نئے مضامین
 از    March 27, 2017

تحریر: ابن الحسن محمدی

سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة، ‏‏‏‏‏‏فيه خلق آدم، ‏‏‏‏‏‏ وفيه النفخة، ‏‏‏‏‏‏وفيه الصعقة، ‏‏‏‏‏‏فأكثروا على من الصلاة فيه، فإن صلاتكم معروضة على .
”بلاشبہ تمہارے دنوں میں جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے۔ اس دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سخت آواز ظاہر ہو گی۔ لہذا اس دن مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو، تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جائے گا۔“
ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارا درود آپ کی وفات کے بعد آپ کو کیسے پیش کیا جائے گا؟ کیا آپ کا جسد مبارک خاک میں نہیں مل چکا ہو گا ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن الله قد حرم على الارض أن تاكل أجساد الانبياء
”یقینا اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے جسموں کو کھانا حرام فرما دیا ہے۔“ [مسند الإمام أحمد : 8/4؛ سنن أبى داود : 1047 , 1531 ؛ سنن النسائي : 1375؛ سنن ابن ماجه : 1085، 1636؛ فضل الصلاة على النبى للقاضي إسماعيل : 22، وسنده صحيح]
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ [1733] ، امام ابن حبان [910] اور حافظ ابن قطان فاسی [بيان الوهم والإيهام : 574/5] رحمها اللہ نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔

امام حاکم رحمہ اللہ [278/1] نے اسے ”امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح“ کہا ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

حافظ نووی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’صحیح“ کہا ہے۔
[رياض الصالحين : 1399، خلاصة الأحكام : 441/1، 814/2]
بقیہ تحریر

 از    March 23, 2017

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

متواتر احادیث کی روشنی میں اہل سنت و الجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ امام مہدی کا نام محمد بن عبداللہ ہو گا، وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے، قرب قیامت ان کا ظہور ہو گا اور وہ پوری دنیا میں عدل و انصاف کے پھریرے لہرائیں گے۔
ائمہ دین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام مہدی کے ظہور کے بارے میں مروی احادیث صحیح اور قابل حجت ہیں۔ اس حوالے سے چند ایک ائمہ دین کی آراء ملاحظہ فرمائیں :
(1) امام ابوجعفر محمد بن عمرو بن موسیٰ بن حماد عقیلی (م : ۳۲۲ھ ) فرماتے ہیں :
وفي المهدي احاديث جيد
’’ امام مہدی کے بارے میں عمدہ احادیث موجود ہیں۔ “ [الضعفاء الكبير للعقيلي 254/3]

(2) امام ابوبکر احمد بن الحسین بن علی بن موسیٰ بیہقی رحمہ اللہ (۳۸۴۔ ۴۵۸ھ ) فرماتے ہیں :
والاحاديث فى التنصيص على خروج المهدي اصح اسنادا، وفيها بيان كونه من عترة النبى صلى الله عليه وسلم
’’ امام مہدی کے خروج کے بارے میں احادیث صحیح سند والی ہیں۔ ان میں یہ وضاحت بھی ہے کہ امام مہدی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں سے ہوں گے۔ “ [تاريخ ابن عساكر :517/47، تهذيب التهذيب لابن حجر: 126/9]

(3) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ( ۶۶۱۔ ۷۲۸ھ ) فرماتے ہیں :
والاحاديث التي يحتج بها خروج المهدي احاديث صحيحة
’’ جن احادیث سے امام مہدی کے خروج پر دلیل لی جاتی ہے، وہ احادیث صحیح ہیں۔ “ [منهاج السنة لابن تيمية:95/4]
بقیہ تحریر

 از    March 14, 2017

تحریر: ابو سعید سلفی

مقتدی بھی سمع الله لمن حمده کہے گا جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة يكبر حين يقوم، ‏‏‏‏‏‏ثم يكبر حين يركع، ‏‏‏‏‏‏ثم يقول:‏‏‏‏ سمع الله لمن حمده حين يرفع صلبه من الركعة، ‏‏‏‏‏‏ثم يقول وهو قائم ربنا لك الحمد .
”رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب رکوع جاتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب رکوع سے اپنی کمر مبارک اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے، پھر کھڑے کھڑے ربنا لك الحمد . کہتے۔“ [صحیح البخاری : 789]

