استغفار کی فضیلت

 از    February 11, 2015

تحریر:حافظ ضیاء الدین المقدسی رحمہ اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم شمار کرتے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مجلس میں سو مرتبہ (استغفار کرتے، جس کے الفاظ یہ ہیں) رَبِّ اغْفِرْلِيْ وَتُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ اے میرے رب ! مجھے معاف فرما اور مجھ پر رجوع فرما، یقیناً تو بہت رجوع فرمانے والا، بخشنے والا ہے۔           (سنن ابی داود: ۱۵۱۶، ابن ماجہ : ۳۸۱۴، الترمذی: ۳۴۳۴، ابن حبان : ۲۴۵۹ ، صحیح)

  سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کے نامۂ اعمال میں بہت زیادہ استغفار ہوا تو اس کے لئے طوبیٰ (خوشخبری) ہے ۔(سنن ابن ماجہ : ۳۸۱۸، اسنادہ حسن)

فوائد:       طوبیٰ جنت کا یا جنت میں ایک درخت کا نام ہے ۔ (مرعاۃ المفاتیح ۶۲/۸)

   سیدنا اَغرالمزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بعض اوقات ) میرے دل پر بھی پردہ سا آجاتا ہے اور میں دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔                (صحیح مسلم : ۲۷۰۲)

فوائد:       اس حدیث کے تحت امام قرطبی رحمہ اللہ نے بڑی جامع بحث کی ہے ، جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے : اس حدیث سے کسی کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ جسطرح عاصی و باغی شخص کا دل گناہوں کے اثر کو قبول کرتا ہے ، ویسے نبی کریم ﷺ کے دل کو بھی گناہ نے متاثر کیا ہے ۔ (العیاذ باللہ) بلکہ وہ مغفور و مکرم ہیں اور کسی چیز کے ذریعے سے ان کاکوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ “غین” (بادل کا چھا جانا) گناہ کے سبب سے نہیں ہے ۔ (المفہم ۲۷/۷)

بعض علماء نے اس حدیث کی وضاحت میں کئی اقوال بیان کئے ہیں:
۱:             چونکہ نبی ﷺ ذکر پر مداومت فرماتے تھے، پس جب کوئی وقفہ یا سہو ہوجاتا تو اس بنا پر استغفارکرتے تھے۔
۲:            آپ ﷺ شکر اور اظہارِ عبودیت کے لئے استغفار فرماتے۔
۳:            آپ ﷺ کو جب امت کے احوال سے مطلع کیا جاتا تو آپ ان کے لئے استغفار کرتے تھے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے المفہم للامام قرطبی (۲۶/۷ ، ۲۷) شرح الابی والسنوسی علی صحیح مسلم (۱۰۳،۱۰۲/۹)

       سیدنا زید (ابن حارثہ) مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ فرما رہے تھے : جو شخص یہ کہے : اَسْتَغْفِرُ اللہَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَيُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ، میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں  جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے ، میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ تو اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں، اگرچہ وہ میدانِ جہاد سے فرار ہوا ہو۔ (سنن ابی داود: ۱۵۱۷، الترمذی: ۳۵۷۷، حسن)

       سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : جس بندے سے گناہ سر زد ہوجائے ، پس وہ اچھے طریقے سے وضو کرے، پھر  دو رکعتیں نماز اداکرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ اسے معاف فرما دے گا ، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :﴿ وَ الَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ
اوروہ لوگ جب کسی برائی کا ارتکاب کرلیتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں….آیت کے آخر تک (آلِ عمران: ۱۳۵)                                                                                (سنن ابی داود: ۱۵۲۱، الترمذی: ۳۰۰۶ ، ابن ماجہ : ۱۳۹۵، اسنادہ حسن) 

فوائد:       مذکورہ تمام روایات میں استغفار کی فضیلت واضح ہے اور قرآن و حدیث میں اس کی ترغیب و ترہیب میں متعدد ارشادات جابجا ملتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  :﴿ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿۳۳﴾اور اللہ تعالیٰ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے اور (اسی طرح) اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جب کہ وہ بخشش مانگنے والے ہوں۔ (الأنفال: ۳۳)

نیز فرمایا :﴿ وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ یَظۡلِمۡ نَفۡسَہٗ ثُمَّ یَسۡتَغۡفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۱۰﴾ جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے، وہ پھر اللہ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔ (النساء: ۱۱۰)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کیا کرو اور کثرت سے استغفار کیا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں اکثریت تمہاری (عورتوں کی) دیکھی ہے ۔ …الخ  (صحیح بخاری: ۳۰۴، صحیح مسلم: ۷۹)

خود نبی کریم ﷺ کا عمل مبارک بھی کثرتِ استغفار تھا۔

                سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی وفات سے پہلے یہ کلمات کثرت سے پڑھتے ،”سبحان اللہ وبحمدہٖ، استغفراللہ و اتوب الیہ” پاک ہے اللہ اور اپنی حمد و ثنا کے ساتھ میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری: ۴۹۶۷، صحیح مسلم : ۴۸۴)

                اللہ ہم سب کو اپنے حضور عاجزی و انکساری ، خشوع و خضوع اور توبہ استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.