نئے مضامین
 از    September 24, 2016

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

 

اسلاف پرستی ہی اصنام پرستی ہے۔ دنیا میں شرک اولیاء و صلحاء کی محبت و تعظیم میں غلو کے باعث پھیلا جیسا کہ مشہور مفسر علامہ قرطبی رحمہ اللہ (600-671ھ) فرماتے ہیں : 
فيؤدي إلى عبادة من فيھا كما كان السبب في عبادة الأوثان.
” قبر پرستی اصحاب قبور کی عبادت تک پہنچا دیتی ہے جیسا کہ بت پرستی کا سبب بھی یہی تھا۔ “ 
( تفسیر القرطبی: 380/10)

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 
﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ﴾ 
” اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا اولیاء بنا رکھے ہیں (ان کا کہنا ہے ہے کہ) ہم ان کی صرف اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔ “ (39-الزمر:3)

 

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں امام علامہ ابن جریر طبری رحمہ اللہ (224-310ھ) فرماتے ہیں : 
یَقُولُ تَعَالٰی ذِکْرُہ : ﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾ يَتَوَلَّوْنَهُم, ويعبدونهم من دون الله، يقولون لهم: ما نعبدكم أيها الآلهة إلا لتقربونا إلى الله زُلْفَى, قربة ومنـزلة, وتشفعوا لنا عنده في حاجاتنا.
” اور جو لوگ اللہ کے سوا اولیاء بناتے ہیں وہ یہ کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں وہ ان سے کہتے ہیں کہ اے معبودو! ہم تمہاری عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ تم ہمیں مقام و مرتبے میں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دو اور ہمارے کاموں کے بارے میں اللہ سے سفارش کرو۔ “
( جامع البیان فی تاویل القرآن : 653/9) 

 

آج کا مسلمان اولیاء اور صالحین کی قبروں کے بارے میں وہی عقیدہ رکھتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے بتوں کے متعلق رکھتے تھے۔ وہ قبروں سے امیدیں وابستہ رکھے ہوئے ہے۔ آج بندوں کے نام کی دہائی دی جاتی ہے۔ خوشی اور غمی میں ان کو پکارا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ ہماری ان کے آگے اور یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ یہ دستگیر اور غریب نواز ہیں۔ ان کی قبروں کی طرف سفر کیا جاتا ہے۔ منت منوتی پیش کی جاتی ہے۔ نذرانے چڑھائے جاتے ہیں۔ نیازیں تقسیم ہوتی ہیں۔ بالکل یہی وطیرہ مشرکین مکہ کا تھا۔

 

بقیہ تحریر

 از    September 11, 2016

تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

آج جب کہ ہر فرقہ اپنے مسلک و مذہب کو قرآن و سنت کے دلائل سے مزین کرنے کی تگ و دو میں سرگرم ہے، ایک عام آدمی کے لیے حق و باطل میں امتیاز کرنا خاصہ مشکل ہوا جا رہا ہے۔ قادیانی حضرات تک مختلف چینلز اور انٹرنیٹ پر بیٹھ کر لوگوں کو قرآن و سنت کے نام پر گمراہ کرنے کی مذموم سعی کر رہے ہیں۔

آخر وہ کون سا طریقہ ہو جس سے ایک متلاشی حق کو یہ پتہ چلے کہ فلاں آدمی کا قرآن و سنت سے استدلال صحیح ہے اور فلاں آدمی کا غلط؟ اسلام جو کہ ایک کامل، عالمگیر و ہمہ گیر اور آفاقی دین ہے اس نے کوئی طریقہ تو بتلایا ہی ہو گا جو قرآن کریم کی ایک ہی آیت یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ہی حدیث سے دو بالکل متضاد عقائد و اعمال ثابت کرنے والے دو اشخاص میں سے کسی ایک کے حق اور دوسرے کے باطل ہونے کا یقینی پتا دے سکے۔ 

