امام ابن تیمیہ اور تقلید

 از    September 9, 2014

سوال: محترم حافظ زبیر علی زئی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،
دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو قرآن و سنت کا پابند بنائے رکھے اور ہم سے اپنے دین کی خدمت لے  ہماری طاقت کے مطابق ۔ محترم حافظ صاحب چند سوالات ہیں مہربانی فرما کر ان کے جوابات مفصل دیئے جائیں ۔ جوابات دینے میں تھوڑی دیر ہوجائے تو کوئی بات نہیں جواب مفصل ہونے چاہئیں اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)
۱۔        حافظ ابن تیمیہؒ، حافظ ابن قیمؒ ، ان کا مسلک ان کی کتابوں سے باحوالہ نقل فرمائیں۔ یہ مقلد تھے یا غیر مقلد ۔
۲۔       نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا ان کتابوں میں شرک وغیرہ ثابت کیا جا سکتا ہے ۔ بریلوی (حضرات) کتاب الروح وغیرہ سے ان کا یہ عقیدہ ثابت کرتے  ہیں کہ وہ مردوں کے سننے اور مد د مانگنے کے قائل تھے۔ کیا ن کی مزید (دوسری) کتابوں میں، مردے اور غائب سے مدد مانگنا ، ناجائز یا شرک لکھا ہوا موجود ہے ۔ اگر ہے تو باحوالہ لکھیں۔ ایک بریلوی دوست کہتا ہے کہ ہمارا عقیدہ ابن تیمیہ اور ابن قیم سے ملتا ہے ۔ کیا واقعی یہ بات درست ہے اگر نہیں تو وضاحت فرمائیں۔ اگر ان میں سے کوئی سوال الحدیث کیلئے موزوں ہوتو ضرور شائع کیجئے۔  جزاک اللہ خیراً
۳۔       بریلوی دوست کہتا ہے کہ محمد بن عبدالوہاب سے پہلے کسی نے قبروں سے اور غائب سے مدد مانگنا شرک نہیں لکھا۔ کیا یہ بات درست ہے اگر نہیں تو اللہ آپ کو بہترین جزا عطا فرمائے ۔ کم از کم دس قدیم مفسرینِ قرآن  و حدیث کے حوالہ جات لکھیں جنہوں نے غائب یا فوت شدہ سے مانگنا شرک لکھا ہو۔ یاد رہے کہ اہم مفسرین کے اقوال ہوں۔
۴۔       حدیث کہ جب تم کسی ویران جگہ پر ہو اور تمہاری سواری گم ہوجائے تو پکارو (اے اللہ کے بندو میری مدد کرو۔) اس کی سند اگر ضعیف ہے (تو) ثابت کریں، تمام طرق کے بارے میں بتائیں۔ جن محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ان کے اقوال باحوالہ بتائیں نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا کسی اہم مفسر نے (سوائے غلام رسول سعیدی بریلوی کے) شارح مسلم، کسی نے اس حدیث سے قبروں یا غائب سے مدد مانگنا ثابت کیا ہے ؟
فضیلۃ الشیخ یہ سوال بہت اہم ہے مفصل جواب دیجئے گا۔ اللہ آپ کو علم و عمل میں برکت دے اور دنیا اور آخرت میں آپ کےلئے آسانیاں پیدا فرمائے ۔  والسلام خادم العلم و العلماء ابو علی اسد ندیم
الجواب:
۱:        وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، حافظ ابن تیمیہؒ مشہور عالم بلکہ شیخ الاسلام تھے۔ ان کا مقلد ہونا قطعاً ثابت نہیں ہے بلکہ حافظ ابن القیمؒ لکھتے ہیں کہ :ولقد أنکر بعض المقلدین علی شیخ الاسلام فی تدریسہ بمدرسۃ ابن الحنبلي وھي وقف علی الحنابلۃ، والمجتھد لیس منھم، فقال: إنما أتناول ما أتناولہ منھا علی معرفتي بمذھب أحمد، لا علیٰ تقلیدي لہ
اور بعض مقلدین نے شیخ الاسلام (ابن تیمیہ) پر اعتراض کیا کہ وہ مدرسہ ابن الحنبلی میں پڑھاتے ہیں حالانکہ یہ مدرسہ حنابلہ پر وقف ہے اور  مجتہدان (حنبلیوں و مقلدین) میں نہیں ہوتا، تو انہوں نے فرمایا: میں اسے احمد (بن حنبل) کے مذہب کی معرفت پر استعمال کرتا ہوں، میں اس (احمد) کی تقلید نہیں کرتا۔
          (اعلام الموقتین  ۲۴۲،۲۴۱/۲ مطبوعہ دارالجیل بیروت لبنان، الرد علی من أخلد إلی الأرض للسیوطی ص ۱۶۶)
دلیل دوم:        حافظ ابن تیمیہؒ کے شاگرد حافظ ذہبیؒ ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :
          “الشیخ الإمام العلامۃ الحافظ الناقد (الفقیہ) المجتھد المفسر البارع شیخ الإسلام عَلم الزھاد نادرۃ العصر….(تذکرۃ الحفاظ ۱۴۹۶/۴ ت ۱۱۷۵)
معلوم ہوا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ حافظ ذہبی کے نزدیک مجتہد تھے۔ یہ بات عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ مجتہد تقلید نہیں کرتا۔

