نئے مضامین
 از    February 22, 2017

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات پر بھی درود پڑھنا مشروع ہے، کیونکہ قرآن و سنت کی رو سے وہ بھی اہل بیت میں شامل ہیں، جیسا کہ:
قرآن کریم کی روشنی میں :
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے خطاب فرماتے ہوئے ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (الأحزاب : 33)
”اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے گناہ کو دور کر کے تمہیں خوب پاک صاف کر دے۔“

اس آیت کی تفسیر میں حبر امت، ترجمان القرآن اور مفسر صحابہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
نزلت فى نساء النبى صلى الله عليه وسلّم خاصة.
”یہ آیت خاص طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے بارے میں نازل ہوئی۔“ (تفسير ابن كثير : 410/6، بتحقيق سلامة، و سندہ حسن)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
من شاء باهلته أنها نزلت فى أزواج النبى صلى الله عليه وسلّم.
”جو مباہلہ کرنا چاہے میں اس کے ساتھ مباہلہ کرنے کے لئے بھی تیار ہوں کہ یہ آیت نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی ازواج مطہرات کے بارے میں نازل ہوئی۔“ (تفسیر ابن کثیر : 411/6، بتحقیق سلامة، و سندہ حسن)

اس آیت کی تفسیر میں اہل سنت کے مشہور مفسر، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وهذا نص فى دخول أزواج النبى صلى الله عليه وسلّم فى أهل البيت هاهنا، لأنهنّ سبب نزول هذه الآية.
”یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے اہل بیت میں شامل ہونے پر نص ہے، کیونکہ ازواج مطہرات ہی اس آیت کے نزول کا سبب ہیں۔“
(تفسیر ابن کثیر : 410/6، بتحقیق سلامة)

نیز فرماتے ہیں:
فإن كان المراد أنهن كن سبب النزول دون غيرهن فصحيح، وإن أريد أنَّهُنَّ المُراد فقط دون غيرهنّ، ففي هذا نظر؛ فإنه قد وردت أحاديث تدل علىٰ أنّ المُراد أعم من ذلك.
”اگر یہ مراد ہو کہ ازواج مطہرات کے علاوہ کوئی بھی اس آیت کے نزول کا سبب نہیں، تو یہ بات صحیح ہے، لیکن اگر کسی کی مراد یہ ہو کہ اہل بیت کے مفہوم میں ازواج مطہرات کے علاوہ کوئی شامل نہیں، تو یہ محل نظر ہے، کیونکہ کئی احادیث بتاتی ہیں کہ اہل بیت کا مفہوم اس سے وسیع ہے۔“ (تفسیر ابن کثیر : 411/6، بتحقیق سلامة)

یعنی یہ آیت اگرچہ ازواج مطہرات کے اہل بیت میں شامل ہونے کو بیان کرتی ہے، لیکن صحیح احادیث کی بنا پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار بھی اہل بیت میں شامل ہیں، بلکہ اگر بیویاں اہل بیت ہیں تو رشتہ دار بالا ولیٰ اہل بیت میں شامل ہیں۔

