نئے مضامین
 از    May 28, 2016

 تحریر: ابن الحسن محمدی

 

کائنات کی تخلیق کس لیے ہوئی ؟
اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ عبادت الٰہی کے لیے، جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے :

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ (الذاريات:56) ’’ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ “ معلوم ہوا کہ نظام کائنات کو خالق کائنات نے اپنے ہی لیے پیدا کیا ہے۔

 

اس قرآنی بیان کے خلاف گمراہ صوفیوں نے ایک جھوٹی اور من گھڑت روایت مشہور کر رکھی ہے کہ کائنات کی تخلیق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، آپ کے طفیل اور آپ کے صدقے ہوئی۔ اگر آپ نہ ہوتے تو کائنات تخلیق نہ ہوتی۔ یہ نظریہ قرآن کریم کے بھی خلاف ہے اور اس سلسلے میں بیان کردہ روایات بھی جھوٹی، جعلی اور ضعیف ہیں۔

 

اس خود ساختہ عقیدے کے بارے میں بیان کی جانے والی روایات کی ذخیرۂ حدیث میں موجود تمام سندوں کا تفصیلی جائزہ اور ان پر منصفانہ تبصرہ پیش خدمت ہے۔ قارئین کرام غور سے اس مضمون کا مطالعہ فرمائیں اور فیصلہ خود کریں کہ کیا ایسی روایات کو دین اسلام کا نام دیا جا سکتا ہے اور کیا ایسی روایات کو اپنی تائید میں پیش کرنے والے لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خیرخواہ ہو سکتے ہیں ؟

 

اگر تو نہ ہوتا ، روایت نمبر ۱ ، تجزیہ

 

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے …. اللہ نے فرمایا :
ولو لاك يا محمد ! ما خلقت الدنيا. ’’ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر آپ نہ ہوتے تو میں دنیا کو تخلیق نہ کرتا۔ “ (تاريخ ابن عساكر:518/3، الموضوعات لابن الجوزي:289،288/1)


تبصرہ : یہ باطل اور جھوٹی روایت ہے۔
حافظ ابن الجوزی نے اسے ’’ موضوع “ ( من گھڑت ) قرار دیا ہے۔ حافظ سیوطی نے بھی ان کے حکم کو برقرار رکھا ہے۔
( اللآ لي المصنوعة في الأحاديث الموضوعة للسيوطي:272/1)  

بقیہ تحریر

 از    May 24, 2016

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

 

آدم علیہ السلام کے وسیلے پر دلائل: تجزیہ دلیل نمبر ۹

 