 طحطاوی حنفی نےطبقۃ المجتھدین فی الشرع کا لأربعۃ وأمثالھم” کے بارے میں لکھا ہے کہ :”وھم غیر مقلدین اور وہ غیر مقلد ہیں (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار ۵۱/۱)

ماسٹر محمد امین اوکاڑوی دیوبندی حیاتی لکھتے ہیں کہ:
          “جو شخص خود مجتہد ہوگا وہ خود قواعد شرعیہ سے مسئلہ تلاش کرکے کتاب و سنت پر عمل کرے گا”                                     (تحقیق مسئلہ تقلید ص ۵ مجموعہ رسائل ۲۱/۱ مطبوعہ ، اکتوبر ۱۹۹۱ء گوجرانوالہ)
دلیل سوم:        کچھ لوگ یہ کہتے رہتے ہیں کہ عوام پر فلاں (مثلاً امام ابوحنیفہؒ) یا فلاں کی تقلید واجب ہے ۔ ان لوگوں کی تردید کرتے ہوئے حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ:

وأما أن یقول قائل: إنہ یجب علی العامۃ تقلید فلان أو فلان فھذا لا یقولہ مسلم
اور اگر کوئی کہنے والا کہے کہ عوام پر فلاں یا فلاں کی تقلید واجب ہے ، تو ایسی بات کوئی مسلم نہیں کہتا۔  (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ۲۴۹/۲۲)معلوم ہوا کہ حافظ ابن تیمیہ کے نزدیک کوئی مسلمان بھی وجوب تقلیدِ فلاں کا قائل نہیں ہے۔  

دلیل چہارم:       جو شخص (تقلید کرتے ہوئے) کسی ایک امام کے لئے تعصب کرتا ہے (جیسا کہ آلِ دیوبند وغیرہ کا طریقۂ کار ہے) تو ایسے شخص کو امام ابن تیمیہ کالر افضي…. جاھلاً ظالماً” قرار دیتے ہیں دیکھئے مجموع فتاویٰ (۲۵۲/۲۲) یعنی ان کے نزدیک ایسا شخص  جاہل ، ظالم اور رافضیوں کی طرح ہے ۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ امام ابن تیمیہؒ مقلد نہیں تھے بلکہ متبع کتاب و سنت تھے والحمدللہ۔

۲:        حافظ ابن القیم نے ایک مستقل کتاب “اعلام الموقعین” تقلید کے رد پر لکھی ہے جو یہاں سے ڈاؤنلوڈ کی جا سکتی ہے۔ اس کتاب کا نام جلال الدین سیوطی (متوفی ۹۱۱؁ھ) “ذم التقلید” بتاتے ہیں (دیکھئے الرد علی من أخلد إلی الأرض ص ۱۶۶)
دلیل پنجم: حافظ ابن القیم الجوزیہ تقلید کے بارے میں فرماتے ہیں کہ :

وإنما حدثت ھذہ البدعۃ فی القرن الرابع المذموم علی لسان رسول اللہ ﷺ
اور یہ بدعت تو چوتھی صدی (ہجری) میں پیدا ہوئی، جس کی مذمت رسول اللہ ﷺ نے اپنی (مبارک) زبان سے بیان فرمائی ہے ۔(اعلام الموقعین ۲۰۸/۲)

