نئے مضامین
 از    December 12, 2017

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ

مشاجرات صحابہ، یعنی صحابہ کرام کے باہمی اختلافات، زبانی چپکلشوں، جھگڑوں اور لڑائیوں کے بارے میں موجودہ دور کے اصلی اہل سنت (اہل حدیث ) کا وہی موقف ہے، جو خیرالقرون اور بعد کے اہل سنت کا تھا۔ سلف صالحین کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ تھا کہ مشاجراتِ صحابہ میں زبان بند رکھی جائے اور سب کے حق میں دُعائے مغفرت کی جائے، جیسا کہ :
◈ شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی رحمہ اللہ (1115-1206ھ) فرماتے ہیں :
وأجمع أهل السنة على السكوت عما شجر بين الصحابة رضي الله عنهم، ولا يقال فيهم إلا الحسنٰي، فمن تكلم فى معاوية أو غيره من الصحابة، فقد خرج عن الإجماع
’’ اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے گی۔ ان کے بارے میں صرف اچھی بات کہی جائے گی۔ لہٰذا جس شخص نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی کے بارے میں زبان کھولی، وہ اجماعِ اہل سنت کا مخالف ہے۔“ [مختصر سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم، ص : 317، طبعة وزارة الشئون الإسلامية، السعودية ]

◈ اس سے پہلے شیخ الاسلام، تقی الدین، ابوالعباس، احمد بن عبدالحلیم، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661-728ھ) فرما گئے ہیں :
كان من مذاهب أهل السنة الإمساك عما شجر بين الصحابة، فإنه قد ثبتت فضائلهم، ووجبت موالاتهم ومحبتهم، وما وقع منه ما يكون لهم فيه عذر يخفٰي على الإنسان، ومنه ما تاب صاحبه منه، ومنه ما يكون مغفورا، فالخوض فيما شجر يوقع فى نفوس كثير من الناس بغضا وذما، ويكون هو فى ذٰلك مخطئا، بل عاصيا، فيضر نفسه، ومن خاض معه فى ذٰلك، كما جرٰي لأكثر من تكلم فى ذٰلك، فإنهم تكلموا بكلام لا يحبه الله ولا رسوله، إما من ذم من لا يستحق الذم، وإما من مدح أمور لا تستحق المدح، ولهٰذا كان الإمساك طريقة أفاضل السلف
’’ اہل سنت کے عقائد میں یہ بات شامل ہے کہ صحابہ کرام میں جو بھی اختلافات ہوئے، ان کے بارے میں اپنی زبان بند کی جائے، کیونکہ (قرآن و سنت میں ) صحابہ کرام کے فضائل ثابت ہیں اور ان سے محبت ومودّت فرض ہے۔ صحابہ کرام کے مابین اختلافات میں سے بعض ایسے تھے کہ ان میں صحابہ کرام کا کوئی ایسا عذر تھا، جو عام انسان کو معلوم نہیں ہو سکا، بعض ایسے تھے جن سے انہوں نے توبہ کر لی تھی اور بعض ایسے تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے خود ہی معافی دے دی۔ مشاجرات صحابہ میں غور کرنے سے اکثر لوگوں کے دلوں میں صحابہ کرام کے بارے میں بغض و عداوت پیدا ہو جاتی ہے، جس سے وہ خطاکار، بلکہ گنہگار ہو جاتے ہیں۔ یوں وہ اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جن لوگوں نے اس بارے میں اپنی زبان کھولی ہے، اکثر کا یہی حال ہوا ہے۔ انہوں نے ایسی باتیں کی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند نہیں تھیں۔ انہوں نے ایسے لوگوں کی مذمت کی، جو مذمت کے مستحق نہیں تھے یا ایسے امور کی تعریف کی، جو قابل تعریف نہ تھے۔ اسی لیے مشاجرات صحابہ میں زبان بند رکھنا ہی سلف صالحین کا طریقہ تھا۔“ [منهاج السنة النبوية فى نقض كلام الشيعة القدرية : 448/1، 449، طبعة جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية ]
↰ یہ تھا مشاجرات صحابہ میں اہل سنت، یعنی اہل حدیث کا عقیدہ۔ اس عقیدے کے برعکس بعض لوگ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں اور ان کی بنا پر بعض صحابہ کرام پر تنقید کرتے ہیں۔ حالانکہ صحابہ کرام پر تنقیداور ان کی تنقیص بدعت و ضلالت ہے۔ اس بارے میں :
◈ سنی امام، علامہ، ابوالمظفر، منصور بن محمد، سمعانی رحمہ اللہ (426- 489ھ ) فرماتے ہیں :
التعرض إلٰي جانب الصحابة علامة علٰي خذلان فاعله، بل هو بدعة وضلالة
’’ صحابہ پر طعن کرنا کسی کے رسوا ہونے کی علامت ہے، بلکہ یہ بدعت اور گمراہی ہے۔“ [فتح الباري لابن حجر : 365/4]
↰ مشاجراتِ صحابہ کے بارے میں زبان بند رکھنے کا عقیدہ قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے دلائل شرعیہ سے ثابت ہے۔ آئیے اس بارے میں دلائل ملاحظہ فرمائیں :
قرآنِ کریم اور مشاجرات صحابہ بقیہ تحریر

