((إِنَّہٗ لَا یُسْتَغَاتُ بِيْ وَ إِنَّمَا یُسْتَغَاتُ بِاللّٰہِ)) کی تحقیق

 از    November 12, 2014

سوال:    ایک دفعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین نے عبداللہ بن اُبی سے تنگ آکر ایک دوسرے کو کہا کہ آؤ اللہ کے رسول ﷺ سے فریاد رسی کریں۔ آپ ﷺ نے صحابہ کی یہ بات سن کر فرمایا:
((إِنَّہٗ لَا یُسْتَغَاتُ بِيْ وَ إِنَّمَا یُسْتَغَاتُ بِاللّٰہِ)) (طبرانی و مسند احمد)
محترم شیخ زبیر علی زئی صاحب اس حدیث کی  تحقیق مطلوب ہے ۔                           (عبداللہ طاہر، اسلام آباد)

الجواب: یہ روایت ((إِنَّہٗ لَا یُسْتَغَاتُ بِيْ وَ إِنَّمَا یُسْتَغَاتُ بِاللّٰہِ)) (بے شک مجھ سے مدد نہ مانگی جاتی بلکہ مدد تو صرف اللہ سے مانگی جاتی ہے )

طبرانی نے درج ذیل سند و متن سے بیان کی ہے:

حدثنا أحمد بن حماد بن زغبۃ المصري: حدثنا سعید بن عفیر: حدثنا ابن لھیعۃ عن الحارث ابن یزید عن علي بن رباح عن عبادۃ قال قال أبوبکر: قوموا نستغیث برسول اللہ ﷺ من ھٰذا المنافق فقال رسول اللہ ﷺ : ((أنا لا یستغاث بي، إنما یستغاث باللہ عزوجل))
          عبادہ (بن الصامتؓ) سے روایت ہے کہ ابوبکر (الصدیقؓ) نے کہا: اُٹھو اس منافق کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ سے مدد مانگیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ سے مدد نہیں مانگی جاتی ، مدد صرف اللہ تعالیٰ سے مانگی جاتی ہے ۔ (جامع المسانید و السنن لابن کثیر ۱۴۰/۷ ح ۴۹۰۴)
اس روایت کے بارے میں حافظ ہیثمی لکھتے ہیں:رواہ الطبراني و رجالہ رجال الصحیح غیر ابن لھیعۃ وھو حسن الحدیثاسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں سوائے ابن لھیعہ کے وہ حسن الحدیث ہیں۔ (مجمع الزوائد ۱۵۹/۱۰)
میری تحقیق میں یہ روایت تین وجہ سے ضعیف ہے:
اول:     ابن لہیعہ مدلس ہیں ۔ (دیکھئے طبقات المدلسین ۵/۱۴۰، الفتح المبین ص ۷۷) اور یہ روایت عن سے ہے ۔  یہ بات عام طالب علموں کو بھی معلوم ہے  کہ مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے ۔
دوم:     ابن لہیعہ آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوگئے تھے ۔ وہ صرف اس وقت حسن الحدیث ہیں جن سماع کی تصریح کریں اور ان کی بیان کردہ روایت ان کے اختلاط سے پہلے کی ہو۔
درج ذیل راویوں نے ان کے اختلاط سے پہلے سنا تھا:
۱)عبداللہ بن المبارک            ۲) عبداللہ بن وہب              ۳) عبداللہ بن یزید المقریٔ (تہذیب التہذیب ۳۳۰/۵)
۴)عبداللہ بن مسلمہ القعنبی (میزان الاعتدال ۲۸۲/۲)   ۵)یحییٰ بن اسحاق السیلحینی (تہذیب التہذیب ۴۲۰/۲)
۶) ولید بن مَزْیَدْ (المعجم الصغیر للبطرانی ۲۳۱/۱) ۷) عبدالرحمٰن بن مہدی (لسان المیزان ۱۱،۱۰/۱) ۸)اسحاق بن عیسیٰ (میزان الاعتدال ۴۷۷/۲) ۹) سفیان ثوری       ۱۰) شعبہ   ۱۱) اوزاعی ۱۲) عمرو بن الحارث المصری (ذیل الکواکب النیرات ص ۴۸۳)       ۱۳)لیث بن سعد (فتح الباری ۳۴۵/۴ تحت ۲۱۲۷) ۱۴)بشر بن بکر (الضعفاء للعقیلی ۲۹۴/۲)
ہمارے علم کے مطابق ان چودہ راویوں کے علاوہ کسی اور راوی کا ابن لہیعہ سے قبل از اختلاط سماع  ثابت نہیں ہے جن میں سعید بن کثیر بن عفیر بھی ہیں لہذا یہ روایت ابن لہیعہ کے اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
سوم:     علی بن رباح اور سیدنا عبادہؓ کے درمیان اس حدیث کا ایک راوی “رجل” (مرد) ہے ۔ دیکھئے مسند الامام احمد (۳۱۷/۵ ح ۲۲۷۰۶) طبقات ابن سعد (۳۸۷/۱) اور جامع المسانید لابن کثیر (۱۴۰/۷)
یہ “رجل” مجہول ہے ۔ نیز دیکھئے مجمع الزوائد(۴۰/۸ قال: رواہ احمد وفیہ راولم یسم و ابن لہیعۃ)
خلاصۃ التحقیق:       یہ بات بالکل صحیح ہے کہ اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہئے جیساکہ قرآن مجید (سورہ الانفال :۱۰،۹) سے ثابت ہے لیکن ((إِنَّہٗ لَا یُسْتَغَاتُ بِي))إلخ والی روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے ۔تیسرا العزیز الحمید کی تخریج “النہج السدید” میں جاسم الدوسری نے بھی اس روایت کو “ضعیف” قرار دیا ہے (ص۸۸ ح ۱۶۱)       وما علینا إلا البلاغ
                                                                                (۲۴ ربیع الثانی ۱۴۲۷؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.