینا اور صرف ہاتھوں پر موجود تری سے مسح کرنا بھی صحیح ہے۔

          مشہور تابعی عروہ بن الزبیرؒ (وضو کے دوران میں) ہاتھوں پر بچے ہوئے پانی سے مسح کرتے تھے ۔                                                            (ابن ابی شیبہ ۲۱/۱ح ۲۱۲ و سندہ صحیح)

تنبیہ:    بہتر یہی ہے کہ سر اور کانوں کے مسح کےلئے تازہ پانی لیا جائے۔
۹:        غسل جنابت سے وضو میں سر کا مسح کرنے کے بجائے پانی سر پر ڈالنا چاہئے۔
۱۔        سیدہ میمونہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غسل کا ارادہ فرمایا…. ((ثم أفاض علیٰ رأسہ الماء)) پھر آپ ﷺ نے اپنے سر پر پانی ڈالا۔ (صحیح بخاری: ۲۷۴)

سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ بے شک عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے غسل جنابت کے متعلق سوال کیا …. ((حتیٰ إذا بلغ رأسہ لم یمسح وأفرغ علیہ الماء)) جب آپ وضو کرتے ہوئے سر تک پہنچے تو آپ نے سر کا مسح نہیں کیا بلکہ سر پر پانی ڈالا۔ (سنن النسائی: ۴۲۲ و سندہ صحیح غریب) اس حدیث پر امام نسائیؒ نے یہ باب باندھا ہے باب ترک مسح الرأس فی الوضوء من الجنابۃ جنابت کے وضو میں سر کے مسح کو ترک کرنا (۲۰۵/۱ قبل ح ۴۲۲)

۲۔       سر پر تین بار پانی ڈالنا چاہئے۔

          سیدہ میمونہؓ کی حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ “وغسل رأسہ ثلاثاً” آپﷺ نے اپنے سر کو تین بار دھویا۔ (صحیح البخاری: ۲۶۵)

سیدنا جبیر بن معطمؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ “میں اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتا ہوں” (صحیح البخاری : ۲۵۴) امام بخاریؒ نے یہ باب باندھا ہے کہ “جس آدمی نے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا” اس کے تحت اور بھی احادیث لائے ہیں۔

۳۔       سر پر پہلے دائیں طرف پانی ڈالیں پھر بائیں طرف۔        (صحیح البخاری: ۲۵۸)
۱۳۔      غسل جنابت کے وضو میں سر کا مسح کرنا بھی صحیح ہے۔

سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ “بے شک نبی ﷺ جب غسل جنابت کرتے پہلےآپ اپنے ہاتھوں کو دھوتے”ثم توضأ کما یتوضأ للصلوٰۃ” پھر آپ وضو کرتے جس طرح نماز کے لئے وضو کرتے۔ (صحیح البخاری: ۲۴۸)

جب ہم نماز کا وضو کرتے ہیں تو اس میں سر کا مسح کرتے ہیں۔
۲:      نو مسلم (New Muslim)  کے بال
         نو مسلم کے سر کے بالوں کے بھی وہی احکام ہیں جو عام مسلم کے احکام ہیں۔
تنبیہ:    سنن ابی داود (۳۵۶) مستدرک الحاکم (۵۷۰/۳ ح ۶۴۲۸) اور المعجم الکبیر للطبرانی (۱۴/۱۹ ح ۲۰) کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر مسلمان ہونکے بعد سر کے بال منڈوائے گا۔ یہ ساری روایات ضعیف و مردود ہیں اور انہیں حسن قرار دینا غلط ہے ۔
۳:      بچوں کے بالوں کے احکام
۱:        جب بچہ سات دن کا ہوجائے تو ساتویں دن بچے کے سر بال منڈانے چاہئیں۔
                              (منتقیٰ ابن الجارود: ۹۱۰ و سندہ حسن، روایۃ الحسن عن سمرۃ کتاب والا حتجاج بالکتاب صحیح والحمدللہ)
۲:        جو بال ساتویں دن اتارے جائیں تو ان کے برابر وزن کرکے چاندی صدقہ کی جائے۔
                                                            (السنن الکبریٰ للبیہقی ۳۰۴/۹ و سندہ حسن)
۳:       بالوں کو تھوڑا سا چھوڑ کر باقی منڈوا دینا منع ہے۔

سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ “نھی رسول اللہ ﷺ عن القزع” رسول اللہ ﷺ نے قزع سے منع فرمایا ۔ (صحیح البخاری : ۵۹۲۰، صحیح مسلم: ۲۱۲۰)

قزع کی چار قسمیں ہیں:
۱:        سر کے بال سارے نہ مونڈنا بلکہ جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے بادلوں کی طرح، ٹکڑیوں میں مونڈنا۔
۲:        درمیان سے سر کے بال مونڈنا اور اطراف میں بال چھوڑ دینا۔
۳:       اطراف مونڈنا اور درمیان سے سر کے بال چھوڑ دینا۔
۴:       آگے سے بال مونڈنا اور پیچھے سے چھوڑ دینا۔
          علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

          “عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی کمال محبت و شفقت ہے ۔ انسانی جسم میں بھی عدل کا خیال رکھا کہ سر کا بعض حصہ مونڈ کر اور بعض حصہ ترک کرکے سر کے ساتھ بے انصافی نہ کی جائے ۔ بالوں سے کچھ حصہ سر کا ننگا کر دیا جائے اور کچھ حصہ ڈھانک دیا جائے یہ ظلم کی ایک قسم ہے ۔” (تحفۃ المودود بأ حکام المولود ص ۶۹)

          سیدنا ابن عمرؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے سر کا کچھ حصہ منڈا ہوا تھا اور بعض چھوڑا ہوا تھا آپﷺ نے ان کو ایسا کرنے سے روکا اور فرمایا: ((احلقوہ کلہ أو اترکوہ کلہ)) تم اس کا سارا سر مونڈویا سارا سر چھوڑو۔ (ابو داود : ۴۱۹۵ و سندہ صحیح) اس حکم میں جوان اور بڑے مرد بھی شامل ہیں اور صرف بچوں کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔

۴:      مسلمان عورت کے سر کے بال
۱:        عورت اپنے سر کے بال نہیں کٹوا سکتی کیونکہ اس سے مردوں کی مشابہت لازم آتی ہے۔ لہٰذا منع ہے ۔

          رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((لعن اللہ المشتبھین من الرجال بالنساء و المشتبھات من النساء بالرجال)) اللہ لعنت کرے ان مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں اور (اللہ لعنت کرے) ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ (صحیح بخاری: ۵۸۸۵)

          آج کی جدت پسند عورت ہر کام میں اپنے آپ سے مردوں کو حقیر سمجھتی ہیں۔ اللہ نے عورت کو جو مقام دیا ہے وہ اس سے زیادہ کی امنگ لیے ہوئے ہے اسی لئے وہ ذلیل بنتی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ عورت کی عزت اور مقام اسی میں ہے کہ وہ مردوں کی مشابہت بالکل اختیار نہ کرے۔
          اللہ کی لعنت کی مستحق ہے وہ عورت جو اپنے مردوں کی مشابہت اختیار کرنے کے لئے سر کے بالوں کو کٹواتی ہے۔
۲:        حج اور عمرہ کے موقع پر جب وہ عورت احرام کھولے تو سر کے بالوں کو (آخر سے تقریباً ایک انچ تک) کتروانا چاہئے۔

          سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ((لیس علی النساء الحلق إنما علی النساء التقصیر)) (حج یا عمرہ سے احرام کھولنے کے بعد ) عورتوں پر سر منڈوانا نہیں بلکہ بال کتروانا ہے ۔ ” (ابوداود ۱۹۸۵، الدارمی : ۱۹۱۱و سندہ حسن، و حسنہ ابن حجر فی التلخیص الحبیر ۲۶۱/۲)

