نئے مضامین
 از    January 9, 2018

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی حفظ اللہ

سوال : جابر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر قربان ہوں مجھے اس بات کی خبر دیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب پہلے کس چیز کو پیدا کیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اے جابر ! اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا کیا پھر یہ نور اللہ کی قدرت سے جہاں چاہا گھومتا رہا…… الخ،“ فرمائیں کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟
جواب : محدثین کرام رحمه الله نے بڑی محنت اور جانفشانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کو اسناد کے ساتھ جمع کیا اور اس بات کی مکمل کوشش کی کہ کوئی ایسی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہ ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہی۔ کیونکہ :
❀ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
من كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار [صحيح بخاري، كتاب العلم : باب من كذب على النبى صلى الله عليه وسلم : 107]
’’ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا ورہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“

❀ اور ایک اور روایت میں ہے :
من قال على مالم اقل فليتبوا مقعده من النار
’’ جس نے مجھ پر وہ بات کہی جو میں نے نہیں کہی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“ [مسند احمد :65/1]
↰ اس لیے جو شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بات منسوب کر کے بیان کرتا ہے اس کے لیے سند کی شرط لگائی گئی پھر سند کی صحت کے لیے بھی کڑی شرائط کو مدنظر رکھا گیا اور جس روایت کی کوئی سند نہیں ہوتی اسے کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جاتا۔
بقیہ تحریر

 از    January 9, 2018

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی حفظ اللہ

سوال : کیا یہ روایت لولاك لما خلقت الا فلاك صحیح ہے ؟
جواب : اس روایت کا مطلب ہے ”اے محمد ! اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو جہانوں ہی کو پیدا نہ کرتا۔“
یہ روایت موضوع ہے جیسا کہ امام صنعانی رحمه الله نے اپنی کتاب ’’ الاحادیث الموضوعۃ : ص 52، رقم78“ میں اور علامہ عجلونی نے ’’ کشف الخفاء : 163/2“ میں اور امام شوکانی رحمه الله نے ’’ الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ : 326“ میں ذکر کیا ہے۔

ملا علی قاری کا یہ کہنا کہ حدیث کا معنی صحیح ہے اور اس کی تائید کے لیے دیلمی کی روایت يا محمد ! لو لاك لما خلقت الجنة ولو لاك ما خلقت النار اور ابن عساکر کی روایت لولاك ما خلقت الدنيا پیش کرنا حقیقت کے خلاف ہے۔ کیونکہ یہ روایات تب تائید میں پیش کی جا سکتی تھیں جب یہ پایہ ثبوت کو پہنچتیں جب کہ بلاشک و شبہ یہ روایات بھی ثابت نہیں۔

ابن عساکر والی روایت کو سیوطی اور امام ابن جوزی رحمه الله نے موضوع قرار دیا ہے۔ اسی طرح دیلمی والی روایت کو بھی علامہ ناصرالدین البانی رحمه الله نے ضعیف قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں تو اللہ تعالیٰ نے جن و انس کی پیدائش کی حکمت بیان کی ہے :
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ [51-الذاريات:56]
’’ جن و انس کی پیدائش کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔“
گویا اس مقصد کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے جن و انس کی پیدائش کا کوئی اور مقصد نہیں بتایا۔ کہیں یہ ثابت نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ اس لیے پیدا کیا یا اس کے لیے پیدا کیا۔
پھر لطف کی بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس حدیث کو چرا کہ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی کے صفحہ (99) پر لکھا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ان الفاظ کے ساتھ مخاطب ہوا ہے : لولاك لما خلقت الا فلاك
سوچیے ! رب کائنات کی تخلیق کی وہ حکمت تسلیم کی جائے گی جو قرآن میں ہے یا وہ جو اس موضوع، من گھڑت اور جھوٹی روایت میں ہے ؟

 

 از    January 9, 2018

بچے کی ولادت کے ساتویں دن اس کے جو بال اتارے جاتے ہیں، ان کے ہم وزن چاندی صدقہ کرنا ثابت نہیں۔ اس بارے میں ایک روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ [مصنف ابن أبى شيبه : 235/8، مسند الامام احمد : 391، 390/6، العلل لابن أبى الدنيا : 53]

تبصرہ :
لیکن اس روایت کی سند ’’ ضعیف“ ہے، کیونکہ :

اس کا راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل جمہور محدثین کے نزدیک ’’ ضعیف“ ہے۔

