نئے مضامین
 از    September 1, 2017

تحریر: ابوعبداللہ صارم

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے کچھ روایات عام طور پر سنی سنائی جاتی ہیں، ان کی تحقیق پیش خدمت ہے :
روایت نمبر

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن الله وكل بقبري ملكا أعطاه أسماع الخلائق، فلا يصلي على أحد إلى يوم القيامة، إلا بلغني باسمه واسم أبيه ؛ هذا فلان بن فلان، قد صلى عليك.
”اللہ تعالیٰ میری قبر پر ایک فرشتہ مقرر فرمائے گا جسے تمام مخلوقات کی آوازیں سننے کی صلاحیت عطا کی گئی ہو گی۔ روز قیامت تک جو شخص بھی مجھ پر درور پڑے گا، وہ فرشتہ درود پڑھنے والے اور اس کے والد کا نام مجھ تک پہنچائے گا اور عرض کرے گا : اللہ کے رسول ! فلاں کے بیٹے فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے۔“ [مسند البزار : 254/4، ح : 1425، التاريخ الكبير للبخاري : 416/6، مسند الحارث : 962/2، ح : 1063، الترغيب لابي القاسم التيمي : 319/2، ح : 1671]
ابوالشیخ ابن حیان اصبہانی [العظمة : 263/2] اور امام طبرانی [المعجم الكبير، جلاء الافهام لابن القيم، ص : 84، مجمع الزوائد للهيثمي : 162/10، الضعفاء الكبير للعقيلي : 249/3] کے بیان کردہ الفاظ یہ ہیں :
إن لله ملكا أعطاه أسماع الخلائق كلها، وهو قائم على قبري إذا مت إلى يوم القيامة، فليس أحد من أمتي يصلي على صلاة، إلا سماه باسمه واسم أبيه، قال : يا محمد ! صلى عليك فلان بن فلان كذا وكذا، فيصلي الرب عز وجل على ذلك الرجل بكل واحدة عشرا.
اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ایسا ہے جسے تمام مخلوقات کی آوازیں سننے کی صلاحیت عنایت کی گئی ہے۔ وہ میری موت کے بعد قیامت تک میری قبر پر کھڑا رہے گا۔ میرا جو بھی امتی مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا، وہ فرشتہ اس درود کو پڑھنے والے اور اس کے والد کے نام سمیت مجھ تک پہنچاتے ہوئے عرض کرے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) : فلاں بن فلاں نے آپ پر اتنا اتنا درود بھیجا ہے۔ اللہ رب العزت اس شخص پر ایک درود پڑھنے کے عوض دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔“

تبصرہ :
یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ :
➊ اس کا راوی عمران بن حمیری جعفی ”مجہول الحال“ ہے۔ سوائے امام ابن حبان رحمہ اللہ [الثقات : 223/5] کے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی۔
اس کے بارے میں :
◈ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا يتابع عليه. ”یہ منکر روایات بیان کرتا ہے۔“ [التاريخ الكبير : 416/6]
◈ امام ابن ابی حاتم رازی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کوئی جرح و تعدیل ذکر نہیں کی۔
◈ علامہ ذہبی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں :
لا یعرف . ”یہ مجہول راوی ہے۔“ [ميزان الاعتدال : 236/3]
◈ حافظ منذری رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ [القول البديع للسخاوي، ص : 119]
◈ حافظ ہیثمی، حافظ ذہبی پر اعتماد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وقال صاحب الميزان : لا يعرف .
”صاحب میزان الاعتدال (علامہ ذہبی رحمہ اللہ) کا کہنا ہے کہ یہ راوی مجبول ہے۔“ [مجمع الزوائد : 162/10]
علامہ عبدالروف مناوی، علامہ ہیثمی کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
لم اعرفهٔ. ”میں اسے پہچان نہیں پایا۔“ [فيضں القدير : 612/2]
بقیہ تحریر

 از    August 23, 2017

فتویٰ : شیخ ابن جبرین حفظ اللہ

سوال : جب قربانی کا وقت ہو جائے اور گھر پر کوئی آدمی موجود نہ ہو تو اس صورت میں کیا عورت قربانی کا جانور ذبح کر سکتی ہے ؟
جواب : ہاں اگر جانور ذبح کرنے کی دیگر شرائط پوری ہو رہی ہوں تو بوقت ضرورت عورت قربانی وغیرہ کا جانور ذبح کر سکتی ہے۔ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اس زندہ یا فوت شدہ آدمی کا نام لینا مسنون ہے جس کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہو۔ اور اگر ایسا نہ بھی ہو سکے تو نیت کر لینا ہی کافی ہے۔ اگر ذبح کرنے والا غلطی سے اصل شخص کی بجائے کسی اور کا نام لے لے تو بھی کوئی نقصان نہ ہو گا، اس لئے کہ اللہ رب العزت نیتوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ والله الموفق

