اسماعیل جھنگوی صاحب کے پندرہ جھوٹ

 از    January 17, 2015

تحریر: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
کچھ لوگ اہل حدیث کے خلاف دن رات پروپیگنڈا کرتے اور فروغِ اکاذیب میں مصروف رہتے ہیں جن میں سے ابوبلال اسماعیل جھنگوی دیوبندی بھی ہیں۔ اس مختصر مضمون میں جھنگوی مذکور کی کتاب “تحفۂ اہل حدیث” حصہ اول سے پندرہ جھوٹ اور ان کا رد تبصرہ کے عنوان سے باحوالہ پیشِ خدمت ہے:
جھوٹ نمبر ۱:       اسماعیل جھنگوی صاحب لکھتے ہیں:
          “بیٹھ کر پیشاب کرنا بخاری میں نہیں ” (تحفۂ اہل حدیث ص ۴ نیز دیکھئے ص  ۱۰)
    تبصرہ:    سیدنا عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں : “فرأیت رسول اللہ ﷺ قاعدًا علیٰ لبنتین، مستقبل بیت المقدس” پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ دو اینٹوں پر (قضائے حاجت فرماتے ہوئے ) بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے بیٹھے تھے۔ (صحیح بخاری ج ۱ص ۲۷ ح ۱۴۹، ارشاد القاری للقسطلانی ج ۱ص ۲۳۸)
تنبیہ (۱): اگر کوئی یہ کہے کہ “قضائے حاجت میں صرف بڑا پیشاب ہی ہوتا ہے چھوٹا پیشاب نہیں ہوتا ” تو یہ قول بلا دلیل اور مردود ہے ۔
تنبیہ (۲): اہل حدیث کے نزدیک صحیح و حسن لذاتہ حدیث حجت اور معیارِ حق ہے ، چاہے صحیح بخاری میں ہو یا صحیح مسلم میں یا حدیث کی کسی بھی معتبر و مستند کتاب میں۔ اہل حدیث کا قطعاً یہ دعویٰ نہیں ہے کہ صرف صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث ہی حجت ہیں۔
سیدہ عائشہ کی بیان کردہ ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کرتے تھے ۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی ۱/۱۰۲ و سندہ حسن)
ایک روایت میں نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے اشارتاً منع فرمایا ۔
(دیکھئے کشف الاستار ۱/۲۶۶ ح ۵۴۷ و سندہ حسن) معلوم ہوا کہ پیشاب بیٹھ کر ہی کرنا چاہئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کرنا منسوخ ہے یا حالتِ عذر میں جواز پر محمول ہے ۔
جھوٹ نمبر ۲، ۳:    اسماعیل جھنگوی صاحب لکھتے ہیں:
“نبی کریم ﷺ تو ننگے سر آدمی کو سلام کا جواب تک نہیں دیتے (مشکوۃ)”        (تحفۂ اہلحدیث ص ۱۳)
تبصرہ:    یہ بالکل جھوٹ اور دروغ بے فروغ ہے ۔ اس میں نبی کریم ﷺ اور صاحبِ مشکوٰۃ دونوں پر جھوٹ بولا گیا ہے ۔ مشکوٰۃ میں اس طرح کی کوئی حدیث نہیں ہے ۔
جھوٹ نمبر۴:        اہلِ حدیث اور اہل سنت کے بارے میں اسماعیل جھنگوی صاحب لکھتے ہیں:
“پیارے ان کو ایک نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ ان دو کے درمیان المشرقین ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ہمارا نام اہل سنت والجماعت رکھا ہے ۔ اہل حدیث نہیں رکھا۔ ”  (تحفۂ اہلحدیث ص ۵۰)