اس حدیث کی روشنی میں نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی پیروی اسی میں ہے کہ نمازی خواہ وہ امام ہو، مقتدی ہو یا منفرد، ہر صورت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سمع الله لمن حمده کہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : صلوا كما رايتموني اصلي ”نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے پڑھتے دیکھا ہے۔“ [صحیح البخاری : 931]

جب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سمع الله لمن حمده کے الفاظ فرماتے تھے تو ہر نمازی کو آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق آپ کی پیروی میں سمع الله لمن حمده کے الفاظ کہنے چاہیں۔

حافظ نووی رحمہ اللہ اسی حدیث کو اسی مسئلے میں ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
فيقتضى هذا مع ما قبله أن كل مصل يجمع بينهما، ولأنه ذكر يستحب للإمام فيستحب لغيره كالتسبيح فى الركوع وغيره، ولأن الصلاة مبنية على أن لا يفتر عن الذكر فى شيء منها فان لم يقل بالذكرين فى الرفع والاعتدال بقي أحد الحالين خاليا عن الذكر .
”یہ حدیث پہلی ذکر کردہ احادیث سے مل کر یہ تقاضاکرتی ہے کہ ہر نمازی سمع الله لمن حمده اور ربنا لك الحمد دونوں کو جمع کرے۔ نیز سمع الله لمن حمده ایک ذکر ہے جو امام کے لیے مستحب ہے لہذا یہ مقتدی کے لیے بھی مستحب ہو گا جیسا کہ رکوع وغیرہ میں تسبيح امام بھی پڑھتا ہے اور مقتدی بھی۔ اس ليے بھی مقتدی سمع الله لمن حمده کہے گا کہ نماز کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اس کا کوئی حصہ بھی ذکر سے خالی نہ ہو۔ اگر نمازی سر اٹھاتے اور سیدھا کھڑا ہوتے وقت دونوں حالتوں میں دو ذکر نہ کرے گا تو اس کی ایک حالت ذکر سے خالی رہ جائے گی۔۔۔“ [المجموع شرح المہذب للنووی : 20/3]
بقیہ تحریر

 از    March 14, 2017

تحریر: ابو الحسن محمدی

علامہ ابوالفتح محمد بن عبدالکریم بن احمد شہرستانی (م : ۵۴۸ ھ) ایک رافضی کذاب ابراہیم بن یسار ابن ہانی النظام کے حالات لکھتے ہوئے اس کی بدعقیدگی کے پول بھی کھولتے ہیں۔
اس کا ایک جھوٹ علامہ شہرستانی نے یوں بیان کیا ہے کہ اس رافضی کذاب نے کہا:
إن عمر ضرب بطن فاطمة يوم البيعة حتى ألقت الجنين من بطنها، وكان يصيح : أحرقوا دارها بمن فيها، وما كان فى الدار غير على وفاطمة والحسن والحسين عليهم السلام .
”( سیدنا ) عمر ( رضی اللہ عنہ ) نے بیعت والے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پیٹ پر مارا اور ان کے پیٹ کا بچہ گر گیا۔ عمر ( رضی اللہ عنہ ) پکار کر کہہ رہے تھے کہ اس (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کے گھر کو گھر والوں سمیت جلا دو۔ گھر میں سوائے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کے کوئی نہ تھا۔“ [الملل والنحل للشهرستاني : 57/1، الوافي بالوفيات للصفدي (م : ۷۶۴ ه ) ۳۴۷/۵]

رافضی شیعہ اس روایت کو بنیاد بنا کر خلیفہ راشد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر تبرا بازی کرتے ہیں، لیکن اس روایت کی نہ تو ابراہیم بن یسار تک کوئی سند مذکور ہے نہ ابراہیم سے آگے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک کوئی سند دنیا کی کسی کتاب میں موجود ہے۔ یہ روایت دنیا کا سفید جھوٹ اور شیطان لعین کی کارستانی ہے۔ اس طرح کی جھوٹی بےسند اور بےسروپا روایات سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف پراپیگنڈہ کرنا ناعاقبت اندیشی ہے۔

ابراہیم بن یسار ابن ہانی النظام گندے عقیدے کا حامل تھا اور یونانی فلسفے سے بہت متاثر تھا۔ معتزلی مذہب رکھتا تھا اور اس کے نام پر فرقہ نظامیہ نےجنم لیا۔
بقیہ تحریر