جی ہاں ! بالکل اسلام نے ایسا طریقہ ضرور بتایا ہے، لیکن افسوس کہ آج مسلمان اس سے مسلسل دور ہو رہے ہیں اور یقیناً روز بروز بڑھتے ” اسلامی فرقوں“ کے پیچھے یہی دوری کار فرما ہے۔ اگر حق کو پرکھنے کے لیے اس کسوٹی کو استعمال کیا جاتا تو بالیقین ایسی صورت حال سے مسلمانوں کو پالا نہ پڑتا۔ یہ طریقہ خود قرآن و حدیث نے بیان کیا ہے۔ 

کیا آپ بھی حق و باطل میں تمیز کرنے کا طریقہ جاننا چاہیں گے ؟ اگر آپ تیار ہیں تو لیجیئے وہ طریقہ سلف صالحین کا فہم ہے۔ اگر ہم تمام اختلافات دور کرنا چاہتے ہیں تو قرآن و سنت کا وہی مفہوم لینا شروع کر دیں جو صحابہ، تابعین اور تبع تابعین لیتے تھے۔ ان کے بارے میں خیر و بھلائی کی گواہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ یقیناً یہ لوگ اہل حق تھے صراط مستقیم پر تھے، لہٰذا اگر ہم قرآن و سنت کو ان کی طرح سمجھنے لگیں گے تو باہمی اختلافات خود بخود ختم ہو جائیں گے اور صحیح اسلام ہمیں مل جائے گا، یوں ہم بھی صراط مستقیم پر چلنے لگیں گے۔

فہم سلف کی حجیت میں محدثین کرام اور ائمہ دین میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ وہ سب فہم سلف کو حجت سمجھتے تھے۔ 

لیکن موجودہ دور میں کچھ لوگ اس بارے میں شکوک و شبہات کا شکار نظر آتے ہیں۔ ہم فقط اصلاح کی خاطر ان لوگوں کے اشکالات کے ازالہ کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ حق سمجھنے اور اس پر ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرمائے ! 

بقیہ تحریر

 از    September 3, 2016

تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری
 
نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، گوشئہ بتول ، نوجوانان جنت کے سردار اور گلستان ِ رسالت کے پھول ، سیدنا و امامنا و محبوبنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دیا گیا تھا ، جیسا کہ عمیر بن اسحاق کہتے ہیں :

«دخلت أنا ورجل على الحسن بن على نعوده ، فجعل يقول لذلك الرجل : سلنى قبل أن لا تسألنى ، قال : ما أريد أن أسألك شيئاً ، يعافيك الله ، قال : فقام فدخل الكنيف ثم خرج إلينا ، ثم قال : ما خرجت إليكم حتى لفظت طائفة من كبدی أقلبها بهذا العود ، ولقد سقيت السم مرارا ، ما شیء أشد من هذه المرة ، قال : فغدونا عليه من الغد ، فإذا هو في السوق ، قال : وجاء الحسين فجلس عند رأسه ، فقال : يا أخي ، من صاحبك ؟ قال : تريد قتله ؟ ، قال : نعم ، قال : لئن كان الذی أظن ، لله أشد نقمة ، وإن كان بريئاً فما أحب أن يقتل بریء»