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس فرمان باری تعالیٰ :  ﴿فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ﴾ ”آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے“ کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن الله أهبط آدم بالهند، وحواء بجدة، وإبليس ببيسان، والحية بأصبهان، وكان للحية قوائم كقوائم البعير، ومكث آدم بالهند مائة سنة باكيًا على خطيئته، حتى بعث الله إليه جبريل، وقال: يا آدم! ألم أزوجك حواء أمتي؟ قال: بلى، قال: فما هذا البكاء؟ قال: وما يمنعني من البكاء وقد أخرجت من جوار الرحمن، قال: فعليك بهذه الكلمات، فإن الله قابل توبتك وغافر ذنبك، قل: اللهم ! إني أسألك بحق محمد وآل محمد، سبحانك، لا إله إلا أنت، عملتُ سوءًا وظلمت نفسي، فتب علي؛ إنك أنت التواب الرحيم، اللهم ! إني أسألك بحق محمد وآل محمد، عملت سوءا و ظلمت نفسي، فتب علي، إنك أنت التواب الرحيم، فهؤلاء الكلمات التي تلقى آدم.
’’اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ہندوستان میں، حواء علیہا السلام کو جدہ میں، ابلیس کو میسان میں اور سانپ کو اصبہان میں اتارا سانپ کے چوپائیوں کی طرح پائے تھے۔ آدم علیہ السلام سو سال تک اپنی غلطی پر روتے رہے۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس جبریل علیہ السلام کو بھیجا اور فرمایا : اے آدم ! کیا میں نے تجھے اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا؟ کیا میں نے تجھ میں اپنی روح نہیں پھونکی ؟ کیا میں نے فرشتوں سے تجھ کو سجدہ نہیں کرایا؟ کیا میں نے اپنی بندی حواء کے ساتھ تیری شادی نہیں کی ؟ آدم علیہ السلام نے عرض کی : بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پھر یہ رونا دھونا کیسا ہے؟ آدم علیہ السلام نے عرض کی : میں کیوں نہ روؤں کہ مجھے رحمٰن کے پڑوس سے نکال دیا گیا۔ جبریل علیہ السلام نے فرمایا : یہ کلمات پڑھو تو اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کر کے تمہارا گناہ معاف فرما دے گا : اللهم ! إني أسألك بحق محمد وآل محمد، سبحانك، لا إله إلا أنت، عملتُ سوءًا وظلمت نفسي، فتب علي؛ إنك أنت التواب الرحيم، اللهم ! إني أسألك بحق محمد وآل محمد، عملت سوءا و ظلمت نفسي، فتب علي، إنك أنت التواب الرحيم. ”اے اللہ ! میں تجھ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں۔ تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے غلطی کی ہے اور اپنی جان پر ظلم کمایا ہے۔ تو میری توبہ قبول کر لے۔ یقینا تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔“ یہی وہ کلمات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آدم کو سکھائے تھے۔“ (فوائد أبي بكر الأبھري:17، مسند الديلمي بحواله كنز العمال:33457)


تبصرہ: یہ جھوٹ کا پلندا ہے، کیونکہ :
(۱) اس میں حماد بن عمرو نصیبی راوی اپنی طرف سے حدیثیں گھڑنے والا اور سخت جھوٹا ہے۔
(۲) سری بن خالد بن شداد عوفی راوی کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ (ميزان الاعتدال:117/2)
حافظ سیوطی نے اس کی سند کو ’’ واہ “ (ضعیف ) قرار دیا ہے۔ (الدر المنثور في التفسير بالمأثور:147/1)
نیز یہ روایت قرآن کریم میں بیان کیے گئے کلمات کے خلاف بھی ہے۔

بقیہ تحریر

 از    May 17, 2016

تحریر: ابو عبداللہ صارم

 

سیدنا آدم و حواء علیہا السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کے ایک درخت کا پھل کھانے سے منع کیا گیا تھا۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر دونوں نے وہ پھل کھا لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوا اور انہیں جنت سے نکال دیا۔ دونوں اپنے اس کیے پر بہت نادم ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کو ان پر ترس آیا اور انہیں وہ کلمات سکھا دیے جنہیں پڑھنے پر ان کی توبہ قبول ہوئی۔
فرمان الٰہی ہے :
﴿فَتَلَقَّى آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ﴾ (البقره:37:2)
’’آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ “ یہ کلمات کیا تھے؟ خود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ان کو بیان فرما دیا ہے :
﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ (الاعراف:37:2)
’’ان دونوں نے کہا : اے ہمارے رب ! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے ہیں۔ اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔ “

یعنی آدم و حواء علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ کو اس کی صفت مغفرت و رحمت کا واسطہ دیا یہ تو تھا قرآن کریم کا بیان۔ لیکن بعض لوگ اس قرآنی بیان کے خلاف جھوٹے، بدکردار، بدعقیدہ، بددین اور نامعلوم و مجہول لوگوں کی بیان کردہ نامعقول اور باہم متصادم داستانیں بیان کرتے اور ان پر اپنے عقیدے کی بنیاد رکھتے نظر آتے ہیں۔ کسی داستان میں بتایا گیا ہے کہ آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ دیا، کسی میں ہے کہ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد کا واسطہ دیا اور کسی میں مذکور ہے کہ ان کو سیدنا علی و سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کے طفیل معافی ملی۔

یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کی شان میں غلوّ ہے، جو کہ سخت منع ہے۔ یہی بات نصاریٰ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ آدم علیہ السلام کی غلطی عیسیٰ علیہ السلام کے طفیل معاف ہوئی۔