 از    January 9, 2018

ابن الحسن محمدی

بعض لوگ یہ بیان کرتے سنائی دیتے ہیں کہ سانحۂ حرہ (63ھ) کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سے اذان سنائی دیتی رہی۔ کسی بھی واقعے، حادثے یا سانحے کی صحت و سقم کا پتہ اس کی سند سے لگایا جا سکتا ہے۔ محدثین کرام رحمها اللہ پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے، انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں سند کی پرکھ کے لیے مبنی برانصاف قوانین وضع کیے، پھر راویانِ اسانید کے کوائف بھی سپرد کتب کر دئیے۔ ذخیرۂ روایات کی جانچ کا یہ انداز اسلامی ورثے کا امتیازی پہلو ہے۔ دیگر مذاہب میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

کتب ِ حدیث ہوں یا سیرت و تاریخ، اہل علم ان میں اپنی سندیں ذکر کر کے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو چکے ہیں، اب یہ بعد والوں پر ہے کہ وہ ان اصول و قوانین اور راویوں کے کوائف کو مدنظر رکھتے ہوئے صحت و سقم کالحاظ کریں یا اپنے مفاد میں ملنے والی ہر روایت کو اندھا دھند پیش کرتے جائیں۔

ذیل میں سانحۂ حرہ کے دوران قبر نبوی سے اذان کے بارے میں ملنے والی روایت اپنی تمام تر سندوں اور ان پر تبصرے کے ساتھ پیش خدمت ہے۔ فیصلہ خود فرمائیں !

روایت نمبر :

سعید بن عبدالعزیز تنوخی رحمہ اللہ (م : 90ھ) بیان کرتے ہیں :
لما كان أيام الحرة لم يؤذن فى مسجد النبى صلى اللہ عليه وسلم ثلاثا، ولم يقم، ولم يبرح سعيد بن المسيب المسجد، وكان لا يعرف وقت الصلاة، إلا بهمهمة، يسمعها من قبر النبى صلى اللہ عليه وسلم .
’’ سانحۂ حرہ کے دوران تین دن تک مسجدِ نبوی میں اذان و اقامت نہیں ہوئی تھی۔ ان دنوں امام سعید بن مسیّب رحمہ اللہ مسجدِ نبوی ہی میں مقیم تھے۔ انہیں نماز کا وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سے سنائی دینے والی آواز ہی سے ہوتا تھا۔ “ [مسند الدارمي : 44/1]

تبصرہ :
اس کی سند ’’ انقطاع “ کی وجہ سے ’’ ضعیف “ ہے۔
سانحۂ حرہ، اسے بیان کرنے والے راوی سعید بن عبدالعزیز تنوخی رحمہ اللہ کی پیدائش سے بہت پہلے رونما ہو چکا تھا۔ پھر سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی امام سعید بن مسیّب رحمہ اللہ سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ حرہ کا واقعہ 63 ہجری میں رونما ہوا اور امام سعید بن مسیّب رحمہ اللہ 94 ہجری میں فوت ہوئے، جبکہ سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی پیدائش 90 ہجری کو ہوئی۔
پھر امام سعید بن مسیّب رحمہ اللہ مدینہ منورہ میں فوت ہوئے، جبکہ سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ شام میں پیدا ہوئے۔ اب کیسے ممکن ہے کہ سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ روایت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ سے خود سنی ہو ؟ انہیں کس شخص نے یہ بات بیان کی، معلوم نہیں۔ لہٰذا یہ روایت ’’ انقطاع “ کی وجہ سے ’’ ضعیف “ ہے۔

روایت نمبر :

امام ابن سعد رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو یوں نقل کیا ہے :
أخبرنا محمد بن عمر، قال : حدثني طلحة بن محمد بن سعيد، عن أبيه، قال : كان سعيد بن المسيب أيام الحرة فى المسجد،…، قال : فكنت إذا حانت الصلاة أسمع أذانا يخرج من قبل القبر، حتٰي أمن الناس .
’’ امام سعید بن مسیّب رحمہ اللہ سانحۂ حرہ کے دنوں میں مسجدِ نبوی ہی میں مقیم تھے۔۔۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب بھی اذان کا وقت ہوتا، میں قبر نبوی سے اذان کی آواز سنتا۔ جب تک امن نہ ہو گیا، یہ معاملہ جاری رہا۔ “ [الطبقات الكبرٰي : 132/5]