۳:       عورت کا اپنے سر کے بال منڈوانا حرام ہے ۔ دلیل کے لئے دیکھئے فقرہ سابقہ : ۲
۴:       عورت مجبوری (شدید بیماری) کی حالت میں اپنے سر کے بال منڈوا سکتی ہے ۔
۵:       فوت شدہ عورت کے بالوں کو تین حصوں میں گوند کر پیچھے ڈال دینا چاہئے۔
          سیدہ ام عطیہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک بیٹی وفات پاگئیں…..”ہم نے (غسل دینے کے بعد) اس کے بال تین حصوں میں گوند کر پیچھے ڈال دیئے ” (صحیح بخاری: ۱۲۶۳)
۶:        جنبی عورت کا غسل جنابت میں اپنے سر کے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں ہے بلکہ اسی طرح اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالے ۔ (صحیح مسلم : ۳۳۰)
۷:       اگر عورت نے حیض (ماہواری کا خون) یا نفاس (وہ خون جو بچے کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک جاری رہتا ہے ) کے ختم ہونے پر غسل کرنا ہے تو پھر سر کے بالوں کا کھولنا ضرور ی ہے ۔ (صحیح البخاری : ۳۱۷)
فائدہ : نفاس اور حیض کا ایک ہی حکم ہے ۔ دیکھیں صحیح البخاری (۲۹۸)
۸:       حیض (یا نفاس) سے نہاتے وقت بالوں میں کنگھی کرنی چاہئے ۔ (صحیح بخاری : ۳۱۶)
۹:        نماز پڑھتے وقت بالغ عورت اپنے سر کے بالوں کو چادر سے ڈھانپ کر نماز پڑھے ورنہ نماز نہیں ہوتی۔

          سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ((لا یقبل اللہ صلاۃ حائض إلابخمار)) جس عورت کو حیض آتا ہے (جو بالغہ ہے ) اللہ تعالیٰ اس کی نماز ڈوپٹہ کے بغیر قبول نہیں کرتا ۔
          (ابوداود: ۶۴۱، الترمذی: ۳۷۷ ، ابن ماجہ ۶۵۵المعجم لابن الاعرابی ۳۲۵،۳۲۶/۲ ح ۱۹۹۶ و ھو حدیث صحیح)

تنبیہ:    اگر سر پر اتنا باریک کپڑا ہے جس سے سر کے بال نظر آرہے ہیں تو اس میں بھی نماز صحیح نہیں ہوگی کیونکہ عورت کو سر ڈھانپ کر نماز پڑھنے کا حکم ہے ۔

۱۰:       عورت کے لئے حرام ہے کہ وہ اپنے بال غیر محرموں کے سامنے کھلے چھوڑے کیونکہ غیر محرم سے عورت کا پردہ کرنا فرض ہے ۔

          ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ﴿یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾ اے نبی (ﷺ)! اپنی بیویوں ، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔ اس طرح زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔(الاحزاب : ۵۹)

          امام ابن سیرینؒ نے ﴿ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ﴾ کی تفسیر کے متعلق عبیدہ السلمانی سے سوال کیا تو انہوں نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانپ لیا اور اپنی بائیں آنکھ ظاہر کی ۔ (تفسیر ابن جریر ۳۳/۲۲ و سندہ صحیح، من طریق ابن عون عن محمد بن سیرین بہ)