علامہ ابوالفتح محمد بن عبدالکریم شہرستانی (م : ۵۴۸ھ) نصاریٰ سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
والمسيح عليه السلام درجته فوق ذلك، لأنه الإبن الوحيد، فلا نظير له، ولا قياس له إلی غيره من الأنبياء، وھو الذي به غفرت زلة آدم عليه السلام.
’’مسیح علیہ السلام کا مقام و مرتبہ اس سے بہت بلند ہے، کیونکہ وہ اکلوتے بیٹے ہیں۔ ان کی کوئی مثال نہیں، نہ انہیں دیگر انبیائے کرام پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔ انہی کی بدولت آدم علیہ السلام کی خطا معاف ہوئی تھی۔ “ (الملل والنحل:62/2، وفي نسخة:524/1)

ہماری سب لوگوں سے ناصحانہ اپیل ہے کہ وہ ان روایات کی حقیقت ملاحظہ فرمائیں اور پھر فیصلہ کریں کہ کیا قرآن کریم کے خلاف ان پر اعتماد کرنا کسی مسلمان کو زیب دیتا ہے؟

بقیہ تحریر

 از    May 7, 2016

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

اس تحریر کا  دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

اس تحریر کا  تیسرا  حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

اس تحریر کا  چوتھا  حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

اس تحریر کا  پانچواں  حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

 

دلیل نمبر ۳۳

 

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہونے کے بعد یوں دعا کیا کرتے تھے : 
اللھم ! إني أسألك بحق السائلين عليك. 
’’اے اللہ ! میں اس حق کے وسیلے سے مانگتا ہوں جو تجھ پر سوال کرنے والوں کا ہے۔ “ 
(مسند الديلمي بحواله كنزالعمال للمتقي الھندي:4977)


تبصرہ : یہ سخت ’’ضعیف“ روایت ہے، کیونکہ : 
(1) عمرو بن عطیہ عوفی راوی ’’ضعیف“ ہے۔ کسی نے اس کی توثیق نہیں کی۔ 

 

اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
في حديثه نظر. ’’اس کی روایت منکر ہوتی ہے۔ “ (الضعفاء الكبير للعقيلي:290/3، وسنده صحيح) 

 

امام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ ذرا بھی قوی نہیں۔ (الجرح و التعديل:250/6) 

 

امام دارقطنی رحمہ اللہ بھی اسے ’’ضعیف“ قرار دیا ہے۔ (كتاب الضعفاء والمتروكين:388) 

 

حافظ ہیمثمی رحمہ اللہ نے بھی اسے ’’ضعیف“ کہا ہے۔ (مجمع الزوائد:82/6) 

 

(2) عطیہ عوفی راوی بھی جمہور کے نزدیک ’’ضعیف“ ہے۔ 
نیز یہ ’’مدلس “ بھی ہے اور ’’تدلیس تسویہ “ کا مرتکب تھا۔

 

بقیہ تحریر

 از    April 27, 2016

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

اس تحریر کا  دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

اس تحریر کا  تیسرا  حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

اس تحریر کا  چوتھا  حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

 
دلیل نمبر ۲۸

 

