آٹھ رکعات نماز تراویح پر ناقابل تردید دلائل

 از    June 21, 2014

تحریر: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ و حدہ و الصلوۃ والسلام علی من لانبي بعدہ أما بعد   ہمارے امام اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم عشاء کی نماز کے بعد صبح کی نماز تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔
 
دلیل نمبر 1 :    ام المؤمنین سیدہ  عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ:
“کان رسول اللہ ﷺ یصلي فیما بین أن یفرغ من صلاۃ العشاء وھي التی یدعواالناس العتمۃ إلی الفجر إحدی عشرۃ رکعۃ یسلم بین کل رکعتیں ویوتر بواحدۃ” إلخ
رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد صبح تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے اور اسی نماز کو لوگ عتمہ بھی کہتے تھے، آپ ہر دو رکعات پر سلام پھیرتے تھے اور ایک وتر پڑھتے تھے۔ الخ (صحیح مسلم:۲۵۴/۱ ح ۷۳۶)
دلیل نمبر 2:  ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کی رمضا ن میں (رات کی) نماز (تراویح) کیسی ہوتی تھی؟ تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:ما کان یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدی عشرۃ رکعۃ إلخ” رمضان ہو یا غیر رمضان رسول اللہ ﷺ گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، الخ۔
(صحیح بخاری:۲۲۹/۱ ح۲۰۱۳، عمدۃ القاری:۱۲۸/۱۱، کتاب الصوم،کتاب التراویح باب فضل من قام رمضان)
 
ایک اعتراض:  اس حدیث کا تعلق تہجد کے ساتھ ہے؟
جواب:  تہجد ، تراویح، قیام اللیل ، قیام رمضان، وتر ایک ہی نما ز کے مختلف نام ہیں۔
دلیل۱: نبی ﷺ سے تہجد اور تراویح کا علیحدہ علیحدہ پڑھنا قطعاً ثابت نہیں ہے۔
دلیل ۲:  ائمہ محدثین نے صدیقہ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث پر قیام رمضان اور تراویح کے ابواب باندھے ہیں مثلاً
۱: صحیح بخاری ، کتاب الصوم (روزے کی کتاب) کتاب صلوۃ التراویح (تراویح کی کتاب) با ب فضل من قام رمضان (فضیلتِ قیامِ رمضان)
۲: مؤطا محمد بن الحسن الشیبانی : ص۱۴۱، باب قیام شہر رمضان و مافیہ من الفضل۔
مولوی عبدالحئی لکھنوی نے اس کے حاشیہ پر لکھا ہے: “قولہ ، قیام شھررمضان ویسمی التراویح”
یعنی: قیام رمضان اور تراویح ایک ہی چیز ہے۔
۳:  السنن الکبری للبیہقی (۴۹۵/۲، ۴۹۶) باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شہر رمضان
دلیل ۳: مقتدین میں سے کسی محدث یا فقیہ نے نہیں کہا کہ اس حدیث کا تعلق نماز تراویح کے ساتھ نہیں ہے۔
دلیل ۴:  اس حدیث کو متعدد اماموں نے بیس رکعات والی موضوع و منکر حدیث کے مقابلہ میں بطور معارضہ پیش کیا ہے مثلاً
۱:         علامہ زیلعی حنفی (نصب الرایہ:۱۵۳/۲)
۲:      حافظ ابن حجر عسقلانی (الدرایہ: ۲۰۳/۱)
۳:  علامہ ابن ہمام حنفی(فتح القدیر:۴۶۷/۱، طبع دار الفکر)
۴:  علامہ عینی حنفی (عمدۃ القاری: ۱۲۸/۱۱)
۵:  علامہ سیوطی  (الحاوی للفتاوی۳۴۸/۱) وغیرہم