          یہ بات کبھی نہ بھولیں کہ اگر انگریز کافر عورت کی طرح پردہ کو مسلمان عورت نے بھی دور کردیا تو کل قیامت کے دن انہی کافر عورتوں کی صف میں کھڑی ہوگی۔
۱۱:       درج ذیل مسئلوں میں عورت کے سر کے بالوں کے احکام مرد کی طرح ہیں مثلاً:
۱:        بال پاک ہیں۔        ۲:        بالوں کی خرید و فروخت کرنا نا جائز ہے ۔      ۳:       بالوں کوکنگھی کرنا۔
۴:       کنگھی دائیں سے شروع کرنا ۔      ۵:       مانگ تالو سے نکالنا ۔   ۶:        بالوں میں تیل لگانا۔
۷:       بالوں کو گوند کر یا چوٹی بنا کر نماز نہ پڑھنا۔      ۸:       بالوں کو کسی چیز سے چپکانا۔      
۹:        سفید بالوں کو اکھیڑنا حرام ہے ۔    ۱۰:       سفید بالوں کو کالے رنگ کے علاوہ مہندی یا زرد رنگ یا کسی اور رنگ سے رنگنا ۔    ۱۱:          مصنوعی بال (وگ) لگانا حرام ہے ۔ ۱۲:       وضو میں سر کا مسح کرنا۔          ۱۳:      غسل جنابت کے وضو میں سر کا مسح کرنے کے بجائے تین چلو ڈالنا۔ یا مسح کرنا۔
مذکورہ تمام احکام کی تفصیل (مسلمان مرد کے بالوں کے احکام) میں گزر چکی ہے ۔
۲:      ابرؤوں (ابرواں) کے بالوں کے احکام  (یہ احکام عورت کے ساتھ خاص ہیں)
ابروؤں کے بال اتارنا یا باریک کرنا حرام ہیں۔

          سیدنا عبداللہ بن مسعودؓنے فرمایا : “گودنے والی اور خوبصورتی کے لئے ابروؤں کے بال اتارنے والی (یا باریک کرنے والی) دانتوں کو جدا کرنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو جو اللہ کی خلقت کو بدلتی ہیں یہ حدیث بنی اسد  کی ایک عورت کو پہنچی اس کی کنیت ام یعقوب تھی وہ عبداللہ بن مسعودؓکے پاس آئی اور کہنے لگی : مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ تم نے ایسی ایسی عورت پر لعنت کی ہے ؟ انھوں نے کہا : بے شک میں تو ضرور اس پر لعنت کروں گا جس پر  نبیﷺ نے لعنت کی ہے اور اللہ کی کتاب میں اس پر لعنت آئی ہے ۔ وہ عورت کہنے لگی: میں نے تو سارا قرآن دو تختیوں کے درمیان پڑھا ہے اس میں تو کہیں ان عورتوں پر لعنت نہیں آئی ہے ۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا : اگر تو قرآن کو (غور و فکر اور سمجھ کر ) پڑھتی تو ضرور یہ مسئلہ پا لیتی کیا قرآن میں تو نے یہ نہیں پڑھا کہ پیغمبر جس بات کا تم کو حکم دے اس پر عمل کرو اور کس بات سے منع کرے اس سے باز رہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں یہ آیت تو قرآن میں ہے ۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا :نبی ﷺ نے ان باتوں سے منع کیا ہے ۔ وہ عورت کہنے لگی: تمہاری بیوی بھی تو یہ کرتی ہے، انہوں نے کہا: جا دیکھ جب وہ گئی وہاں کوئی بات نہ پائی ۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا اگر میری بیوی ایسے کام کرتی تو بھلا وہ میرے ساتھ رہ سکتی تھی ” (صحیح بخاری: ۴۸۸۶)

