اصول کی طرح فروع میں بھی سنت کی اتباع لازم ہے

 از    July 31, 2014

مصنف : الشیخ عبدالمحسن العباد [                        مترجم حافظ عبدالحمید ازہر]

کتاب و سنت کے دلائل کے مطابق جس طرح رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع عقیدے سے متعلقہ امور میں واجب ہے 
بعینہ اسی طرح فروعی مسائل جن میں اجتہاد جائز ہے دلیل ظاہر ہو جانے پر ان میں بھی سنت کی اتباع لازم ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘فإنہ من یعش منکم فسیری اختلافاً کثیراً فعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء المھدیین الراشدین’’کہ تم میں سے جو زندہ رہا بہت اختلافات دیکھے گا اس صورت میں میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑے  رکھنا۔[سنن ابی داؤد: ۴۶۰۷مسند احمد ۴؍۱۲۷ح ۱۷۱۴۵، الموسوعۃ الحدیثیۃ ۲۸؍۳۷۵،المواردح ۱۰۲ مسند دارمی۱؍۴۵ح۹۶]

 اس امت کے سلف نے  اسی طرح کی نصیحت کی جن میں ائمہ اربعہ یعنی ابو حنیفہ، مالک، شافعی اور امام احمد شامل ہیں۔ ان کی نصیحت ہے کہ دلیل سے ثابت شدہ موقف کو اختیار کرنا چاہیئے اور یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث وارد ہو تو اس کے خلاف ہونے کی صورت میں ان کے اقوال ترک کر دیئے جائیں۔

امام مالک کا یہ مقولہ تو زبان زد عام ہے:‘‘کل یؤخذ من قولہ ویرد علیہ إلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم’’ہر ایک کی بات پر عمل ہو سکتا ہے اور اسے رد بھی کیا جا سکتا ہے ماسوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (کہ آپ کا قول واجب الاتباع ہے)

[تنبیہ: بے سند قول ہے۔ یہ قول سند متصل سے نہیں ملا۔ نیز دیکھئے مقدمہ صفۃ الصلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص ۱۰۳] 

امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے: ‘‘لوگوں کا اس امر پر اجماع ہے کہ جس کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت واضح ہو اس کے لئے روا نہیں کہ کسی شخص کے قول کے سبب (سنت) چھوڑ دے’’ (کتاب الروح بن لاقیم ص ۳۹۵، ۳۹۶)

ابن قیم نے یہ قول نقل کرنے سے پہلے لکھا ہے کہ:‘‘جو شخص علماء کے اقوال کو نصوص پیش کرتا ہے ان سے موازنہ کرتا ہے اور انمیں سے جونص کے مخالف ہو اس کی مخالفت کرے تو ان کے اقوال بے وقعت کرنے یا ان کی شان میں گستاخی کا مرتکب نہیں ہوتا  بلکہ ان کی اقتداء کرنے والا بنتا ہے اس لئے کہ ان سب نے اسی کا حکم دیا ہے۔ تو ان کا حقیقی پیرو وہ ہو گا جو ان کی اس نصیحت پر عمل پیرا ہو, نہ کہ وہ جو اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو۔’’

ائمہ مذاہب اربعہ کی فقہ سے اشتغال رکھنے والے بعض علماء سے بھی منقول ہے کہ وہ ائمہ کے اقوال کے دلائل صحیحہ سے ٹکراؤ کی صورت میں دلائل پر اعتماد کرتے۔ چنانچہ اصبغ بن الفرج کہتے ہیں: ‘‘ حالت حضر میں (موزوں پر) مسح نبی صلی اللہ علیہ وسلم  اور اکابر صحابہ سے ہمارے نزدیک قوی تر ہے اور اس قدر ثابت ہے کہ ہم اس کے مقابلے میں امام مالک کے قول کی اتباع نہیں کر سکتے ۔’’(فتح الباری : ۱/۳۰۶)