امام اصمی رحمہ اللہ سے مروی ہے : 
وقف أعرابي مقابل قبر النبي صلى الله تعالى عليه وسلم فقال: اللهم إن هذا حبيبك، وأنا عبدك، والشيطان عدوك، فإن غفرت لي سرّ حبيبك، وفاز عبدك، وغضب عدوك، وإن لم تغفرلي غضب حبيبك، ورضي عدوك، وهلك عبدك، وأنت أكرم من أن تغضب حبيبك، وترضي عدوك، وتهلك عبدك، اللهم ! إن العرب الكرام إذا مات فيهم سيد أعتقوا على قبره، وإن هذا سيد العالمين فأعتقني على قبره، قال الصمعي : فقلت: يا أخا العرب ! إن الله قد غفر لك، وأعتقك بحسن هذا السؤال. 
”ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے سامنے کھڑا ہو کر کہنے لگا : اے اللہ ! یہ تیرا حبیب ہے، میں تیرا بندہ ہوں اور شیطان تیرا دشمن ہے۔ اگر تو مجھے معاف فرما دے تو تیرا حبیب راضی ہو جائے گا، تیرا بندہ کامیاب ہو جائے گا اور تیرا دشمن غصے میں آئے گا۔ اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا تو تیرا حبیب غصے میں آئے گا، تیرا دشمن راضی ہو جائے گا اور تیرا بندہ ہلاک ہو جائے گا۔ تو اس بات سے بلند ہے کہ اپنے حبیب کو غصہ دلائے، اپنے دشمن کو راضی کرے اور اپنے بندے کو ہلاک کرے۔ اے اللہ ! معزز عربوں کی یہ عادت ہے کہ جب ان میں سے کوئی سردار فوت ہو جاتا ہے تو اس کی قبر پر غلاموں کو آزاد کرتے ہیں۔ یہ جہانوں کے سردار ہیں، لہٰذا ان کی قبر پر مجھے آزاد کر دے۔ اصمی کہتے ہیں کہ میں نے اس بدوی سے کہا : اے عرب ! تیرے اندازِ سوال کی بنا پر تجھے معاف کر دیا گیا ہے۔“ 
(وفاء الوفاء بأخبار دارالمصطفي للسمھودي:214/4)

 

تبصره: یہ سفید جھوٹ ہے۔ امام اصمی رحمہ اللہ تک سند مذکور نہیں۔ بعض امتیوں سے منقول بےسروپا روایات دین نہیں بن سکتیں۔

بقیہ تحریر

 از    April 19, 2016

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

اس تحریر کا  دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

اس تحریر کا  تیسرا  حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

دلیل نمبر ۲۱

 

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام جو دعائیں پڑھتے تھے، ان میں یہ الفاظ بھی شامل تھے : 
أسألك بنور وجهك الذي أشرقت له السموات والأرض، بكل حق ھو لك، وبحق السائلين عليك، أن تقبلني في ھذه الغداة، أوفي ھذه العشية، وأن تجيرني من النار بقدرتك. 
’’ (اے اللہ ! ) میں تجھ سے تیرے چہرے کے اس نور کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس سے زمین و آسمان روشن ہو گئے ہیں۔ تیرے ہر حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اور سوال کرنے والوں کا تجھ پر جو حق ہے، اس کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ تو اس صبح یا اس شام میری دعا قبول فرما لے اور اپنی قدرت سے مجھے آگ سے بچا لے۔ “ 
(المعجم الكبير للطبراني:264/8، كتاب الدعاء للطبراني: 941،940/2)


تبصره: اس کی سند باطل (جھوٹی ) ہے۔ 

 

اس کے راوی ابوالمہند فضال بن جبیر کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : 
وھو ضعيف، جمع علي ضعفه. ’’یہ راوی باتفاق محدثین کرام ضعیف ہے۔ “ (مجمع الزوائد:117/10) 

 

امام ابن عدی رحمہ اللہ اس کی بیان کردہ روایات کے بارے میں فرماتے ہیں : 
ولفضان عن أبي أمامة قدر عشرة أحاديث، كلھا غير محفوظة. 
’’فضال، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے تقریباً دس احادیث روایت کرتا ہے، یہ ساری کی ساری منکر ہیں۔ “ 
(الكامل في ضعفاء الرجال:21/6) 

 

امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
يروي عن أبي أماماة ماليس من حديثه، لا يحل الا حتجاج به بحال. 
’’یہ راوی سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منسوب کر کے ایسی روایات بیان کرتا ہے جو انہوں نے بیان نہیں کیں۔ کسی بھی صورت میں اس کی روایت سے دلیل لینا جائز نہیں۔ “ 
(المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين:304/2) 

 

نیز فرماتے ہیں کہ فضال کی سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے بیان کردہ روایت جھوٹی ہوتی ہے۔ (كتاب المجروحين:304/2) 

 

