الإسلام یَعْلُو وَلَا یُعْلیٰ (اسلام مغلوب نہیں بلکہ غالب ہو گا)

 از    December 10, 2014

تحریر:حافظ زبیر علی زئی
اللہ پر یقین کی حقیقت کمزوری اور مصیبتوں کے دور میں ظاہر ہوتی ہے۔ صاحبِ یقین وہ شخص نہیں ہے جو اسلام کی قوت ، مسلمانوں کے غلبے اور فتح کی خوش خبریوں پر بہت زیادہ خوش ہو جائے، خوشی سے اُس کا چہرہ چمکنے لگے اور دل کُشادہ ہو جائے لیکن مسلمانوں کی کمزوری اور مصیبتوں کے وقت سخت پریشان ہو کر مایوس اور نا اُمید ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ پر سچا یقین رکھنے والے کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب مصیبتوں اور غم کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھا جائیں ، اسلام دُشمن قومیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں، شدید تنگی اور مصائب چاروں طرف سے گھیر لیں تو اس کا اللہ پر یقین و ایمان اور زیادہ ہو جاتا ہے۔ وہ ذرا بھی نہیں گھبراتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آخری فتح مسلمانوں کی ہے اور دینِ اسلام نے غالب ہو کر رہنا ہے۔ مجاہد کی ہر وقت یہی کوشش ہوتی ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا دین غالب ہو جائے لہٰذا اس عظیم مقصد کے لئے وہ ہمیشہ صبر و یقین پر کاربند رہتا ہے۔ حافظ ابن القیم فرماتے ہیں کہ ‘‘ میں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صبر اور یقین کے ساتھ دین کی امامت حاصل ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

( وَجَعَلْنَا مِنْھُمْ اَئِمَّۃً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْ ا وَکَانُوْا بِاٰ یٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ)
اور ہم نے انہیں اپنے دین کی طرف رہنمائی کرنے والے امام بنایا کیونکہ وہ صبر کرتے تھے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ (السجدۃ:۲۴)   (مدارج السالکین لابن القیم ۲؍۱۵۴ منزلۃ الصبر)

انسان کو سب سے اہم چیز جو عطا کی گئی ہے وہ یقین ہے۔ 

نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ (وسلوااللہ الیقین و المعافاۃ، فإنہ لم یؤت أحد بعد الیقین خیراً من المعافاۃ) اللہ سے یقین اور عافیت (صحت و خیریت) کی دعا مانگو کیونکہ کسی کو بھی یقین کے بعد عافیت سے بہتر کوئی چیز عطا نہیں کی گئی۔ (ابن ماجہ: ۳۸۴۹ و سندہ صحیح، و صححہ ابن حبا، الاحسان: ۹۴۸ و الحاکم ۱؍۵۲۹ و وافقہ الذہبی)

یہ امت صرف اس وقت تباہ و برباد ہو گی جب مسلمان دینِ اسلام کے لئے اپنی کوششیں ترک کر کے، عمل کے بغیر ہی شیخ چلی جیسی اُمیدیں باندھ کر بیٹھ جائیں گے۔
اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ ہمیں کیا پتا کہ کب مدد آئے گی اور کب خیر کا دور دورہ ہو گا؟
ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ ہماری اُمت اللہ کے اذن سے اُمتِ خیر ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد ضرور فرمائے گا اگرچہ اس میں کچھ دیر لگ جائے۔
ہمیں معلوم نہیں کہ کون سی نسل کے ذریعے اللہ تعالیٰ مصیبتوں کی گھنگھور گھٹائیں دُور فرما کر اس اُمت کو سربلند کر دے گا لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ ایک دن ایسا ضرور ہو گا۔

پیارے نبی ﷺ کا ارشاد ہے: (لا یزال اللہ یغرس فی ھٰذا الدین غرساً یستعملھم فیہ بطاعتہ إلیٰ یوم القیامۃ) اللہ تعالیٰ قیامت تک دینِ اسلام میں  ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا جو اس کی اطاعت کرتے رہیں گے۔ (ابن ماجہ: ۸وسندہ حسن و صححہ ابن حبان، الموارد: ۸۸(