تبصرہ : بقیہ تحریر

 از    January 9, 2018

تحریر: حافظ ندیم ظہیر حفظ اللہ

حجامہ سے مراد پچھنے لگوانا ہے،یعنی جسم کے متاثرہ حصے سے سینگی کے ذریعے خراب و فاسد خون نکلوانا۔یہ ایسا علاج ہے جس کی طبی اہمیت سے انکار ممکن نہیں،بلکہ دورِ جدید میں سائنسی لحاظ سے بھی اسے مجرب و مفید قرار دیا گیا ہے۔ ہم نے ان سطور میں صحیح احادیث و آثار سے حجامہ (سینگی)کی شرعی حیثیت واضح کرنے کی کوشش کی ہے :
سینگی میں شفاء ہے :
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ،مُقنَّع بن سنان (تابعی) کی تیمارداری کے لئے تشریف لائے،پھر ان سے فرمایا:جب تک تم سینگی نہ لگوالو میں یہاں سے نہیں جاؤں گا،کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :
((إن فیہ شفاء )) بلاشبہ اس میں شفاء ہے۔(صحیح بخاری :۵۶۹۷)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شفاء تین چیزوں میں ہے :(۱) سینگی لگوانے میں (۲) شہد پینے میں (۳) اور آگ سے داغنے میں،(لیکن)میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔(صحیح بخاری :۵۶۸۱)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرتمھاری داؤں میں شفاء ہے تو سینگی لگوانے میں اور آگ سے داغنے میں ہے اور میں داغنے کو پسند نہیں کرتا۔(صحیح بخاری :۵۷۰۴)
سینگی بہترین دوا(علاج ) ہے :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو،اگر ان میں سے کوئی بہتر دوا ہے تو وہ سینگی لگوانا ہے۔(سنن ابی داود : ۳۸۵۷،سنن ابن ماجہ : ۳۴۷۶ وسندہ حسن )
سینگی لگوانے کے لئے قمری تاریخ کا انتخاب :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص (قمری مہینے کی ) سترہ،انیس اور اکیس تاریخ کو سینگی لگوائے،اسے ہر بیماری سے شفاء ہوگی۔(سنن ابی داود :۳۸۶۱وسندہ حسن)
عورتیں بھی سینگی لگواسکتی ہیں :
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ انھیں سینگی لگادیں۔ بقیہ تحریر

 از    January 2, 2018

فتویٰ : شیخ محمد بن صالح عثیمین حفظ اللہ

سوال : میرا خاوند گھرسے باہر جاتے وقت حتیٰ کہ نماز کے لئے مسجد جاتے وقت بھی ہمیشہ میرا بوسہ لے کر جاتا ہے۔ میں کبھی تو یہ سمجھتی ہوں کہ وہ ایسا شہوت سے کرتا ہے، اس کے وضو کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب : ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے:
كان النبى صلى الله عليه وسلم يقبل بعض ازواجه ثم يصلي ولا يتوضا [رواه أبوداؤد والترمذي والنسائى وابن ماجة]
تحقیق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کو بوسہ دیا پھر وضو نہ کیا اور نماز (پڑھنے ) کے لئے تشریف لے گئے۔
اس حدیث میں عورت کو مس کرنے اور اس کا بوسہ لینے کی رخصت موجود ہے۔ علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک بوسہ بہرحال ناقض وضو ہے، شہوت سے ہو یا شہوت کے بغیر۔ جبکہ بعض کے نزدیک شہوت کی حالت میں ناقض وضو ہے، بصورت دیگر نہیں۔ بعض کے نزدیک وہ کسی بھی حالت میں ناقض وضو نہیں ہے اور یہی قول راجح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کا بوسہ لے، اس کے ہاتھ کو مس کرے یا اس سے بغلگیر ہو، اس دوران نہ تو اسے انزال ہوا اور نہ وہ بے وضو ہوا، تو محض اس عمل سے دونوں میں سے کسی کا بھی وضو خراب نہ ہو گا۔ کیونکہ اصول یہ ہے کہ وضو اپنی حالت پر برقرار رہے گا تاوقتیکہ کوئی ایسی دلیل سامنے نہ آ جائے جس سے معلوم ہو کہ واقعی وضو ٹوٹ گیا ہے، مگر کتاب و سنت میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ عورت کو مس کرنا ناقض وضو ہے۔ تو اس اعتبار سے عورت کا بوسہ لینا، اس سے بغلگیر ہونا یا اسے چھو لینا اگرچہ وہ بغیر کسی رکاوٹ اور شہوت کیساتھ ہی کیوں نہ ہو، کسی بھی حالت میں ناقض وضو نہیں ہے۔ واللہ اعلم