دلیل ۵:  سائل کا سوال صرف قیام رمضان سے تھا جس کو تراویح کہتے ہیں، تہجد کی نماز کے بارے میں سائل نے سوال ہی نہیں کیا تھا بلکہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب میں سوال سے زائد نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے قیامِ رمضان و غیر رمضان کی تشریح فرما دی، لہذا اس حدیث سے گیارہ رکعات تراویح کا ثبوت صریحاً ہے ۔ (ملخصاً من خاتمہ اختلاف:ص ۶۴ باختلاف یسیر)
دلیل ۶:  بعض لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ تہجد اور تراویح علیحدہ علیحدہ دو نمازیں ہیں، ان کا اصول یہ ہے کہ نبیﷺ نے ۲۳ رکعات تراویح (۳+۲۰) پڑھیں جیسا کہ ان لوگوں کا عمل ہے اور اسی رات کو گیارہ رکعات تہجد (۳+۸) پڑھی۔ (جیسا کہ ان کے نزدیک صحیح بخاری کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے ) یہاں پر اشکال یہ ہے کہ اس طرح تو لازم یہ آتا ہے کہ ایک رات میں آپ نے دو دفعہ وتر پڑھے، حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا “لا وتران فی لیلۃ” ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں ۔ (ترمذی :۱۰۷/۱ ح ۴۷۰، ابوداود:۱۴۳۹، نسائی: ۱۶۷۸، صحیح ابن خزیمہ :۱۱۰۱، صحیح ابن حبان:۱۶۷۱ ساندہ صحیح) اس حدیث کے بارے میں امام ترمذی نے فرمایا”ھذا حدیث حسن غریب”
یاد رہے کہ اس حدیث کےسارے راوی ثقہ ہیں۔
چونکہ رسول اللہﷺ کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوسکتا لہذا یہ ثابت ہوگیا کہ آپﷺ نے رات میں صرف ایک ہی وتر پڑھا ہے، آپﷺ سے صرف گیارہ رکعات (۳+۸)ثابت ہیں، ۲۳ ثابت نہیں ہیں (۳+۲۰) لہذا تہجد اور تراویح میں فرق کرنا باطل ہے۔
دلیل ۷:  مولوی انور شاہ کشمیری دیوبندی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ تہجد اور تراویح کی نما ز ایک ہی ہے اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، دیکھئے فیض الباری (۴۲۰/۲) العر ف الشذی (۱۶۶/۱) یہ مخالفین کے گھر کی گواہی ہے۔ اس کشمیری قول کا جواب ابھی تک کسی طرف سے نہیں آیا ۔                  ؏   گھر کو آگ لگ گئی ،گھر کے چراغ سے
دلیل ۸:   سیدنا امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تہجد اور تروایح دونوں کو ایک سمجھتے تھے، تفصیل کےلئے دیکھئے فیض الباری (۴۲۰/۲)
دلیل ۹:   متعدد علماء نے اس شخص کو تہجد پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس نے نمازِ تراویح پڑھ لی ہو۔
(قیام اللیل للمروزی:بحوالہ فیض الباری:۴۲۰/۲)
یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان علماء کے نزدیک تہجد اور تروایح ایک ہی نماز ہے۔
        دلیل ۱۰:  سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت :“صلی بنا رسول اللہ ﷺ في رمضان ثمان رکعات والوتر الخ” بھی اس کی مؤید ہے جیسا کہ آگے باتفصیل آرہا ہے، لہذا اس حدیث کا تعلق تراویح کے ساتھ یقیناً ہے۔ وتلک عشرۃ کاملۃ۔
دلیل نمبر ۳:   سیدنا جابر الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں نماز پڑھائی ۔ آپﷺ نے آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھے الخ۔
(صحیح ابن خزیمہ : ۱۳۸/۲ ح:۱۰۷۰، صحیح ابن حبان (الاحسان) ۶۲،۶۴/۴ ح :۲۴۰۱،۲۴۰۶)

