“الجزء المفقود” کا جعلی نسخہ اور انٹرنیٹ پر اس کا رد

 از    October 26, 2014

تحریر:فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
الحمد للہ رب العالمین و الصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الأمین، أما بعد:

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : من یقل عليّ مالم أقل فلیتبوأ مقعدہ من النارجو شخص مجھ پر ایسی بات کہے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ (جہنم کی) آگ میں بنالے۔(صحیح البخاری : ۱۰۹)

آپ ﷺ نے فرمایا: ومن کذب عليّ متعمدًا فلیتبوأ مقعدہ من النار جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا تو وہ اپنا ٹھکانہ (جہنم کی) آگ میں بنالے ۔ (صحیح بخاری: ۱۱۰ وصحیح مسلم: ۳ )

اتنی شدید وعید کے باوجود بہت سے لوگ بغیر کسی خوف کے ، نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولتے تھے اور بول رہے ہیں گویا وہ اللہ کی پکڑ سے کلیتاً غافل ہیں۔

خافظ ابن حزم اندلسی (متوفی ۴۵۶؁ھ ) لکھتے ہیں :وأما الوضع فی الحدیث فباقٍ مادام إبلیس و أتباعہ فی                      الأرض اس وقت تک وضعِ حدیث (کا فتنہ) باقی رہے گا جب تک ابلیس اور اس کے پیروکار روئے زمین پر موجود ہیں ۔ (المحلیٰ ۱۳/۹ مسألۃ: ۱۵۱۴)

مجھے جب معلوم ہوا کہ بریلویوں نے مصنف عبدالرزاق کا ایک نرالا نسخہ دریافت کرنے کا دعویٰ کرکے  “نورِ حدیث” پیش کردی ہے تو میں نے  ایک سوال کے جواب میں ایک تحقیقی مضمون لکھا جس میں قلمی اور مطبوعہ کتابوں سے استدلال کی شرائط اور  دو من گھڑت کتابوں کا ذکر کیا ۔ ہمارے علم کے مطابق اس مضمون کا جواب کسی حلقے سے نہیں آیا ۔ بعد میںالجزء المفقود من الجزء الأول من المصنفکے نام سے بریلوی من گھڑت نسخہ مل گیا تو راقم الحروف نے اس کا تفصیلی و مدلل ردلکھا جوماہنامہ الحدیث:۲۳ (ص ۲۲تا ۲۵) میں شائع ہوا ۔
اب صادق آباد (پنجاب) والے محمد زبیر صاحب اور حافظ ثناء اللہ الزاہدی حفظہ اللہ کے ذریعے معلوم ہوا کہ انٹرنیٹ پر اس من گھڑت کتاب کا تفصیلی رد لکھا گیا ہے لہذا کوشش کر کے انٹرنیٹ سے یہ رد حاصل کرلیا۔  یہ رد جزیرۃ العرب کے (نوجوان عالم) محمد زیاد بن عمر التکلۃ نےدفاع عن النبی ﷺ و سنتہ المطھرۃ و کشف تو اطؤ عیسی الحمیري و محمود سعید ممدوح علی وضع الحدیث” اور “تفنید القطعۃ المکذوبۃ التي أخرجاھا و نسباھا لمصنف عبدالرزاق کے نام سے ۱۳ محرم ۱۴۲۷؁ھ کو چونتیس (۳۴) صفحات میں انٹرنیٹ پر شائع کیا ہے ۔
اس رد کے بعض اہم دلائل کا خلاصہ درج ذیل ہے:
۱:        جزیرۃ العرب کے بڑے علماء مثلاً شیخ سعد الحمید، شیخ خالد الدریس اور شیخ احمد عاشور وغیرہم یہ کہتے ہیں کہ یہ الجزء المفقود   سارے کا سارا موضوع ہے ۔ (دیکھئے ص ۳)
۲:        عیسیٰ بن عبداللہ بن محمد بن مانع الحمیری جہمی قبوری (قبر پرست) اور خرافی (خرافات بیان کرنے والا) ہے۔ اس نے کتاب لکھی ہے البدعۃ أصل من أصول التشریعیعنی (اس کے نزدیک) شریعت کے اصول میں سے ایک اصل بدعت ہے ۔ (!) (دیکھئے ص ۵)

        ۳:       دبئی کے رہنے والے شیخ ادیب الکمدانی جو کہ علم حدیث اور مخطوطات کے ماہر ہیں، انہوں نے جب عیسیٰ الحمیری کے پاس “مخطوطہ” دیکھا تو کہا : إنہ موضوع حدیثًا جدًا بالنظر لورقہ و خطہ یہ نسخہ تازہ تازہ گھڑا گیا ہے جیساکہ اس کے اوراق اور خط سے ظاہر ہوتا ہے ۔ (ص۷)

شیخ ادیب الکمدانی نے کہا :إنني لا أعطي للمخطوط عمرًا أکثر من سنتین أو نحو ذلکمیں سمجھتا ہوں کہ یہ مخطوطہ دو سال یا ان کے قریب کا ہی لکھا ہوا ہے ۔ (ص۷)

