نئے مضامین
 از    December 4, 2016

  تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

جب فرض نماز کی اقامت شروع ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ سنتیں اور نوافل پڑھنا جائز نہیں خواہ صف میں کھڑے ہو کر ادا کیے جائیں یا صف سے پیچھے اور خواہ ادائیگی کے بعد کلام کرے یا نہ کرے، جیسا کہ : 

دلیل نمبر 1 :
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
 إذا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلَاةَ إلَّا الْمَكْتُوبَةَ ”جب فرض نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی ( نفلی ) نماز نہیں ہوتی۔“ ( مسند الإمام أحمد : 331/2، صحیح مسلم : 1644 – 247/1 ح : 710 ) 

یہ حدیث مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح روایت ہوئی ہے، یعنی اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان بھی ثابت ہے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ بھی۔ یہ اصول ہے کہ موقوف روایت مرفوع حدیث کے لیے تقویت کا باعث ہوتی ہے۔ اس مرفوع حدیث میں واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی سنتیں ہوں یا کوئی اور نماز، فرض نماز کی اقامت کے بعد پڑھنا ممنوع ہے۔ بقیہ تحریر

 از    November 29, 2016

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری 

(سوال :) کیا بیٹے کے فوت ہونے یا اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد باپ اس کی بیوی، یعنی اپنی سابقہ بہو سے نکاح کر سکتا ہے؟
(جواب:) بیٹے کے فوت ہو جانے یا اپنی بیوی کو طلاق دے دینے کی صورت میں والد اپنی سابقہ بہو کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنا حرام ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾ (النساء : ۲۳)
’’اور تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں (تمہارے اوپر حرام کر دی گئی ہیں )۔‘‘
لہٰذا سسر اپنی بہو کے ساتھ کسی بھی صورت میں نکاح نہیں کر سکتا۔

بقیہ تحریر

 از    November 23, 2016

تحریر :ابوعبداللہ صارم
 

طائفہ منصورہ، ائمہ محدثین کے خلاف بعض لوگوں نے قرآن و حدیث کےخلاف یہ عقیدہ گھڑ رکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں۔ اس باطل اور انتہائی گمراہ کن عقیدےکےخلاف حدیثی دلائل اختصاراً ملاحظہ فرمائیں : 

دليل نمبر 1 :
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے : 

فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة من الفراش، فالتمسته …
’’ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر سے گم پایا اور ان کو تلاش کرنے لگی۔۔۔“ 
(صحيح مسلم: 192/1، ح:486)  بقیہ تحریر

 از    November 13, 2016

تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

اہل اسلام کے نزدیک حدیث بالاتفاق وحی ہے۔ کوئی صحیح حدیث قرآن کےمعارض و مخالف نہیں بلکہ حدیث قرآنِ کریم کی تشریح و توضیح کرتی ہے۔ اگر کسی کو کوئی صحیح حدیث قرآنِ کریم کے مخالف و معارض نظر آتی ہے تو اس کی اپنی سوچ سمجھ کا قصور ہوتا ہے جیسا کہ کئی قرآنی آیات بظاہر کسی کو ایک دوسرے کے معارض محسوس ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا حدیث کو قرآن پر پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ 

 

مشہور تابعی امام ایوب سختیانی رحمہ اللہ (۶۶۔ ۱۳۱ھ ) فرماتے ہیں : 
إذا حدثت الرجل بسنة، فقال : دعنا من ھذا و أجبنا عن القرآن، فاعلم أنه ضال.
’’جب آپ کسی شخص کے سامنے کوئی حدیث بیان کریں اور وہ کہہ دے کہ اسے چھوڑو، ہمیں قرآن سے جواب دو تو سمجھ لو کہ وہ شخص گمراہ ہے۔ “ 
(معرفة علوم الحديث للحاكم : ص 65، وسنده حسن) 

 

عظیم تابعی سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ (م ۹۵ھ ) کے بارے میں روایت ہے : 
إنه حدث يوما بحديث عن النبي صلي الله عليه وسلم، فقال الرجل: في كتاب ما يخالف ھذا، قال: لا أراني أحدثك عن رسول الله صلي الله عليه وسلم وتعرض فيه بكتاب الله، كان رسول الله صلي الله عليه وسلم أعلم بكتاب الله تعالىٰ فيك.
’’انہوں نے ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی تو ایک شخص نے کہہ دیا : قرآن میں اس کےخلاف بات موجود ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا : میں تجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو اس کے خلاف اللہ کی کتاب پیش کر رہا ہے ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی کتاب کے مندرجات کو تجھ سے بڑھ کر جانتے تھے۔ “ 
(مسند الدارمي : 145/1، وسنه صحيح) 

بقیہ تحریر

 از    November 9, 2016

تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری
دوائی کرنا سنت اور مستحب ہے۔ شفاء اللہ کےحکم سے ہی ہوتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض چیزوں کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے شفاء رکھی ہے۔ ذیل میں ان کا ذکر ملاحظہ فرمائیں : 