ایک اعتراض : اس کی سند میں محمد بن حمید الرازی کذاب ہے (مختصر قیام اللیل للمروزی ص ۱۹۷)

جواب:  اس حدیث کو یعقوب بن عبداللہ القمی سے محمد بن حمید کے علاوہ اور بھی بہت سے راویوں نے بیان کیا ہے ،
مثلاً
۱: جعفر بن حمید الکوفی :  (الکامل لابن عدی :۱۸۸۹/۵، المعجم الصغیر للطبرانی : ۱۹۰/۱)
۲: ابوالربیع (الزہرانی /مسند ابی یعلی الموصلی :۳۳۶/۳، ۳۳۷ ح:۱۸۰۱، صحیح ابن حبان  ح:۲۴۰۱،۲۴۰۶)
۳: عبدالاعلی بن حماد (مسند ابی یعلی :۳۳۶/۳ ح ۱۸۰۱، الکامل لابن عدی :۱۸۸۸/۵)
۴: مالک بن اسماعیل (صحیح ابن خزیمہ :۱۳۸/۲ ح:۱۰۷۰)
۵:  عبید اللہ یعنی ابن موسی (صحیح ابن خزیمہ :۱۳۸/۲ ح:۱۰۷۰)
یہ سارے راوی ثقہ و صدوق ہیں ، لہذا محمد بن حمید پر اعتراض غلط اور مردود ہے۔

دوسرا اعتراض : اس کی سند میں یعقوب القمی ضعیف ہے، اس کے بارے میں امام دارقطنی نے کہا “لیس بالقوی”

جواب: یعقوب القمی ثقہ ہے، اسے جمہور علماء نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
۱:  نسائی نے کہا : لیس بہ باس
۲:  ابوالقاسم الطبرانی نے کہا: ثقہ
۳:  ابن حبان نے کتاب الثقات میں ذکر کیا (اور اس کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے)
۴: جریر بن عبدالحمید اسے “مومن آل فرعون” کہتے تھے۔
۵: ابن مہدی نے اس سے روایت بیان کی ہے۔ (تہذیب التہذیب: ۳۴۲/۱۱، ۳۴۳)
اور ابن مہدی صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں (تدریب الراوی : ۳۱۷/۱ وغیرہ)
۶: حافظ ذہبی نے کہا :صدوق (الکاشف :۲۵۵/۳)
۷:  ابن خزیمہ نے اس کی حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
۸: نور الدین الہیثمی نے اس کی حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
۹: امام بخاریؒ نے تعلیقات میں اس سے روایت لی ہے اور اپنی “التاریخ الکبیر ” (۳۹۱/۸ ح: ۳۴۴۳) میں اس پر طعن نہیں کیا لہذا وہ ان کے نزدیک بقول تھانوی ثقہ ہے ۔ دیکھئے قواعد فی علوم الحدیث (ص ۱۳۶، ظفر احمد تھانوی)
۱۰: حافظ ابن حجر نے فتح الباری (۱۲/۳ تحت ح:۱۱۲۹) میں اس کی منفرد حدیث پر سکوت کیا ہے اور یہ سکوت (دیوبندیوں کے نزدیک ) اس کی تحسین حدیث کی دلیل ہے۔
(قواعد فی علوم الحدیث ص ۵۵ وغیرہم ) وتلک عشرۃ کاملہ

تیسرا اعتراض:  اس روایت کی سند میں عیسی بن جاریہ ضعیف ہے، اس پر ابن معین ، الساجی ، العقیلی ، ابن عدی اور ابوداود نے جرح کی ہے، بعض نے منکر الحدیث بھی لکھا ہے۔

جواب: عیسی بن جاریہ جمہور علماء کے نزدیک ثقہ ، صدوق یا حسن الحدیث ہیں۔
۱:  ابو زرعہ نے کہا : لا باس بہ
۲: ابن حبان نے الثقات میں ذکر کیا ہے۔
۳:  ابن خزیمہ نے اس کی حدیث کو صحیح کہا ہے۔
۴:  الہیثمی نے اس کی حدیث کی تصحیح کی ہے۔ (مجمع الزوائد:۷۲/۲)
اور اسے ثقہ کہا (مجمع الزوائد:۱۸۵/۲)
۵: البوصیری نے زوائد سنن ابن ماجہ میں اس کی حدیث کی تحسین کی ہے۔ (دیکھئے حدیث : ۴۲۴۱)
۶:  الذہبی نے اس کی منفرد حدیث کے بارے میں “اسنادہ وسط” کہا۔
۷: بخاری نے التاریخ الکبیر (۳۸۵/۶) میں اسے ذکر کیا ہے اور اس پر طعن نہیں کیا ۔