تبصرہ:    اہل حدیث اور اہل سنت کو علیحدہ علیحدہ اور بعد المشرقین قرار دینا بھی جھوٹ ہے اور یہ تو بہت بڑا جھوٹ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دیوبندیوں کا نام اہل سنت و الجماعت رکھا ہے ۔
تنبیہ:     عبدالحق حقانی (تقلیدی) لکھتے ہیں:”اور اہل سنت شافعی حنبلی مالکی حنفی ہیں اور اہل حدیث بھی ان ہی میں داخل ہیں” (عقائد الاسلام ص ۳)
یہ کتاب محمد قاسم نانوتوی کی مطالعہ شدہ اور پسندیدہ ہے ۔ دیکھئے عقائد الاسلام (ص ۲۶۴) محمد کفایت اللہ دہلوی دیوبندی لکھتے ہیں :
“ہاں اہل حدیث مسلمان ہیں اور اہل سنت و الجماعت میں داخل ہیں ۔ ان سے شادی بیاہ کا معاملہ کرنا درست ہے ۔ محض ترکِ تقلید سے اسلام میں فرق نہیں پڑتا اور نہ اہل سنت و الجماعت سے تارک تقلید باہر ہوتا ہے ۔ فقط” (کفایت المفتی ج ۱ ص ۳۲۵ جواب نمبر ۳۷۰)
جھوٹ نمبر ۵:      اسماعیل جھنگوی صاحب لکھتے ہیں:
“اہل سنت قبر میں عذاب و ثواب کے قائل ہیں جبکہ موجودہ غیر مقلد اہل حدیث اس کے قائل نہیں ہیں۔” (تحفۂ اہل حدیث ص ۵۳)

                       تبصرہ:ہم اور ہمارے اساتذہ قبر میں عذاب و راحت کے قائل ہیں ۔ 

مثلاً ہمار ےاستاد شیخ ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی السندھی نے منکرینِ عذاب قبر کی رد میں ایک کتاب “القضاء و الجزاء بأمر اللہ متیٰ یشاء” لکھی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں: “اور عذاب قبر کا انکار کرنا دیانتداری کے خلاف ہے  ” (ص ۴)

ہمارے ایک قابلِ احترام دوست ڈاکٹر ابو جابر عبداللہ دامانوی حفظہ اللہ تو منکرینِ عذابِ قبر کے خلاف بے نیام تلوار اور اس فن کے امام ہیں ۔ میرے انتہائی محترم استاد حافظ عبدالحمید ازہر نے اس مسئلے پر کتاب لکھی ہے اور منکرینِ عذابِ قبر کا زبردست رد کیا ہے ۔ اس مسئلے پر راقم الحروف کی کتاب “تحقیق و ترجمۃ عذاب القبر للبیہقی” ابھی تک غیر مطبوع ہے۔
جھوٹ نمبر ۶:      اسماعیل جھنگوی صاحب لکھتے ہیں:
“اہل سنت حضورﷺ کے روضہ کی زیارت کو ثواب سمجھتے ہیں جبکہ غیر مقلد اہل حدیث اسے حرام کہتے ہیں۔”(تحفۂ اہل حدیچ ص ۵۴)
تبصرہ:    یہ بالکل کالا جھوٹ ہے ۔ اہل حدیث کے نزدیک نبی کریم ﷺ کی قبر کی زیارت نبی کریم ﷺ سے محبت کی علامت ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ آخرت کی یاد کا ذریعہ ہے ۔ (صحیح مسلم : ۹۷۷، الترمذی: ۱۰۵۴)

تنبیہ:     کسی خاص قبر کی زیارت کے لئے دور سے سفر کرنے کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور اہل الحدیث علماء کے نزدیک راجح یہی ہے کہ مسجد نبوی کی نیت سےسفر کیا جائےاور بعد میں نبی کریم ﷺ کی قبر یا حجرے کی زیارت کی جائے  ۔ والحمدللہ