’’میں اور ایک آدمی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پر عیادت کے لیے داخل ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہما اس آدمی سے کہنے لگے : مجھ سے سوال نہ کر سکنے سے پہلے سوال کر لیں۔ اس آدمی نے عرض کیا: میں آپ سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عافیت دے۔ آپ رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور بیت الخلاء گئے۔ پھر نکل کر ہمارے پاس آئے، پھر فرمایا: میں نے تمہارے پاس آنے سے پہلے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا (پاخانے کے ذریعہ) پھینک دیا ہے۔ میں اس کو اس لکڑی کے ساتھ الٹ پلٹ کر رہا تھا۔ میں نے کئی بار زہر پیا ہے، لیکن اس دفعہ سے سخت کبھی نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس اگلے دن آئے تو آپ رضی اللہ عنہما حالت ِ نزع میں تھے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور آپ کے سر مبارک کے پاس بیٹھ گئے اور کہا : اے بھائی! آپ کو زہر دینے والا کون ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا آپ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! فرمایا : اگر وہ شخص وہی ہے جو میں سمجھتا ہوں تو اللہ تعالیٰ انتقام لینے میں زیادہ سخت ہے۔ اور اگر وہ بری ہے تو میں ایک بری آدمی کو قتل نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبۃ : ۹۴،۹۳/۱۵، کتاب المحتضرین لابن ابی الدنیا : ۱۳۲، المستدرک للحاکم : ۱۷۶/۳، الاستیعاب لابن عبد البر : ۱۱۵/۳، تاریخ ابن عساکر : ۲۸۲/۱۳، وسندہ حسن) 

بقیہ تحریر

 از    August 27, 2016

 تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

 

قبر میں شجرہ یا غلاف کعبہ یا عہد نامہ یا دیگر ”تبرکات“ کا رکھنا، نیز مردے کے کفن یا پیشانی پر انگلی یا مٹی یا کسی اور چیز سے عہد نامہ یا کلمہ طیبہ لکھنا ناجائز اور بدعت سیہ اور قبیحہ ہے۔ یہ خانہ ساز دین، آسمانی دین کے خلاف ہے۔ قرآن و حدیث میں ان افعال قبیحہ پر کوئی دلیل نہیں، بلکہ سلف صالحین میں سے کوئی بھی ان کا قائل و فاعل نہیں۔ یہ بدعتیوں کی ایجادات ہیں۔ اہل سنت ان خرافات و بدعات سے بیزار ہیں، کیونکہ یہ انتہائی جرآت مندانہ اقدام دینِ الٰہی میں بگاڑ کا باعث ہے۔


ان افعال قبیحہ کے ثبوت پر پیش کیے گئے دلائل کا علمی جائزہ پیش خدمت ہے: بقیہ تحریر

 از    August 17, 2016


تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز وتر کی ایک ، تین ، پانچ، سات اور نو رکعات ثابت ہیں۔

 ایک رکعت نماز وتر:

ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
«سئل الشافعي عن الوتر : أيجوز أن يوتر الرجل بواحدة ، ليس قبلھا شيء ؟ قال : نعم ، والّذي أختار أن أصلّي عشر ركعات ، ثمّ أوتر بواحدة ، فقلت للشافعي : فما الحجة في أن الوتر يجوز بواحدة ؟ فقال : الحجة فيه السنّة و الآثار»
”امام شافعی رحمہ اللہ سے وتر كے بارے ميں سوال كيا گيا كہ آدمی ایک وتر ایسے پڑھے کہ اس سے پہلے کوئی نماز نہ ہو تو کیا جائز ہے ؟ فرمایا : ہاں، جائز ہے، لیکن میں پسند یہ کرتا ہوں کہ دس رکعات پڑھ کر پھر ایک وتر پڑھوں۔ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے پوچھا : ایک وتر جائز ہونے کی دلیل ہے ؟ فرمایا : اس بارے میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آثار سلف دلیل ہیں۔ “ ( السنن الصغریٰ للبیھقی : ۵۹۳، وہ سندہٗ حسنٌ)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«صلاة الليل مثنى مثنى فإذا خشی أحدكم الصبح صلى ركعة واحدة ، توتر له ما قد صلى»
”رات کی نماز دو دو رکعت ہے پھر جب کوئی صبح ہونے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ اس کی ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔ “ ( صحیح بخاری : 990، صحیح مسلم : 749)

بقیہ تحریر

 از    August 11, 2016

تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

دلیل نمبر:۱

«عن طاؤس قال : سئل ابن عمر عن الرّكعتين قبل المغرب  فقال : ما رأيت أحداً علی عھد رسول الله صلّی الله عليه وسلم يصلّيھما ورخّص في الرّكعتين بعد العصر.»