اللہﷻ ہماری مسلمان ماؤں اور بہنوں کو اس لعنت  کے مستحق عمل سے محفوظ فرمائے۔
فائدہ (۱): چہرے کے بالوں کو نوچنا خوبصورتی کے لئے حرام ہے۔
یہ عورتوں کے ساتھ خاص ہے ۔ دلیل (ابرؤوں کے بالوں کے احکام میں گزر چکی ہے )
فائدہ (۲):         عورت کا اپنے چہرے کے غیر عادی بالوں (داڑھی یا مونچھیں ) کو زائل کرنا درست ہے۔
حافظ ابن حجر نے امام نووی کا قول نقل کیا ہے کہ “چہرے سے بال نوچنے سے داڑھی، مونچھیں یا بچہ داڑھی مستثنیٰ ہیں عورت کا انہیں زائل کرنا حرام نہیں بلکہ مستحب ہے ” پھر حافظ ابن حجر نے کہا کہ “اس قول کو مفید کہا جائے گا کہ وہ عورت اپنے خاوند سے اجازت لے کہ میں اپنی داڑھی یا مونچھیں یا بچہ داڑھی زائل کرلوں یا اسے اس کا علم ہونا چاہئے ورنہ خاوند کو دھوکا رہتا ہے ۔” (فتح الباری ۴۶۲/۱۰)
شیخ محمد بن الصالح العیثمین لکھتے ہیں:”ایسے بال جو جسم کے ان حصوں میں اگ آئیں جہاں عادتاً بال نہیں اگتے مثلاً عورت کی مونچھیں اگ آئیں یا رخساروں پر آجائیں تو ایسے بالوں کو اتارنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ خلافِ عادت اور چہرے کے لئے بدنمائی کا باعث ہیں ” (فتاویٰ برائے خواتین: ص ۳۴۲- ۳۴۳)
۳:      رخساروں کے بالوں کے احکام (یہ مردوں کے ساتھ خاص ہیں)
اللحیۃ (داڑھی) کی تعریف لغت میں ہے کہ “دونوں رخساروں اور ٹھوڑی کے بال” (القاموس الوحید ص ۱۴۶۲)
فائدہ: بچہ داڑھی بھی داڑھی میں شامل ہے۔
عنفقہ“(نچلے ہونٹ اور تھوڑی کے درمیان کے بال) بھی داڑھی میں شامل ہے جو اسے خارج سمجھتے ہیں یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ جو بال نیچے کے چپاڑے پر ہیں ان کے داڑھی میں داخل ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
                                                            (فتاویٰ اہلحدیث ۲۷۳/۱ بحوالہ فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ ۵۷/۱)
فائدہ:    گھنڈی اور گردن کے بال داڑھی میں شامل نہیں ، ان کو لینا جائز ہے ۔(فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ : ۷۸۲/۱)
۴:      داڑھی کے احکام
۱:        داڑھی رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ((عشر من الفطرۃ قص الشارب و اعفاء اللحیۃ)) دس خصلتیں فطرت میں سے ہیں جن میں سے مونچھیں تراشنا اور داڑھی بڑھانا بھی ہے ۔ (صحیح مسلم: ۲۶۱)

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ((خالفوا المشرکین وفروا اللحی واعفو الشوارب)) مشرکوں کی مخالفت کرو داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو پست کرو۔                              (صحیح بخاری : ۵۸۹۲، صحیح مسلم: ۲۵۹)

صحیح بخاری (۵۸۹۳) میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ((انھکوا الشوارب و اعفوا اللحی)) داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو اچھی طرح کاٹو۔

          سیدنا ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول (ﷺ) اہل کتاب داڑھیوں کو کاٹتے ہیں اور مونچھوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ: تم مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ (مسند احمد: ۲۶۴/۵ و سندہ حسن، حسنہ ابن حجر فتح الباری ۳۵۴/۱۰)
معلوم ہوا کہ داڑھی رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق دے۔

حافظ عبدالمنان نور پوری حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ “کچھ لوگوں نے یہ مسئلہ بنایا ہے کہ داڑھی رکھنا سنت  ہے، فرض نہیں ۔عام لوگوں کا یہ ذہن ہے اس کو سنت سمجھتے ہیں ۔ یہ نظریہ بھی غلط ہے ۔ داڑھی رکھنا بڑھانا سنت نہیں بلکہ فرض ہے ،واجب ہے اور داڑھی کٹانا فرض اور واجب کی خلاف ورزی ہے ، نافرمانی ہے ، حرام ہے اور گناہ ہے ” (مقالات نور پوری : ص ۲۷۸)

]تنبیہ: جن احادیث میں داڑھیاں چھوڑنے، معاف کرنے اور بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے، ان کے راویوں میں سے ایک راوی سیدنا عبداللہ بن عمرؓ ہیں۔ دیکھئے صحیح بخاری (۵۸۹۲،۵۸۹۳) و صحیح مسلم (۲۵۹)