 از    December 12, 2017

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ

صحابی ابن صحابی، کاتب وحی اور امین وحی، مؤمنوں کے ماموں، سیدنا و محبوبنا ابوعبدالرحمٰن، معاویہ بن ابوسفیان بن حرب، قرشی، اموی بے شمار فضائل و مناقب کے حامل ہیں۔ آپ کو اسلام کا پہلا منصف بادشاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔
عباسی حکمران، القائم بامراللہ، ابوجعفر ابن القادر (391-467 ھ) نے 430ھ کے لگ بھگ ’’ الاعتقاد القادری“ کے نام سے مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ شائع کیا، جس کا مخالف باتفاقِ اہل علم فاسق و کافر قرار پایا۔ اس عقیدہ میں یہ بات بھی مندرج ہے :
ولا يقول فى معاوية رضي الله عنه إلا خيرا، ولا يدخل فى شيئ شجر بينهم، ويترحم علٰي جماعتهم .
’’ مسلمان سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں صرف اچھی بات کرے اور صحابہ کرام کے مابین جو اختلافات ہوئے، ان میں دخل نہ دے، بلکہ ان سب کے لیے رحمت کی دعا کرے۔“ [الاعتقاد القاردري، المندرج فى المنتظم لابن الجوزي : 281/15، وسنده صحيح ]

◈ تبع تابعی ابواسامہ حماد بن اسامہ رحمہ اللہ (م : 201ھ) سے پوچھا گیا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ زیادہ فضیلت والے ہیں یا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ
؟ تو انہوں نے فرمایا :
أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يقاس بهم أحد .
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے کسی کا بھی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔“ [الشريعة للآجري : 2011، جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر : 229/2، وسنده صحيح ]

◈ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
ما زال بي ما رأيت من أمر الناس فى الفتنة، حتٰي إني لـأتمنٰي أن يزيد الله عز وجل معاوية من عمري فى عمره .
’’فتنے کے دور میں لوگوں کے جو حالات میں دیکھتی رہی، ان میں ہمیشہ میری یہ تمنا تھی کہ اللہ تعالیٰ میری عمر، معاویہ رضی اللہ عنہ کو لگا دے۔“ [الطبقات لأبي عروبة الحراني، ص : 41، وسنده صحيح]

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بہت سے فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ سب سے بڑی فضیلت و منقبت توشرف صحابیت ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی ثابت نہ ہو تو بھی یہی فضیلت کافی ہے، کیونکہ ہر ہر صحابی کی الگ الگ معین فضیلت ثابت نہیں۔ صحیح احادیث میں معدودے چند صحابہ کرام کی معین فضیلت مذکور ہے۔ ایسا نہیں کہ باقی صحابہ کرام کی کوئی فضیلت تھی ہی نہیں۔ لہٰذا صرف صحابی ہونا ہی فضیلت کے لیے کافی ہے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بھی سب سے بڑی فضیلت ان کا صحابی رسول ہونا ہے۔ یہ ایک عمومی فضیلت ہے، اس کے علاوہ صحیح احادیث سے آپ کے کئی خصوصی فضائل بھی ثابت ہیں۔
بعض لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا انکار کرنے کے لیے امام نسائی رحمہ اللہ کی شہادت کے قصے سے دلیل لیتے ہیں، جس میں مذکور ہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کی نفی کی، لیکن یہ واقعہ باسند صحیح ثابت نہیں۔ اس کی سند میں ’’ مجہول“ اور غیر معتبر راوی موجود ہیں، لہٰذا ایسی بے سروپا روایات کا کوئی اعتبار نہیں۔
بقیہ تحریر

 از    December 12, 2017

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے لیے سورج کے پلٹ جانے کے متعلق روایات کا علمی اور تحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے :
روایت نمبر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا۔ وہ عصر کی نماز نہ پڑھ سکے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ آپ نے فرمایا : علی ! کیا آپ نے نماز پڑھی ہے انہوں نے عرض کیا : نہیں۔ آپ نے دعا کی : اے اللہ ! علی تیری اور تیرے رسول کی فرمانبرداری میں مشغول تھے، ان کے لیے سورج کو لوٹا دے۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے، میں نے سورج کو غروب ہوتے بھی دیکھا، پھر سورج کے غروب ہوجانے کے بعد اسے طلوع ہوتے بھی دیکھا۔ “ [السنة لابن أبي عاصم : 1323، مختصرا، مشكل الآثار للطحاوي : 9/2، المعجم الكبيرللطبراني : 152,147/24، تاريخ دمشق لابن عساكر : 314/42]