بقیہ تحریر

 از    April 12, 2016

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

اس تحریر کا  دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

 

دلیل نمبر ۱۶

 

ہیثم بن عدی کہتے ہیں کہ بنو عامر نے بصرہ میں اپنے جانور کھیتی میں چرائے۔ انہیں طلب کرنے کے لیے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھیجے گئے۔ بنو عامر نے بلند آواز سے اپنی قوم آلِ عامر کو بلایا تو نابغہ جعدی اپنے رشتہ داروں کی ایک جماعت کے ساتھ نکلے۔ انہیں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا۔ انہوں نے پوچھا : تم کیوں نکلے ہو؟ انہوں نے کہا : میں نے اپنی قوم کی پکار سنی تھی۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے انہیں تازیانے لگائے۔ اس پر نابغہ جعدی نے کہا :
فان تك لابن عفان أمينا ….. فلم يبعث بك البر الأمينا
وياقبر النبي وصاحبيه ….. ألا ياغوثنا لو تسمعونا
”اگر تو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا امین ہے تو انہوں نے تجھے احسان کرنے والا امین بنا کر نہیں بھیجا۔ اے نبی اور آپ کے دو صاحبوں کی قبر ! اے ہمارے فریاد رس ! کاش آپ ہماری فریاد سن لیں۔“ (الاستيعاب :586/3)

 

تبصرہ: یہ روایت موضوع (جھوٹ کا پلندا) ہے۔ اس کا راوی ہیثم بن عدی بالاتفاق ’’کذاب“ اور ’’متروک الحدیث“ ہے۔


 

دلیل نمبر ۱۷

 

عبدالرحمٰن بن سعد بیان کرتے ہیں :
كنت عند ابن عمر رضي الله عنهما، مخدرت رجله، فقلت : يا أبا عبدالرحمن ! مالرجلك؟ قال : اجتمع عصبھا من ھاھنا، فقلت : ادع أحب الناس إليك، فقال : يامحمد ! فانبسطت
”میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا۔ آپ کا پاؤں سن ہو گیا۔ میں نے عرض کی : اے ابوعبدالرحمٰن ! آپ کے پاؤں کو کیا ہو گیا ہے؟ فرمایا : یہاں سے میرے پٹھے کھنچ گئے ہیں۔ میں نے عرض کی : تمام لوگوں میں سے جو ہستی آپ کو زیادہ محبوب ہے، اسے یاد کریں۔ آپ نے یامحمد ! کہا۔ اسی وقت ان کے پٹھے کھل گئے۔“ (الأدب المفرد للبخاري : 924، مسند علي بن الجعد : 2539، عمل اليوم والليلة لابن السني : 173، طبقات ابن سعد : 154/4، تاريخ ابن معين : 2953)

 

تبصره : اس کی سند ’’ضعیف“ ہے۔
اس کی سند کا دارومدار ابواسحاق سبیعی پر ہے۔ جو کہ ’’مدلس“ اور ’’مختلط“ ہیں۔
اصول ہے کہ ثقہ مدلس جب بخاری و مسلم کے علاوہ ”
عن “ یا ” قال “ سے بیان کرے تو راویت ’’ضعیف“ ہوتی ہے، تاآنکہ وہ سماع کی تصریح نہ کرے۔ اس روایت کی صحت کے مدعی پر سماع کی تصریح پیش کرنا لازم ہے۔

بقیہ تحریر

 از    April 5, 2016

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

 