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے یہ ثابت ہے کہ وہ حج اور عمرے کے وقت اپنی داڑھی کا کچھ حصہ (ایک مشت سے زیادہ کو) کاٹ دیتے تھے ۔ دیکھئے صحیح بخاری (۵۸۹۲) و سنن ابی داود (۲۳۵۷) و سندہ حسن و حسنہ الدارقطنی ۱۸۲/۲ و صححہ الحاکم ۴۲۲/۱ وو افقہ الذہبی)

کسی صحابی سے سیدنا عبداللہ بن عمرؓ پر اس سلسلے میں انکار ثابت نہیں ہے ، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ سیدنا عبداللہ ؓ جیسے متبع سنت صحابی، نبی کریم ﷺ سے ایک حدیث سنیں اور پھر خود ہی اس کی مخالفت بھی کریں۔

سیدنا ابن عباسؓ ایک آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں :”والأخذ من الشارب و الأظفار و اللحیۃ” مونچھوں ، ناخنوں اور داڑھیوں میں سے کاٹنا۔
                    (مصنف ابن ابی شیبہ ۸۵/۴ ح ۱۵۶۶۸ و سندہ صحیح ، تفسیر ابن جریر ۱۰۹/۱۷ و سندہ صحیح)

محمد بن کعب القرظی (تابعی، ثقہ عالم) بھی حج میں داڑھی سے کچھ کاٹنے کے قائل تھے ۔(تفسیر ابن جریر ۱۰۹/۱۷ و سندہ حسن)

ابن جریح بھی اس کے قائل تھے ۔ (تفسیر طبری ۱۱۰/۱۷ و سندہ صحیح)

ابراہیم (نخعی) رخساروں کے بال کاٹتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۳۷۵/۸ ح ۲۵۴۷۳ وسندہ صحیح)

قاسم بن محمد بن ابی بکر بھی جب سر منڈاتے تو اپنی مونچھوں اور داڑھی کے بال کاٹتے تھے۔                                                  (ابن ابی شیبہ : ح ۲۵۴۷۶ و سندہ صحیح)

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ وہ ایک مشت سے زیادہ داڑھی کو کاٹ دیتے تھے ۔                                                  (مصنف ابن ابی شیبہ ۳۷۵/۸ ح ۲۵۴۷۹ و سندہ حسن)

اس کے راوی عمرو بن ایوب کو ابن حبان نے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے (۲۲۵،۲۲۴/۷) اور اس سے شعبہ بن الحجاج نے روایت لی ہے ۔ شعبہ کے بارے میں یہ عمومی قاعدہ ہے کہ وہ (عام طور پر) اپنے نزدیک ثقہ راوی سے ہی روایت کرتے تھے۔ دیکھئے تہذیب التہذیب (۵،۴/۱) اس عمومی قاعدے سے صرف وہی راوی مستثنیٰ ہوگا جس کے بارے میں صراحت ثابت ہوجائے یا جمہور محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہو۔

ان دو توثیقات کی وجہ سے عمرو بن ایوب حسن درجے کا راوی قرار پاتا ہے ۔

طاوس (تابعی) بھی داڑھی میں سے کاٹنے کے قائل تھے۔ (الترجل للخلال : ۹۶ و سندہ صحیح، ہارون ھو ابن یوسف بن ہارون بن زیاد الشطوی ) امام احمد بن حنبل بھی اسی جواز کے قائل تھے۔ (کتاب الترجل: ۹۲)

ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مشت سے زیادہ داڑھی کاٹنا اور رخساروں کے بال لینا جائز ہےتاہم بہتر یہ ہے کہ داڑھی کو بالکل قینچی نہ لگائی جائے ۔ واللہ اعلم
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ صحابی کا عمل دلیل ہے یا نہیں؟ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث کا کون سا فہم معتبر ہے ۔ وہ فہم جو چودھویں پندرھویں ہجری کا ایک عالم پیش کر رہا ہے یا وہ فہم یا جو صحابہ ،تابعین و تبع تابعین اور محدثین کرام سے ثابت ہے ۔؟!