 از    January 2, 2018

فتویٰ : شیخ محمد بن صالح عثیمین حفظ اللہ

سوال : وضو کرتے وقت چہرے اور ہاتھوں کو صابن سے دھونے کا کیا حکم ہے؟
جواب : وضو کرتے وقت چہرے اور ہاتھوں کو صابن سے لازماً دھونا غیر مشروع ہے۔ یہ محض ایک تکلف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
هلك المتنطعون، هلك المتنطعون [رواه مسلم فى كتاب العلم]
”تکلف کرنے والے ہلاک ہو گئے’ تکلف کرنے والے ہلاک ہو گئے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ دھرائی۔ ہاں اگر ہاتھوں پر ایسی میل کچیل جمی ہو (یا ناگوار بدبو ہو) جو صابن وغیرہ استعمال کئے بغیر زائل نہ ہو سکے تو اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عام حالات میں اس کا استعمال محض تکلف اور بدعت ہوگا۔ لہٰذا اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

 از    January 2, 2018

فتویٰ : شیخ محمد بن صالح عثیمین حفظ اللہ

سوال : میں نے بعض علماء سے سنا ہے کہ تیل ایسی رکاوٹ ہے جو بوقت وضو پانی کو جسم تک پہنچنے سے روک لیتا ہے۔ بعض اوقات کھانا پکاتے وقت تیل کے چند قطرے میرے بالوں اور اعضاء وضو پر گر پڑتے ہیں، تو کیا وضو یا غسل سے قبل ان اعضاء کا صابن سے دھونا ضروری ہے تاکہ پانی وہاں تک پہنچ سکے؟ اسی طرح میں بغرض علاج کبھی اپنے بالوں کو بھی تیل لگا لیتی ہوں، ان حالات میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ براہ کرم آگاہ فرمائیں۔
جواب : اس سوال کا جواب دینے سے قبل میں چاہوں گا کہ اللہ کا مندرجہ ذیل ارشاد پیش کروں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ [5-المائدة:6]
”اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو اور اپنے سروں کا مسح کر لیا کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔“
ان اعضاء کو دھونے اور ان کے مسح کرنے کا حکم اس بات کو لازم کرتا ہے کہ ہر اس چیز کا ازالہ ضروری ہے جو پانی کو اعضاء وضو تک پہنچنے سے روکتی ہو، کیونکہ اس کے باقی رہنے کی صورت میں اعضاء وضو دھل نہیں سکیں گے۔ بنا بریں ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان جب اعضاء وضو پر تیل کا استعمال کرتا ہے تو یہ دو صورتوں سے خالی نہیں یا تو تیل جامد ہو گا تو اس صورت میں وضو سے قبل اس کا ازالہ ضروری ہے کیونکہ اگر تیل اپنی موٹائی کی صورت میں ہی رہے گا تو وہ جسم تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ ہو گا اور اس طرح طہارت نہ ہو گی۔
دوسری صورت یہ ہے کہ تیل سیال ہے اور اس میں موٹائی نہیں ہے، صرف اس کا اثر اعضاء وضو پر موجود ہے، تو ایسا تیل غیر مضر ہے۔ ایسی صورت میں تمام اعضاء وضو پر پانی گزارنا ضروری ہے۔ کیونکہ عادتاً تیل پانی سے الگ رہتا ہے اس طرح بسا اوقات پانی اعضاء وضو تک نہیں پہنچ پاتا۔
لہٰذا ہم سائلہ سے یہ کہنا چاہیں گے کہ اگر اعضاء وضو پر تیل وغیرہ جامد شکل میں ہو تو وضو سے قبل اس کا ازالہ ضروری ہے اور اگر تیل سیال شکل میں ہو تو صابن استعمال کئے بغیر وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ بس اعضاء کو دھوتے وقت انہیں اچھی طرح مل لیا جائے تاکہ پانی پھسل کر نہ گزر جائے اور یوں اعضاء خشک نہ رہ جائیں۔