 

 از    August 23, 2017

فتویٰ : شیخ ابن جبرین حفظ اللہ

سوال : کیا عشرہ ذی الحجہ میں بالوں کو کنگھی کرنا جائز ہے ؟
جواب : ہاں احتیاط سے ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر کوئی بال گر گیا تو ضرر رساں نہیں ہو گا۔ اور قربانی کا ثواب بھی کم نہ ہو گا۔ اسی طرح اگر قربانی دینے والا عمداً بال یا ناخن اتروا لے تو اس بناء پر وہ قربانی کرنا نہ چھوڑے، اسے قربانی کا اجر مکمل صورت میں ملے گا۔ ان شاء الله العزيز

 

 از    August 23, 2017

فتویٰ : شیخ ابن جبرین حفظ اللہ

سوال : اگر عورت قربانی کرنا چاہے تو کیا وہ سر میں کنگھی نہ کرے دریں حالت اگر وہ دس دن تک ایسا نہ کرے تو اسے شدید دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جواب : سیدہ ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا سے صحیح حدیث مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا دخلت العشر وفأراد أحدكم أن يضحي فلا يمس من شعره ولا من بشره شيئا [رواه النسائى فى كتاب الضحايا باب 1، والدارمي فى كتاب الأضاحي، باب 1 وفي رواية]
”جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی دینا چاہے تو وہ اپنے بالوں اور جسم سے کچھ نہ اکھاڑے کاٹے۔ “
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری روایت مروی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
عن أم سلمة رضى الله عنها : أن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إذا رأيتم هلال ذي الحجة، وأراد أحدكم أن يضحي، فليمسك عن شعره و أظفاره [رواه مسلم فى كتاب الأضاحي باب 7]
”جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے جو کوئی قربانی دینا چاہے تو اسے چاہئیے کہ وہ اپنے بالوں اور ناخنوں سے کچھ نہ لے یعنی کچھ نہ کاٹے۔ “
علماء فرماتے ہیں کہ اس سے مراد بال مونڈنا، کاٹنا، اکھاڑنا یا پاؤڈر وغیرہ سے ان کا ازالہ کرنا ہے، یہ سب کچھ منع ہے۔ اس بناء پر کنگھی کرنا یا بالوں کا سنوارنا اس ممانعت کے تحت نہیں آتا۔ اسی طرح بالوں کا دھونا وغیرہ بھی منع نہیں ہے۔ اگر بلا ارادہ کوئی بال گر جائے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ مذکورہ بالا تصریحات کی روشنی میں عورت کے لئے ضرورت کے پیش نظر بالوں میں کنگھی کرنا جائز ہے۔ قربانی نفلی ہو یا کوئی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ والله اعلم

 

 از    August 19, 2017

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : کیا عمرہ میں طواف وداع واجب ہے ؟ اور کیا طواف وداع کے بعد مکہ مکرمہ سے خریداری کرنا جائز ہے ؟
جواب : عمرہ میں طواف وداع کرنا واجب نہیں ہے، البتہ ایسا کرنا افضل و اولیٰ ہے۔ اگر کوئی شخص یہ طواف کئے بغیر واپس روانہ ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں حج کے موقعہ پر طواف وداع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق واجب ہے۔
لا ينفرن أحد حتي يكون آخر عهده بالبيت [رواه مسلم فى كتاب الحج باب 67، و أبوداؤد فى كتاب المناسك باب 48، وابن ماجة فى كتاب المناسك باب 82]
”طواف وداع کے بغیر کوئی شخص واپس نہ جائے۔ “
یہ خطاب حجاج کے لئے تھا۔
طواف وداع کے بعد تمام ضروریات زندگی کی خریداری کرنا جائز ہے، حتیٰ کہ مختصر مدت میں سامان تجارت بھی خرید سکتا ہے، اگر یہ عرصہ طویل ہو گیا ہو تو دوبارہ طواف کرے اور اگر عرف عام کے اعتبار سے عرصہ دراز نہیں ہوا تو دوبارہ طواف کرنا واجب نہیں ہو گا۔

 