جھوٹ نمبر ۷:      اسماعیل جھنگوی لکھتے ہیں:
“اہل سنت بیس تراویح سے کم کے قائل نہیں ” (تحفۂ اہل حدیث ص ۵۴)
تبصرہ:    قاضی ابوبکر بن العربی المالکی (متوفی ۵۴۳؁ھ)فرماتے ہیں:
” اور صحیح یہ ہے کہ گیارہ رکعات پڑھنی چاہئیں” (عارضۃ الاحوذی ۴/۱۹ ح ۸۰۶ ، تعداد رکعاتِ قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ ص ۸۶)
کیا قاضی صاحب اہل سنت سے خارج تھے؟
علامہ قرطبی (متوفی ۶۵۶؁ھ) لکھتے ہیں: ” اور کثیر علماء یہ کہتے ہیں کہ گیارہ رکعتیں ہیں” (المفہم من تلخیص کتاب مسلم ۲/۳۹۰ ، تعدادِ رکعاتِ قیام رمضان ص ۸۶)
امام شافعی نے فرمایا : “اگر رکعتیں کم اور قیام لمبا ہو تو بہتر ہے اور مجھے زیادہ پسند ہے …..” (مختصر قیام اللیل للمروزی ص ۲۰۲،۲۰۳ ، تعدادِ رکعاتِ قیام رمضان ص ۸۵)
کیا یہ سب اہل سنت سے خارج تھے؟
جھوٹ نمبر ۸:      اسماعیل جھنگوی لکھتے ہیں:
“اہل سنت نماز میں قرآن شریف کو دیکھ کر پڑھنا نا جائز سمجھتے ہیں۔”(تحفۂ اہل حدیث ص ۵۴)
تبصرہ :    سیدہ عائشہ ﷞ کا غلام (رمضان میں ) قرآن مجید دیکھ کر امامت کراتا تھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۲/۳۳۸ ح ۷۲۱۵و سندہ صحیح ، صحیح بخاری قبل ح ۶۶۰)
مشہور تابعی محمد بن سیرین ﷫ کے نزدیک قرآن مجید دیکھ کر امامت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۷۲۱۴ و سندہ صحیح)
تابعیہ عائشہ بنت طلحہ بن عبیداللہ التیمیہ رحمہا اللہ اپنے غلام یا کسی شخص کو حکم دیتیں تو وہ انہیں مصحف (قرآن مجید) دیکھ کر نماز پڑھاتا تھا ۔ (ابن ابی شیبہ : ۷۲۱۷ و سندہ صحیح)
حکم بن عتیبہ ﷫ نے قرآن دیکھ نماز پڑھانے کی اجازت دی ۔ (ابن ابی شیبہ : ۷۲۱۸ و سندہ صحیح)
حسن بصری ﷫ بھی اسے جائز سمجھتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ : ۷۲۱۹ و سندہ صحیح)
سیدنا انس ﷛ کا غلام مصحف ہاتھ میں پکڑے ہوئے قرآن دیکھ کر لقمہ دیتا تھا۔ (ابن ابی شیبہ : ۷۲۲۲ و سندہ حسن)
امام محمد بن سیرین ﷫ نماز پڑھتے اور ان کے قریب ہی مصحف ہوتا تھا، جب انہیں کسی (آیت) میں تردد ہوتا تو مصحف دیکھ لیا کرتے تھے ۔(مصنف عبدالرزاق ۲/۴۲۰ ح ۳۹۳۱ و سندہ صحیح)
امام ابن شہاب الزہری﷫ سے پوچھا گیا کہ کیا قرآن مجید دیکھ کر نماز پڑھائی جاسکتی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں، جب سے اسلام ہے ، لوگ یہ کررہے ہیں۔ (المصاحف لابن ابی داود ص ۲۲۲و سندہ حسن)
یحییٰ بن سعید الانصاری ﷫ نے فرمایا: میں رمضان میں قرآن دیکھ کر قراءت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔ (المصاحف ص ۲۲۲ و عندہ: “معاویۃ عن صالح بن یحیی بن سعید الأنصاريوالصواب:” معاویۃ بن صالح عن یحیی بن سعید الأنصاريو سندہ حسن)