احادیث نبویہ میں بہت سی خوش خبریاں دی گئی ہیں جن سے یقین اور خوش اُمیدی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی میں سے اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ اُمتِ مسلمہ کی حکومت مشرق و مغرب تک پھیل جائے گی۔ دنیا میں ایسے بہت سے علاقے ہیں جو ابھی تک مسلمانوں کے ہاتھوں پر فتح نہیں ہوئے اور ایک دن ایسا آنے والا ہے جب یہ علاقے بھی فتح ہو کر مُلکِ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ

حدیث میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (إن اللہ زوی لی الأرض فرأیت مشارقھا ومغاربھا وإن أمتی سیبلغ ملکھا ما زُوی لی منھا)اللہ نے (ساری) زمین اکٹھی کر کے مجھے دکھائی،  میں نے تمام مشرقی اور مغربی علاقے دیکھ لئے ۔ بے شک میری اُمت کی حکومت وہاں تک پہنچ جائے گی جو مجھے دکھایا گیا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۸۸۹(جب ہمیں معلوم ہو گیا کہ اسلام نے دنیا میں غالب ہو کر رہنا ہے تو ہم کسی خاص دور میں مسلمانوں کی کمزوری پر کیوں نا اُمید ہوں؟

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا: ‘‘ الإسلام یعلو ولا یعلیٰ ’’ اسلام غالب ہو گا اور مغلوب نہیں ہو گا۔(شرح معانی الآثار للطحاوی ۳؍۲۵۷ و اسنادہ حسن، نیز دیکھئے صحیح بخاری ۳؍۲۱۸ قبل ح ۱۳۵۴)

رسول کریم ﷺ نے اپنی مبارک زبان سے خوش خبری دی ہے کہ

(ولا یزال اللہ یزید أو قال: یعز الإسلام و أھلہ، و ینقص الشرک و أھلہ حتیٰ یسیر الراکب بین کذایعنی البحرین، لایخشی إلا جوراً و لیبلغن ھٰذا الأمر مبلغ اللیل)اللہ تعالیٰ اسلام کو زیادہ ہی کرتا رہے گااور مشرکین اور ان کے شرک میں کمی آتی رہے گی حتیٰ کہ سوار سفر کرے گا تو اُسے ظلم کے سوا کچھ ڈر نہیں ہو گا۔ اللہ کی قسم !جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایک دن ایسا آئے گا جب یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا جہاں یہ ستارہ نظر آتا ہے۔ (حلیۃالاولیاء لابی نعیم ۶؍۱۰۷ ، ۱۰۸ و سندہ صحیح ، عمر و بن عبداللہ الحضرمی ثقۃ و ثقہ العجلی  المعتدل وغیرہ)

معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی حکومت پھیلتی رہے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسی خوش خبریاں دی ہیں جن سے ہر نا اُمیدی ختم ہو جاتی ہے اور مصیبتوں میں پھنسا ہوا ہر مسلمان ثابت قدم ہو جاتا ہے۔ خوشی اور راحت سے دل مطمئن ہو جاتے ہیں۔

 ارشادِ نبوی ہے: (بشر ھٰذہ الأمۃ بالسناء و النصر و التمکین) اس امت کو سربلندی، فتح اور (زمین پر) قبضے کی خوش خبری دے دو۔(مسند احمد ۵؍۱۳۴ ح ۲۱۲۲۳ و سندہ حسن، ربیع بن انس حسن الحدیث)

جہاد قیامت تک جاری رہے گا اور ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ حق پر غالب رہے گا۔ اسے مجموعی حیثیت سے نقصان پہنچانے والے ناکام رہیں گے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: (لن یبرح ھٰذا الدین قائماً، یقاتل علیہ عصابۃ من المسلمین حتیٰ تقوم الساعۃ ) یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا۔مسلمانوں کی ایک جماعت قیامت تک دینِ اسلام کے دفاع کے لئے لڑتی رہے گی۔(صحیح مسلم: ۱۹۲۲)

اللہ کے نزدیک انسانوں والا پیمانہ اور ترازو نہیں ہے، اللہ کا پیمانہ اور ترازو تو مکمل انصاف اور عدل و حکمت والا ہے۔ بے شک بندوں کی کمزوری کے بعد اللہ انہیں قوت بخشتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی حدیث پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔ آپ کا ارشاد ہے: (ھل تنصرون و ترزقون إلا بضعفائکم) تمھاری مدد اور تمہیں رزق تمھارے کمزوروں کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری: ۲۸۹۶(