 از    August 19, 2017

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : تقریباً دس سال قبل میرے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ وہ تمام فرائض کے پابند تھے، مگر تنگ دستی کے سبب حج بیت اللہ نہ کر سکے، پھر یوں ہوا کہ مشیت الہیٰ سے میں تدریسی امور کی سرانجام دہی کے لئے سعودی عرب آ گئی۔ یہاں آنے پر میں نے اپنی طرف سے فریضہ حج ادا کیا، اب میں اپنے فوت شدہ باپ کی طرف سے حج کرنا چاہتی ہوں کیا میں ایسا کر سکتی ہوں ؟
جواب : آپ کے لیے باپ کی طرف سے حج کرنا مشروع ہے، اس پر آپ بھی اجر و ثواب کی مستحق ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہماری کاوشوں کو قبول فرمائے اور جملہ معاملات میں آسانی پیدا فرمائے۔ آمین

 

 از    August 19, 2017

فتویٰ : دارالافتاءکمیٹی

سوال : عورت دوران نماز چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ تمام کی تمام واجب الستر ہے، اگر وہ دوران حج یا عام سفر میں اجنبی لوگوں کے ساتھ ہو اور ان کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرتی ہو، تو کیا اس صورت میں دوران نماز وہ اپنا چہرہ اور ہاتھ کھلے رکھ سکتی ہے یا اجنبی لوگوں کی وجہ سے انہیں ڈھانپنا چاہئیے ؟ کیا اسی طرح مسجد الحرام میں اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں کو ڈھانپنا چاہئے یا وہ انہیں کھلا رکھ سکتی ہے ؟
جواب : آزاد عورت تمام کی تمام واجب الستر ہے۔ علماء کے صحیح ترین قول کی رو سے اس پر اجنبی لوگوں کی موجودگی میں اپنا چہرہ اور ہاتھ کھولنا حرام ہے۔ وہ حالت نماز میں ہو، حالت احترام میں ہو یا عام حالات میں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
كان الركبان يمرون بنا ونحن مع رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فاذا حاذونا سدلت إحدانا جلبابها من رأسها على وجهها، فإذا جاوزؤنا كشفناه [سنن أبى داود وسنن ابن ماجة وأحمد]
”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے۔ قافلے ہمارے پاس سے گزرتے، جب وہ ہمارے بالمقابل (سامنے) آتے تو ہم میں سے ہر ایک عورت اپنا دوپٹہ اپنے سر سے چہرے پر لٹکا لیتی اور جب وہ گزر جاتے تو ہم انہیں کھول لیتیں۔ “
جب حالت احرام کا یہ عالم ہے حالانکہ اس میں چہرہ کھلا رکھنا مطلوب ہے تو دیگر حالات میں تو یہ بطرق اولیٰ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سے :
وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ [33-الأحزاب:53]
”اور جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو تمہارے اور ان کے دلوں کی کامل پاکیزگی یہی ہے۔ “

 

 از    August 19, 2017

فتویٰ : دارالافتاءکمیٹی

سوال : ایک عورت نے فریضہ حج سرانجام دیا، تمام مناسک حج ادا کئے مگر عدم واقفیت یا نسیان کی وجہ سے سر کے بال نہیں کاٹ سکی اور اپنے وطن واپس جانے پر اس نے وہ تمام امور سرانجام دئیے جو ایک محرم کے لئے ممنوع ہوتے ہیں، اب اس پر کیا کچھ واجب ہے ؟
جواب : اگر امر واقعہ اسی طرح ہے جس طرح سوال میں مذکور ہے کہ اس نے عدم واقفیت یا نسیان کی بناء پر سر کے بال کانٹے کے علاوہ جملہ مناسک، حج ادا کئے، تو یاد آنے پر اپنے وطن میں رہتے ہوئے اتمام حج کی نیت سے سر کے بال کائنا اس پر واجب ہے۔ اس پر عدم تقصیر کی وجہ سے کوئی فدیہ واجب نہ ہو گا۔ اگر بال کانٹے سے پہلے (اور حرم کی حد میں) اسکے خاوند نے اس سے جماع کر لیا تو اس پر بطور دم ایک بکری ذبح کرنا، گائے کا ساتواں حصہ یا اونٹ کا ساتواں حصہ آئے گا۔ (یعنی وہ قربانیاں جو مساکین مکہ کے لیے کفایت کریں ان میں سے کسی ایک کا ان کیلئے مکہ ہی میں دینا ضروری ہے) ہاں اگر جماع حددود حرم سے باہر کسی جگہ ہوا تو فدیہ کا جانور کسی بھی جگہ کیا جا سکتا ہے اور عام مساکین پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم

 