امام ابوحنیفہ﷫ کے مشہور استاد امام عطاء بن ابی رباح المکی التابعی﷫ نماز میں قرآن دیکھ کر قراءت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ (المصاحف لا بن ابی داود ص ۲۲۲ و سندہ حسن، رباح بن ابی معروف حسن الحدیث و ثقہ الجمہور و باقی السند صحیح)
کیا خیال ہے ؟ یہ صحابۂ کرام و تابعین و سلف صالحین اہل سنت سے خارج تھے؟ جو شخص انہیں اہل سنت سے خارج سمجھتا ہے وہ بذاتِ خود اہل سنت سے خارج اور گمرا ہ ہے ۔
تنبیہ:     بعض علماء مثلاً حماد اور قتادہ وغیرہما مصحف دیکھ کر قرآن مجید پڑھنا ناپسند کرتے یا مکروہ سمجھتے تھے ۔ (مثلاً دیکھئے ابن ابی شیبہ : ۷۲۳۰ و سندہ صحیح)
یہ قول اس پر محمول ہے کہ صحیح العقیدہ حافظ ہونے کے باوجود جان بوجھ کر قرآن دیکھ کر نماز میں قراءت کی جائے ۔
دوسرے یہ کہ صحابہ اور کبار تابعین کے مقابلے میں ان اقوال کی کیا حیثیت ہے؟
جھوٹ نمبر ۹:      اسماعیل جھنگوی صاحب کہتے ہیں:
          “اہل سنت مغرب کی اذان کی بعد نفل نہیں پڑھتے ”       (تحفۂ اہل حدیث ص ۵۵)
    تبصرہ:    سیدنا انس بن مالک ﷛ نے فرمایا :”وکنا نصلي علیٰ عھد رسول اللہ ﷺ رکعتین بعد غروب الشمس قبل صلوٰۃ المغرب” اور ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں غروبِ آفتاب کے بعد نمازِ مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔ (صحیح مسلم : ۳۰۲/۸۳۶)
          معلوم ہوا کہ سیدنا انس ﷛ اور صحابہ ٔ کرام نمازِ مغرب کی اذان کے بعد رکعتیں پڑھتے تھے ۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ سیدنا انس ﷛ نے فرمایا :میں نے نبی ﷺ کے کبار  (بڑے) صحابہ کو مغرب کے وقت (دو رکعتوں کے لئے ) ستونوں کی طرف جلدی جلدی جاتے ہوئے دیکھا ہے ۔ (صحیح بخاری :۵۰۳ و السنن الکبریٰ للبیہقی ۲/۴۷۶ و سفیان ثوری صرح بالسماع عندہ )
جلیل القدر کبار تابعین میں سے سیدنا ابو تمیم عبداللہ بن مالک الجیشانی ﷫ نمازِ مغرب سے پہلے  دو رکعتیں پڑھتے تھے اور سیدنا عقبہ بن عامر﷛ نے فرمایا: ہم نبی ﷺ کے زمانے میں ایسا کرتے تھے۔  (صحیح بخاری : ۱۱۸۴)
          یاد رہے کہ یہ رکعتیں فرض و واجب نہیں ہیں انہیں چھوڑ دینا بھی جائز ہے لیکن پڑھنا بہتر ہے ۔
(عبدالرحمٰن) بن ابی لیلیٰ ﷫ مغرب (کی نماز) سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۲/۳۵۶ ح ۷۳۸۰ و سندہ صحیح)
کیا یہ صحابہ و تابعین اہل سنت نہیں تھے ؟
جھوٹ نمبر ۱۰:     اسماعیل جھنگوی لکھتے ہیں:
“جبکہ غیر مقلدین کے ہاں فاتحہ قرآن میں نہیں” (تحفہ      ٔ اہلحدیث ص ۵۵)
تبصرہ:    معاذ اللہ، نستغفر اللہ ، ألا لعنۃ اللہ علی الظالمین۔
تمام اہل حدیث علماء کے نزدیک سورۂ فاتحہ قرآن میں سے ہے  ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