 از    March 6, 2017

تحریر: ابوسعيد

صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ”ص، صعم، صلم، صلیو، صلع اور صلعم جیسے رموز و اشارات کا استعمال حکم الہی اور منہج سلف صالحین کی مخالفت ہے۔ یہ قبیح اور بدعی اختصار خلاف ادب ہے۔ یہ ایسی بے ہودہ اصطلاح ہے کہ کوئی نادان ہی اس پر اکتفا کر سکتا ہے۔

٭ حافظ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
واجتنب أيها الكاتب الرمز لها أي الصلاة والسلام على رسول الله صلى الله عليه وسلم في خطك، بأن تقتصر منها على حرفين، ونحو ذلك، فتكون منقوصة صورة، كما يفعله الكسائي والجهلة من أبناء العجم غالباً وعوام الطلبة، فيكتبون بدلاً من صلى الله عليه وسلم ص، أو صم، أو صلم، أو صلعم فذلك لما فيه من نقص الأجر لنقص الكتابة خلاف الأولى.
”اے لکھنے والے ! اپنی لکھائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی اس طرح رمز لکھنے سے اجتناب کرو کہ دو یا تین چار حرفوں پر اکتفا کر لو۔ اس طرح درود کی صورت ناقص ہو جاتی ہے، جیسے کسائی، بہت سے جاہل عجمی لوگوں اور اکثر طلبہ کا طرز عمل ہے۔ وہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ص، صم، صلم یا صلعم لکھتے ہیں۔ یہ طریقہ کتابت میں نقص کی وجہ سے خلاف اولی ہے۔“ (فتح المغیث بشرح ألفیة الحدیث : 72,71/3)

٭ علامہ ابویحیٰی زکریا انصاری رحمہ اللہ ( م : ۹۲۶ھ) لکھتے ہیں :
وتسن الصلاة نطقا وكتابة عليٰ سائر الأنبياء والملائكة صلى الله وسلم عليهم، كما نقله النوويي عن إجماع من يعتد به .
”تمام انبیاے کرام اور فرشتوں پر بول اور لکھ کر درود و سلام بھیجنا مسنون ہے، جیسا کہ علامہ نووی رحمہ اللہ نے تمام معتبر اہل علم کے اجماع سے یہ بات نقل کی ہے۔“ (فتح الباقي بشرح ألفية العراقي : 44/2) بقیہ تحریر

 از    March 6, 2017

 

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری

* سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت والے قصہ میں مذکور ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
يا معشر المسلمين، من يعذرني من رجل قد بلغني أذاه فى أهل بيتي، فوالله ما علمت على أهلي إلا خيرًا.
”اے مسلمانوں کی جماعت! کون اس شخص سے میرا بدلہ لے گا جس کی طرف سے میرے اہل بیت کے بارے میں مجھے تکلیف پہنچی ہے؟ اللہ کی قسم! میں اپنے گھر والوں کے بارے میں بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔“ (صحيح البخاري : 4850، صحيح مسلم : 2770)

* حصین بن سبرہ تابعی رحمہ اللہ نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا :
ومن أهل بيته يا زيد؟ أليس نساؤه من أهل بيته؟
”اے زید! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج آپ کے اہل بیت میں شامل نہیں؟“
اس پر سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
نساؤه من أهل بيته.
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج آپ کے اہل بیت میں شامل ہیں۔‘‘ (صحيح مسلم : 2408)

* سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورۂ احزاب کی مذکورہ آیت نازل ہوئی تو:
فأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلّم إلى على وفاطمة والحسن والحسين رضي الله عنهم أجْمَعينَ، فقال : ”اللَّهُمْ هولاء أهل بيتيي“ قالت أم سلمة : يا رسول الله، ما أنا من أهل البيت ؟ قال: ”إنك أهلي خير، وهؤلاء أهل بيتيي، اللَّهُمْ أهليي أحق“
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ اور سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا۔ پھر فرمایا: میرے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : اللہ کے رسول! کیا میں اہل بیت میں شامل نہیں؟ فرمایا : آپ میرے گھر والی ہیں اور بھلائی والی ہیں، جب کہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ اے اللہ! میرے گھر والے (اہل بیت ہونے کے) زیادہ حق دار ہیں۔“ (المستدرك على الصحيحين للحاكم: 416/2، و سندہ حسن)
امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ’’امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح“ قرار دیا ہے، جب کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے ”امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح“ کہا ہے۔
بقیہ تحریر