شیخ محمد زیاد نے کہا :أفاد الشیخ الکمدانی أنہ رآہ بورق حدیث و خط طري! و أنہ لما طولب واضعہ الھندي بأصل نسختہ أفاد أنہ استنسخھا من مکتبۃ بالإتحاد السوفیتي و أنھا احترقت! فبطل أمر المخطوط أصلاً وبان کذب ماجاء فیھا أنہ نسخت سنۃ ۹۳۳ في بغداد شیخ کمدانی نے بتایا کہ انہوں یہ مخطوطہ دیکھا ہے یہ جدید کاغذ پر تازہ خط کے ساتھ لکھا ہوا ہے اور جب اس کے ہندی (پاکستانی ) گھڑنے والے سے اصل نسخے کا مطالبہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ اس نے اسے سویت یونین کے کسی مکتبے سے نقل کیا ہے جو کہ جل گیا ہے !۔مخطوطے کی بات تو اصلاً ہی باطل ہوگئی اور ظاہر ہوگیا کہ یہ جھوٹ ہے کہ یہ نسخہ ۹۳۳ میں بغداد  میں لکھا گیا ہے ۔ (ص ۱۳)

۴:       مخطوطے کا خط دسویں صدی ہجری کا خط نہیں ہے  بلکہ تازہ خط ہے جسے کسی معاصر آدمی نے لکھا ہے ۔ (ص۱۲) شیخ عبدالقدوس نذیر الہندی گواہی دیتے  ہیں کہ یہ خط پاکستان و ہندوستان کے کسی معاصر (ہمارے دو ر کے آدمی) کا لکھا ہوا ہے اور یہی بات شیخ عمر بن سلیمان الحفیان نے کہی ہے جنھوں نے مصر سے مخطوطات میں ایم اے کیا ہے ۔ (ص ۱۲)
۵:       عیسیٰ الحمیری کا یہ کہنا کہ ا س کا (یہ من گھڑت) نسخہ بہت زیادہ صحیح ہے ، سرے سے غلط ہے ۔ اس (من گھڑت) نسخے کی پہلی حدیث میں صحابی سائب بن یزیدؓ کانام سائب بن زید لکھا ہوا ہے  جو کہ غلط ہے ۔ (ص ۱۳) دیکھئے  الجزء المفقود (ص ۵۲ ح: ۱)
۶:        اس من گھڑت نسخے کے شروع میں “کتاب الایمان” کا باب لکھا ہوا ہے جب کہ حاجی خلیفہ چلپی (حنفی) نے لکھا ہے :مرتباً علی الکتب و الأبواب علیٰ ترتیب  الفقہ (یہ مصنف) فقہی ترتیب کے لحاظ سے کتابوں اور ابواب پر مرتب ہے ۔ (کشف الظنون ج ۲ ص ۱۷۱۲)
ابن خیر الاشبیلی نے اپنی (کتاب) فہرست (ص ۱۲۹) میں لکھا ہے کہ مصنف عبدالرزاق کی ابتداء کتاب الطہارہ سے ہوتی ہے (الرد علی “الجزء المفقود” ص ۱۶)
۷:       اس جعلی “مصنف ” میں عجمیوں کے انداز میں عربی تراکیب بنائی گئی ہیں مثلاً:
اللھم صل علیٰ من تفتقت من نور الأزھار زاد ماء وجھہ (الجزء المفقود: ۱۱، والرد ص ۲۱)
۸:       محمود سعید ممدوح کے استاد عبداللہ الغماری نے کہا:
“اس روایت کا عبدالرزاق کی طرف منسوب کرنا غلط ہے۔ یہ عبدالرزاق کے مصنف ، جامع اور تفسیر میں موجود نہیں ہے اور یہ روایت قطعاً موضوع ہے ۔ اس میں صوفیوں کی اصطلاحات پائی جاتی ہیں اور  عصرِ حاضر میں بعض شنقیطیوں نے  اس کی سند المنکدر عن جابر بنالی ہے۔” (مرشد الحائر لبیان وضع حدیث جابر/ الرد ص ۲۵)
۹:        اس جعلی “الجزء المفقود ” کے کاتب “دلائل الخیرات” وغیرہ غیر کتابوں سے خود ساختہ فقرے لے کر ان کی سندیں بنا لی ہیں۔ (دیکھئے الرد ص ۲۹،۲۸)
۱۰:       اس کی سندوں میں واضح جھوٹ لکھے گئے ہیں مثلاً خود ساختہ حدیث نمبر ۲میں لکھا ہوا ہے :”ابن جریج: أخبرني البراءؓ” (حالانکہ براء بن عازبؓ ، ابن جریج کی پیدائش کے پہلے فوت ہوگئے تھے ) دیکھئے الرد (ص ۳۱) مختصر یہ کہ یہ زبردست رد  ہے جو عربی علماء کی طرف سے شائع ہوا ہے ۔

تنبیہ:    بعض بریلوی حضرات امام بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ (۴۸۳/۵) سے نور والی من گھڑت روایت کا ایک شاہد پیش کرتے ہیں لیکن یہ شاہد بھی باطل ہے ۔اس میں بیہقی کا استاد ابوالحسن علی بن احمد بن سیماء المقریٔ مجہول الحال ہے۔ ابن سیماء کا ذکر المنتخب من السیاق لتاریخ نیسابور (۱۲۴۹) میں بغیر کسی توثیق کے کیا گیا ہے ۔ اس ابن سیماء کی توثیق ہمارے علم کے مطابق کسی کتاب میں موجود نہیں ہے  ۔ وما علینا إلا البلاغ (۲۶ ربیع الاول ۱۴۲۷؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.