معلوم ہوا کہ مروجہ تقلید امام بن القیم کے نزدیک بدعت مذمومہ ہے ۔ لہذا ثابت ہوا کہ وہ بذاتِ خود حنبلی مقلد ہرگز نہیں تھے بلکہ مجتہد و متبع کتاب و سنت تھے، والحمدللہ۔
فائدہ:    دیوبندیوں اور بریلویوں کے بزرگ ملا علی قاری حنفی (متوفی ۱۰۱۴؁ھ) لکھتے ہیں کہ :
ومن طالع شرح منازل السائرین تبین لہ أنھما کانا من أکابر أھل السنۃ و الجماعۃ ومن أولیاء ھذہ الأمۃ اور جو شخص شرح منازل السائرین کا مطالعہ کرے تو  اس کے لئے واضح ہوجائے گا کہ وہ دونوں (ابن تیمیہ اور ابن القیم) اہل سنت و الجماعت کے اکابر اور اس امت کے اولیاء میں سے تھے ۔ (جمع الوسائل فی شرح الشمائل ۲۰۷/۱)
۳:       میرے علم کے مطابق ابن تیمیہ اور ابن القیم رحمہما اللہ کی کتابوں میں شرک اکابر کا کوئی ثبوت نہیں ہے ، تاہم ابن القیم کی ثابت شدہ “کتاب الروح” اور دیگر کتابوں میں ضعیف و مردود روایات ضرور موجود ہیں۔ یہ دونوں حضرات مردوں سے مدد مانگنے کے قائل نہیں تھے ، رہا مسئلہ سماع موتیٰ کا تو یہ سلف صالحین کے درمیان مختلف فیہا مسئلہ ہے ، اسے کفر و شرک سمجھنا غلط ہے۔ صحیح اور راجح یہی ہے کہ صحیح احادیث سے ثابت شدہ بعض مواقع مخصوصہ کے علاوہ مُردہ کچھ بھی نہیں سنتا۔
          آپ کے بریلوی دوست کا یہ دعویٰ کہ “ہمارا عقیدہ، ابن تیمیہ اور ابن قیم سے ملتا ہے ” محتاج دلیل ہے ۔ اس سے کہیں وہ اپنے مشہور عقائد مثلاً وجوب تقلید ابی حنیفہ، حاضر ناظر ، نور من نور اللہ اور علم الغیب وغیرہ مسائل کا مدلل وباحوالہ ثبوت ابن تیمیہ و ابن القیم سے پیش کریں تاکہ مزید بحث و تحقیق جاری رکھی جاسکے ۔
۴:       بریلوی دوست کو کہیں کہ وہ کسی ایک ثقہ و مستند امام ، جوکہ محمد بن عبدالوہابؒ سے پہلے گزرا ہے،سے صرف ایک حوالہ ثابت کردے کہ قبروں سے مدد مانگنا صحیح ہے یا شرک نہیں ہے ۔ شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہابؒ کی پیدائش سے صدیوں پہلے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ (متوفی ۷۲۸؁ھ) نے ایک کتاب “الجواب الباھرفی زوار المقابر ” لکھی ہے جس میں قبرپرستوں کا زبردست رد کیا ہے۔

جو لوگ آپﷺ کی قبر کی طرف رخ کرکے سلام (السلام علیک) کی اونچی آوازیں بلند کرتے ہیں ان کے بارے میں ابن تیمیہؒ نے لکھا ہے :بل ھذہ بدعۃ لم یستحبھا أحد من العلماء بلکہ یہ بدعت ہے ، علماء میں سے کسی ایک نے بھی اسے مستحب قرار نہیں دیا (الجواب الباھر ص ۹ ، مطبوعہ: الریاض ، جزیرۃ العرب/ السعودیہ)

جو لوگ قبروں پر جاکر انہیں پکارتے ہیں (ویدعونہ ویحبونہ مثل ما یحبون الخالق) انہیں ابن تیمیہ نےأھل الشرک قرار دیا ہے (الجواب الباھر ص ۲۱)

          یہ ساری کتاب پڑھنے کے لائق ہے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے قبر پرستی کو پہلا سبب شرک (ھو أول أسباب الشرک فی قوم نوح) قرار دیا ہے (الجواب الباھر ص ۱۲)

شیخ الاسلام سے صدیوں پہلے سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نبی ﷺ کی قبر کو چھونا مکروہ سمجھتے تھے۔  أن ابن عمر کان یکرہ مس قبر النبیﷺ (جزء محمد بن عاصم الثقفی الاصبہانی : ۲۷ و سندہ صحیح ، أبو أسامۃ برئي من التدلیس)

فائدہ:    ابن قدامہ الحنبلی (متوفی ۶۲۰؁ھ) نے قبروں پر چراغ جلانے سے منع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
وافراطاً فی تعظیم القبور أشبہ تعظیم الأصنام..” اور قبروں کی تعظیم میں یہ افراط ہے، یہ بتوں کی تعظیم سے مشابہ ہے (المغنی ۱۹۳/۲ مسئلہ: ۱۵۹۴)