”طاؤس کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی کو یہ دو رکعتیں پڑھتے نہیں دیکھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عصر کے بعد دو رکعتوں کے پڑھنے کی اجازت دی۔“ (سنن ابي داود : ۱۸۲/۱، ح : ۱۲۸۴، مسند عبد بن حميد : ق ۱۰۵، ح : ۸۰۴ مختصرا، السنن الكبرٰي للبيهقي : ۴۷۶/۲، وسنده حسن)
 

 تبصرہ: 
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مغرب سے پہلے کسی کو نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ وغیرہ نے دیکھا ہے، حجت اس کی بات ہو گی، جس نے دیکھا ہے نہ کہ اس کی بات جس نے نہیں دیکھا، یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ مثبت اور منفی میں تعارض ہو تو مثبت کو ترجیح ہوتی ہے۔ 

امام ِ بیہقی رحمہ اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں ـ
القول في مثل ھذا قول من شاھد دون من لم يشاھد … 
”اس طرح کے ( تعارض ) میں اس شخص کی بات حجت ہو گی، جس نے مشاہدہ کیا ہے، نہ کہ اس کی جس نے مشاہدہ نہیں کیا۔“ 

 

تنبیہ : 
یہاں پر بطور فائدہ عرض ہے کہ بعض الناس اس روایت کو پیش کرتے وقت اس کا آخری حصہ ترک کر دیتے ہیں کہ : ”سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عصر کے بعد دور کعتیں پڑھنے کی اجازت دی“۔
کیونکہ یہ ان کے خلاف ہے، یہ بدترین خیانت اور دین میں تحریف ہے۔  

بقیہ تحریر

 از    July 31, 2016

تحریر :غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

نماز مغرب سے پہلے دو رکعت نفل ادا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی، فعلی اور تقریری سنت ہے، اس کے ثبوت پر احادیث صحیحہ ملاحظہ ہوں:

قولی احادیث


دلیل نمبر (۱)

 

سیدنا ابوسعید عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
صلّوا قبل صلاۃ المغرب، قال فی الثّالثۃ : لمن شاء، کراھیۃ أن یتّخذھا النّاس سنّۃ
”نماز مغرب سے پہلے (دو رکعتیں) پڑھو، (ایسا دو بار فرمایا ) ، تیسری بار فرمایا، جو چاہے (پڑھے) ، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ کہیں لوگ اس (نماز ) کو (لازمی) سنت نہ بنا لیں۔“ (صحيح بخاري:۱۱۸۳، سنن ابي داو،د:۱۲۸۱)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (۷۷۳۔۸۵۲ھ) لکھتے ہیں :
لم یرد نفی استحبابھا لأن لا یمکن أن یأمر بما لا یستحبّ، بل ھذا الحدیث من أقوی الأدلّۃ علی استحبابھا
” (اس حدیث سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے استحباب کی نفی نہیں، اس لیے کہ یہ ناممکن بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چیز کے بارے میں حکم فرمائیں اور وہ (کم از کم) مستحب (بھی) نہ ہو، بلکہ یہ حدیث تو مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے استحباب پر قوی ترین دلیلوں میں سے ایک ہے۔“ (فتح الباری فی شرح صحیح البخاری : ۳/۶۰)

بقیہ تحریر

 از    July 23, 2016

تحریر: غلام مصطفے ظہیر امن پوری

صحیح حدیث دین ہے، صحیح حدیث کو اپنانا اہل حدیث کا شعار ہے، جیساکہ:

۱۔ امام مسلمؒ فرماتے ہیں:

واعلم۔ رحمک اللہ۔ أنّ صناعۃ الحدیث، ومعرفۃ أسبابہ من الصحیح والسقیم، إنّما ھی لأھل الحدیث خاصّۃ، لأنّھم الحفّاظ لروایات الناس، العارفین بھا دون غیرھم، إذ الأصل الذی یعتمدون لأدیانھم السنن والآثار المنقولۃ، من عصر إلی عصر، من لدن النبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم إلی عصرنا ھذا۔