تبصره :
اس کی سند ’’ضعیف “ ہے، کیونکہ :
ابراہیم بن حسن بن حسن بن علی بن ابوطالب راوی ’’مجہول الحال “ ہے۔
سوائے امام ابن حبان رحمہ اللہ [الثقات : 3/6] کے کسی نے اسے ثقہ نہیں کہا۔
◈ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ليس بذٰلك المشهور فى حاله۔ ’’اس کا حال مجہول ہے۔ “ [البداية والنهاية : 89/6]
◈حافظ ہیثمی رحمہ اللہ اس کی بیان کردہ ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں :
فيه من لم اعرفهم .
’’اس روایت میں ایسے راوی ہیں، جن کو میں نہیں پہچانتا۔ “ [مجمع الزوائد : 185/9]
لیکن ایک مقام پر امام ابن حبان کی توثیق پر اعتماد کرتے ہوئے ان کو ثقہ کہا ہے۔ [مجمع الزوائد : 297/8]
یہ تساہل پر مبنی فیصلہ ہے، جیسا کہ اہل علم جانتے ہیں۔
◈ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس میں دوسری وجہ ضعف یہ بیان کرتے ہیں کہ فاطمہ بنت حسین بن علی بن ابی طالب جو کہ امام زین العابدین رحمہ اللہ کی ہمشیرہ ہیں وہ ہیں تو ثقہ، لیکن یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ روایت سیدہ اسما رضی اللہ عنہا سے سنی ہے یا نہیں ؟ [البداية والنهاية : 89/6]
◈ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ولا سماع إبراهيم من فاطمة، ولا سماع فاطمة من أسمائ، ولا بد فى ثبوت هٰذا الحديث من أن يعلم أن كلا من هٰؤلائ عدل ضابط، وأنه سمع من الآخر، وليس هٰذا معلوما .
’’نہ ابراہیم کا فاطمہ سے اور نہ فاطمہ کا سیدہ اسما رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت ہے۔ اس حدیث کے ثبوت کے لیے اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ اس کے تمام راوی عادل و ضابط ہیں یا نہیں، نیز انہوں نے ایک دوسرے سے سنا ہے یا نہیں۔ مگر اس روایت کے راویوں کے متعلق یہ بات معلوم نہیں ہو سکی۔ “ [منهاج السنة النبوية : 189/4]
تنبیہ : بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے، بے حقیقت بات ہے۔
——————
روایت نمبر

سیدہ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے :
إن النبى صلى الله عليه وسلم صلى الظهر بالصهباء، ثم أرسل عليا عليه السلام فى حاجة فرجع، وقد صلى النبى صلى الله عليه وسلم العصر، فوضع النبى صلى الله عليه وسلم رأسه فى حجر علي، فلم يحركه حتٰي غابت الشمس، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : ’اللهم، إن عبدك عليا احتبس بنفسه علٰي نبيك، فرد عليه شرقها‘، قالت أسماء : فطلعت الشمس حتٰي وقعت على الجبال وعلي الـأرض، ثم قام علي، فتوضأ وصلي العصر، ثم غابت، وذٰلك فى الصهبائ، فى غزوة خيبر .
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صہبا نامی جگہ پر نماز ظہر ادا کی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے کسی کام بھیجا۔ جب وہ واپس آئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا فرما چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سرمبارک ان کی گود میں رکھا۔ انہوں نے حرکت نہ کی، (کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں خلل نہ آ جائے )، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی : اے اللہ ! تیرے بندے علی نے اپنے آپ کو تیرے نبی کے لئے روکا ہوا تھا، لہٰذا ان پر سورج کو لوٹا دے۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سورج اوپرآ گیا، یہاں تک کہ اس کی روشنی پہاڑوں اور زمین پر پڑنے لگی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، وضو کیا اور عصر کی نماز پڑھی۔ پھر سورج غروب ہو گیا۔ یہ واقعہ غزوۂ خیبر کے موقع پر صہبا نامی جگہ پر پیش آیا۔ “ [مشكل الآثار للطحاوي : 1068، المعجم الكبير للطبراني : 145,144/24]

تبصره :
اس کی سند بھی ’’ضعیف “ ہے، جیسا کہ :
◈ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس کا ضعف و سقم یوں بیان کرتے ہیں :
وهٰذا الإسناد فيه من يجهل حاله، فإن عونا هٰذا وأمه لا يعرف أمرهما بعدالة وضبط، يقبل بسببهما خبرهما، فيما هو دون هٰذا المقام، فكيف يثبت بخبرهما هٰذا الـأمر العظيم الذى لم يروه أحد من أصحاب الصحاح، ولا السنن، ولا المسانيد المشهورة، فالله أعلم، ولا ندري أسمعت أم هٰذا من جدتها أسمائ بنت عميس أو لا . بقیہ تحریر