اور حافظ رحمہ اللہ فتح الباری(۱/۲۷۶)میں فرماتے ہیں: ‘‘ کتے کے برتن میں منہ ڈالنے کی صورت میں مالکی فقہاء اسے مٹی سے مانجھنا ضروری خیال نہیں کرتے۔ قرافی (مالکی) کہتے ہیں: اس بارے میں احادیث درجہ صحت کو پہنچی ہیں تو ان (مالکی فقہاء) پر تعجب ہے کہ انہوں نے ان کے مطابق قول اختیار کیوں نہیں کیا’’۔

ابن عربی مالکی کہتے ہیں:‘‘ مالکی فقہاء کہتے ہیں کہ غائبانہ نمازجنازہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص تھی۔ ہم کہتے ہیں کہ جس بات پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ان کی امت کو بھی ویسا ہی عمل کرنا چاہیئے کیونکہ اصل عدم خصوصیت ہے وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ  وسلم کے لئے زمین سکیڑ دی گئی اور جنازہ آپ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارا رب اس پر قادر ہے اور یہ ہمارے نبی سلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان بھی تھا لیکن وہی بات کہو جو روایت کے ذریعے تم تک پہنچی ہے، اپنی طرف سے بات نہ بناؤ۔ اور صرف ثابت شدہ احادیث و روایات بیان کرو۔ ضعیف روایات کو چھوڑو کیونکہ اس کا نتیجہ ناقابلِ تلافی نقصان کی صورت میں نکلے گا۔ ’’ (فتح الباری: ۳/۱۸۹ ، نیل الاوطار للشوکانی: ۴/۵۴)

ابن کثیر رحمہ اللہ‘‘ والصلٰوۃ الوسطی’’ کے تعین کے بارے میں بحث کا خاتمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:‘‘حدیث پایئہ ثبوت کو پہنچ چکی کہ اس سے مراد عصر کی نماز ہے تو اس کو تسلیم کئے بغیر چارہ کار ہی نہیں’’ پھر امام شافعی رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہیں:‘‘ میرا جو قول بھی ایسا ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بسند صحیح اس کے خلاف مروی ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اولیت رکھتی ہے اس صورت میں میری تقلید نہ کرو۔’’نیز فرمایا:‘‘جب حدیث پایئہ ثبوت کو پہنچ جائے اور میری رائے اس کے خلاف ہو (تو یوں سمجھو) میں اپنی اس رائے سے رجوع کر چکا ہوں اور میرا قول وہی ہے جو حدیث نبوی سے ثابت ہے۔’’
یہ نقل کرنے کے بعد ابن کشیررحمہ اللہ لکھتے ہیں:‘‘ یہ چیز ان کی کمالِ امانت پر دلالت کرتی ہے ۔ بعینہ یہی بات ان کے تمام بھائیوں یعنی ائمہ کرام نے کہی۔ اللہ کی ان پر رحمت و رضوان ہو۔ آمین۔ اسی بنیاد پر قاضی ماوردی نے دو ٹوک الفاظ میں لکھا ہے کہ امام شافعی کا موقف یہ ہے کہ صلاۃ وسطی نماز عصر ہے حالانکہ انہوں نے جدید قول میں صراحت کی ہے کہ اس سے مراد فجر کی نماز ہے اور شافعی مذہب رکھنے والے محدثین کی ایک جماعت نے بھی اس طریقہ پر ان کی  موافقت کی ہے۔ وللہ الحمد و المنۃ’’ (تفسیر ابن کثیر ۱؍۵۸۷بتحقیق عبدالرزاق المھدی)

حافظ ابن حجر فتح الباری (۲؍۲۲۲) میں فرماتے ہیں: ‘‘ابن خزیمہ نے دو رکعتوں سے اٹھتے وقت رفع الیدین کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ سنت ہے اگرچہ شافعی نے اس کا زکر نہیں کیا پس (اس کی) سند صحیح ہے اور شافعی کہہ چکے ہیں کہ سنت کے مطابق موقف اختیار کرو اور میرا قول چھوڑ دو۔’’