(۱) کلونجی : 
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : 
إن فى الحبة السوداء شفاء من كل داء إلا السام
’’کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔“ 
(صحيح بخاري : 5688، صحيح مسلم : 2215) 

(۲) سنائے مکی : 

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
بقیہ تحریر

 از    November 1, 2016

تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

محفلِ میلاد وغیرہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر خیر پر کھڑے ہو جانا بے اصل اور بے ثبوت عمل ہے، جس کی بنیاد محض نفسانی خواہشات اور غلو پر ہے۔ شرعی احکام، قرآن و حدیث اور اجماع امت سے فہمِ سلف کی روشنی میں ثابت ہوتے ہیں۔ ان مصادر میں سے کسی میں بھی اس کا ثبوت نہیں، لہٰذا یہ کام بدعت ہے۔

 

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود اس محفل میں تشریف فرما ہوتے ہیں، بعض کہتے ہیں : ”تاہم یہ بات ممکنات میں سے ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روحانی طور پر محفلِ میلاد میں تشریف لائیں۔“ بعض نے کہا ہے : ”ایسا ہونا گو بصورتِ معجزہ ممکن ہے۔“ وغیرہ۔

 

یہ سب ان لوگوں کے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ قرآن و سنت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔ جاہل صوفیوں میں سے جن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ بیداری کی حالت میں نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں یا نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محفل میلاد میں حاضر ہوتے ہیں یا اس سے کوئی ملتی جلتی بات کرتے ہیں، وہ قبیح ترین غلط بات کہتے ہیں، بدترین تلبیسی پردہ اس پر چڑھاتے ہیں، بہت بڑی غلطی میں مبتلا ہیں اور کتاب و سنت اور اہلِ علم کے اجماع کی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ مردے تو روز قیامت ہی اپنے قبروں سے نکالے جائیں گے، دنیا میں نہیں، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :
﴿ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ۝ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ﴾ (المؤمنون : ۱۵-۱۶)
”پھر تم اس کے بعد ضرور مرنے والے ہو، پھر تم روزِ قیامت زندہ کیئے جاؤ گے۔“

 

اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ مردے روز قیامت ہی زندہ ہوں گے، دنیا میں نہیں۔ جو اس کے خلاف کہتا ہے وہ سفید جھوٹ بولتا ہے ملمع سازی سے غلط بات سناتا ہے۔ وہ اس حق کو نہیں پہچان پایا جسے سلف صالحین نے پہچانا تھا اور جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہ اللہ علیہم چلتے رہے۔

بقیہ تحریر

 از    October 23, 2016

 تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

قارئین کرام ! قرآن و سنت کی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ کسی مسلمان کو کافر کہنا خود کافر ہونے کے مترادف ہے۔ فتنہ تکفیر ( مسلمانوں کو کافر کہنا ) ، غلو پر مبنی ایک عقیدہ و نظریہ ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ واقعی انتہا پسندی ہے۔ لیکن یہ بات بھی زیر غور رہے کہ یہ ایک انتہا ہے۔ اسلام ایک معتدل دین ہے لہٰذا اہل سنت والجماعت اپنے عقیدے و منہج کے اعتبار سے ہمیشہ دو انتہاؤں کے درمیان اعتدال ہی میں رہے ہیں۔ اب اس سلسلے میں دوسری انتہا کیا ہے ؟ بدیہی طور پر فتنہ تکفیر کے برعکس دوسری انتہا یہ ہے کہ کسی ایسے شخص کو بھی مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کرنا جس کے کفر پر قرآن و سنت اور مسلمانوں کے اجماع جیسے ٹھوس دلائل موجود ہوں۔ آئندہ سطور میں استاذ محترم نے اسی دوسری انتہا کے آئینہ دار ایک نظریے ”ایمان ابوطالب“ کو موضوع بحث بنا کر قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے ذریعے اس کا بطلان کیا ہے، نیز اس بارے میں اہل سنت والجماعت کے اتفاقی نظریے کو قرآن و سنت کی روشنی میں ثابت بھی کیا ہے۔ اگر تعصب کی پٹی اتار کا انصاف کی نظر سے اس مضمون کو دیکھا جائے تو یقیناً ایک انتہا پسند سوچ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ہم ابوجہل اور ابوطالب کو ایک ہی صف میں کھڑا نہیں کرتے۔ ابوجہل کے کفر پر مرنے پر ہم بالکل دل گرفتہ نہیں، کیونکہ اس نے اسلام دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا، البتہ ابوطالب یقیناً اسلام دوست تھے، ان کے ایمان لائے بغیر فوت ہونے پر ہمیں بھی صدمہ ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا، لیکن اس سلسلے میں ہم حق و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ سکتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ( حافظ ابو یحییٰ نورپوری )

  بقیہ تحریر

 از    October 14, 2016

تحریر : ابوسعید

ایک میت پر ایک سے زیادہ بار نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ احناف مقلدین کے نزدیک ایسا کرنا جائز نہیں، جبکہ اس کے ثبوت پر بہت ساری احادیث مبارکہ وارد ہوئی ہیں۔