مسلمان کو ہتھکڑیاں پہنا کر گھسیٹا جا رہا ہے، وہ زرد وغیرہ رنگوں کے قیدی لباس میں  ملبوس ہے، دنیا کے کونے کونے میں پیچھا کر کے اُسے پکڑا جا رہا ہے، اس کے پاس (جدید) اسلحہ نہیں، وہ فقیر و بے بس ہے۔ اس کی دعا ، نماز اور اخلاص کے ذریعے اللہ اس امت کی مدد فرمائے گا چاہے مسلمان جتنے بھی کمزور ہوں جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

(رُبّ أشعث مدفوع بالأبواب لو أقسم علی اللہ لأبرہ) بعض اوقات وہ آدمی جس کے بال پراگندہ اور لباس میلا ہے، دروازوں سے دھکے دے کر دور ہٹایا جاتا ہے اگر یہ شخص اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ اسے پورا فرماتا ہے ۔ (صحیح مسلم: ۲۶۲۲)

آج ہم دیکھتے ہیں کہ طاقت اور غلبہ مسلمانوں کے دشمنوں کے پاس ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ اللہ ہی متصرف اور مختارِ کل ہے، وہ اپنے مومن بندوں سے غافل نہیں ہے۔ وہ یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ مسلمان ہمیشہ مجبور و مقہور اور ذلیل رہیں۔

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (المیزان بید الرحمن، یرفع أقواماً و یخفض آخرین إلیٰ یوم القیامۃ) میزان رحمن کے ہاتھ میں ہے، وہ قیامت تک بعض قوموں کو اُٹھاتا ہے اور دوسروں کو گرا دیتا ہے۔(ابن ماجہ: ۱۹۹ و النسائی فی الکبریٰ: ۷۷۳۸ و سندہ صحیح و صححہ ابن حبان : ۲۴۱۹ و الحاکم۵۲۵و وافقہ الذہبی)

اللہ تعالیٰ  مسلمانوں کو ان کے گر جانے کے بعد ضرور اٹھائے گا بشرطیکہ مسلمان اسے راضی کرنے کے لئے سچے دل سے کوشش کریں۔ ہر صدی میں اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کر کے مسلمانوں کے دلوں میں ایمان قائم کر دیتا ہے جو خیر میں مسابقت کرتے ہیں اور مصیبتوں کی پروا نہیں کرتے۔ لوگ ان کی اقتدا کر کے اللہ کے دربار میں جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ اللہ ایسے لوگ پیدا کرے گا جو  غلطیوں کی اصلاح کر کے لوگوں کو سیدھے راستے پر چلا دیں گے۔ یہ لوگ ہدایت کی طرف رہنمائی کریں گے اور کتاب و سنت کی دعوت پھیلا کر دین کی تجدید کریں گے۔

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (إن اللہ یبعث لھٰذہ الأمۃ علیٰ رأس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا) بے شک اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر اس امت کے لئے ایسا انسان پیدا کرے گا جو (قرآن و حدیث کے مطابق اس امت کی تجدید (و اصلاح) کرے گا۔(سنن ابی داود: ۴۲۹۱ و سندہ حسن)

تکلیف، ذلت اور مغلوبیت ایک دن ضرور دور ہو گی ان شاء اللہ، چاہے خیر میں مسابقت کرنے والوں کے ہاتھوں ہو یا مجددین کے ذریعے لیکن یہ بات یقینی ہے کہ یہ مصیبتیں ہمیشہ نہیں رہیں گی۔
اسلام کے سارے دشمنوں سے اللہ کا اعلان جنگ ہے اور جس سے اللہ کا اعلانِ جنگ ہو تو اس سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ دنیا میں ان دشمنانِ اسلام کی حکومت ایک دن ختم ہو جائے گی۔ حدیث قدسی میں آیا ہے:

(من عادی لی ولیاً فقدآزنتہ بالحرب) جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی رکھتا ہے ، میں اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ (صحیح البخاری: ۶۵۰۲)

آئیے ہم ایک دوسرے کو مصیبتوں پر صبر کی تلقین کریں اور تقدیر کے فیصلے پر رضامندی سے ثابت قدم رہیں۔ ہمیں نا اُمیدی پھیلانے کے بجائے فتح اور غلبہ اسلام کی خوش خبریاں پھیلانی چاہیئں۔