ہم تو وہی فہم مانتے ہیں جو صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین و محدثین اور قابلِ اعتماد علمائے امت سے ثابت ہے ۔ ہمارے علم کے مطابق کسی ایک صحابی ، تابعی ، تبع تابعی ، محدث یا معتبر عالم نے ایک مٹھی سے زیادہ داڑھی کو کاٹنا حرام یا ناجائز نہیں قرار دیا۔ حافظ عبداللہ رو پڑیؒ فرماتے ہیں :”خلاصہ یہ ہے ہم تو ایک ہی بات جانتے ہیں وہ یہ کہ سلف کا خلاف جائز نہیں کیونکہ وہ لغت اور اصطلاحات سے غافل نہ تھے….” (فتاویٰ اہل حدیث ۱ ص ۱۱۱) / زع[

۳:       سفید داڑھی کو رنگنا بھی چاہئے۔ سیدنا ابورمثہؓ سے روایت ہے کہ “میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ نے سر کے بالوں کو مہندی لگائی ہوئی تھی ” (مسند احمد ۱۶۳/۴ ح ۱۷۴۹۸ و سندہ صحیح)
۵:      مونچھوں کے احکام
۱:      مونچھوں کو ترشوانا چاہئے۔

          رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ((عشر من الفطرۃ قص الشارب….)) دس خصلتیں فطرت میں سے ہیں (جن میں) مونچھیں تراشنا بھی ہیں۔ (صحیح مسلم: ۲۶۱)

۲:      مونچھوں کو ترشوانے میں چالیس دن سے تاخیر نہ کرے۔

          سیدنا انسؓ سے روایت ہے : “وقت لنا فی قص الشارب و تقلیم الأظفار و نتف الإبط و حلق العانۃ أن لا نترک أکثر من أربعین لیلۃ” ہمارے لئے وقت مقرر کیا گیا کہ ہم مونچھوں کو ترشوانا، ناخنوں کو اتارنا، بغلوں کے بال نوچنا اور زیر ناف بال مونڈھنے کو چالیس دنوں سے زیادہ تاخیر نہ کریں ۔(صحیح مسلم: ۱۲۹/۱ ح ۲۵۸)

ساری مونچھوں (یا بعض مونچھوں ) کو قینچی سے کاٹنا صحیح احادیث سے ثابت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ((من لم یأخذ من شاربہ فلیس منا)) جو شخص مونچھوں میں سے نہ لے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
                                        (السنن الکبریٰ للنسائی : ۹۲۹۳ و سندہ صحیح)

سیدنا ابن عمرؓ مونچھیں اتنی کاٹتے کہ ان کی (سفید) جلد نظر آتی تھی ۔ (صحیح البخاری قبل ح : ۵۸۸۸ تعلیقاً، رواہ الاثرم کمافی تغلیق التعلیق ۷۲/۵ و سندہ حسن ، الطحاوی فی معانی الآثار ۲۳۱/۴ و سندہ صحیح)

سیدنا عمرؓ بعض اوقات مونچھوں کو تاؤ دیتے تھے۔ (دیکھئے کتاب العلل و معرفۃ الرجال للامام احمد ۲۶۱/۱ ح ۱۵۰۷ و سندہ صحیح) امام مالکؒ کی بھی باریک سروں والی لمبی مونچھیں تھیں۔ (حوالہ مذکور:۱۵۰۷ و سندہ صحیح )

رسول اللہ ﷺ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ کی لمبی مونچھوں کو مسواک سے کاٹا ( یا کٹوایا) تھا۔(دیکھئے سنن ابی داود: ۱۸۸ و سندہ صحیح)

          امام سفیان بن عینیہؒ نے (ایک دفعہ ) اپنی مونچھوں کو استرے سے منڈوایا تھا۔ دیکھئے التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ (ص ۱۶۰ ح ۳۱۱ و سندہ صحیح) معلوم ہوا کہ مونچھیں کاٹنا اور منڈانا دونوں طرح جائز ہیں تاہم بہتر یہی ہے کہ مونچھیں استرے کی بجائے قینچی سے کاٹی جائیں۔

