اللہ تعالیٰ سے محبت

 از    January 6, 2015

تحریر:حافظ شیر محمد
  اللہ تعالیٰ زمین و آسمان اور تمام مخلوقات کا خالق ہے۔ اسی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے آدم ؑ  کو مٹی سے بنایا اور ان کی زوجہ حواؑ   کو پیدا فرمایا اور پھر ان دونوں سے انسانوں کی نسل جاری فرمائی۔ اللہ نے انسانوں اور جاندار مخلوقات کے لئے طرح طرح کے رزق اور نعمتیں پیدا کیں اور وہی مشکل کشا، حاجت روا ار فریاد رَس ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ
اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے۔ (النحل: ۱۸)
بے شمار نعمتوں اور فضل و کرم والے رب سے محبت کرنا ہر انسان پر فرض ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
 وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ           ؕ
اور اہلِ ایمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ (البقرۃ:۱۶۵)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ تمھیں جو نعمتیں کھلاتا ہے ان کی وجہ سے اللہ سے محبت کرو اور اللہ کی محبت کی وجہ  سے مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہلِ بیت سے محبت کرو۔ (سنن الترمذی: ۳۷۸۹و سندہ حسن، ماہنامہ الحدیث :۲۶)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ اشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ  اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ  تَعۡبُدُوۡنَ
اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔ (البقرۃ: ۱۷۲)
(کامل) مومن وہ ہیں جب اُن کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں۔ دیکھئے سورۃ الانفال (۲)

نبی ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ (ثلاث من کن فیہ وجد حلاوۃ الإیمان: أن یکون اللہ و رسولہ أحب إلیہ مما سواھما وأن یحب المرء لا یحبہ إلا للہ و أن یکرہ أن یعود فی الکفر کما یکرہ أن یقذف فی النار)جس شخص میں تین چیزیں ہوں تو اس نے ایمان کی مٹھاس پالی: (اول) یہ کہ اس کے نزدیک ہر چیز سے زیادہ اللہ اور رسول محبوب ہوں(دوم) وہ جس سے محبت کرے صرف اللہ ہی کے لئے محبت کرے(سوم) وہ کفر میں لوٹ جانا اس طرح ناپسند کرے جیسے وہ آگ میں گرنا ناپسند کرتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۱۶، صحیح مسلم:۴۳)

ایک ماں جتنی اپنے بچے سے محبت کرتی ہے اللہ تعالیٰ اس سے بہت زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔ دیکھئے صحیح بخاری(۵۹۹۹) و صحیح مسلم(۲۷۵۴)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: میرے بندوں کو بتا دو کہ بے شک میں گناہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔(الحجر:۴۹)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلۡ یٰعِبَادِیَ  الَّذِیۡنَ  اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ  لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ  ہُوَ  الۡغَفُوۡرُ  الرَّحِیۡمُ
(میری طرف سے) کہہ دو: اے میرے (اللہ کے ) بندو!جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ بے شک اللہ (شرک کے سوا) سارے گناہ معاف فرماتا ہے، بے شک وہ غفور الرحیم ہے۔ (الزمر: ۵۳)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: جو لوگ میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تو ان کے لئے میری محبت واجب ہے۔ (مسند احمد، زوائد عبداللہ بن احمد ۵؍۳۲۸ و سندہ صحیح)

اللہ  سے محبت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ انسان ہر وقت اللہ پر توکل کرے اور اسی پر صابر و شاکر رہے۔ ایک دفعہ ایک اعرابی (بدو) نے رسول اللہ ﷺ پر تلوار تان کر پوچھا: تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ ﷺ نے (کمال اطمینان سے) فرمایا: اللہ، تو اس اعرابی کے  ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ (مسند احمد ۳؍۳۹۰ ح ۱۵۱۹۰ وھو حدیث صحیح، صحیح ابن حبا، الاحسان: ۲۸۷۲[۲۸۸۳])

[تنبہ: اس روایت کے راوی ابو بشر جعفر بن ابی وحشیہ نے سلیمان بن قیس الیسکری سے  کچھ نہیں سنا لیکن وہ ان کی کتاب ؍صحیفے سے روایت کرتے تھے اور کتاب سے روایت کرنا چاہے بطور و جادہ ہی ہو، صحیح ہے بشرطیکہ کتاب کے درمیان واسطے پر جرح یا محدثین کا انکار ثابت نہ ہو۔ واللہ اعلم، غورث بن الحارث الاعرابی کا قصہ اختصار کے ساتھ صحیح بخاری(۲۹۱۰) اور صحیح مسلم (۸۴۳) میں بھی موجود ہے۔ غورث نے واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے کہا تھا کہ ‘‘ میں اس کے پاس سے آیا ہوں جو سب سے بہتر ہے’’ یہ اس کی دلیل ہے کہ غورث مسلمان ہو گئے تھے۔]

اللہ کے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ اپنے رب سے اتنی زیادہ محبت کرتے تھے کہ وفات کے وقت بھی فرما رہے تھے: (اللھم الرفیق الأعلیٰ)اے میرے اللہ!اپنی بارگاہ میں اعلیٰ رفاقت عطا فرما۔ (صحیح بخاری:۴۴۶۳ و صحیح مسلم: ۲۴۴۴)

اللہ سے محبت کی چند نشانیاں درج ذیل ہیں:

۱:      توحید و سنت سے محبت اور شرک و بدعت سے نفرت
۲:      نبی کریم ﷺ سے والہانہ محبت اور آپ کا دفاع
۳:      صحابہ کرام، تابعین عظام، علمائے حق اور اہلِ حق سے محبت
۴:      کتاب و سنت سے محبت اور تقویٰ کا راستہ
۵:      گناہوں اور نافرمانی سے اجتناب
۶:      ریا کے بغیر، خلوصِ نیت کے ساتھ عبادات میں سنت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہماک
۷:      معروف(نیکی) سے محبت اور منکر و مکروہ سے نفرت
۸:      کتاب و سنت کے علم کا حصول اور کتاب و سنت کے مقابلے میں ہر قول و فعل کو رد کر دینا
۹:      انفاق فی سبیل اللہ(اللہ کے راستے میں اس کی رضا مندی کے لئے مال خرچ کرنا)
۱۰:     خوف و امید کی حالت میں کثرتِ اذکار اور دعواتِ ثابتہ پر عمل
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دل اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی محبت سے بھر دے اور ہمیں ہمیشہ کتاب و سنت پر گامزن رکھے۔ آمین       (۸شوال ۱۴۲۷ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.