 از    January 2, 2018

فتویٰ : محمد عبد الجبار عفی عنہ

سوال : اگر میں بحالت وضو بچوں کی صفائی کروں تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جائے گا؟
جواب : کسی کی شرمگاہ کو شہوت سے ہاتھ لگانا ناقض وضو ہے۔ شہوت کے بغیر ایسا کرنے میں اختلاف ہے۔ راجح یہ ہے کہ صفائی کی غرض سے بچوں کی شرمگاہ کو ہاتھ لگانا ناقض وضو نہیں ہے، کیونکہ بچے کی شرمگاہ شہوت کا محل نہیں ہے۔ نیز اگر مس عورۃ ( شرمگاہ کو ہاتھ لگانے) سے وضو ٹوٹ جائے تو اس سے یہ عام مصیبت بن جائے گی کیونکہ اس میں بہت تکلیف اور حرج ہے۔ اگر یہ عمل ناقض وضو ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین کرام رحمۃ اللہ علیھم سے مشہور ہوتا۔ (ا)
(ا) الشیخ ابن جبرین حفظہ اللہ کا یہ فتوی محل نظر ہے کیونکہ کسی صحیح حدیث میں یہ شرط مذکور نہیں ہے کہ اگر کسی کی شرمگاہ کو شہوت سے ہاتھ لگایا جائے تو وضو ٹوٹ جائے اور شہوت کے بغیر ہاتھ لگانے سے وضو نہ ٹوٹے بلکہ صحیح ابن حبان میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یوں مروی ہے:
إذا أفضى أحدكم بيده إلى فرجه ليس دونها حجاب ولا ستر فقد وجب عليه الوضوء [صححه الحاكم وابن عبد البر جامع الترمذي مع تحفة الاحوذي ج : 1 ص : 85]
یعنی جب کسی کا ہاتھ اس کی شرمگاہ کو اس حالت میں لگ جائے کہ ہاتھ اور شرمگاہ کے درمیان کوئی رکاوٹ (کپڑا وغیرہ) نہ ہو تو اس شخص پر وضو کرنا واجب ہے۔ اس حدیث کو امام حاکم اور ابن عبد البر نے صحیح کہا ہے۔
نیز اسی ضمن میں قبل ازیں اللجنة الدائمة (دارالافتاء کمیٹی) کا فتویٰ (سوال نمبر: 3 صفہ: 71) بھی گزر چکا ہے کہ ”جو عورت وضو کی حالت میں اپنے چھوٹے بچے کی شرمگاہ کو صاف کرنے کی غرض سے ہاتھ لگاتی ہے تو اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اس کو پھر وضو کرنا پڑے گا۔“ اور یہ بھی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ چونکہ صحابہ کرام اور تابعین عظام سے یہ مشہور نہیں ہے لہذا مس عورة سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ حالانکہ پندرہ بیس صحابہ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں : من مسں ذكره فليتوضا جو شخص اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگائے تو اسے وضو کرنا چاہیے۔ والله اعلم بالصواب

 از    January 2, 2018

فتویٰ : شیخ ابن جبرین حفظ اللہ

سوال : بوقت جماع دخول تو ہوا مگر رحم میں انزال نہیں ہوا تو کیا اس صورت میں بیوی پر غسل جنابت واجب ہے؟ اگر عورت کے رحم میں مانع حمل مصنوعی جھلی رکھی ہو تو کیا اس صورت میں بھی اس پر غسل واجب ہو گا یا جسم اور اعضاء کا دھونا ہی کافی ہو گا ؟
جواب : ہاں! محض دخول سے ہی غسل جنابت واجب ہو جائے گا اگرچہ وہ کتنا ہی کم ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشار ہے:
إذا جلس أحدكم بين شعبها الأربع ثم جهدها، فقد وجب الغسل، وإن لم ينزل [متفق عليه]
”جب آدمی نے عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ کر کوشش کی تو غسل واجب ہو گیا، چاہے انزال نہ ہوا ہو۔“
دوسری حدیث میں ہے:
اذا جاوز الختان الختان وجب الغسل [رواه الترمذي وابن ماجة وأحمد] )
”جب دو ختنے (شرمگاہیں) باہم مل جائیں تو غسل واجب ہو گیا۔“
رحم میں مانع حمل چیز رکھنے کی صورت میں بھی غسل واجب ہو گا، کیونکہ اس سے عام طور پر دخول اور انزال ہو جاتا ہے۔ وضو صرف اسی صورت میں کفایت کرے گا جب دخول کے بغیر محض لمس ہوا ہو۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.