۸: حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس کی حدیث پر سکوت کیا۔ (۱۰/۳ تحت ح :۱۱۲۹)
۹:  حافظ منذری نے اس کی ایک حدیث کو “باسناد جید” کہا۔  (الترغیب و الترہیب:۵۰۷/۱)
۱۰: ابوحاتم الراز ی نے اسے ذکر کیا اور اس پر کوئی جرح نہیں کی۔ (دیکھئے الجرح و التعدیل : ۲۷۳/۶)
ابوحاتم کا سکوت (دیوبندیوں کے نزدیک) راوی کی توثیق ہوتی ہے۔ (قواعد فی علوم الحدیث: ص ۲۴۷)
تلک عشرۃ کاملۃ، لہذا یہ سند حسن ہے ۔
دلیل نمبر 4:  جناب ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ :
میں نے آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھے ، رمضان میں اور نبیﷺ کو بتایا تو آپﷺ نے کچھ (رد) بھی نہیں فرمایا: “فکانت سنۃ الرضا” پس یہ رضامندی والی سنت بن گئی۔ (مسند ابی یعلی:۲۳۶/۳، ح ۱۸۰۱)
علامہ ہیثمی نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا “رواہ أبو یعلی و الطبراني بنحوہ في الأوسط وإسنادہ حسن” اسے ابو یعلی نے روایت کیا اور اسے طرح طبرانی نے اوسط میں روایت کیا اور اس کی سند حسن ہے ۔ (مجمع الزوائد :۷۴/۲)
اس حدیث کی سند وہی ہے جو کہ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی ہے ، دیکھئے ص: ۵، جناب مولوی سرفراز صفدر دیوبندی لکھتے ہیں :”اپنے وقت میں اگر علامہ ہیثمی کو صحت اور سقم کی پرکھ نہیں ، تو اور  کس کو تھی؟”
(احسن الکلام : ۲۳۳/۱، توضیح الکلام: ۲۷۹/۱)
دلیل نمبر 5:  سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ لوگوں کو (رمضان میں رات کے وقت) گیارہ رکعات پڑھائیں۔ (مؤطا امام مالک :۱۱۴/۱، ح:۲۴۹، السنن الکبری للبیہقی:۴۹۶/۲) یہ حدیث بہت سی کتابوں میں موجود ہے، مثلاً
۱: شرح معانی الآثار :۲۹۳/۱ واحتج بہ
۲: المختارہ للحافظ ضیاء المقدسی (بحوالہ کنزالعمال :۴۰۷/۸ ح ۲۳۴۶۵)
۳: معرفۃ السنن والآثار للبیہقی (ق ۳۶۷/۲، ۳۶۸ مطبوع:۳۰۵/۲ ح ۱۳۶۶ ب)
۴: قیام اللیل للمروزی : ص۲۰۰
۵: مصنف عبدالرزاق (بحوالہ کنز العمال : ح۲۳۴۶۵)
۶: مشکوۃ المصابیح (ص۱۱۵ ح:۱۳۰۲)
۷: شرح السنہ للبغوی (۱۲۰/۴ تحت ح :۹۹۰)
۸: المہذب فی اختصار السنن الکبیر للذہبی (۴۶۱/۲)
۹: کنزالعمال (۴۰۷/۸ ح ۲۳۴۶۵)
۱۰: السنن الکبری للنسائی (۱۱۳/۳ ح ۴۶۸۷) وغیرہم ، اس فاروقی حکم کی سند بالکل صحیح ہے۔
دلیل ۱:  اس کے تمام راوی زبردست قسم کے ثقہ ہیں۔
دلیل ۲:  اس سند کے کسی راوی پر کوئی جرح نہیں ہے۔
دلیل ۳:  اسی سند کے ساتھ ایک روایت صحیح بخاری کتاب الحج میں بھی موجود ہے۔(ح ۱۸۵۸)
دلیل ۴:  شاہ ولی اللہ الدہلوی نے “اہل الحدیث” سے نقل کیا ہے کہ مؤطا کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
(حجۃ اللہ البالغہ: ۲۴۱/۲ اردو)
دلیل ۵: جناب طحاوی حنفی نے “لھذا یدل” کہہ کہ یہ اثر بطور حجت پیش کیا ہے۔ (معانی الاثار:۱۹۳/۱)
دلیل ۶:  ضیاء المقدسی نے المختارہ میں یہ اثر لا کر اس کا صحیح ہونا ثابت کر دیا ہے۔ دیکھئے اختصار علوم الحدیث ص:۷۷
دلیل۷: امام ترمذ ی نے اس جیسی ایک سند کے بارے میں کہا :”حسن صحیح” (ح۹۲۶)
دلیل ۸:  اس روایت کو متقدمین میں سے کسی ایک محدث نے بھی ضعیف نہیں کہا۔