 از    August 19, 2017

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : اس میں کوئی شک نہیں کہ طواف افاضہ حج کا رکن ہے۔ اگر کوئی عورت تنگی وقت کی بنا پر اسے چھوڑ دے اور اس کے لئے طہر تک انتظار کرنا بھی ممکن نہ ہو تو اس صورت میں شرعی حکم کیا ہے ؟
جواب : عورت اور اس کے سرپرست پر انتظار کرنا واجب ہے۔ حتی کہ وہ پاک ہو جائے اور طواف افاضہ کرے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا حیض سے دوچار ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے آگاہ کیا گیا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
احابستنا هي ؟ فلما : أخبر أنها قد أفاضت، قال : انفروا
”کیا وہ ہمیں روک دے گی ؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں تو آپ نے فرمایا روانہ ہو جاؤ۔“
اگر اس عورت کے لئے انتظار کرنا ممکن نہ ہو لیکن طواف کی ادائیگی کے لئے دوبارہ مکہ مکرمہ آنا ممکن ہو تو اس کے لئے (طواف کے بغیر) واپسی کا سفر جائز ہے البتہ طہارت حاصل ہونے کے بعد پھر اسے طواف کرنے کے لئے دوبارہ مکہ مکرمہ آنا پڑے گا۔
اور اگر دوبارہ آنا ممکن نہ ہو یا خطرہ ہو کہ وہ دوبارہ نہیں آ سکے گی جیسا کہ مکہ مکرمہ سے دور مغرب یا انڈونیشیا وغیرہ کے رہنے والے لوگ ہیں تو اس بارے میں صحیح مذہب یہ ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کر کے حج کی نیت سے طواف کر لے، اس کے لئے یہی کچھ کافی ہو جائے گا۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد رشید علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کے علاوہ علماء کی ایک جماعت کی بھی یہی راے ہے۔ وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم

 

 از    August 19, 2017

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : ایک خاتون دریافت کرتی ہے کہ وہ حیض میں مبتلا تھی۔ اس کے اہل خانہ نے عمرہ کرنے کا ارادہ کیا۔ اگر وہ گھر والوں کے ساتھ نہ جاتی تو گھر پر اکیلی رہ جاتی۔ لہٰذا وہ ان کے ساتھ عمرے کے لئے روانہ ہو گئی اور عمرے کے تمام مناسک، بشمولی طواف و سعی اس طرح ادا کئے گویا کہ اس پر مانع عمرہ کوئی عذر نہیں تھا، اور اس نے یہ سب کچھ عدم واقفیت اور شرمساری کی بناء پر کیا۔ کہ اسے اپنی اس حالت کے متعلق اپنے سرپرست (باپ وغیرہ) کو بتانا پڑتا۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ وہ ایک ان پڑھ عورت ہے، لکھنا پڑھنا نہیں جانتی۔ دریں حالات اب اسے کیا کرنا چاہئیے ؟
جواب : اگر اس نے اہل خانہ کے ساتھ عمرے کا احرام باندھا تھا تو اس پر غسل کرنے کے بعد دوبارہ طواف کرنا ضروری ہے، اسی طرح وہ حلال ہوتے وقت اپنی چٹیا کے بال بھی کاٹے، البتہ علماء کے صحیح قول کی رو سے اس کی سعی درست ہے اور وہی اس کے لئے کافی ہے ویسے احتیاط اور افضلیت اسی میں ہے کہ وہ طواف کرنے کے بعد سعی بھی دوبارہ کرے۔ اسے حیض کی حالت میں طواف کرنے اور طواف دو رکعت نماز پڑھنے پر اللہ تعالیٰ سے معانی مانگنی چاہیئے۔
اگر عورت شادی شدہ ہے تو وہ عمرے کی تکمیل تک خاوند کے لئے حلال نہیں ہو گی اور اگر اس کا خاوند عمرہ مکمل ہونے سے پہلے اس سے جماع کر چکا ہے تو اس عورت کا عمرہ فاسد ہو جائے گا اور اس پر ایک سالہ چھترا یا دو سالہ (دوندا) بکرا بطور فدیہ مکہ میں ہی وہاں کے فقراء کے لئے ذبح کرنا واجب ہو گا اور جیسا کہ ہم نے ابھی بتایا ہے اسے عمرہ بھی مکمل کرنا ہو گا۔ یعنی اس نے جہاں سے پہلے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہیں سے دوبارہ احرام باندھ کر فاسد عمرے کی جگہ ایک اور عمرہ اسے کرنا
ہو گا۔ ہاں اگر عورت نے شرم و حیا کی وجہ سے اہل خانہ کے ساتھ طواف وسعی تو کی مگر اس نے میقات سے احرام نہیں باندھا تھا تو اسے توبہ کے علاوہ کچھ نہیں کرنا ہو گا، کیونکہ حج اور عمرے کے لئے احرام باندھنا شرط ہے اور احرام کا مطلب ہے عمرہ یا حج یا دونوں کی نیت کرنا۔ ہم، سب کے لئے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور شیطان کے حملے سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

 

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.