سورت یونس کی ایک آیت (۱۰۱) کی تشریح میں مفسر ابن جریر طبری (متوفی ۳۱۰؁ھ) فرماتے ہیں:یقول تعالیٰ ذکرہ ولا تدع یا محمد من دون معبودک و خالقک شیئاً فی الدنیا ولا فی الآخرۃ….” إلخاللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد(ﷺ) اپنے معبود اور خالق (اللہ) کے علاوہ دنیا و آخرت میں کسی چیز کو بھی (مافوق الاسباب) نہ پکارو إلخ (تفسیر طبری ۱۲۲/۱۱)قدیم مفسرین میں سے صرف اسی ایک ثقہ مفسر کا حوالہ کافی ہے ۔  جو لوگ قبر پرستی کو جائز سمجھتے ہیں ان سے مطالبہ کریں کہ صرف ایک قدیم ثقہ مفسر سے قبرپرستی کا جواز ثابت کریں۔

ابن تیمیہ نے ان لوگوں کو مشرک قرار دیا ہے جو قبر والوں کو (مدد کے لئے) پکارتے ہیں، دیکھئے کتاب الرد علی الاخنائی (ص ۵۲) اور مجموع فتاویٰ (۲۵۶/۲۷)

۵:       آپ کی بیان کردہ  روایت اپنی مختلف سندوں کے ساتھ مسند ابی یعلیٰ، المعجم الکبیر للطبرانی اور مسند البزار وغیرہ میں موجو دہے۔اس کی تمام سندیں ضعیف ہیں دیکھئے السلسلۃ الضعیفۃ للالبانی (۱۰۸/۲۔۱۱۲ ح ۶۵۵،۶۵۶)

مسند بزار والی سند شیخ البانی کے نزدیک شاذ ہونے کی وجہ سے مردود ہے ۔ حافظ بذاتِ خود متکلم فیہ ہیں۔ حافظ دارقطنیؒ نے ان کے بارے میں فرمایا:ثقۃ یخطئ کثیراً ویتکل علی حفظہ (سؤالات حمزۃ بن یوسف الھمي للدارقطنی:۱۱۶)
اور فرمایا:یخطئ فی الاسناد و المتن، حدث بالمسند بمصر حفظاً، ینظر فی کتب الناس و یحدث من حفظہ، ولم تکن معہ کتب فأخطأ فی أحادیث کثیرۃ، یتکلمون فیہ، جرحہ أبوعبدالرحمٰن النسائي (سوالات الحاکم للدارقطنی: ۲۳)ابو احمد الحاکم سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا:”یخطیٔ فی الإسناد و المتن” (دیکھئے لسان المیزان ۲۳۷/۱)بزار کو خطیب بغدادی، ابوعوانہ صاحب المسند ، وغیرہما نے ثقہ و صدوق قرار دیا ہے ۔

بزار کی معلول روایت کے مقابلے میں بیہقی نے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:”إن للہ عزوجل ملائکۃ فی الأرض سوی الحفظۃ یکتبون ما یسقط من ورق الشجر فإذا أصاب أحدکم عرجۃ فی الأرض لا یقدر فیھا علی الأعوان فلیصح فلیقل: عباد اللہ أغیثونا أو أعینونا رحمکم اللہ، فإنہ سیعان(شعب الایمان ۱۲۸/۶ ح ۷۶۹۷ و سندہ حسن موقوف، ۱۸۳/۱ ح ۱۶۷)

صحابی کے اس قول میں زندہ فرشتوں کو پکارنے کا جواز ہے لہذا یہ پکارنا ماتحت الاسباب ہوا۔ اس قول میں مردہ روحوں کو پکارنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ لہذا اسے مافوق الاسباب پکارنے کی دلیل بنا لینا غلط ہے ۔

لطیفہ:    مسند البزار اور بیہقی والی روایت کا ایک اسامہ بن زید اللیثی ہے جو بقول راجح حسن الحدیث ہے۔ یہ راوی اگر حنفیوں کے مخالف کسی حدیث میں آجائے تو یہ لوگ فوراً اس پر جرح کردیتے ہیں مثلاً دیکھئے آثار السنن للنیموی (باب ماجاء فی التغلیس ح ۲۱۳ عن ابی مسعود الانصاریؓ ، حاشیہ)

کیا انصاف اسی کا نام ہے ؟                             فقط والسلام (۲۵ ذوالقعدہ ۱۴۲۶؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.