فتح الباری (۳؍۴۷۰)میں ہے کہ بیہقی نے معرفۃ (السنن والآثار ۳؍۵۴ح ۱۹۳۴و سندہ صحیح)میں ربیع(شافعی کے تلمیذ خاص)کے واسطے سے زکر کیا ہے کہ امام شافعی نے فرمایا: عورتوں کے عید گاہ میں جانے کے متعلق ایک حدیث مروی ہے اگر ثابت ہو تو وہی میرا قول ہے ۔ ان کا اشارہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی طرف تھا۔ اس لئے شوافع پر لازم ہے کہ اس کے قائل ہوں۔ امام نووی نے شرح مسلم (۴؍۴۹) میں اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے:‘‘ احمد بن حنبل اور اسحٰق بن راھویہ کا کہنا ہے کہ اس بارے میں دو احادیث ہیں ایک سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی اور دوسری سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی یہ موقف قوی تر ہے اگرچہ جمہور اس کے  خلاف ہیں۔’’

حافظ ابن حجر نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث‘‘أمرت أن أقاتل الناس’’ کی شرح میں مانعین زکوۃ کے بارے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مابین ہونے والی بحث کا زکر کر کے لکھا ہے:‘‘ اس قصہ میں دلیل ہے کہ سنت اکابر صحابہ پر بھی مخفی رہ سکتی ہے جبکہ ان میں سے عام آدمی اس پر مطلع ہو اس لئے سنت کے ہوتے ہوئے آراء کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھنا چاہیئے خواہ آراء بظاہر اچھی ہی کیوں نہ ہوں جب وہ سنت کے خلاف ہوں تو ان کی طرف نہیں دیکھنا چاہیئے۔ اور یہ نہیں کہنا چاہیئے کہ یہ سنت فلاں ہستی پر کیسے مخفی رہ گئی۔’’(فتح الباری: ۱/۷۶)

اور فتح الباری(۳/۵۴۴)میں فرماتے ہیں: ھدی کو نشان لگانا سلف و خلف میں سے جمہور کا قول ہے۔ طحاوی نے ‘‘اختلاف العلماء’’ میں امام ابو حنیفہ  سے اس کی کراہت نقل کی ہے جبکہ ان کے سوا ائمہ کا خیال ہے کہ سنت کی اتباع میں یہ مستحب ہے یہاں تک کہ ان کے شاگرد ان خاص محمد اور ابو یوسف بھی اسے مستحسن قرار دیتے ہیں۔

تمام بدعات گمراہی ہیں کوئی بدعت حسنہ نہیں ہوتی

بدعات تمام کی تمام گمراہی اور ضلالت ہیں جس کی دلیل سیدنا جابر اور سیدنا عرباض رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ احادیث میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے کہ ‘‘ کل بدعۃ ضلالۃ’ ہر بدعت گمراہی ہے[سنن ابی داؤد: ۴۶۰۷]

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان‘‘ کل بدعۃ ضلالۃ’’ کا عموم واضح کر رہا ہے کہ جو شخص کہتا ہے یا سمجھتا  ہے کہ اسلام میں کوئی بدعت حسنہ بھی ہوتی ہے تو اس کا یہ قول اور زعم باطل ہے

۔ مزید برآں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا موقف ان سے مروی اثر میں ہے کہ ‘‘ کل بدعۃ ضلالۃ وإن رآھا الناس حسنۃ’’ ہر بدعت گمراہی ہے خواہ لوگ اسے اچھا ہی سمجھیں، [السنۃ للمروزی:۸۲ ]

 رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان:‘ من سن فی الإسلام سنۃ حسنۃ فلہ أجرھا و أجر من عمل بھا بعدہ من غیر أن ینقص من أجورھم شیئ ومن سن فی الإسلام سنۃ سیئۃ کان علیہ وزرھا ووزر من عمل بھا من بعدہ من غیرأن ینقص من أوزارھم شیئ’’جس نے اسلام میں کوئی اچھا نمونہ قائم کیا تو اسے اپنے اس عمل کا ثواب ملے گا اور اس کے بعد اس پر تمام عمل کرنے والوں کا بھی ، بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے ثواب میں کوئی کمی واقع ہو اور جس نے اسلام میں برا نمونہ قائم کیا تو اس کے سر اس کا بوجھ ہو گا اور اس کے بعد ومل کرنے والوں کا بھی، بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے بوجھ میں کوئی کمی واقع ہو۔(مسلم:۱۰۱۷)

 سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ اسلام میں بدعت حسنہ بھی ہوتی ہے ، ہرگز روا نہیں، اس لئے کہ اس سے مراد ثابت شدہ نیک اعمال کی طرف سبقت کرنا ہے (نہ کہ بدعت جاری کرنا) جیسا کہ صحیح مسلم میں مزکور فرمان نبوی سے پہلے اس کا سبب بتایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قبیلہ مضر کے کچھ لوگ مدینہ آئے ان پر فقر و فاقہ کے آثار ظاہر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کی ترغیب دلائی تو انصار میں سے ایک شخص ایک تھیلی لے کر آیا جسے اٹھانے سے اس کا ہاتھ  عاجز آ رہا تھا(اس کے بعد لوگ پے درپے صدقات لے کر آئے) تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:‘‘ من سن فی الإسلام سنہ حسنۃ’’(حوالہ مذکور ہے) اسی طرح ایسے علاقے میں جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ثابت شدہ سنت معروف نہ رہی ہو تو اسے وہاں زندہ کرنا بھی اس  کے مفہوم میں شامل ہو گا۔  لیکن اس سے یہ معنی مراد لینا کہ دین میں نو ایجاد  امور کو شامل کر دیا جائے تو یہ ہرگز روا نہیں، اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذکر کیا جا چکا ہے:

‘‘ من أحدث فی أمرنا ھذا مالیس منہ فھورد’’جس نے ہمارے اس دین میں نیا کام ایجاد کیا جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے۔[صحیح بخاری: ۲۶۹۷و صحیح مسلم : ۱۷۱۸]

اس لئے کہ شریعت مکمل ہے۔ بدعات اور نو ایجاد کاموں کی محتاج نہیں اور بدعات ایجاد کرنا درحقیقت شریعت پر نامکمل اور ناقص ہونے کا الزام لگانے کے مترادف ہے اور قریب ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے۔‘‘ کل بدعۃ ضلالۃ وإن رآھا الناس حسنۃ’’ ہر بدعت گمراہی ہے اگرچہ لوگ اسے اچھا ہی سمجھیں۔[السنۃ للمروزی: ۸۲]

اور امام مالک رحمہ اللہ کا یہ قول بھی کہ جس نے اس میں کوئی بدعت نکالی اور اسے اچھا سمجھا تو اس نے یہ گمان کیا کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں خیانت کا ارتکاب کیا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ‘‘ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے’’ تو جو کام اس روز دین نہیں تھا آج بھی دین نہیں ہو سکتا۔(دیکھئے الحدیث: ۱۵ص۳۳)

جہاں تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لوگوں کو نمازِ تراویح میں ایک امام پر جمع کرنے کا تعلق ہے  تو یہ ایک مسنون عمل کو ظاہر کرنے اور سنت کو زندہ کرنے کی مثال ہے اس لئے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی بعض راتوں میں لوگوں کو قیام رمضان کی نماز پڑھائی تھی۔ اور اسے مستقل طور پر ادا کرنا امت پر اس قیام کے فرض ہونے کے خدشے سے ترک کیا تھا جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے۔(حدیث:۱۱۲۹)

اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو سلسلہ وحی کے منقطع ہو جانے کے سبب فرض ہونے کاخدشہ جاتا رہا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز تراویح پر جمع کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نمازِ تراویح کے متعلق یہ جو  کہا‘‘ نعم البدعۃ ھذہ’ یہ اچھا آغاز ہے۔[بخاری:۲۰۱۰]تو یہاں لفظ‘‘بدعت’’ اپنے شرعی مفہوم میں نہیں لغوی مفہوم میں ہے۔