 از    December 6, 2017

◈ علامہ عمر بن علی بزار رحمہ اللہ (م : 749 ھ) شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے بارے میں لکھتے ہیں :
وكان لا يذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم قط، إلا ويصلي ويسلم عليه، ولا والله، ما رأيت أحدا أشد تعظيما لرسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا أحرص على اتباعه، ونصر ما جاء به منه، حتى إذا كان ورد شيئا من حديثه فى مسالة، ويري انه لم ينسخه شيء غيره من حديثه، يعمل به، ويقضي، ويفتي بمقتضاه، ولا يلتفت إلى قول غيره من المخلوقين، كائنا من كان، وقال رضي الله عنه: كل قائل إنما يحتج لقوله، لا به، إلا الله ورسوله.
’’آپ رحمہ اللہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ فرماتے تو درود و سلام پڑھتے۔ اللہ کی قسم ! میں نے آپ سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرنے والا، متبع سنت اور تعلیماتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت و نصرت پر حریص کوئی نہیں دیکھا۔ حالت یہ تھی کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی غیر منسوخ حدیث آ جاتی تو اس پر عمل کرتے اور اسی کے مطابق فیصلہ و فتویٰ صادر فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ مخلوق میں سے کسی کے بھی قول کی طرف التفات نہ فرماتے، خواہ وہ کوئی بھی ہوتا، آپ فرمایا کرتے تھے : اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ہر شخص کے قول کی دلیل طلب کی جائے گی، اسے دلیل نہیں بنایا جائے گا۔ “ [الاعلام العليته فى مناقب ابن تيميه، ص : 29 ]

 

 از    December 6, 2017

تحریر: حافظ ابویحییٰ نور پوری حفظ اللہ

رفع سبّابہ کیا ہے ؟
انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی [Forefinger/Indexfinger] کو عربی میں مُسَبِّحة (تسبیح کرنے والی) اور اردو میں انگشت شہادت (شہادت والی انگلی) بھی کہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے اور اس کی وحدانیت کی گواہی دینے کے وقت عام طور پر اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی وحدانیت کی گواہی نیک لوگوں کا کام ہے۔ بدکردار لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ انگلی عنایت کی ہے، لیکن وہ اسے تسبیح و شہادت کی بجائے ناحق گالی گلوچ کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس لیے اسے عربی میں سَبَّابَة (گالی والی انگلی) بھی کہتے ہیں۔

رَفْع بھی عربی زبان ہی کا لفظ ہے۔ یہ مصدر ہے اور اس کا معنیٰ بلند کرنا ہوتا ہے۔
یوں رَفْع سَبَّابَة کا معنی ہوا شہادت والی انگلی کو اٹھانا۔ یہ تو ہوئی لغوی وضاحت۔
اور اصطلاحاً نماز میں تشہد کے دوران شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنا رَفْع سَبَّابَة کہلاتا ہے۔

نماز کے دیگر بہت سے مسائل کی طرح اس مسئلہ میں بھی مختلف مکاتب فکر مختلف خیالات کے حامل ہیں۔ البتہ اہل حدیث کے نزدیک رفع سبابہ مستحب اور سنت ہے۔ ہمارے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
➊ نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
كان عبد اللہ بن عمر إذا جلس فى الصلاة؛ وضع يديه علٰي ركبتيه، وأشار بإصبعه، وأتبعها بصره، ثم قال : قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم : ”لهي أشد على الشيطان من الحديد“، يعني السبابة
”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب دوران نماز (تشہد میں) بیٹھے، تو ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور اپنی (شہادت والی) انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے۔ اپنی نظر بھی اسی انگلی پر رکھتے۔ پھر فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : یہ شہادت والی انگلی شیطان پر لوہے سے بھی سخت پڑتی ہے۔“ [مسند الإمام أحمد : 119/2، وسندهٔ حسن]
↰ اس حدیث کا راوی کثیر بن زید اسلمی جمہور ائمہ حدیث کے نزدیک ”موثق، حسن الحدیث“ ہے۔

➋ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی بیان کرتے ہیں :
إن النبى صلى اللہ عليه وسلم كان إذا جلس فى الصلاة وضع يديه علٰي ركبتيه، ورفع إصبعه اليمني التى تلي الإبهام، فدعا بها . . .
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں (تشہد کے لئے) بیٹھتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھتے اور اپنے دائیں ہاتھ کی انگوٹھے سے متصل انگلی کی کو اٹھا لیتے اور اس کے ساتھ دعا کرتے۔ ‘‘ [صحيح مسلم 580]

تشھد میں دائیں ہاتھ کی کیفیات :
ہم پڑھ چکے ہیں کہ احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہادت والی انگلی کو اٹھانے اور اس کے ساتھ اشارہ یا دعا کرنے کا ذکر ہے۔ یہ اشارہ کیسے ہوتا تھا ؟ اس کے بارے میں بھی ہم احادیث نبویہ ہی سے رہنمائی لیتے ہیں۔ مذکورہ اور آئندہ تمام احادیث چونکہ رفع سبابہ کے بارے میں ہیں، اس لیے ہم انہیں ایک ہی ترتیب میں ذکر کریں گے، البتہ عنوانات بدلتے رہیں گے :