دلیل ۹: علامہ باجیؒ نے اس اثر کو تسلیم کیا ہے۔ (موطا بشرح الزرقانی :۲۳۸/۱ ح ۲۴۹)
     دلیل ۱۰:  مشہور غیر اہل حدیث محمد بن علی النیموی (متوفی ۳۲۲؁ھ ) نے اس روایت کے بارے میں کہا :”واسنادہ صحیح” (آثار السنن ص ۲۵۰) اور اس کی سند صحیح ہے۔
(لہذا بعض متعصب لوگوں کا پندرہویں صدی میں اسے مضطرب کہنا باطل اور بے بنیاد ہے)
سنت خلفائے راشدین
رسول اللہﷺ نے فرمایا :
فمن أدرک منکم فعلیہ بسنتي و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین عضوا علیھا بالنواجد”
پس تم میں سے جو  یہ (اختلاف ) پائے تو اس پر (لازم) ہے کہ میری سنت اور میرے خلفائے راشدین مھدیین کی سنت کو لازم پکڑلے، اسے اپنے دانتوں کے ساتھ (مضبوط) پکڑ لو۔ (سنن ترمذی: ۹۶/۲ ح ۲۶۷۶)
اس حدیث کے بارے میں امام ترمذی ؒ نے فرمایا :“ھذا حدیث حسن صحیح”
یاد رہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خلیفہ راشد ہونا نص صحیح سے ثابت ہے اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا “اقتدوا بالذین من بعدي أبي بکر و عمر “
میرے  بعد ان دو شخصوں ابو بکر اور عمر کی اقتداء (اطاعت ) کرنا ۔(سنن ترمذی:۲۰۷/۲ ح ۳۶۶۲، ابن ماجہ:۹۷)
اس حدیث کے بارے میں امام ترمذی نے فرمایا “ھذا حدیث حسن”
لہذا ثابت ہوا کہ یہ فاروقی حکم بھی حدیث مرفوع کے حکم میں ہے، جبکہ مرفوع احادیث بھی اس کی تائید کرتی ہیں اور ایک بھی صحیح مرفوع حدیث اس کے مخالف نہیں ہے۔
دلیل 6: جناب السائب بن یزید (صحابی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
کنا نقوم في زمان عمر بن الخطاب رضي اللہ عنہ یا حدی عشرۃ رکعۃ۔۔۔إلخ
ہم (یعنی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں گیارہ رکعات پڑھتے تھے، الخ۔
(سنن سعید بن منصور بحوالہ الحاوی للفتاوی:۳۴۹/۱ وحاشیہ آثار السنن ص ۲۵۰)
اس روایت کے تمام راوی جمہو رکے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں۔ جناب جلال الدین سیوطیؒ (متوفی۹۱۱؁ھ)اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :”وفي مصنف سعید بن منصور بسند في غایۃ الصحۃ”
اور یہ (گیارہ رکعات والی روایت) مصنف سعید بن منصور میں بہت صحیح سند کے ساتھ ہے۔
(المصابیح فی صلوۃ التراویح للسیوطی: ص ۱۵، الحاوی للفتاوی:۳۵۰/۱)
لہذا ثابت ہوا کہ گیارہ رکعات قیام رمضان (تراویح)پر صحابہ کرام کا اجماع ہے۔(رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
دلیل نمبر7:  مصنف ابن ابی شیبہ (متوفی ۲۳۵؁ھ) میں ہے کہ:
إن عمر جمع الناس علی أبي و تمیم فکانا یصلیان إحدی عشرۃ رکعۃ الخ”
بے شک عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی (بن کعب) اور تمیم  (الداری) رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر جمع کیا، پس وہ دونوں گیارہ رکعات پڑھاتے تھے۔ (۳۹۲/۲ ح ۷۶۷۰)
اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے اور اس کے سار ےراوی صحیح بخاری و صحیح مسلم کے ہیں اور بالاجماع ثقہ ہیں۔
دلیل نمبر 8:  نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیس رکعات تراویح قطعاً ثابت نہیں ہے۔
جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی فرماتے ہیں کہ:
وأما عشرون رکعۃ فھو عنہ علیہ السلام بسند ضعیف وعلی ضعفہ إتفاق”
اور بیس رکعات والی جو روایت ہے، وہ ضعیف سند کے ساتھ ہیں اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔
(العرف الشذی : ۱۶۶/۱)
لہذا بیس رکعات والی روایت کو امت مسلمہ کا “تلقی بالرد” حاصل ہے یعنی امت نے اسے بالاتفاق رد کردیا ہے۔
طحطاوی حنفی اور محمد احسن نانوتوی کہتے ہیں کہ “لأن النبي علیہ الصلوۃ والسلام لم یصلھا عشرین بل ثماني”
بےشک نبی کریم ﷺ نے بیس رکعات نہیں پڑھیں بلکہ آٹھ پڑھی ہیں۔
(حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار:۲۹۵/۱ واللفظ لہ، حاشیہ کنزالدقائق:ص۳۶ حاشیہ:۴)
خلیل احمد سہارنپوری نے کہا: “اور سنت مؤکدہ ہونا تراویح کا آٹھ رکعات ہونا تو باتفاق ہے” (براہین قاطعہ: ص۱۹۵)
عبدالشکور لکھنوی نے کہا:”اگر چہ نبی کریم ﷺ سے آٹھ رکعت تراویح مسنون ہے اور ایک ضعیف روایت میں ابن عباس سے بہت سی رکعت بھی۔۔۔۔” (علم الفقہ :ص۱۹۸)
یہ حوالے بطورِ الزام پیش کئے گئے ہیں۔
دلیل نمبر 9:  امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے باسند صحیح متصل بیس رکعات تراویح قطعاً ثابت نہیں ہے۔ یحیی بن سعید الانصاری اور یزید بن رومان کی روایتیں منقطع ہیں (اس بات کا اعتراف حنفی و تقلیدی علماء نے بھی کیا  ہے) اور باقی جو کچھ بھی ہے وہ نہ تو خلیفہ کا حکم ہے اور  نہ خلیفہ کا عمل اور نہ خلیفہ کے سامنے لوگوں کا عمل، ضعیف و منقطع روایات کو وہی شخص پیش کرتا ہے جو خود ضعیف اور منقطع ہوتا ہے۔
دلیل نمبر ۱۰:  کسی ایک صحابی سے باسند صحیح متصل بیس رکعات تراویح قطعاً ثابت نہیں ہیں۔ وتلک عشرۃ کاملۃ
لہذا ثابت ہوا کہ گیارہ رکعات سنتِ رسولﷺ ، سنتِ خلفائے راشدین  اور سنتِ صحابہ ؓ ہے۔
امام ابوبکر بن العربی (متوفی ۵۴۳؁ھ)نے کیا خوب فرمایا ہے کہوالصحیح أن یصلي إحدی عشرۃ رکعۃ صلاۃ النبي ﷺ و قیامہ فأما غیر ذلک من الأعداد فلا أصل لہ”
اور صحیح یہ ہے کہ گیارہ رکعات پڑھنی چاہیے (یہی) نبیﷺ کی نماز اور قیام ہے ، اور اس کے علاوہ جو اعداد ہیں تو ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔ (عارضۃ الاحوذی شرح الترمذی:۱۹/۴)
امام مالکؒ فرماتے ہیں کہالذي آخذ لنفسي في قیام رمضان ، ھو الذي جمع بہ عمر بن الخطاب الناس إحدی عشرۃ رکعۃ وھي صلوۃ رسول اللہ ﷺ ولا أدري من أحدث ھذا الرکوع الکثیر میں تو اپنے لئے گیارہ رکعات قیامِ رمضان (تراویح) کا قائل ہوں او راسی پر عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا تھا اور یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے ، مجھے پتہ نہیں کہ لوگوں نے یہ بہت سی رکعتیں کہاں سے نکال لی ہیں؟ (کتاب التہجد:ص ۱۷۶ ح ۸۹۰،دوسرا نسخہ:ص۲۸۷)
قارئین کرام ! متعدد علماء (بشمول علماء احناف) سے گیارہ رکعات (تراویح) کا سنت ہونا ثابت ہے ، چونکہ ہمارے پیارےنبی ﷺ اور خلفاء راشدین اور صحابہ کرام ؓ سے گیارہ رکعات ثابت ہیں۔ جیسا کہ اوپر گزرا ہے لہذا ہمیں کسی عالم کا حوالہ دینے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ وفیہ کفایۃ لمن لہ درایۃ