          ((فلا تقرؤا بشئ من القرآن إذا جھرت إلا بأم القرآن))
جب میں جہری نماز پڑھ رہا ہوتا ہوں تو قرآن میں سے سورۂ فاتحہ کےسوا کچھ بھی نہ پڑھو۔ (سنن ابی داود: ۸۲۴ و سندہ صحیح، نافع بن محمود ثقۃ و ثقہ الجمہور و مکحول لم ینفردبہ، تابعہ حرام بن حکم و الحمدللہ)
کس اہلِ حدیث عالم نے کہا کہ سورۂ فاتحہ قرآن میں سے نہیں ہے ؟ حوالہ پیش کریں ورنہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے ۔
جھوٹ نمبر ۱۱:      اسماعیل جھنگوی لکھتے ہیں:
“اہل سنت کے ہاں وتر تین ہیں جبکہ غیر مقلدین اہل حدیث کے نزدیک وتر ایک ہے ۔ ” (تحفۂ اہلحدیث ص ۵۶)
تبصرہ:    ایک وتر کے بارے میں اتنی روایات ہیں کہ اس مختصر مضمون مین ان کا جمع کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ فی الحال چند روایات پیشِ خدمت ہیں:
نبی کریم ﷺ نے ایک وتر پڑھا ۔(سنن الدارقطنی  ج ۲ ص ۳۴ ح ۱۶۵۶ و سندہ صحیح، وقال النیموی فی آثار السنن (۵۹۷): “وإسنادہ صحیح”)
سیدنا عثمان﷛ ایک وتر پڑھتے اور اسے اپنا وتر کہتے تھے ۔ (سنن دار قطنی : ۱۶۵۷ و سندہ حسن ،وقال النیموی فی آثار السنن (۶۰۴): “و      إسنادہ حسن”)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ﷛ نے ایک وتر پڑھا۔ (صحیح بخاری: ۶۳۵۶)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ﷛ نے عشاء کے بعد ایک وتر پڑھا۔ (صحیح بخاری : ۳۷۶۴، ۳۷۶۵)
سیدنا ابو ایوب ﷛ نے فرمایا : جو شخص تین وتر پڑھنا چاہتا ہے تو تین پڑھ لے اور جو شخص ایک وتر پڑھنا چاہتا ہے تو ایک وتر پڑھ لے ۔ (سنن النسائی ۳/۲۳۹ ح ۱۷۱۳، و سندہ صحیح)
سیدنا ابن عمر﷛ نے ایک وتر پڑھا۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی ۳/۲۷ و سندہ صحیح، مصنف ابن ابی شیبہ ۲/۲۹۲ ح ۶۸۰۶ و سندہ صحیح)
امام عطاء بن ابی رباح فرماتے تھے کہ اگر چاہتے ہو تو ایک وتر پڑھ لو ۔ (دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ : ۶۸۱۱ وسندہ صحیح ، ابو اسامہ بریٔ من التدلیس)
آلِ سعد اور آلِ عبداللہ بن عمر ایک وتر پڑھتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ : ۶۸۱۲ و سندہ صحیح)
تفصیل کے لئے مولانا ابو عمر عبدالعزیز النورستانی ﷾ کی عظیم الشان کتاب “الدلیل الواضح علیٰ أن الإیتار برکعۃ واحدۃ مستقلۃ شرعۃ الرسول الناصح ” (ص ۱ تا ۲۹۱) ملاحظہ فرمائیں۔
ان آثارِ صحیحہ کے باوجود یہ راگ الاپنا کہ اہل سنت (صرف) تین وتر پڑھتے ہیں (اور ایک وتر نہیں پڑھتے) بالکل غلط ہے ۔ خلیل احمد سہارنپوری انبیٹھوی دیوبندی لکھتے ہیں:”وتر کی ایک رکعت احادیث صحاح میں موجود ہے اور عبداللہ بن عمر ﷛ اور ابن عباس وغیرہما صحابہاس کے مقر اور مالک ﷫ و شافعی ﷫ و احمد ﷫ کا وہ مذہب پھر اس پر طعن کرنا مؤلف کا ان سب پر طعن ہے کہو اب ایمان کا کیا ٹھکانا ” الخ (براہین قاطعہ ص ۷)