دلیل نمبر ۶
 

سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا صحابی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض گزار ہوئے : آقا ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے شفا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر آپ چاہیں تو دعا کر دیتا ہوں اور اگر چاہیں تو صبر کر لیں، وہ آپ کے لیے بہتر ہو گا۔ انہوں نے عرض کیا : آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا ہی کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اچھی طرح سنوار کر وضو کرنے اور پھر دو رکعتیں پڑھ کر یہ دعا کرنے کا حکم دیا : 
اللھم ! إني أسئلك وأتوجه إليك بنبي محمد نبي الرحمة، يا محمد ! إني أتوجه إلي ربي بك أن يكشف لي عن بصري، اللھم ! شفعه في وشفعني في نفسي۔ 
’’اے اللہ ! بےشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ میں اپنے نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تیری طرف (دعا کے لیے) متوجہ کرتا ہوں۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ! میں آپ کو اپنے رب کی طرف (دعا کے لیے) متوجہ کرتا ہوں کہ وہ میری نظر لوٹا دے۔ اے اللہ ! تو میرے بارے میں اپنے نبی کی اور میری اپنی سفارش قبول فرما۔ جب وہ واپس لوٹے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی لوٹا دی تھی۔“ (مسند احمد : 138/4، سنن الترمذي : 3578، عمل اليوم والليلة للنسائي : 659، واللفظ له، سنن ابن ماجه : 1385، مسند عبد بن حميد : 379، وسنده حسن)


تبصره : اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ’’حسن صحیح غریب“ اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1219) نے ’’صحیح“ کہا ہے۔


امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : ابواسحاق نے کہا ہے کہ یہ حدیث ’’صحیح“ ہے۔ 


امام حاکم رحمہ اللہ (313/1) نے اس حدیث کو صحیح علی شرط الشیخین قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ 


امام بیہقی رحمہ اللہ نے (دلائل النبوة : 167/6) نے اس کی سند کو ’’صحیح“ کہا ہے۔ 


بعض لوگوں نے اس حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے وسیلہ کا جواز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا یہ استدلال باطل، بلکہ ابطل الاباطتل ہے کیونکہ حدیث میں مذکور ہے کہ اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کی تھی۔ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ اگر آپ چاہیں تو میں دعا کر دیتا ہوں، اگر دعا نہ کرائیں اور بیماری پر صبر کریں تو بہتر ہے، لیکن صحابی مذکور نے آپ کی دعا کو ترجیح دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعا و سفارش فرما دی۔ اس کو اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا، پھر دو رکعت نماز ادا کرنے کو کہا اور انہیں دعا کے الفاظ بھی سکھا دئیے، انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اپنے حق میں دعا بھی کر دی اور کہا : ”اے اللہ ! تو میرے بارے میں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور خود میری دعا و سفارش قبول فرما۔“ 


اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے وسیلہ کا ذکر تک نہیں بلکہ آپ کی حیات طیبہ میں آپ کی دعا و سفارش کا وسیلہ پیش کرنے کا ذکر ہے۔ 

بقیہ تحریر

 از    March 29, 2016

 تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری

یہ تو بیان ہو چکا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں تین قسم کا وسیلہ جائز ہے، اس کے علاوہ ہر قسم کا وسیلہ، مثلاً کسی مخلوق کی ذات یا فوت شدگان کا وسیلہ ناجائز و حرام ہے۔ بعض حضرات ناجائز وسیلے پر مبنی اپنے خود ساختہ عقائد کو ثابت کرنے کے لیے من گھڑت، جعلی، بناوٹی اور ضعیف روایات پیش کرتے ہیں۔ آئیے ان روایات کا اصول محدثین کی روشنی میں تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں :

 

دلیل نمبر ۱

 

عن مالك الدار، قال : وكان خازن عمر على الطعام، قال : أصاب الناس قحط في زمن عمر، فجاء رجل إلى قبر النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله، استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا، فأتى الرجل في المنام فقيل له : ائت عمر فأقرئه السلام، وأخبره أنكم مستقيمون وقل له : عليك الكيس، عليك الكيس، فأتى عمر فأخبره فبكى عمر ثم قال : يا رب ! لا آلو إلا ما عجزت عنه. 
”مالک الدار جو کہ غلے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خزانچی مقرر تھے، ان سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ قحط میں مبتلا ہو گئے۔ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ (اللہ تعالیٰ سے) اپنی امت کے لیے بارش طلب فرمائیں، کیونکہ وہ (قحط سالی کے باعث ) تباہ ہو گئی ہے۔ پھر خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس صحابی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : عمر کے پاس جا کر ميرا اسلام کہو اور انہیں بتاؤ کہ تم سیراب کیے جاؤ گے اور عمر سے (یہ بھی ) کہہ دو کہ عقلمندی سے کام لیں۔ وہ صحابی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں خبر دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا: اے اللہ ! میں کوتاہی نہیں کرتا، مگر یہ کہ عاجز آ جاؤں۔“
(مصنف ابن أبي شيبه:356/6، تاريخ ابن أبي خيثمه:70/2، الرقم:1818، دلائل النبوة للبيھقي:47/7، الاستيعاب لابن عبدالبر:1149/3، تاريخ دمشق لابن عساكر:345/44، 489/56)