بیس تروایح پر اجماع کا دعویٰ باطل ہے
اب آپ کی خدمت میں بعض حوالے پیشِ خدمت ہیں، جن میں سے ہر حوالہ کی روشنی میں اجماع کا دعویٰ باطل ہے۔
۱:  امام مالک ؒ  (متوفی ۱۷۹؁ھ)فرماتے ہیں:
الذي آخذ بہ لنفسي في قیام رمضان ھو الذي جمع بہ عمر بن الخطاب الناس إحدی عشرۃ رکعۃ وھی صلاۃ رسول اللہ ﷺ ولا أدريمن أحدث ھذا الرکوع الکثیر ، ذکرہ ابن مغیث”
میں اپنے لئے قیام رمضان (تراویح) گیارہ رکعتیں اختیار کرتا ہوں ، اسی پر عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا تھا اور یہی رسول اللہﷺ کی نماز ہے، مجھے پتہ نہیں لوگوں نے بہت سی رکعتیں کہاں سے نکال لی ہیں؟ اسے ابن مغیث مالکی نے ذکر کیا ہے۔ (کتاب التہجد: ص ۷۶ا فقرہ: ۸۹۰، دوسرا نسخہ ص: ۲۸۷تصنیف عبدالحق اشبیلی متوفی ۵۸۱؁ھ)
تنبیہ ۱: امام مالک ؒ سے ابن القاسم کی نقلِ قول: مردود ہے دیکھئے (کتاب الضعفاء لابی زرعۃ الرازی : ص۵۳۴)
تنبیہ۲: یونس بن عبداللہ بن محمد بن مغیث المالک کی کتاب “المتھجدین” کا ذکر سیر اعلام النبلاء (۵۷۰/۱۷) پر بھی ہے عینی حنفی فرماتے ہیں کہ :وقیل إحدی عشرۃ رکعۃ وھو اختیار مالک لنفسہ و اختارہ أبوبکر العربي”
اور کہا جاتا ہے کہ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں، اسے امام مالکؒ اور ابو بکر العربی نے اپنے اپنے لئے اختیار کیا ہے۔
(عمدۃ القاری :۱۲۶/۱۱، ح۲۰۱۰)
            ۲:امام ابوحنیفہ ؒ سے بیس رکعات تراویح باسند صحیح ثابت نہیں ہیں، اس کے برعکس حنفیوں کے ممدوح محمد بن الحسن الشیبانی کی المؤطا سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ گیارہ رکعات کے قائل تھے۔
۳: امام شافعی ؒ نے بیس رکعات تروایح کو پسند کرنے کے بعد فرمایا کہ:
ولیس في شيء من ھذا ضیق ولا حد ینتھی إلیہ لأنہ نافلۃ فإن أطالوا القیام وأقلوا السجود فحسن وھو أحب إلي و إن أکثر والرکوع و السجود فحسن”
اس چیز (تراویح ) میں ذرہ برابر تنگی نہیں ہے اور نہ کوئی حد ہے، کیونکہ یہ نقل نماز ہے، اگر رکعتیں کم اور قیام لمبا ہو تو بہتر ہے اور مجھے زیادہ پسند ہے اور اگر رکعتیں زیادہ ہوں تو بھی بہتر ہے ۔ (مختصر قیام اللیل للمروزی : ص۲۰۲،۲۰۳)
معلوم ہوا کہ امام شافعی ؒ نے بیس کو زیادہ پسند کرنے سے رجوع کرلیا تھا اور وہ آٹھ اور بیس دونوں کو پسند کرتے تھے اور
 آٹھ کو زیادہ بہتر سمجھتے تھے ، واللہ اعلم
۴:  امام احمدؒ سے اسحاق بن منصور نے پوچھا کہ: رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھنی چاہئیں ؟ تو انہوں نے فرمایا:
قد قیل فیہ ألوان نحواً من أربعین، إنما ھو تطوع”
اس پر چالیس تک رکعتیں روایت کی گئی ہیں، یہ صرف نفلی نماز ہے۔ (مختصر قیام اللیل : ص۲۰۲)
راوی کہتے ہیں کہ “ولم یقض فیہ بشيء”  امام احمد نے اس میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ (کہ کتنی رکعتیں پڑھنی چاہئیں؟) (سنن الترمذی:ح ۸۰۶)