لغوی‘‘بدعت’’ (آغاز) اور شرعی‘‘بدعت’’(نو ایجاد) کا فرق

لغوی مطالب عام طور پر شرعی مفاہیم سے وسیع تر ہیں، زیادہ تر شرعی مفہوم لغوی معنی کا جزء ہوتا ہے۔ تقوی، صیام(روزہ) حج، عمرہ اور بدعت کے الفاظ اس کی مثالیں ہیں۔ چنانچہ تقوی کا لغوی معنی یہ ہے کہ انسان اپنے اور ایسی چیز کے درمیان جس سے وہ خوف محسوس کرتا ہے بچاؤ کے لئے کوئی چیز رکھ لے جو اسے دوسری چیز کے شر سے محفوظ رکھے جیسا کہ سورج کی گرمی اور سردی سے بچنے کے لئے مکانات تعمیر کئے جاتے ہیں یا خیمے لگائے جاتے ہیں۔ زمین پر بری اشیاء کے ضرر سے بچنے کے لئے جوتے استعمال کئے جاتے ہیں، لیکن شرعی اصطلاح میں اللہ سے تقوی کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان اپنے اور اللہ کے غضب کے درمیان کوئی ایسی چیز رکھے جو اسے غضب الٰہی سے محفوظ رکھے اور یہ اس کے  احکام بجا لانے اور اس کی ممنوعات سے پرہیز کرنے سے ہوگا۔

صیام(روزہ) لغت میں رکنے کو کہتے ہیں۔ جبکہ شریعت کی اصطلاح میں خاص قسم کے رکنے کو کہتے ہیں۔ اور وہ ہے کھانے پینے اور روزہ افطار کرنے کے جملہ اسباب سے طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک پرہیز کرنا۔ حج لغت میں ہرارادہ و قصد کو کہتے ہیں جبکہ شرعی اصطلاح میں خاص مناسک کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ کا ارادہ کرنے کو کہتے ہیں۔عمرہ لغوی طور پر ہر زیارت کو کہتے ہیں اور شریعت کی اصطلاح میں کعبہ کی زیارت جو اس کا طواف ، صفا مروہ کی سعی اور حلق یا تقصیر سے عبارت ہے۔اسی طرح لغت میں ہر وہ چیز جو پہلے سے مثال نہ ہوتے ہوئے نو ایجاد کی جائے اور شرعی اصطلاع میں وہ عمل و اعتقاد ہے جس کی دین میں کوئی اصل نہ ہو اور یہ سنت کی ضد ہے۔

مصالح مرسلہ بدعات میں سے نہیں

مصلحت مرسلہ ایسی مصلحت کو کہتے ہیں کہ کوئی شرعی دلیل اس کے اعتبار کرنے یا اس کے ساقط کرنے پر دلالت نہ کرے۔ جبکہ وہ کسی شرعی مقصد کو پورا کرتی ہو جیسے کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں جمع قرآن، کتابوں کا لکھا جانا اور بیت المال سے وظیفہ لینے والوں کا ریکارڈ محفوظ کرنا۔ شریعت میں کوئی نص ان امور کے ثبوت یا ممانعت میں وارد نہیں۔  جہاں تک جمع قرآن کا تعلق ہے تو یہ ذریعہ ہے اس کے محفوظ رہنے کا اور اسی کی بدولت اس کا کوئی حصہ بھی ضائع نہیں ہوا۔ اور اسی سے اللہ عزوجل کا فرمان: ‘‘اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَاالذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ’’ ‘‘بے شک  ہم ہی نے قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے’[الحجر:۹]پورا ہوا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تجویز سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھی تو وہ متردد تھے انہوں نے کہا میں ایسا کام کیوں کر سکتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم یہ بہتر ہے ۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس امر پر بار بار کہتے رہے حتی کہ اللہ نے مجھے شرح صدر عطا کر دی اور میں عمر رضی اللہ عنہ کی رائے سے متفق ہو گیا۔ (بخاری: ۴۶۷۹)

سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے صحیفوں میں جمع کیا تھا جبکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے ایک مصحف میں جمع کیا ۔ رجسٹروں اور ریکارڈوں کی تیاری سیدنا عمر رضی  اللہ  عنہ کے دور میں ہوئی۔ جب فتوحات بکثرت ہوئیں، غنیمت اور فئی کی صورت میں وافر مال بیت المال میں آ گیا تو لشکریوں اور بیت المال سے وظیفہ لینے والے دیگر افراد کے ناموں کا ریکارڈ رکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ نظام سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے  پہلے وجود میں نہ آیا تھا۔ جبکہ یہ عمل ذریعہ ہے مستحق افراد کے حقوق کی یقینی ادائیگی کا۔ اور سد باب ہے ان میں سے کسی کے محروم رہ جانے کے خدشے کا۔ لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بعض بدعات کو مصالح مرسلہ میں شامل کر کے حسن قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس لئے کہ مصالح مرسلہ میں شریعت کے مقرر کردہ کسی مقصد کو پورا کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے برخلاف بدعات میں شریعت پر ناقص ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ کے قول میں گزر چکا ہے۔

نیت اچھی ہونے کے ساتھ سنت کی موافقت بھی ضروری ہے

بدعات کے معاملے کو معمولی سمجھنے والوں کی طرف سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے بدعت کا مرتکب ہوتا ہے اس کی نیت تو اچھی ہے اس لئے اس اعتبار سے اس کے عمل کو بھی اچھا ہی کہا جائے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ مقصد نیک ہونے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عمل سنت کے مطابق ہو اور یہ بھی نیک عمل کی قبولیت کی دو شرطوں  میں سے ایک ہے جن کا تذکرہ ہو چکا ہے۔ یہ دو شرطیں ، اللہ کے لئے اخلاص اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ا طاعت ہیں۔

اور وہ حدیث گزر چکی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نو ایجاد بدعات ایسا عمل کرنے والوں کو لوٹا دی جاتی ہیں (اللہ تعالیٰ کے حضور شرف قبولیت نہیں پا سکتیں) متفق علیہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:

من أحدث فی أمرنا ھذا مالیس منہ فھورد’’جس نے ہمارے دین میں ایسا عمل ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔[بخاری:۲۶۹۷،مسلم:۱۷۱۸]

صحیح مسلم کے الفاظ یوں ہیں:

 ‘‘من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھورد’’ جو کوئی ایسا عمل کرے جو ہمارے طریقہ  پر نہیں تو وہ عمل مردود ہے۔[صحیح مسلم: ۱۷۱۸؍۱۸]

 اور مقصدنیک ہونے کے ساتھ سنت کی اطاعت ضروری ہونے کے دلائل میں اس صحابی کا قصہ بھی ہے جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کر دیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘شاتک شاۃ لحم’’ تمہاری ذبح کی وہ بکری ایسی ہے جس طرح گوشت کھانے کے لئے ذبح کی گئی بکری ہوتی ہے(قربانی شمار نہیں ہو گی) (بخاری:۹۵۵،مسلم:۱۹۶۱)

اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (۱۰/۱۷) میں لکھا ہے : ‘‘شیخ ابو محمد بن  ابی حمزہ کا قول ہے کہ اس سے ثابت ہوا کہ عمل اگرچہ اچھی نیت سے کیا گیا ہو اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ ہو۔’’