جو لوگ طویل انتظار کی وجہ سے نحوستوں اور نا اُمیدی کا شکار  ہیں، ان کی ‘‘خدمت’’ میں عرض ہے کہ جب صحابہ نے نبی ﷺ سے مصیبتوں اور سختیوں کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ( واللہ لیتمن ھٰذا الأمر ۔۔۔ ولکنکم تستعجلون)اللہ کی قسم!یہ کام (غلبہ دین) پورا ہو کر رہے گا۔۔۔ مگر تم لوگ جلدی کرتے ہو۔(صحیح البخاری: ۶۹۴۳)

اللہ اپنے بندوں سے اس اعتماد و یقین کا مطالبہ کرتا ہے جس کا سیدنا موسیٰ ؑ  کی والدہ نے عملی مظاہرہ کیا ۔ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ (فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْہِ فَاَلْقِیْہِ فِی الْیَمِّ وَلَا تَخَا فِیْ وَلَا تَحْزَنِیْ)پھر اگر تجھے اس (موسیٰ ؑ) کے بارے میں ڈر لگے تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر اور نہ غم کر۔ (القصص : ۷)

انہوں نے اسی طرح موسیٰ ؑ  کو (صندوق میں رکھ کر) دریا میں ڈال دیا اور وہ نہ تو ڈریں اور نہ غم کیا حالانکہ دریا تو چھوٹے سے دودھ پیتے بچے کے لئے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ اللہ نے موسیٰؑ  کو بچا لیا۔ یہ دودھ پیتا بچہ آخرکار اس دور کے سب سے بڑے طاغوت فرعون کے پاس پہنچ گیا جس نے اسے پالا اور پھر یہی بچہ اس کی ہلاکت کا سبب بنا۔ اللہ کی قدرت کے عجائب اسی طرح ظاہر ہوتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے تین قسم کے ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن میں کوئی خیر نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: (ثلاثۃ لا تسأل عنھم۔۔۔ ورجل شک فی أمر اللہ و القنوط من رحمۃ اللہ)تین قسم کے لوگوں کے بارے میں نہ پوچھو۔۔۔ ایک ادمی جو اللہ کے فیصلے میں شک کرے اور اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائے۔(البخاری فی الادب المفرد: ۵۹۰ و احمد ۶؍۱۹ ح ۲۳۹۴۳ و سندہ حسن و صححہ ابن حبان، الاحسان: ۴۵۴۱)

اسی لئے جب لوگوں کو شک اور نا اُمیدی کی بیماری لگ جائے تو وہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک اس سے توبہ کر کے اللہ  پر اعتماد  اور اس کی مدد و نصرت کا یقین نہ کر لیں۔ تقدیر پر ایمان وہ بہترین عقیدہ ہے جس سے یہ اعتماد ہوتا ہے کہ آخری  فتح متقین  کی ہوگی۔ 

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:(لکل شی ء حقیقۃ وما بلغ عبد حقیقۃ الإیمان حتیٰ یعلم أن ما أصابہ لم یکن لیخطئہ وما أخطأہ لم یکن لیصیبہ)ہر چیز کی ایک حقیقت ہے اور بندہ اس وقت تک حقیقتِ ایمان تک نہیں پہنچ سکتا جب تک اسے یقین کامل نہ ہو جائے کہ اسے جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی تھی اور جو ٹل گئی ہے وہ کبھی پہنچ نہیں سکتی تھی۔ (احمد ۶؍۴۴۱ ، ۴۴۲ ح ۲۷۴۹۰ و سندہ حسن و أخطأ من ضعفہ)

مسئلہ توقیتِ مقدور ( تقدیر کا ایک خاص وقت مقرر ہے) اور اجل محدود (مقررہ وقت) کا مسئلہ ہے جو نہ تو کسی جلدی کرنے کی وجہ سے مقدم ہوتا ہے اور نہ کسی سستی کرنے والے کی وجہ سے مؤخر ہوتا ہے۔ایسے مضبوط عقیدے پر بے صبری کا قلع قمع ہو جاتا ہے اور دل مطمئن ہو جاتا ہے کہ آخری انجام و فتح متقین کے لئے ہے۔