۶:      بغلوں کے بالوں کے احکام
۱: بغلوں کے بالوں کو نوچنا بھی فطرت سے ہے ۔ (صحیح مسلم: ۲۶۱)

جو شخص بغلوں کے بالوں کو اکھاڑنے پر قادر نہ ہو تو انہیں مونڈ سکتا ہے ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے ﴿فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾ اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھتے ہو۔ (التغابن : ۱۶) نیز دیکھئے کتاب الترجل (ص ۱۵۰) و المجموع (۲۸۸/۱)

۲: بغلوں کے بالوں کو نوچنے میں چالیس دن سے تاخیر نہ کرے ۔ (صحیح مسلم: ۱۲۹/۱ح ۲۵۸)
فائدہ:    مونچھوں کو کٹوانا افضل ہے اور منڈوانا بھی جائز ہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھیں (زادالمعاد : ۱۷۸/۱- ۱۸۲)
۷:     زیر ناف بالوں کے احکام :
۱:        زیر ناف بالوں کو مونڈنا فطرت سے ہے (صحیح مسلم: ۲۶)
۲:        زیر ناف بالوں کے مونڈھنے میں چالیس دن سے تاخیر نہ کرے ۔(صحیح مسلم: ۱۲۹/۱ ح ۲۵۸)
فائدہ:    فوت شدہ کے زیر ناف بالوں کو مونڈھنا بھی درست ہے اور نہ مونڈھنا بھی دونوں طرح کے آثار سلف صالحین سے مروی ہیں (مصنف ابن ابی شیبہ ح : ۱۰۹۴۵، ۱۰۹۵۴ ، ۱۰۹۷۴، الاوسط : ۳۲۸/۵ ، ۳۲۹ مسائل احمدلابی داود: ص ۱۴۱)لیکن بہتر یہی ہے کہ بال نہ مونڈے جائیں۔
۸:      (کانوں کے اندرونی ) سینہ ، کمر ، بازؤوں، پشت، ٹانگوں ، رانوں ، ہاتھوں اور پاؤں پر اُگے ہوئے بالوں کے احکام
جسم پر اگے ہوئے بالوں کی بعض اقسام کے احکام قرآن و حدیث نے بیان کردیئے ہیں اور بعض کے نہیں بیان کئے یعنی ان سے خاموشی اختیار کی ہے جس چیز سے شریعت نے خاموشی اختیار کی ہو (اور دوسرے قرائن سے اس کی نفی بھی نہ ہو رہی ہو تو) اس کا کرنا جائز ہو تا ہے معلوم ہوا کہ سینہ ، کمر اور بازؤوں کے بال کاٹنا اور مونڈنا جائز ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
۹:      ناک میں اگے ہوئے بالوں کو اکھیڑنا :
اس کے متعلق بھی شریعت خاموش ہے ان کا اکھیڑنا بھی جائز ہے۔
نوٹ:   اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو فضول نہیں بنایا ناک میں اُگے ہوئے بالوں اور اس سے پہلی قسم کے بالوں کے اگانے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمتیں ہیں جو ہم پر (علم نہ ہونے کی وجہ سے) مخفی ہیں لہٰذا ان کو اپنی حالت میں چھوڑنا ہی بہتر ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب
۱۰:     کنپٹی کے بالوں کے احکام
۱:        نبی کریم ﷺ کی کنپٹی کے چند بال سفید تھے ۔ (صحیح بخاری: ۳۵۵۰ و صحیح مسلم : ۲۳۱)
۲:        جس روایت میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وضو کے وقت کنپٹیوں کا مسح کیا تھا۔ (سنن ابی داود: ۱۲۹ و سنن الترمذی: ۳۴)

اس کی سند عبداللہ بن محمد بن عقیل (ضعیف) کی وجہ سے ضعیف ہے ۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.