جھوٹ نمبر ۱۲:     اسماعیل جھنگوی لکھتے ہیں:
“امام صاحب نے پچپن حج کیے ہیں” (تحفۂ اہلحدیث ص ۵۹)
تبصرہ:    یہ کہنا امام ابوحنیفہ﷫ نے صحابۂ کراممیں جا کر ان کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں، صحیح یا حسن سند سے قطعاً ثابت نہیں ہے بلکہ امام ابوحنیفہ﷫ کا کسی ایک صحابی کے دیدار سے مشرف ہونا بھی قطعاً ثابت نہیں ہے ۔ فی الحال دو دلیلیں پیشِ خدمت ہیں:
اول:    امام ابوحنیفہ نے فرمایا :”ما رأیت أفضل من عطاء
          میں نے عطاء (بن ابی رباح) سے زیادہ افضل کوئی نہیں دیکھا ۔ (الکامل لا بن عدی ج ۷ ص ۲۴۷۳ و سندہ صحیح، دوسرا نسخہ ج ۸ ص ۲۳۷، کتاب الاسامی و الکنیٰ لابی احمد الحاکم الکبیر ج ۴ ص ۱۷۶، و سندہ صحیح)
امام صاحب کا دوسرا قول ہے کہ میں نے جابر الجعفی سے زیادہ جھوٹا اور عطاء بن ابی رباح سے زیادہ افضل کوئی نہیں دیکھا ۔ (العلل الصغیر للترمذی مع السنن ص ۸۹۱ و سندہ حسن)
امام صاحب کے اس قول سے ثابت ہوا کہ انہوں نے بشمول سیدنا انس﷛ کسی صحابی کو نہیں دیکھا تھاور نہ وہ یہ کبھی نہ کہتے  کہ میں نے عطاء سے زیادہ افضل کوئی نہیں دیکھا ۔
دوم:    امام ابوحنیفہ﷫ کے دو شاگردوں (جمہور محدثین کے نزدیک مجروح) قاضی ابو یوسف اور محمد بن الحسن الشیبانی نے اپنی کسی کتاب میں امام ابوحنیفہ﷫ کی تابعیت کا ثبوت پیش نہیں کیا ۔محدث کبیرامام علی بن عمر الدارقطنی﷫ فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ﷫ نے انس بن مالک﷛ کو نہیں دیکھا اور نہ کسی صحابی سے ملاقات کی  ہے۔ (سوالات حمزہ بن یوسف السہمی : ۳۸۳ و تاریخ بغداد ۴/۲۰۸ و سندہ صحیح)
          ان دو دلیلوں اور قول دارقطنی کے مقابلے میں خطیب وغیرہ متاخرین کے حوالے بےکار و مردود ہیں۔
جھوٹ نمبر ۱۴:     اسماعیل جھنگوی صاحب ائمہ کرام کے بارے میں لکھتے ہیں:
          “بھئی وہ مقلد نہیں تھے لیکن غیر مقلد بھی نہیں ہے۔ وہ مجتہد تھے۔ غیر مقلد کی تعریف ان پر فٹ نہیں آتی ۔ غیر مقلد تو وہ ہوتا ہے ۔ جو خود بھی اجتہاد نہ کر سکے اور مجتہد کی تقلید بھی نہ کرے بلکہ فقہاء کو گالیاں دے اور ان کے مقلدین کو مشرک کہے۔ ” (تحفۂ اہلحدیث ص ۶۳)
تبصرہ:    درج بالا سارا بیان جھوٹ پر مبنی ہے ۔
ائمہ محدثین کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں: وہ مقلدین نہیں تھے اور نہ مجتہد مطلق تھے۔ (مجموع فتاویٰ ج ۲۰ ص ۴۰، دین میں تقلید کا مسئلہ ص ۵۰،۵۱)
امام ابوحنیفہ﷫ کے بارے میں اشرف علی تھانوی صاحب فرماتے ہیں:
“کیونکہ امام اعظم ابوحنیفہ کا غیر مقلد ہونا یقینی ہے ” (مجالس حکیم الامت از مفتی محمد شفیع دیوبندی ص ۳۴۵، حقیقت حقیقت الالحاد از امداد الحق شیوی دیوبندی ص ۷۰، دین میں تقلید کا مسئلہ ص ۵۷)
