امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا مقام و فضائل

 از    August 3, 2014

تحریر: ابو العباس حافظ شیر محمد

نبی ﷺ اور ابو بکر ، عمر و عثمان (رضی اللہ عنہم اجمعین) احد کے پہاڑ پر چڑھے تو (زلزلے کی وجہ سے) احد کانپنے لگا۔ آپ (ﷺ) نے اس پر پاؤں مار کر فرمایا: اُحد رک جا تیرے اوپر (اس وقت) ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید (موجود )ہیں۔(صحیح البخاری:۳۶۸۶)

سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: (افتح لہ وبشرہ بالجنۃ، علی بلوی تصیبہ) اس کے لئے دروازہ کھول دو اور جنت کی خوش خبری دے دو اور یہ (بھی بتا دو) کہ انہیں ایک مصیبت (اور آزمائش) پہنچے گی۔تو میں نے انہیں(سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ) بتا دیا۔ پھر اللہ کی حمد بیان کی اور کہا: اللہ المستعان،اللہ مددگار ہے۔(البخاری:۳۶۹۳و مسلم : ۲۸/۲۴۰۳)

مشہور حدیث میں آیا ہے کہ پیارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ‘‘وعثمان فی الجنۃ’’ اور عثمان جنت میں (یعنی جنتی ) ہیں۔ (الترمزی: ۳۷۴۷و سندہ صحیح)

سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ جہاد (جیش العسرۃ) کی تیاری کر رہے  تھے تو (سیدنا) عثمان (رضی اللہ عنہ) اپنی آستین میں ایک ہزار دینا لے آئے اور انہیں آپ ﷺ کی جھولی میں ڈال دیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ انہیں جھولی میں الٹ پلٹ رہے تھے اور فرما رہے تھے: ‘‘ ماضر عثمان ما عمل بعد الیوم’’ آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں انہیں نقصان نہیں ہو گا۔
(أحمد ۵/۶۳ح۲۰۹۰۶و الترمذی: ۳۷۰۱و قال: ‘‘حسن غریب’’ و سندہ حسن)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنی بیوی اور نبی کریم ﷺ کی بیٹی (رقیہ رضی اللہ عنہا) کی شدید بیماری کی وجہ سے غزوہ بدر میں شامل نہ ہو سکے تو نبی ﷺ نے فرمایا: (إن لک أجر رجل ممن شھد بدراً وسھمہ) تیرے لئے بدر میں حاضر ہونے والے آدمی کے برابر اجر اور مالِ غنیمت ہے۔ (صحیح البخاری:۳۱۳۰)

سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا غزوہ بدر کے دوران فوت ہو گئیں۔(الإصابۃ ص ۱۶۸۷ت۱۱۸۵۱تراجم النساء)

ابو حبیبہ رحمہ اللہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، آپ محاصرے میں تھے۔ ابو حبیبہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : میرے بعد تم لوگ فتنے اور اختلاف میں مبتلا ہو جاؤگے۔ کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ !پھر ہم کیا کریں؟
آپ ﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: (علیکم بلأمین (بالأمیر) وأصحابہ’’ تم (اس)امین(امیر) اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑ لینا۔ (مسند أحمد۲/۴۳۵و الموسوعۃ الحدیثیۃ ۱۴/۲۱۹ ، ۲۲۰ح ۸۵۴۱و سندہ حسن و صححہ الحاکم ۳/۹۹ ، ۴/۴۳۳ووافقہ الذہبی)

سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنے بعد کے) فتنوں کا ذکر کیا، اتنے میں ایک آدمی کپڑا اوڑھے ہوئے وہاں سے گزرا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ شخص اس دن ہدایت پر ہوگا۔ میں نے اٹھ کر دیکھا تو وہ عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ) تھے۔ (سنن الترمزی: ۳۷۰۴و قال: ‘‘ھذا حدیث حسن صحیح’’ و سندہ صحیح)بیعتِ رضوان کے موقع پر جب کفارِ مکہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو روک لیا تھا تو سیدنا و محبوبنا نبی کریم ﷺ نے بیعتِ رضوان لی۔ آپ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کے بارے میں                      فرمایا: ‘‘ھذا ید عثمان’’ یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ اور پھر اسے اپنے بائیں ہاتھ پر مار کر فرمایا: یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے۔(صحیح البخاری:۳۶۹۹)