➌ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہے:
كان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم إذا قعد يدعو، وضع يده اليمنٰي علٰي فخذه اليمنٰي، ويده اليسرٰي علٰي فخذه اليسرٰي، وأشار بإصبعه السبابة، ووضع إبهامه علٰي إصبعه الوسطٰي
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے، تو اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر۔ انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے اور اس دوران اپنے انگوٹھےکو درمیان والی انگلی پر رکھتے۔“ [صحيح مسلم 13/579]

➍ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہے:
إن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم كان إذا قعد فى التشهد وضع يده اليسرٰي علٰي ركبته اليسرٰي، ووضع يده اليمنٰي علٰي ركبته اليمنٰي، وعقد ثلاثة وخمسين، وأشار بالسبابة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے، تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھتے، جبکہ بائیاں ہاتھ بائیں گھٹے پر۔ نیز 53 کی گرہ بناتے اور سبابہ کے ساتھ اشارہ فرماتے۔“ [صحیح مسلم : 115/580]
↰ عرب لوگ انگلیوں کے ساتھ ایک خاص طریقے سے گنتی کرتے تھے۔ اس طریقے میں 53 کے ہندسے پر ہاتھ کی ایک خاص شکل بنتی تھی، جس میں انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کے علاوہ باقی تینوں انگلیوں کو بند کرتے ہیں اور شہادت کی انگلی کو کھول کر انگوٹھے کے سِرے کو اس کی جڑ میں لگاتے ہیں۔
بقیہ تحریر

 از    December 6, 2017

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کائنات میں سب سے زیادہ محبوب ہستی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تھی۔ اس مضمون کے آخر میں صحیح و صریح احادیث نبویہ کی روشنی میں تفصیلاً یہ بات بیان کر دی گئی ہے۔
بعض لوگ ان صحیح و صریح احادیث کے خلاف حدیث الطیر پیش کرتے ہیں۔
آئیے اس روایت پر اصولِ محدثین کے مطابق تحقیق ملاحظہ فرمائیں :
حدیث انس رضی اللہ عنہ :

➊ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
إن النبى صلى الله عليه وسلم كان عنده طائر، فقال : ’اللهم ائتني بأحب خلقك إليك يأكل معي من هٰذا الطير‘، فجائ أبو بكر، فرده، وجاء عمر، فرده، وجاء علي، فأذن له .
’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک (پکا ہوا) پرندہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! اپنےاس بندےکو بھیج دے، جو تجھے تیری مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے، وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس بھیج دیا۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے، تو انہیں بھی واپس بھیج دیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے،، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ ‘‘ [الكبرٰي للنسائي : 107/5، ح : 8398، خصائص على بن أبي طالب للنسائي : 10]

تبصرہ :
یہ ’’ ضعیف ‘‘ اور ’’ منکر ‘‘ روایت ہے، کیونکہ :
➊ اس کا ایک راوی مسہر بن عبدالملک کمزور راوی ہے۔ [تقريب التهذيب لابن حجر : 6667]
اس کے بارے میں :
◈ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
فيه بعض النظر .
’’ اس پر بعض محدثین نے کلام کی ہے۔ ‘‘ [التاريخ الصغير : 250/2]
◈ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ولمسهر غير ما ذكرت، و ليس بالكثير .
’’ مسہر نےاس کے علاوہ بھی روایات بیان کی ہیں، مگر یہ کثیرالروایہ نہیں ہے۔ ‘‘ [الكامل فى ضعفاء الرجال : 458/6]
◈ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے الثقات [197/9] میں ذکر کے لکھا ہے :
يخطئ ويهم .
’’ یہ راوی غلطیوں اور اوہام کا شکار تھا۔ ‘‘
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے ’’ لین ‘‘ (کمزور راوی )کہا ہے۔ [المقتنٰي فى سرد الكنٰي : 5419]
◈ نیز انہوں نے اسے ليس بالقوي (قوی نہیں ہے) بھی کہا ہے۔ [المغني فى الضعفاء : 658/2]
واضح طور پر اسے صرف حسن بن حماد نصیبی وراق نے ثقہ کہا ہے۔ [مسند أبي يعلٰي : 4052، الكامل فى ضعفاء الرجال لابن عدي : 457/6، وسنده صحيح]
↰ جمہور محدثین نے اس روایت کو ’’ ضعیف ‘‘ کہا ہے۔ اس روایت کی بہت ساری سندیں ہیں۔ وہ ساری کی ساری ’’ ضعیف ‘‘ ہیں۔
ذیل میں ہر ایک سند کے ضعف کو واضح کیا جاتا ہے۔
——————

طريق السدي عن أنس . . . .
[سنن الترمذي : 3721، مسند أبي يعلٰي : 4052، العلل المتناهية لابن الجوزي : 229/1]