سنن دارمی(۲۱۰)میں صحیح سند کے ساتھ مذکور اس واقعہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے:‘‘ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھے لوگوں کے پاس آئے جن کے ہاتھوں میں کنکریاں تھیں۔  ان میں سے ایک آدمی کہتا سو بار اللہ اکبر کہو۔ اور وہ کنکریوں پر شمار کر کے سو بار اللہ اکبر کہتے۔ پھر وہ کہتا سو بار لا  الہ الا اللہ کہو۔ سو بار سبحان اللہ کہو۔ اور لوگ اسی طرح کرتے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں ؟ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ابو عبدالرحمن ہم تکبیر تسبیح تھلیل کنکریوں پر شما رکرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو تم اپنے گناہ شمار کرو(یعنی ان اعمال سے توبہ کرو تو) میں ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں ہو گی۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت!تم پر افسوس ہے تم اس قدر تیزی سے ہلاکت کی طرف لڑھک گئے۔ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ وافر تعداد میں موجود ہیں۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ملبوسات ہیں جو ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے۔ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال کے برتن بھی نہیں ٹوٹے، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یا تو تم ایسے طریقہ پر ہو جس میں ملت محمدیہ سے بھی زیادہ ہدایت پائی جاتی ہے یا تم گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو۔ وہ کہنے لگے۔ ابو عبدالرحمن ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی کا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نےفرمایا:بھلائی کا ارادہ کرنے والے کتنے لوگ ایسے ہیں جو اسے پا نہیں سکتے۔ ملاحظہ ہو السلسلہ الصحیحہ لمحدث الالبانی رحمہ اللہ (ح:۲۰۰۵) [اس کی سند حسن ہے]

بدعات کے خطرات اور اس حقیقت کا بیان کہ ‘‘ یہ گناہوں ’’ سے بدتر ہیں

بدعات کا معاملہ گھمبیر اور ان کا قضیہ غیر معمولی ہے۔ ان کے برے اثرات بہت وسیع ہیں یہ عام گناہوں اور نافرمانیوں  سے زیادہ خطرناک ہیں اس لئے کہ عام گناہ کا مرتکب جانتا ہے اور مانتا ہے کہ وہ حرام میں ملوث ہے  کبھی نہ کبھی اسے چھوڑ دیتا ہے اور تائب ہو جاتا ہے جبکہ بدعت کا رسیا یہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اس لئے مرتے دم تک اسی پر ڈٹا رہتا ہے جبکہ وہ اپنی خواہشات نفس کا پیرو ہوتا ہے اور راہ راست سے بھٹکا ہوا راہی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
‘‘ اَفَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْ ءُ عَمَلِہٖ فَرَ اٰہُ حَسَناً ط  فَاِنَّ اللہ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآ ءُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَاءُ
‘‘بھلا وہ شخص جس کو اس کے اعمال بد آراستہ کر کے دکھائے جائیں اور وہ ان کو نیکی سمجھنے لگے تو وہ (بھلا راہ راست پر کیسے آئےگا ) بلا شبہ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔[فاطر:۸]
نیز فرمایا:
اَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ کَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْ ءُ عَمَلِہٖ وَاتَّبَعُوْا اَھْوَآ ءَ ھُمْ [محمد:۱۴]
بھلا جو شخص اپنے رب کی مہربانی سے واضح ہدایت پرہو وہ ان لوگوں کے مانند ہو سکتا ہے جن کو ان کے برے اعمال مزین کرکے دکھائے جائیں اور وہ اپنی خواہشات کے غلام بن کر رہ گئے ہوں۔
نیز فرمایا:
وَلَا تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ [ص:۲۶]
اور اپنی خواہش کے پیچھے نہ لگو کہ وہ تمہیں اللہ کےر استے سے ہٹا دے گی۔
نیز فرمایا:
وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ھَوٰہُ بِغَیْرِ ھُدًی مِّنَ اللہِ [القصص: ۵۰]
اور اس شخص سے زیادہ کون گمراہ ہو گا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے۔

اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:‘‘إن اللہ حجب التوبۃ عن کل صاحب بدعۃ حتی یدع بدعتہ’’ اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی سے توبہ کو اوجھل کر رکھا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی بدعات کو چھوڑ دے۔

اس حدیث کو منذری نے ترغیب و ترہیب (۸۶) ترک سنت اور بدعات کے ارتکاب اور خواہشات کی پیروی پر وعید میں ذکر کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو سلسلہ صحیحہ للالبانی:۱۶۲۰) [یہ حدیث حمید الطویل کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔ز۔ع]

موضوع سے متعلق:

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.