 از    March 5, 2017

تحریر: حافظ محمد اسحاق زاھد، کویت

سعودی عرب کے علماء ومشائخ سلفی مسلک کے حامل ہیں، اور اسی کی طرف وہ تمام لوگوں کو دعوت دیتے ہیں، فروع اور اختلانی مسائل میں دلیل کی پیروی یعنی اتباع کرنا ان کا مسلک ہے، نہ کہ اندی تقلید کرنا، دلیل کے سامنے خواہ وہ حنبلی مذہب کے موافق ہو یا مخالف، سر تسلیم خم کر دینا ان کا شیوہ ہے، چنانچہ سعودی علماء کے فتاوی اور رسائل پڑھ کے دیکھ لیجئے، ان میں ایک چیز انتہائی واضح طور پر نظر آتی ہے کہ یہ علماء ہر مسئلے میں سب سے پہلے قرآنی آیت، پھر حدیث نبوی اور پھر آثارصحابہ رضی اللہ عنہم ذکر کرتے ہیں، اور اگر کسی مسئلہ میں انہیں یہ تینوں دلائل نہ ملیں تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ کی آراء ذکر کرتے ہیں، اور ان میں جو أقرب الی الدلیل ہو اسے ترجیح ریتے ہیں۔ اب اس سے پہلے کہ ہم تقلید سے متعلق سعودی علماء کا موقف بیان کریں، ان کے بارے میں خود ایک سعودی عالم الشیخ عبدالمحسن العباد کی شہادت پڑھ لیجئیے جو عرصہ دراز سے مسجد نبوی میں درس حدیث ریتے ہیں اور سعودیہ کے بڑے بڑے مشائخ کے شاگرد ہیں۔ انہوں نے یوسین ہاشم الرفاعی کے ایک مضمون کے جواب میں ایک مقالہ تحریر فرمایا جو کہ ”الفرقان“ (الکویت) میں قسط وار چھپ رہا ہے، الرفاعی کے ایک اعتراض کے جواب میں شیخ العباد لکھتے ہیں :
وعلى هذا فهم لم يتخلوا عن المذهب الحنبلى، ولكنهم تخلوا عن التعصب له، وإذا وجد الدليل الصحيح على خلاف المذهب صاروا إلى ما دل عليه الدليل .
”یعنی علماء نجد نے حنبلی مذہب کو نہیں، اس کے لئے تعصب کو خیرباد کہہ دیا ہے اور جب صحیح دلیل مذہب حنبلی کے خلاف ہو تو وہ دلیل پر عمل کرتے ہیں۔ (دیکھیے الفرقان جولایہ 2000ء)
اب آئیے! سعودی علماء کا تقلید کے متعلق موقف معلوم کریں :

(1) شیخ ابن باز رحمہ اللہ :

شیخ ابن باز رحمہ اللہ، جن کا مئی 99 میں انتقال ہوا ہے، کسی تعارف کے مختاج نہیں، موصوف عالم اسلام کی معروف شخصیت تھے، علم و عمل، تقوی و پرہیزگاری اور بصیرت کے پہاڑ تھے، پوری زندگی دین اسلام کی خدمت میں گزار گئے، زندگی میں انہیں جو عزت و احترام ملا وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے، انتقال فرمایا تو بیس لاکھ کے قریب افراد نے حرم مکی میں ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی، اللہ رب العزت انہیں غریق رحمت فرمائے۔

موصوف اپنے متعلق خود فرماتے ہیں :
مذهبي فى الفقه هو مذهب الإمام أحمد بن حنبل رحمه الله، وليس على سبيل التقليد ولكن على سبيل الاتباع …..أما فى مسائل الخلاف فمنهجى فيها هو ترجيح ما يقتضى الدليل ترجيحه، والفتوى بذلك، سواء وافق مذهب الحنابلة أم خالفه، لأن الحق أحق بالاتباع (فتاوى المرأة المسلمة 14/1 )
”فقہ میں میرا مذہب امام احمد بن حنبل کا مذہب ہے، برسبیل تقلید نہیں، بلکہ برسبیل اتباع . . . . اور اختلافی مسائل میں میرا طریق یہ ہے کہ میں دلیل کے مطابق ترجیح دیتا ہوں، اور اسی طرح فتویٰ بھی صادر کرتا ہوں، خواہ دلیل حنبلی مذہب کے موفق ہو یا مخالف، کیونکہ حق پیروی کا زیادہ حقدار ہے۔ “