تبصرہ :
یہ ’’ منکر ‘‘ روایت ہے، کیونکہ :
اس کا راوی عبیداللہ بن موسیٰ عبسی اگرچہ صحاح ستہ کا راوی ہے اور ثقہ ہے، لیکن محدثین کرام نے اس کی اس خاص روایت پر کلام کر رکھی ہے۔
◈ امام ابن سعد رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں :
كان ثقة صدوقا، إن شاء الله، كثير الحديث، حسن الهيئة، وكان يتشيع، ويروي أحاديث فى التشيع منكرة، فضعف بذٰلك عند كثير من الناس .
’’ یہ ان شاءاللہ ثقہ و صدوق اور کثیرالحدیث راوی ہے۔ یہ خوش شکل اور شیعہ
بھی ہے۔ تشیع میں منکر روایتیں بیان کرتا ہے، اسی بنا پر بہت سے محدثین نے اس کو ضعیف قرار دے دیا ہے۔ ‘‘ [الطبقات الكبرٰي : 368/6]
↰ یوں یہ روایت ’’ منکر ‘‘ ہی ہے۔ بقیہ تحریر

 از    December 6, 2017

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منسوب ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ :
استعرت من حفصة بنت رواحة إبره، كنت أخيط بها ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسقطت مني الإبرة، فطلبتها، فلم أقدر عليها، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتبينت الإبرة من شعاع نور وجهه، فضحكت، فقال : يا حميراء ! لم ضحكت؟ قلت : كان كيت وكيت، فنادٰي بأعلٰي صوته : يا عائشة ! الويل ثم الويل، ثلاثا، لمن حرم النظر إلٰي هٰذا الوجه، ما من مؤمن ولا كافر، إلا ويشتهي أن ينظر إلٰي وجهي
’’ میں نے حفصہ بنت رواحہ سے ایک سوئی ادھار لی، جس کے ساتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سی رہی تھی۔ وہ سوئی گر گئی، میں نے تلاش کیا، لیکن نہ مل سکی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ کے چہرے کے نور سے وہ سوئی چمک اٹھی۔ میں ہنس دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حمیرا ! آپ کیوں ہنسی ہیں ؟ میں نے واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے بلند آواز سے پکار کر تین مرتبہ فرمایا : عائشہ ! اس شخص کے لیے ویل ہے، جو اس چہرے کو دیکھنے سے محروم رہا۔ ہر مؤمن اور ہر کافر میرے چہرے کو دیکھنا چاہتا ہے۔“

لیکن یہ جھوٹی روایت ہے، کیونکہ :
➊ مسعدہ بن بکر فرغانی کی اس روایت کو حافظ ذہبی رحمہ اللہ [ميزان الاعتدال : 98/4، ت : 8464] اور ابن عراق کنانی [تنزيه الشريعه : 117/1، الرقم : 327] نے جھوٹ کہا ہے۔
اس کی ایک اور روایت کو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے باطل (جھوٹی ) قرار دیا ہے۔ [لسان الميزان : 22/6]
➋ اس میں محمد بن اسحاق کی ’’ تدلیس“ بھی ہے، سماع کی تصریح نہیں ملی۔
لہٰذا یہ جھوٹی روایت ہے۔

 

 از    December 6, 2017

تحریر: الشیخ غلام مصطفے ظہیر امن پوری حفظ اللہ
➊ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر سن کر درود:

نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا ذکر سن کر درود پڑھنا فرض ہے، کیوں کہ ایسے شخص کے بارے میں وعید وارد ہوئی ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنتا ہے لیکن درود نہیں پڑھتا، جیسا کہ:
➊ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رغم أنف رجل دكرت عنده؛ فلم يصل علي.
”اس آدمی کا ناک خاک آلود ہو، جس کے سامنے میرا تذکرہ ہو، لیکن وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔“ [مسند الإمام أحمد : 254/2؛ سنن الترمذي: 3545؛ فضل الصلاة على النبى للقاضي إسماعيل :16، و سندهٔ حسن]
↰ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن غریب“ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (908) نے ”صحیح“ کہا ہے۔

❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت یوں بیان ہوئی ہے:
صعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر، فلما وضع رجله على مرقاة قال : ”آمين“، ثم صعد، فقال : ”آمين“، ثم صعد، فقال : ”آمين“، فقال : أتاني جبريل، فقال : من أدرك شهر رمضان؛ فمات فلم يغفر له، فابعدهٔ الله، قلت : آمين، قال: ومن ادرك ابويه او حدهما؛ فمات فلم يغفر له، فابعدهٔ الله، قلت : آمين، قال: ومن ذكرت عنده فلم يصل عليك، فأبعده الله، قلت : آمين
”رسول اکرم صلى الله عليه وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔ جب پہلی سیڑھی پر پاؤں مبارک رکھا تو آمین کہا، پھر (دوسری سیڑی پر) چڑھے تو دوبارہ آمین کہا، پھر (تیسری سیڑھی پر) چڑھے تو پھر آمین کہا۔ پھر ارشاد فرمایا: میرے پاس جبریل آئے تھے اور (جب میں پہلی سیڑھی پر چڑھا تو) انہوں نے کہا: جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس حالت میں مر جائے کہ (رمضان کی عبادت کی وجہ سے) اس کی مغفرت نہ ہو سکے تو اللہ تعالی اسے اپنی رحمت سے دور کر دے۔ میں نے آمین کہا۔ (جب میں دوسری سیڑھی پر چڑھا تو) انہوں نے کہا: جو شخص اپنے ماں باپ دونوں کو یا کسی ایک کو پائے، پھر اس حالت میں مر جائے کہ (ان کی خدمت کی بنا پر) اس کی مغفرت نہ ہو سکے تو اسے بھی اللہ تعالی اپنی رحمت سے دور کر دے۔ میں نے آمین کہا۔ (جب میں تیسری سیڑھی پر چڑھا تو) انہوں نے کہا: جس شخص کے پاس آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ پڑ ھے، اسے بھی اللہ تعالی اپنی رحمت سے دور کر دے۔ اس پر بھی میں سے آمین کہا۔“ [المعجم الأوسط للطبراني :8131؛ مسند أبى يعلٰي : 5922، و سندهٔ حسن]

❀ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم رقي المنبر، فقال : ”آمين، آمين، آمين“، فقيل لهٔ : يا رسول الله، ما كنت تصنع هذا، فقال : قال لي جبريل: أرغم الله أنف عبد۔ أو بعد۔ دخل رمضان فلم يغفر له، فقلت آمين، ثم قال : رغم أنف عبد۔ أو بعد۔ ادرك والديه او احدهما لم يدخله الجنة، فقلت : آمين، ثم قال : رغم أنف عبد۔ أو بعد۔ ذكرت عنده فلم يصل عليك، فقلت : آمين
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو تین دفعہ آمین کہا۔ پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول! آپ پہلے تو ایسا نہیں کرتے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل علیہ السلام نے کہا: اللہ تعالی اس شخص کو ذلیل کرے جو رمضان میں موجود ہو لیکن اس کی مغفرت نہ ہو سکے۔ میں نے آمین کہا۔ پھر جبریل علیہ السلام نے کہا: وہ شخص بھی ذلیل ہو، جو اپنے ماں باپ دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو پائے لیکن ان کی خدمت اسے جنت میں داخل نہ کرے۔ میں نے آمین کہا۔ پھر جبریل علیہ السلام نے کہا: وہ شخص بھی ذلیل ہو جائے جس کے پاس آپ کا ذکر ہو لیکن وہ آپ پر درود نہ پڑھے۔ میں نے اس پر بھی آمین کہا۔‘‘
[صحيح ابن خزيمة:1888، و سندهٔ حسن]

➋ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ”احضروا المنبر“، فحضرنا، فلما ارتقى درجة قال: ”آمين“، فلما ارتقى الدرجة الثانية قال: ”آمين“، فلما ارتقى الدرجة الثالثة قال: آمين، فلما نزل قلنا: يا رسول الله، لقد سمعنا منك اليوم شيئا ما كنا نسمعه، قال : إن جبريل عليه الصلاة والسلام عرض لي، فقال: بعدا لمن أدرك رمضان فلم يغفرله، قلت : آمين، فلما رقيت الثالثة قال : بعدا لمن ذكرت عنده فلم يصل عليك قلت آمين، فلما رقيت الثالثة قال : بعدا لمن أدرك أبواه الكبر عنده أو أحدهما فلم يدخلاه الجنة، قلت : آمين .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منبر لاؤ۔ ہم منبر لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی سیڑھی پر چڑھے اور آمین کہا۔ جب دوسری سیڑھی پر چڑھے تو آمین کہا۔ جب تیسری سیڑھی پر چڑھے تو پھر آمین کہا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! آج ہم نے آپ سے ایسی چیز سنی ہے، جو پہلے نہیں سنتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور فرمایا: اس شخص کے لیے ہلاکت ہو، جو رمضان کو پائے لیکن اس کی مغفرت نہ ہو سکے۔ میں نے آمین کہہ دیا۔ جب میں دوسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل علیہ السلام نے کہا: وہ شخص بھی ہلاک ہو، جس کے پاس آپ کا تذکرہ ہو، لیکن وہ آپ پر درود نہ پڑھے۔ میں نے آمین کہا۔ جب میں تیسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل علیہ السلام نے کہا: وہ شخص بھی ہلاک ہو، جس کے پاس اس کے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک بوڑھا ہو اور وہ اس کے جنت میں داخلے کا سبب نہ بن سکیں۔ میں نے پھر آمین کہہ دیا۔“ [ المستدرك على الصحيحين لالحاكم : 153/4، و سندهٔ حسن]
↰ امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”صحیح الاسناد‘‘ اور حافظ ذہبی نے ”صحیح“ کہا ہے۔
ان کی احادیث کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ سن کر درود پڑھنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔
بقیہ تحریر