اسی حوالے سے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ثم الذي لا يشك فيه من تدبر القرآن أن نساء النبي صلى الله عليه وسلم داخلات في قوله تعالى : ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ﴾ ، فإن سياق الكلام معهن ؛ ولهذا قال تعالى بعد هذا كله : ‏ ﴿وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ﴾ أي : اعملن بما ينزل الله على رسوله في بيوتكن من الكتاب والسنة، قاله قتادة وغير واحد، واذكرن هذه النعمة التي خصصتن بها من بين الناس، أن الوحي ينزل في بيوتكن دون سائر الناس، وعائشة الصديقة بنت الصديق أولاهن بهذه النعمة، وأحظاهن بهذه الغنيمة، وأخصهن من هذه الرحمة العميمة، فإنه لم ينزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم الوحي في فراش امرأة سواها، كما نص على ذلك صلوات الله وسلامه عليه، قال بعض العلماء، رحمه الله : لأنه لم يتزوج بكرا سواها، ولم ينم معها رجل في فراشها سواه، فناسب أن تخصص بهذه المزية، وأن تفرد بهذه الرتبة العلية، ولكن إذا كان أزواجه من أهل بيته، فقرابته أحق بهذه التسمية، كما تقدم في الحديث : ”وأهل بيتي أحق“، وهذا يشبه ما ثبت في صحيح مسلم : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما سئل عن المسجد الذي أسس على التقوى من أول يوم، فقال : ”هو مسجدي هذا“، فهذا من هذا القبيل، فإن الآية إنما نزلت في مسجد قباء، كما ورد في الأحاديث الأخر، ولكن إذا كان ذاك أسس على التقوى من أول يوم، فمسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم أولى بتسميته بذلك . والله أعلم
”پھر قرآنِ کریم میں تدبر کرنے والا جس چیز میں شبہ نہیں کر سکتا، وہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں داخل ہیں : ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ﴾ ”اے اہل بیت ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے گناہوں کو دور کر کے تمہیں خوب پاک صاف کر دے“، کیونکہ سیاق کلام ازواج مطہرات رضی اللہ اللہ عنہن (والے مفہوم) کے ساتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ساری بات کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ﴾ ”اے نبی کی ازواج ! تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت میں سے جو پڑھا جاتا ہے تم اس کو یاد کرو“ ، یعنی کتاب و سنت کی جو نصوس اللہ تعالیٰ تمہارے گھروں میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرماتا ہے، ان پر عمل کرو۔ امام قتادہ تابعی رحمہ اللہ سمیت کئی ایک اہل علم نے یہ تفسیر کی ہے۔ مراد یہ ہے کہ اے نبی کی ازواج ! اس نعمت کو یاد کرو، جو باقی لوگوں کی نسبت خاص تمہیں نصیب ہوئی ہے کہ وحی صرف تمہارے گھروں میں نازل ہوتی ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس نعمت میں سب سے آگے تھیں، سب سے بڑھ کر اس غنیمت سے فائدہ اٹھائے والی تھیں اور اس بے بہا رحمت کا سب سے زیادہ حصہ پانے والی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ کے بستر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی نہیں آئی، سوائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جیسا کہ خود آپ صلى الله عليه وسلم نے صراحت کے ساتھ یہ بیان فرمایا ہے۔ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ اس خصوصیت کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی، اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی مرد سے خلوت نہیں کی، چنانچہ ان کی شخصیت اس امتیاز کے ساتھ خاص ہونے اور اس بلند رتبے میں منفرد ہونے کے زیادہ مناسب تھی۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اہل بیت میں سے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار اہل بیت کہلانے کے زیادہ حق دار ہیں، جیسا کہ حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان ہو چکا ہے کہ میرےگھر والے (اہل بیت ہونے کے) زیادہ حق دار ہیں۔ یہ معاملہ صحیح مسلم میں مذکور اس معاملے سے ملتا جلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا کہ قرآنِ کریم میں جس مسجد کے بارے میں ذکر ہے کہ وہ پہلے دن سے تقویٰ پر استوار کی گئی تھی، وہ کون سی مسجد ہے؟ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اس سے مراد میری یہ مسجد (مسجد نبوی) ہے۔ حالانکہ یہ آیت تو مسجد قباء کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ لیکن چونکہ مسجد نبوی پہلے دن سے تقویٰ پر استوار کی گئی تھی، لہذا یہ اس نام کی زیادہ حق دار تھی۔ اہل بیت کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہے (کہ اگرچہ قرآن میں ازواج مطہرات کو اہل بیت کہا گیا، لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے ہونے کی بنا پر اہل بیت میں شامل ہیں)۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر : 415/6، 416، بتحقیقی سلامة)

 از    February 15, 2017

تحریر: ابوعبد الله صارم

(1) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، کہنے لگے: کیا میں آپ کو عظیم الشان تحفہ نہ دوں، جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے، میں نے عرض کیا: جی ضرور! کہنے لگے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! آپ کے اہل بیت پر کیسے درود بھیجا جائے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر سلام کے متعلق تو تعلیم دے دی ہے (درود کے متعلق نہیں) ؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درود یوں پڑھا کرو:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
”اے اللہ! محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر رحمت نازل کر، جیسا کہ تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت نازل کی، یقینا تو قابل تعریف، بڑی شان والا ہے۔ اے اللہ! محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر برکت نازل کر، جیسا کہ تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر برکت نازل کی، یقینا تو قابل تعریف، بڑی شان والا ہے۔“ (صحیح البخاری : 3370؛ صحیح مسلم : 406)
(2) سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! آپ پر درود کیسے پڑھا جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ سکھائے :
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
”اے اللہ! محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر رحمت نازل کر، جیسا کہ تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر رحمت نازل کی، یقیناً تو قابل تعریف، بڑی شان والا ہے۔ اے اللہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر برکت نازل کر، جیسا کہ تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام برکت نازل کی، یقینا تو قابل تعریف، بڑی شان والا ہے۔“ (مسند الإمام أحمد : 162/2؛ سنن النسائي : 1290، وسنده حسن)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند کو ’’حسن“ قرار دیا ہے۔ (التلخيص الحبير :268/1) بقیہ تحریر