تبصره : اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے، کیونکہ : 

بقیہ تحریر

 از    March 21, 2016

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری

عالم عرب کے مشہور عالم، محمد بن صالح عثمین رحمہ اللہ (۱۳۴۷۔۱۴۲۱ھ) فرماتے ہیں : 
والإقسام على الله: أن تحلف على الله أن يفعل، أو تحلف عليه أن لا يفعل، مثل: والله; ليفعلن الله كذا، أو والله; لا يفعل الله كذا. والقسم على الله ينقسم إلى أقسام: الأول: أن يقسم بما أخبر الله به ورسوله من نفي أو إثبات; فهذا لا بأس به، وهذا دليل على يقينه بما أخبر الله به ورسوله، مثل: والله; ليشفعن الله نبيه في الخلق يوم القيامة، ومثل: والله! لا يغفر الله لمن أشرك به، الثاني: أن يقسم على ربه لقوة رجائه وحسن الظن بربه، فهذا جائز لإقرار النبي صلى الله عليه وسلم ذلك في قصة الربيع بنت النضر عمة أنس بن مالك رضي الله عنهما، حينما كسرت ثنية جارية من الأنصار، فاحتكموا إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بالقصاص، فعرضوا عليهم الصلح، فأبوا، فقام أنس بن النضر، فقال: أتكسر ثنية الربيع؟ والله ! يا رسول الله، لا تكسر ثنية الربيع، وهو لا يريد به رد الحكم الشرعي، فقال الرسول صلى الله عليه وسلم يا أنس! كتاب الله القصاص يعني: السن بالسن. قال: والله ! لا تكسر ثنية الربيع، وغرضه بذلك أنه لقوة ما عنده من التصميم على أن لا تكسر، ولو بذل كل غال ورخيص، أقسم على ذلك، فلما عرفوا أنه مصمم ألقى الله في قلوب الأنصار العفو، فعفوا; فقال النبي صلى الله عليه وسلم : إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره، فهو لقوة رجائه بالله وحسن ظنه أقسم على الله أن لا تكسر ثنية الربيع، فألقى الله العفو في قلوب هؤلاء الذين صمموا أمام الرسول صلى الله عليه وسلم على القصاص، فعفوا وأخذوا الأرش، فثناء الرسول صلى الله عليه وسلم عليه شهادة بأن الرجل من عباد الله، وأن الله أبر قسمه ولين له هذه القلوب، وكيف لا وهو الذي قال: بأنه يجد ريح الجنة دون أحد، ولما استشهد وجد به بضع وثمانون ما بين ضربة بسيف أو طعنة برمح، ولم يعرفه إلا أخته ببنانه، وهي الربيع هذه، رضي الله عن الجميع وعنا معهم. ويدل أيضا لهذا القسم قوله صلى الله عليه وسلم: رب أشعث مدفوع بالأبواب، لو أقسم على الله لأبره .القسم الثالث: أن يكون الحامل له هو الإعجاب بالنفس، وتحجر فضل الله عز وجل، وسوء الظن به تعالى، فهذا محرم، وهو وشيك بأن يحبط الله عمل هذا المقسم. 

’’اقسام علی اللہ کا معنی یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بارے میں قسم اٹھائیں کہ وہ یہ کام کرے گا یا نہیں کرے گا، مثلاً اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ ضرور ایسا کرے گا، یا اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں قسم کی کئی قسمیں ہیں۔  

بقیہ تحریر

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.