 از    November 29, 2017

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : ایک عورت نے وضو کرنے کے بعد سر پر مہندی لگائی اور پھر نماز ادا کرنے لگی۔ کیا اس کی نماز درست ہے؟ اگر اس کا وضو ٹوٹ گیا تو کیا مہندی پر مسح کرے گی یا بال دھو کر ادائیگی نماز کے لئے وضو کرنا ہو گا؟
جواب : طہارت (صغری یا کبریٰ) حاصل کرنے کے بعد سر پر مہندی لگانا ناقض طہارت نہیں ہے۔ اگر عورت وضو یا غسل کے بعد سر پر لیپ کرے تو طہارت صغریٰ (وضو) کے لئے سر کا مسح کرنا کافی ہو گا۔ لیکن طہارت کبریٰ (غسل کرنے کی صورت) میں سر کا مسح کافی نہ ہو گا، بلکہ اس پر تین بار پانی ڈالنا ضروری ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ سیدہ ام سلمی رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے سر کے بالوں کو کس کر باندھتی ہوں، کیا غسل جنابت اور غسل حیض کیلئے انہیں کھولنا ہو گا؟
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا انما يكفيك أن تحثى على رأسك ثلاث حثيات، ثم تفيضين عليك الماء فتطهرين [صحیح مسلم رقم 330]
”نہیں، تیرے لئے یہی کافی ہے کہ تو سر پر تین لیپ پانی ڈال لے، پھر اپنے جسم پر پانی انڈیل کر غسل کر لے۔“
ویسے اگر عورت حیض کے بعد غسل کرتے وقت انہیں کھول لے تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ کچھ دیگر احادیث اس کی مؤید ہیں۔ والله ولي التوفيق

 

 از    November 29, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور رشتہ داروں پر ہمارے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ؟
جواب : ایک مفتی صاحب نے داڑھی منڈوانے والوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : ’’ داڑھی منڈوانے والو : تمہارے اعمال روزانہ فرشتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حرکات دیکھ کر کتنا دکھ ہوتا ہو گا۔ “ اس پر مفتی صاحب نے [كنز العمال : 5/ 318] اور [حلية الاولياء : 6/ 179] کا حوالہ دیا پھر مزید عزیز و اقارب کے سامنے اعمال پیش کرنے کی دلیل کے طور پر [مسند احمد : 3/ 165] اور [مجمع الزوائد : 2/ 228] کا حوالہ ذکر کیا ہے۔

یہ بات درست کہ داڑھی منڈوانا اسلام میں حرام ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور عذاب الیم کو دعوت دینا ہے، لیکن اس ضمن میں اعمال پیش ہونے کے متعلق جو روایات پیش کی جاتی ہیں وہ درست نہیں ہیں۔
✿ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ
’’ اللہ تعالیٰ جو کچھ ان کے سامنے ہے اسے بھی جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اس سے بھی واقف ہے اور سارے معاملات اس کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ “ [22-الحج:76]
↰ یعنی کائنات میں کسی چھوٹے یا بڑے معاملے کا مرجع اللہ تعالیٰ ہی ہے، کوئی دوسرا نہیں۔ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ [210] ، آل عمرا ن [109] ، حدید [5] وغیرہ میں بیان کیا ہے۔

اور صحیح مسلم میں :
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تعرض الاعمال في كل يوم خميس واثنين فيغفر الله عز وجل في ذلك اليوم لكل امرئ لا يشرك بالله شيئا إلا امرا كانت بينه وبين اخيه شحناء فيقال : اركوا هذين حتى يصطلحا اركوا هذين حتى يصطلحا ’’ ہر جمعرات اور سوموار کو تمام اعمال پیش کیے جاتے ہیں تو اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس آدمی کو بخش دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا سوائے اس آدمی کے کہ جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو۔ کہا جا تا ہے ان دونوں کو چھوڑ دیجیے یہاں تک کہ صلح کر لیں۔ “ [مسلم، كتاب البروالصلة : باب النهي عن الشخناء : 2565]

❀ ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا:
’’ اے اللہ کے رسول ! شعبان کے مہینے میں جس قدر آپ روزے رکھتے ہیں، میں نے آپ کو اس قدر کسی دوسرے مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ذلك شهر يغفل الناس عنه بين رجب ورمضان، ‏‏‏‏‏‏وهو شهر ترفع فيه الاعمال إلى رب العالمين، ‏‏‏‏‏‏فاحب ان يرفع عملي وانا صائم ’’ یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں رب العالمین کی طرف اعمال کو اٹھایا جاتا ہے۔ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حالت میں اٹھایا جائے کہ میں روزہ دار ہوں۔ “ [نسائي، كتاب الصيام : باب صوم النبى بابي هو وامي : 2359]
بقیہ تحریر

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.