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے یہ الفاظ ليس على سبيل التقليد ولكن على سبيل الاتباع سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں، اور پھر ان کا یہ کہنا کہ اختلافی مسائل میں وہ حنبلی مسلک کی پابندی نہیں کرتے بلکہ دلیل کے مطابق ترجیح دیتے ہیں، اس بات کی واضح دلیل سے کہ وہ فقہ میں امام احمد رحمہ اللہ کے مذہب کی طرف نسبت کرنے کے باوجود حنبلی فقہ کی اندھی تقلید نہیں کرتے، بلکہ تقاضائے دلیل کے مطابق فتویٰ صادر فرماتے ہیں، اور اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں یہاں صرف ایک مثال ان کے اس مؤقف کی تصدیق کے لئے پیش کرتے ہیں :

شیخ سے سوال کیا گیا کہ کیا جمعہ قائم کرنے کے لئے چالیس ایسے افراد کا ہونا ضروری سے جن پر نماز فرض ہو ؟
شیخ صاحب نے جواب فرمایا :
”اہل علم کی ایک جماعت اس شرط کی قائل ہے کہ نماز جمعہ کی اقامت کے لئے چالیس آدمی ہونے چاہئیں، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی انہیں میں سے ہیں، لیکن راجح تر قول تو یہی ہے کہ چالیس سے کم افراد کے لئے جمعہ کی اقامت جائز ہے . . . . کیونکہ چالیس آدمیوں کی شرط کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے، اور جس حدیث میں چالیس آدمیوں کی شرط آئی ہے وہ ضعیف ہے۔ “ (فتاويٰ سماحة الشيخ عبد العزيز بن باز ص 74) نیز (مجموع فتاوي و مقالات متنوعة ص 327/12)

کیا اس دور کے احناف مقلدین میں سے کوئی ہے جو شیخ ابن باز رحمہ اللہ جیسی اس جرات کا مظاہرہ کرے اور جب صحیح دلیل حنفی مسلک کے مخالف ہو تو اس کی تاویل کرنے یا اس کے مقابلے میں دوسری ضعیف دلیل لانے کی بجائے، اس صحیح دلیل کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور حنفی مسلک کو چھوڑ دے ؟ ہم نے تو اس کے برعکس یہ دیکھا سے کہ احناف مقلدین صحیح دلیل معلوم کرنے کے باوجود اپنے مذہب کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے، آئیے آپ بھی دو مثالیں ملاحظہ کر لیں :

(1) الحق والإنصاف أن الترجيح للشافعي فى هذه المسألة، ونحن مقلدون يجب علينا تقليد إمامنا أبى حنيفة . (تقریر ترمذی، ص 39)
ترجمہ : ”حق اور انصاف یہ ہے کہ اس مسئلہ میں شافعی مسلک کو ترجیح ہے، لیکن ہم مقلد ہیں،ہم پر واجب ہے کہ ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہی کی تقلید کریں۔ “

(2) ابن نجیم الحنفی کہتے ہیں :
نفس المؤمن تميل إلى قول المخالف فى مسألة السبب، لكن إتباعنا للمذهب واجب . (البحر الرائق : 125/5)
ترجمہ : ”مومن کا دل قول مخالف کی طرف مائل ہوتا ہے گالی کے مسئلے میں، لیکن حنفی مذہب کی اتباع واجب ہے۔“ بقیہ تحریر

 از    February 22, 2017

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات پر بھی درود پڑھنا مشروع ہے، کیونکہ قرآن و سنت کی رو سے وہ بھی اہل بیت میں شامل ہیں، جیسا کہ:
قرآن کریم کی روشنی میں :
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے خطاب فرماتے ہوئے ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (الأحزاب : 33)
”اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے گناہ کو دور کر کے تمہیں خوب پاک صاف کر دے۔“

اس آیت کی تفسیر میں حبر امت، ترجمان القرآن اور مفسر صحابہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
نزلت فى نساء النبى صلى الله عليه وسلّم خاصة.
”یہ آیت خاص طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے بارے میں نازل ہوئی۔“ (تفسير ابن كثير : 410/6، بتحقيق سلامة، و سندہ حسن)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
من شاء باهلته أنها نزلت فى أزواج النبى صلى الله عليه وسلّم.
”جو مباہلہ کرنا چاہے میں اس کے ساتھ مباہلہ کرنے کے لئے بھی تیار ہوں کہ یہ آیت نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی ازواج مطہرات کے بارے میں نازل ہوئی۔“ (تفسیر ابن کثیر : 411/6، بتحقیق سلامة، و سندہ حسن)