 از    February 12, 2017

تحریر: ابن الحسن محمدی

(1) سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
البخيل من ذكرت عنده، فلم يصل على .
”جس شخص کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو وہ بخیل ہے۔“ (مسند الإمام أحمد : 201/1؛ سنن الترمذي : 3546؛ فضل الصلاة على النبى للامام إسماعيل القاضي: 32؛ المستدرك على الصحيحين للحاكم :549/1، وسنده حسن)

اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (3546) نے ”حسن صحیح غریب“، امام ابن حبان رحمہ اللہ (909) نے ”صحیح“ اور حاکم رحمہ اللہ نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولا يقصر عن درجة الحسن. بقیہ تحریر

 از    February 9, 2017

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے۔ یہ عقیدہ قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اس کے برعکس بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہراً بشر تھے اور حقیقت میں نور تھے۔ دلائل سے عاری یہ عقیدہ انتہائی گمراہ کن اور کفریہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنس بشریت سے ہونے کا کوئی انکار نہیں کر سکتا، اسی لیے رافضی اور اس دور کے جہمی صوفی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشریت کالبادہ اوڑھ رکھا تھا۔

یہ بات غور کرنے کی ہے کہ مشرکین مکہ اور پہلی امتوں کے کفار کو انبیائے کرام علیہم السلام پر ایمان لانے میں مانع یہی بات تھی کہ ان کی طرف آنے والے نبی جنس بشریت سے تعلق رکھتے تھے۔ ہر دور کے کفار بشریت کو نبوت و رسالت کے منافی خیال کرتے تھے۔ آج کے دور میں بھی بعض لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت سے انکاری ہیں۔ دراصل یہ ایک بڑی حقیقت کا انکار ہے۔ جب کفار مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کو بہانہ بنانا چاہا تو قرآنِ کریم نے یہ نہیں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہیں لہٰذا ایمان لے آؤ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات  بینات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔

ایک مقام پر فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
﴿وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى إِلَّا أَنْ قَالُوا أَبَعَثَ اللَّـهُ بَشَرًا رَسُولًا * قُلْ لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَسُولًا﴾ (17-الإسراء:94،95)
 ’’اور لوگوں کے پاس ہدایت آ جانے کے بعد ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے روکا کہ انہوں نے کہا: کیا اللہ نے بشر رسول بھیجا ہے ؟ کہہ دیجیے : اگر زمین میں فرشتے ہوتے جو یہاں مطمئن ہو کر چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول بنا کر نازل کرتے۔“

بقیہ تحریر

 از    February 3, 2017

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری 
(1) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
من صلى على واحدة؛ صلَّي الله عليه عشرا .
”جو آدمی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“ 
(صحيح مسلم : 408) 

دوسری روایت یوں ہے:
من صلى على مرة واحدة؛ كتب الله عزوجل له بها عشر حسنات .
”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں۔“ 
(مسند الامام أحمد : 262/2، وسنده حسن، و صححه ابن حبان : 905) 

(2) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: 
من صلّى على صلاة واحدة؛ صلى الله عليه عشر صلوات، وحط عنه بها عشر سيئات، ورفعه بها عشر درجات .
”جو آدمی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، اس کی دس خطائیں مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجے بلند کر دیتا ہے۔“ 
(مسند الإمام أحمد : 102/3،261؛ عمل اليوم والليلة للنسائي: 62، واللفظ له، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ 
(904) نے ”صحیح“، جب کہ امام حاکم رحمہ اللہ (550/1) نے ”صحیح الاسناد‘‘ قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اس پر ’’صحیح‘‘ کا حکم لگایا ہے۔ 

