اذان و اقامت کا مسنون طریقہ

 از    November 29, 2014

تحریر:حافظ زبیر علی زئی
عن أنس قال: أمر بلال أن یشفع الأذان و أن یوتر الإقامۃ إلا الإقامۃ          (سیدنا) انسؓ نے فرمایا کہ بلالؓ کو حکم دیا گیا تھا کہ اذان دہری اور اقامت اکہری کہیں ،مگر اقامت (قد قامت الصلوٰۃ) کے الفاظ دو بار کہیں۔           (صحیح بخاری: ۸۵/۱ ح ۶۰۵ و اللفظ لہ ، صحیح مسلم: ۱۶۴/۱ ح ۳۷۸)
اسی حدیث کی ایک دوسری سند میں آیا ہے :   أن رسول اللہ ﷺ أمر بلا لاً
بے شک رسول اللہ ﷺ نے بلال کو حکم دیا تھا۔         (سنن النسائی مع حاشیۃ السندھی : ج۱ ص ۱۰۳ ح ۶۲۸)
فوائد (۱): اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ اذان کے الفاظ درج ذیل ہیں:
          اللہ أکبر اللہ أکبر،  اللہ أکبر اللہ أکبر۔ أشھد أن لا إلہ إلا اللہ، أشھد أن لا إلہ إلا اللہ۔   أشھد أن محمداً رسول اللہ، أشھد أن محمداً رسول اللہ۔ حي علی الصلوٰۃ، حي علی الصلوٰۃ۔ حي علی الفلاح، حي علی الفلاح۔        اللہ أکبر اللہ أکبر۔      لا إلٰہ إلا اللہ۔
اور اقامت کے الفاظ درج ذیل ہیں:
          اللہ أکبر اللہ أکبر ۔ أشھد أن لا إلہ إلا اللہ ۔ أشھد أن محمداً رسول اللہ۔ حي علی الصلوٰۃ۔حي علی الفلاح۔قد قامت الصلوٰۃ، قد قامت الصلوٰۃ۔ اللہ أکبر اللہ أکبر۔ لا إلٰہ إلا اللہ۔
فائدہ(۲):مصنف عبدالرزاق کی ایک روایت میں آیا ہے :”إن بلالاً کان یثنی الأذان و یثنی الإقامۃ” بے شک بلالؓ اذان اور اقامت دہری کہا کرتے تھے۔ لیکن یہ حدیث بلحاظ سند ضعیف ہے ۔
۱:        اس کا راوی ابراہیم النخعی مدلس ہے۔ (کتاب المدلسین للعراقی ص ۲۴، ۳۵ و اسماء المدلسین للسیوطی ص ۹۳) اس کی یہ روایت عن کے ساتھ ہے ۔ مدلس کی عن والی روایت محدثین کے علاوہ دیوبندیوں اور بریلویوں کے نزدیک بھی ضعیف ہوتی ہے ۔ (دیکھئے خزائن السنن : ۱/۱، فتاویٰ رضویہ: ۲۴۵/۵ ، ۲۶۶)
۲:اس کا دوسرا راوی حماد بن ابی سلیمان ہے ۔ (دیکھئے مصنف عبدالرزاق: ۴۶۲/۱ ح ۱۷۹۰) حماد مذکور مدلس ہونے کےساتھ ساتھ مختلط بھی ہے۔ (طبقات المدلسین بتحقیقی: ۲/۴۵)
حافظ ہیثمی نے کہا : “ولا یقبل من حدیث حماد إلا ما رواہ عنہ القدماء: شعبۃ و سفیان الثوري و الدستوائي، ومن عدا ھؤلاء رووا عنہ بعد الإختلاط
حماد کی صرف وہی روایت مقبول ہے جو اس کے قدیم شاگردوں: شعبہ، سفیان ثوری اور (ہشام) الدستوائی نے بیان کی ہے ، ان کے علاوہ سب لوگوں نے اس سے اختلاط کے بعد سنا ہے ۔ (مجمع الزوائد ۱۱۹/۱ ، ۱۲۰)
لہذا معمر کی حماد مذکور سے روایت ضعیف ہے ، عدمِ تصریحِ سماع کا مسئلہ علیحدہ ہے ۔
فائدہ (۳):ابو محذورہؓ کی جس روایت میں دہری اقامت کا ذکر آیا ہے اس میں اذان بھی دہری ہے یعنی چار دفعہ “أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ” اور چار دفعہ “أشھد أن محمداً رسول اللہ” ہے ۔ (سنن ابی داود: ۵۰۲ و ھو صحیح)
          اس طریقے سے عمل کیا جائے تو صحیح ہے ورنہ دہری اذان کااستدلال کرتے ہوئے، اقامت اس حدیث سے لینا اور اذان حدیث بلال سے لینا سخت نا انصافی ہے۔
فائدہ (۴):رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل صرف وہی شخص کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے ورنہ ناممکن ہے ۔ آپ دیکھ لیں جو حضرات دہری اقامت کہتے ہیں وہ دہری اذان کبھی نہیں کہتے، پتا نہیں اتباعِ سنت سے انہیں کیا بیر ہے ؟ اللہ تعالیٰ اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.