معلوم ہوا کہ ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام سے بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ بیس رکعات تراویح سنتِ موکدہ ہیں اور
ان سے کم یا زیادہ جائز نہیں ہیں۔
۵: امام قرطبی (متوفی ۶۵۶؁ھ) نے فرمایا:
ثم اختلف في المختار من عدد القیام فعند مالک: أن المختار من ذلک ست و ثلاثون۔۔۔ وقال کثیر من أھل العلم: إحدی عشرۃ رکعۃ أخذاً بحدیث عائشۃ المتقدم”
تراویح کی تعداد میں علماء کا اختلا ف ہے، امام مالک نے (ایک روایت میں) چھتیس رکعتیں اختیار کی ہیں۔۔۔ اور کثیر علماء یہ کہتے ہیں کہ گیارہ رکعتیں ہیں، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سابق حدیث سے استدلال کیا ہے۔ (المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم: ۳۸۹،۳۹۰/۲)
تنبیہ:  حدیث عائشہ ؓ : المفہم للقرطبی میں (۳۷۴/۲) پر “ماکان یزید في رمضان ولا في غیر علی إحدی عشرۃ رکعۃکے الفاظ سے موجود ہے ، امام قرطبیؒ کے اس قول سے معلوم ہوا کہ جمہور علماء گیارہ رکعات کے قائل و فاعل ہیں۔
۶:  قاضی ابوبکر العربی المالکی (متوفی ۵۴۳؁ھ) نے کہا: “والصحیح أن یصلی احد عشر رکعۃ صلوۃ النبي ﷺ وقیامہ فأما غیر ذلک من الأعداد ، فلا أصل لہ ولا حدفیہ”
اور صحیح یہ ہےکہ گیارہ رکعات پڑھنی چاہئیں ، یہی نبی ﷺ کی نماز اور یہی قیام (تراویح) ہے، اس کے علاوہ جتنی رکعتیں مروی ہیں ان کی (سنت میں) کوئی اصل نہیں ہے۔ (اور نفلی نماز ہونے کیوجہ سے) اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ (عارضۃ الاحوذی: ۱۹/۴ ح ۸۰۶)
۷:  عینی حنفی (متوفی ۸۵۵؁ھ) نے کہا: وقد اختلف العلماء في العدد المستحب في قیام رمضان علی أقوال کثیرۃ، وقیل إحدی عشرۃ رکعۃ”
تراویح کی مستحب تعداد کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، وہ بہت سے اقوال رکھتے ہیں۔۔۔ اور کہا جاتا ہے کہ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں۔
(عمدۃ القاری : ۱۲۷،۱۲۶/۱۱)
۸:  علامہ سیوطیؒ (متوفی ۹۱۱؁ھ) نے کہا : “أن العلماء اختلفوا في عددھا”
بے شک تراویح کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے ۔ (الحاوی للفتاوی :۳۴۸/۱)
۹:  ابن ھمام حمام (متوفی ۶۸۱؁ھ) نے کہا:
فتحصل من ھذا کلہ أن قیام رمضان سنۃ إحدی عشرۃ رکعۃ بالوتر في جماعۃ فعلہ ﷺ”
 اس ساری بحث سے یہ نتیجہ حاصل ہو اکہ وتر کے ساتھ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں، اسے نبی ﷺ نے جماعت کے ساتھ پڑھا ہے ۔ 
(فتح القدیر شرح الھدایہ :۴۰۷/۱)
۱۰: امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ :”واختلف أھل العلم في قیام رمضان”
اور علماء کا قیام رمضان (کی تعداد ) میں اختلاف ہے ۔ (سنن الترمذی :ح۸۰۶)

ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ دیوبندیوں اور بریلیوں کا یہ دعویٰ کہ “بیس رکعات ہی سنت موکدہ ہیں، ان سے زیادہ یا کم جائز نہیں ہیں” غلط اور باطل ہے۔یہ تمام حوالے انگریزوں کے دور سے پہلے کے ہیں ، لہذا ثابت ہوا کہ بیس رکعات پر اجماع کا دعویٰ باطل ہے۔

موضوع سے متعلق 

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.