ابو سہلہ رحمہ اللہ مولی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب (باغیوں کے محاصرے والے دنوں میں) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اپ (ان باغیوں سے )جنگ کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے جواب دیا: بے شک رسول اللہ ﷺ نے میرے ساتھ ایک وعدہ کیا تھا اور میں اس پر صابر (شاکر) ہوں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۱۲/۴۵ح۳۲۰۲۸و سندہ صحیح ، و الترمذی: ۳۷۱۱وقال: ‘‘ھذا حدیث حسن صحیح’’)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبے کے دوران یہ آیت پڑھی‘‘ إِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰیٓ اُولٰٓئِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ’’ بے شک وہ لوگ جن  کے مقدر میں ہماری طرف سے بھلائی ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔(سورۃ الأنبیاء:۱۰۱)(پھر) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ‘عثمان منھم’’ عثمان (رضی اللہ عنہ) انہی میں سے ہیں۔(مصنف ابن ابی شیبہ ۱۲/۵۲ح۳۲۰۴۳وسندہ صحیح)

سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے سامنے(سیدنا) عثمان کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ امیر المؤمنین (علی رضی اللہ عنہ) اب آ رہے ہیں وہ تمہیں بتائیں گے۔ پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو فرمایا کہ : عثمان ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ‘‘اٰمَنُوْ وَعَمِلُو الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْ اوَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْ ا وَّاَحْسَنُوْ ط وَاللہُ یُحِبُّ الْمحْسِنِیْنَ’’ وہ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے پھر ایمان کے ساتھ تقوے والا راستہ اختیار کیا، پھر تقوے اور احسان والا راستہ اختیار کیا اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔[سورۃ المائدہ:۹۳](مصنف ابن ابی شیبہ ۱۲/۵۴ح۳۲۰۵۱و سندہ صحیح)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ دونوں ہاتھ اٹھا کر فرماتے تھے کہ : اللھم إنی أبر أ إلیک من دم عثمان، اے اللہ میں عثمان(رضی اللہ عنہ) کے خون سے بری ہوں۔ (فضائل الصحابۃ للإمام أحمد ۱/۴۵۲ح ۷۲۷و سندہ حسن)

رسول اللہ ﷺ نے عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ : (یا عثمان إن اللہ عزوجل عسی أ ن یلبسک قمیصاً، فإن أرادک المنافقون علی خلعہ فلا تخلعہ حتی تلقانی) اے عثمان!عنقریب اللہ عزوجل تجھے ایک قمیص(خلافت کی ) پہنائے گا۔ پس اگر اسے اتارنے کے لئے تیرے پاس منافقین آ جائیں تو میری ملاقات(یعنی وفات و شہادت ) تک اسے نہ اتارنا۔(مسند أحمد ۲/۸۶ ، ۸۷ح۲۵۰۷۳و سندہ صحیح، الموسوعۃ الحدیثیۃ ۴۱/۱۱۳)

جمہور اہلِ سنت کے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ زیادہ افضل ہیں۔ اہل سنت کے مشہور ثقہ امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ (متوفی ۱۲۵ھ) سے پوچھا گیا کہ آپ علی سے زیادہ محبت کرتے ہیں یا عثمان سے؟ انہوں نے جواب دیا: عثمان سے۔ (تاریخ دمشق لإبن عسا کر ۴۱/۳۳۴وسندہ صحیح)

الحمدللہ اہلِ سنت دونوں سے محبت کرتے ہیں۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ: بعض لوگ یہ دعوٰ ی کرتے ہیں کہ مؤمن یا مسلم کے دل میں علی اور عثمان دونوں کی محبت اکٹھی نہیں ہو سکتی، سن لو کہ ان دونوں کی محبت میرے دل میں اکٹھی ہے۔(تاریخ دمشق لإبن عسا کر۴۱/۳۳۲وسندہ حسن)

حافظ ابن عسا کر نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حالات سندوں کے ساتھ ایک جلد میں لکھے ہیں۔
اے اللہ !ہمارے دلوں کو سیدنا عثمان و سیدنا علی اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی محبت سے بھر دے۔ آمین

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.