اللہ آپ پر رحم کرے! جان لیں کہ فن حدیث اور اس کی صحت وسقم کے اسباب کی معرفت صرف اہل حدیث کا خاصہ ہے، کیونکہ وہ لوگوں کی روایات کو یاد رکھنے والے اور وہی ان کو جاننے والے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مذاہب کی دلیل وہ سنن و آثار ہیں جو زمانہ بہ زمانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے دور تک نقل ہوتے آئے ہیں۔

(کتاب التمییز لامام مسلم: ص ۲۱۸)

۲۔امام ابن خزیمہؒ لکھتے ہیں: بقیہ تحریر

 از    July 10, 2016

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

 

مانعین رفع الیدین کے دلائل دلیل نمبر ۵

 تحریر: غلام مصطفےٰظہیر امن پوری

 

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: 
ان رسول الله ﷺ كان اذا افتح الصلاة رفع يديه الي قريب من أذنيه، ثم لا يعود. 
”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے کانوں کے قریب تک رفع الیدین کرتے، پھر دوبارہ نہ فرماتے۔“ 
(سنن ابي داود:749، سنن دارقطني:293/1، مسند ابي يعليٰ:1690)

 

تبصرہ: 
(۱) اس کی سند ”ضعیف“ ہے۔
حفاظ محدثین کا اس حدیث کے ”ضعف“ پر اجماع و اتفاق ہے، اس کا راوی یزید بن ابی زیاد جمہور کے نزدیک ”ضعیف“ اور ”سیئ الحفظ“ ہے، نیز یہ ”مدلس“ اور ”مختلط“ بھی ہے، تلقین بھی قبول کرتا تھا۔ 

 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ضعيف، كبر، فتغير، وصار يتلقن وكان شيعيا. 
”یہ ضعیف راوی ہے، بڑی عمر میں اس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا اور یہ تلقین قبول کرنے لگا تھا، یہ شیعی بھی تھا۔“ 
(تقريب التھذيب: 7717)  

بقیہ تحریر

 از    June 19, 2016

 تحریر: غلام مصطفےٰ  ظہیر امن پوری

 

رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین متواتر احادیث سے ثابت ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (م :
۷۴۸ھ) نے رفع الیدین کو ”سنت متواترہ“ قرار دیا ہے۔ (سير اعلام النبلاء:293/5)

 

علامہ زرکشی لکھتے ہیں:
وفي دعوي أن أحاديث الرفع فيما عدا التحريم لم تبلغ مبلغ التواتر نظر، وكلام البخاري في كتاب رفع اليدين مصرح ببلوغھا ذلك.
”یہ دعویٰ محل نظر ہے کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین کی احادیث تواتر تک نہیں پہنچیں، کتاب (جز رفع الیدین) میں امام بخاری کی کلام ان کے تواتر تک پہنچنے کی صراحت کرتی ہے۔“ (المعتبر في تخريج احاديث المنھاج والمختصر للزركشي:136)

 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وفي دعوي ابن كثير أن حديث رفع اليدين في أول الصلاة دون حديث رفع اليدين عندالركوع متواتر نظر، فان كل من روي الأول روي الثاني الا اليسير.
”حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا یہ دعویٰ محل نظر ہے کہ نماز کے شروع میں رفع الیدین متواتر ہے، رکوع کے وقت متواتر نہیں، بلکہ سوائے ایک دو راویوں کے ہر وہ راوی جس نے پہلی رفع الیدین بیان کی ہے، اس نے دوسری رفع الیدین بھی بیان کی ہے۔“ (موافقة الخبر الخبر لابن حجر:409/1)

 

مانعین رفع الیدین کے پاس کوئی مرفوع، صحیح اور خاص دلیل نہیں۔

بقیہ تحریر

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.