اگرچہ اُمت مسلمہ کمزوری کے دور سے گزر رہی ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ یہ اللہ کی تقدیر سے ہے۔ اللہ اس پر قادر ہے کہ گم شدہ عزت اور کھوئی ہوئی سرداری دوبارہ لے آئے۔ انسانوں کی یہی شان ہے کہ کبھی بلندی اور کبھی پستی جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: (مثل المؤمن کالخامۃ من الزرع تضیئھا الریح مرۃ و تعدلھا مرۃ ) مومن کی مثال کھیتی کے پودے کی تازہ نکلی ہوئی ہری شاخ کی طرح ہے جسے ہوا کبھی جھکا دیتی ہے اور کبھی سیدھا کر دیتی ہے۔ (صحیح بخاری: ۵۶۴۳و صحیح مسلم : ۲۸۱۰)

اہم ترین بات یہ ہے کہ ایک دن مومن ضرور کھڑا ( اور غالب) ہو گا اور یہی اللہ کی سنتِ کونیہ ( اور فیصلہ ) ہے ۔ جب اسبابِ تقدیر پورے ہو جائیں گے تو ایک دن ایسا ضرور ہو گا۔ انشاء اللہ
اُممِ سابقہ کے بارے میں اللہ کا یہی طریقہ اور قانون جاری رہا ہے۔

 حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (عُرضت علی الأمم فرأیت النبی و معہ الرھیط، و النبی و معہ الرجل و الرجلان و النبی لیس معہ أحد)
مجھے اُمتیں دکھائی گئیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک نبی کے ساتھ کچھ لوگ ہیں ۔ ایک نبی ہے اور اس کے ساتھ ایک دو آدمی ہیں اور ایک نبی ہے جس کے ساتھ کوئی (اُمتی) بھی نہیں ۔۔(صحیح مسلم:۲۲۰)

اس کے باوجود دعوت جاری رہی اور ہر زمانے میں جاری رہے گی چاہے جتنی بھی کمزوری ہو جائے۔ کسی نبی پر یہ اعتراض قطعاً نہیں ہو سکتا کہ اُن کے ذریعے کوئی ہدایت یافتہ کیوں نہیں ہوا؟ حالانکہ انہوں نے دعوت میں اپنی پوری کوشش کی تھی۔ ہدایت دینا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح کسی مجاہد پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اسے فتح کیوں حاصل نہیں ہو رہی ؟ حالانکہ وہ اپنی استطاعت اور پوری کوشش سے جہاد میں مصروف رہاہے۔
اعتراض صرف یہ ہے کہ ہم  نے اسباب کے استعمال میں کمی کی اور کوشش میں کچھ نہ کچھ بخل اور کوتاہی سے کام لیا۔ باقی اللہ کی مرضی ہے وہ جب چاہے جو چاہے کرتا ہے۔
جب شہیدوں کو یہ خوف ہوا کہ زندہ رہ جانے والے لوگ کمزوری کی وجہ سے کہیں جہاد سے پیچھے نہ رہ جائیں تو انہوں نے اپنے رب سے سوال کیا: ہمارے پیچھے رہ جانے والے  بھائیوں کو یہ کون بتائے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور ہمیں رزق دیا جاتا ہے ؟ تاکہ لوگ جہاد سے پیچھے نہ رہیں اور میدانِ جنگ سے نہ بھاگیں۔
تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( أنا أبلغھم عنک) میں انہیں تمھاری یہ بات پہنچاؤں گا۔
(سنن ابی داود: ۲۵۲۰ وھو حدیث حسن، احمد ۱؍۲۶۶و الحاکم ۲؍۸۸ ، ۲۹۸و انظر اثبات عذاب القبر للبیہقی بتحقیقی : ۲۱۲، ابن اسحاق صرح بالسماع)

رات نے آخر ختم ہو جانا ہے اور دن کی روشنی چاروں طرف پھیل جائے گی ۔ خس و خاشاک بہ جائے گا اور زمین میں وہ چیزیں رہ جائیں گی جو لوگوں کے لئے نفع بخش ہیں۔
اللہ کی تقدیر کا یہ فیصلہ ایک دن برحق ثابت ہو گا کہ آخری فتح متقین ہی کی ہے۔
و الحمد للہ رب العالمین
[ماخوذ مع اضافات و تحقیق ازکتاب ‘‘ ھٰذہ أخلاقنا’’](۵جولائی ۲۰۰۶ء)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.