کیا خیال ہے ؟ کیا امام ابوحنیفہ﷫سے اوکاڑوی حضرات یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ وہ فقہاء کو گالیاں دیتے اور ان کے مقلدین کو مشرک کہتےتھے ؟ اگر نہیں کرسکتے تو پھر ان کی بیان کردہ “غیر مقلد کی تعریف” باطل و مردود ہے ۔
جھوٹ نمبر ۱۵:     اسماعیل جھنگوی صاحب قاضی ابو یوسف اور محمد بن الحسن الشیبانی کے بارے میں لکھتے ہیں:
” وہ تو قسمیں اٹھاتے ہیں کہ ہمارا استاد سے کوئی اختلاف نہیں (شامی)” (تحفۂ اہلحدیث ص ۷۰)

تبصرہ:    فتاویٰ شامی میں اصل عبارت پیش کریں اور پھر ابن عابدین شامی سے لے کر قاضی ابو یوسف اور محمد بن الحسن الشیبانی تک صحیح سند پیش کریں۔

تنبیہ:     محمد بن الحسن الشیبانی کی طرف منسوب کتاب الآثار میں امام ابوحنیفہ﷫ کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ وہ سبزیوں پر صدقے (عشر) کے قائل تھے۔ اس کے بعد شیبانی نے کہا :”وأما في قولنا فلیس فی الخضر صدقۃ” اور ہمارے قول میں سبز ترکاریوں میں زکوٰۃ نہیں ۔ (کتاب الآثار مترجم ص ۱۴۳ باب زکوٰۃ الزرع و العشرح ۳۰۲)
قارئین کرام ! ابو بلال محمد اسماعیل جھنگوی دیوبندی کی چھوٹی سی کتاب “تحفۂ اہلحدیث” کے پندرہ جھوٹ باحوالہ و باتبصرہ آپ کی خدمت میں پیش کردیئے گئے ہیں۔ اس کتاب “تحفۂ اہلحدیث” میں اور بھی بہت سے جھوٹ ہیں جنہیں طوالت کے خوف کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے ۔ جھنگوی مذکور کی دوسری کتابوں میں بھی بہت زیادہ جھوٹ لکھے ہوئے ہیں مثلاً سیدنا عبداللہ بن مسعود﷛ کی طرف منسوب ترکِ رفع یدین کی ایک روایت کے بارے میں جھنگوی صاحب لکھتے ہیں:
“زبیر علی زئی غیرمقلد نے نورالعینین میں صحیح کہا ” (تحفۂ اہلحدیث حصہ دوم ص ۱۵۹)
حالانکہ اس ضعیف روایت کے بارے میں راقم الحروف نے علانیہ لکھا ہے کہ
“یہ حدیث علتِ قادحہ کے ساتھ معلول ہے اور سندًا اور متنًا دونوں طرح سے ضعیف ہے ” (نور العینین طبع اول ص ۹۶ و طبع دوم (کمپوزنگ کے بعد اول) اپریل ۲۰۰۲؁ء ص ۱۱۹، طبع سوم مارچ ۲۰۰۴؁ء ص ۱۱۵، طبع چہارم (جدید و ترمیم شدہ مع اضافات ایڈیشن) دسمبر ۲۰۰۶؁ء ص ۱۳۰)
بعض جگہ “سندًا، متنًا” اور بعض جگہ “سندًا و متنًا” چھپا ہے ۔

          معلوم ہوا کہ جھنگوی صاحب نے جھوٹ بولنے میں ماسٹر امین اوکاڑوی کو مات اورکذابین کا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ (۱۳ فروری ۲۰۰۷؁ء)

اسماعیل جھنگوی دیوبندی صاحب کی کتاب تحفہ اہل حدیث کا مدلل رد تحفہ حنفیہ کے نام سے برسوں قبل شائع ہو چکا ہے جو یہاں سے ڈاونلوڈ کیا جا سکتا ہے۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.