اس آیت کی تفسیر میں اہل سنت کے مشہور مفسر، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وهذا نص فى دخول أزواج النبى صلى الله عليه وسلّم فى أهل البيت هاهنا، لأنهنّ سبب نزول هذه الآية.
”یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے اہل بیت میں شامل ہونے پر نص ہے، کیونکہ ازواج مطہرات ہی اس آیت کے نزول کا سبب ہیں۔“
(تفسیر ابن کثیر : 410/6، بتحقیق سلامة)

نیز فرماتے ہیں:
فإن كان المراد أنهن كن سبب النزول دون غيرهن فصحيح، وإن أريد أنَّهُنَّ المُراد فقط دون غيرهنّ، ففي هذا نظر؛ فإنه قد وردت أحاديث تدل علىٰ أنّ المُراد أعم من ذلك.
”اگر یہ مراد ہو کہ ازواج مطہرات کے علاوہ کوئی بھی اس آیت کے نزول کا سبب نہیں، تو یہ بات صحیح ہے، لیکن اگر کسی کی مراد یہ ہو کہ اہل بیت کے مفہوم میں ازواج مطہرات کے علاوہ کوئی شامل نہیں، تو یہ محل نظر ہے، کیونکہ کئی احادیث بتاتی ہیں کہ اہل بیت کا مفہوم اس سے وسیع ہے۔“ (تفسیر ابن کثیر : 411/6، بتحقیق سلامة)

یعنی یہ آیت اگرچہ ازواج مطہرات کے اہل بیت میں شامل ہونے کو بیان کرتی ہے، لیکن صحیح احادیث کی بنا پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار بھی اہل بیت میں شامل ہیں، بلکہ اگر بیویاں اہل بیت ہیں تو رشتہ دار بالا ولیٰ اہل بیت میں شامل ہیں۔ بقیہ تحریر

 از    February 15, 2017

تحریر: ابوعبد الله صارم

(1) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، کہنے لگے: کیا میں آپ کو عظیم الشان تحفہ نہ دوں، جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے، میں نے عرض کیا: جی ضرور! کہنے لگے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! آپ کے اہل بیت پر کیسے درود بھیجا جائے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر سلام کے متعلق تو تعلیم دے دی ہے (درود کے متعلق نہیں) ؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درود یوں پڑھا کرو:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
”اے اللہ! محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر رحمت نازل کر، جیسا کہ تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت نازل کی، یقینا تو قابل تعریف، بڑی شان والا ہے۔ اے اللہ! محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر برکت نازل کر، جیسا کہ تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر برکت نازل کی، یقینا تو قابل تعریف، بڑی شان والا ہے۔“ (صحیح البخاری : 3370؛ صحیح مسلم : 406)
(2) سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! آپ پر درود کیسے پڑھا جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ سکھائے :
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
”اے اللہ! محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر رحمت نازل کر، جیسا کہ تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر رحمت نازل کی، یقیناً تو قابل تعریف، بڑی شان والا ہے۔ اے اللہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر برکت نازل کر، جیسا کہ تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام برکت نازل کی، یقینا تو قابل تعریف، بڑی شان والا ہے۔“ (مسند الإمام أحمد : 162/2؛ سنن النسائي : 1290، وسنده حسن)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند کو ’’حسن“ قرار دیا ہے۔ (التلخيص الحبير :268/1) بقیہ تحریر

 از    February 12, 2017

تحریر: ابن الحسن محمدی

(1) سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
البخيل من ذكرت عنده، فلم يصل على .
”جس شخص کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو وہ بخیل ہے۔“ (مسند الإمام أحمد : 201/1؛ سنن الترمذي : 3546؛ فضل الصلاة على النبى للامام إسماعيل القاضي: 32؛ المستدرك على الصحيحين للحاكم :549/1، وسنده حسن)

اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (3546) نے ”حسن صحیح غریب“، امام ابن حبان رحمہ اللہ (909) نے ”صحیح“ اور حاکم رحمہ اللہ نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولا يقصر عن درجة الحسن. بقیہ تحریر

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.