 

۱۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

«أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ»

”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر نمازِ جنازہ ادا کی۔ “ ( صحیح مسلم : 305/1، رقم الحدیث : 955)

 

۲۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :

«أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ بَعْدَ مَا دُفِنَتْ»

”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر دفن کے بعد نماز جنازہ ادا کی۔ “ ( سنن النسائی : 2027، وسندہ حسن)

 

۳۔ امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :

«أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَلَّوْا خَلْفَهُ»

”مجھے اس شخص نے خبر دی جن کا گزر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس ہوا ( سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مراد ہیں )۔کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی امامت کی۔ انہوں نے آپ کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی۔“ ( صحیح بخاری 178/1، ح : 1336، صحیح مسلم : 305/1 : ح : 954)  

بقیہ تحریر

 از    October 3, 2016

تحریر :ابوالحسن المحمدی

اذان کا جواب دینا ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت ہے :

 

«عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ المُؤَذِّنُ»

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تم اذان سنو تو کہو اس کی مثل جو مؤذن کہتا ہے۔“ ( صحیح البخاری : 86/1، ح 611، صحیح مسلم : 166/1، ح : 383)
یہ حدیث صحیح البخاری ( 86/1) میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

 

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جب تم مؤذن کی اذان سنو تو جو وہ کہتا ہے، تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود پڑھو۔ جس نے ایک بار مجھ پر درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا۔ اس کے بعد تم میرے لیے اللہ تعالیٰ سے ”وسیلہ“ کا سوال کرو۔ بے شک یہ جنت میں ایک منزلت ( درجہ ) ہے۔ یہ اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک کے لائق ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں۔ جس نے میرے لیے ”وسیلہ“ کا سوال کیا، اس پر میری شفاعت واجب ہے۔ “ ( صحیح مسلم 166/1، ح 384)

 

ان  دو ”صحیح“ احادیث سے اذان کے جواب کا استحباب اور اجر و ثواب ثابت ہوا ہے۔ نیز ان کے عموم سے پتا چلتا ہے کہ جو کلمات مؤذن کہے، جواب میں وہی کلمات دہرائے جائیں، البتہ ایک دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، اور حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ کے جواب میں ‏‏‏‏ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہا جائے گا۔

بقیہ تحریر

 از    September 24, 2016

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

 

اسلاف پرستی ہی اصنام پرستی ہے۔ دنیا میں شرک اولیاء و صلحاء کی محبت و تعظیم میں غلو کے باعث پھیلا جیسا کہ مشہور مفسر علامہ قرطبی رحمہ اللہ (600-671ھ) فرماتے ہیں : 
فيؤدي إلى عبادة من فيھا كما كان السبب في عبادة الأوثان.
” قبر پرستی اصحاب قبور کی عبادت تک پہنچا دیتی ہے جیسا کہ بت پرستی کا سبب بھی یہی تھا۔ “ 
( تفسیر القرطبی: 380/10)

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 
﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ﴾ 
” اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا اولیاء بنا رکھے ہیں (ان کا کہنا ہے ہے کہ) ہم ان کی صرف اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔ “ (39-الزمر:3)

 

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں امام علامہ ابن جریر طبری رحمہ اللہ (224-310ھ) فرماتے ہیں : 
یَقُولُ تَعَالٰی ذِکْرُہ : ﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾ يَتَوَلَّوْنَهُم, ويعبدونهم من دون الله، يقولون لهم: ما نعبدكم أيها الآلهة إلا لتقربونا إلى الله زُلْفَى, قربة ومنـزلة, وتشفعوا لنا عنده في حاجاتنا.
” اور جو لوگ اللہ کے سوا اولیاء بناتے ہیں وہ یہ کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں وہ ان سے کہتے ہیں کہ اے معبودو! ہم تمہاری عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ تم ہمیں مقام و مرتبے میں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دو اور ہمارے کاموں کے بارے میں اللہ سے سفارش کرو۔ “
( جامع البیان فی تاویل القرآن : 653/9) 

 

آج کا مسلمان اولیاء اور صالحین کی قبروں کے بارے میں وہی عقیدہ رکھتا ہے جو مشرکین مکہ اپنے بتوں کے متعلق رکھتے تھے۔ وہ قبروں سے امیدیں وابستہ رکھے ہوئے ہے۔ آج بندوں کے نام کی دہائی دی جاتی ہے۔ خوشی اور غمی میں ان کو پکارا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ ہماری ان کے آگے اور یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ یہ دستگیر اور غریب نواز ہیں۔ ان کی قبروں کی طرف سفر کیا جاتا ہے۔ منت منوتی پیش کی جاتی ہے۔ نذرانے چڑھائے جاتے ہیں۔ نیازیں تقسیم ہوتی ہیں۔ بالکل یہی وطیرہ مشرکین مکہ کا تھا۔

 

بقیہ تحریر

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.