* مستدرک حاکم کے یہ الفاظ ہیں: 
من صلّى على صلاة، صلى الله عليه وسلم عشر صلوات، وحط عنه عشر خطيئات .
”جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑ ھتا ہے، اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے دس گناہ معاف فرما دیتا ہے۔“
امام ابن حبان رحمہ اللہ 
(907 ) نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ 

بقیہ تحریر

 از    January 28, 2017

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : 
﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ (الشرح 94 : 4)
” (اے نبی ! ) ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کیا۔“ 
اہل علم اس کے تین معانی بیان کرتے ہیں؛ 
(1) نبوت و رسالت کے لازوال اعزاز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کو بلندی نصیب فرمائی۔ 
(2) آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو بلند کیا، جیسا کہ دنیا میں بلندی عطا فرمائی۔ 
(3) اللہ تعالی کے ذکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر ہو گا۔ 
٭ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
أتاني جبريل، فقال : إن ربى وربّك يقول : كيف رفعت لك ذكرك ؟ قال : الله أعلم، قال : إذا ذكرت ذكرت معي . 
 ”جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بتایا : آپ کا اور میرا رب فرماتا ہے : میں نے آپ کا ذکر کیسے بلند کیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ آپ کا ذکر بھی کیا جائے گا۔“ (تفسیر الطبری : 235/30)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3382) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر درود و سلام پڑھنا ایک مومن کا حق ہے، جو ماں باپ کے حق سے بڑھ کر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی قدر پر درود و سلام پڑھنا دراصل حکم الہیٰ کی تعمیل ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ محبت و عقیدت کی علامت و نشانی ہے، کیوں کہ محب اپنے محبوب کے ذکر خیر میں مشغول رہتا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر خیر سے کوئی غافل ہی محروم ہو سکتا ہے۔ یہ مبارک عمل اللہ اور اس کے فرشتوں کی سنت ہے۔ 
بقیہ تحریر

 از    January 24, 2017

تحریر: امام محمد بن علی الشوکانی

بت پرستی اور قبر پرستی کا آغاز 
سب سے پہلے بت پرستی اور قبر پرستی کی  بیماری قوم نوح میں آئی۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
﴿قَالَ نُوحٌ رَبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَنْ لَمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا * وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا * وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾ (71-نوح: 21، 22، 23)
” (کفار سے مایوس ہو کر) حضرت نوح علیہ السلام یوں دعا کرنے لگے۔ پروردگا! (یہ کافر لوگ) میری بات نہیں مانتے۔ یہ ان (بتوں) کی پیروی کرنے پر اصرار کرتے ہیں جو ان کے مال و دولت اور اولاد میں افزائش کرنے سے عاجز ہیں۔ البتہ ان کی نحوست سے ان (کفار) کا نقصان ہوتا ہے۔ ان لوگوں نے (میرے ساتھ) بڑے بڑے دعوے کئے ہیں۔ یہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں تم اپنے معبودوں (کی پوجا) سے ہرگز باز نہ آنا خاص کر سواع، یعوق، یغوث اور نسر کی عبادت پر ڈٹے رہنا‘‘۔ 

یہ حضرت آدم الله عليه السلام کی اولاد میں سے نیک لوگ تھے۔ ان کی زندگی میں یہ لوگ ان کے پیروکار تھے۔ جب یہ فوت ہو گئے تو ان کے پیروکاروں نے اکٹھے ہو کر آپس میں مشورہ کیا کہ ہم ان کی تصویریں اور مجسمے بنائیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے عبادت میں زیادہ شوق پیدا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے ان بزرگوں کی تصویریں اور مجسمے بنائے۔ جب یہ لوگ اس عالم آب و گل سے رختِ سفر باندھ کر ملك عدم میں چلے گئے اور ان کی اولادیں بڑی ہوئیں تو ان سے کہا گیا کہ وہ ان کی پوجا کیا کرتے تھے اور ان سے بارش طلب کرتے تھے۔ اس کی بات سن كر ان کے پرستار بن گئے آہستہ آہستہ تمام عرب ان کا پجاری بن گیا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے مذکور ہے کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں سے صالح اور نیک انسان تھے۔ جب یہ فوت ہو گئے تو ان کے پیروکاران کی قبروں پر مجاور بن کر بیٹھ گئے۔ پھر ان کی تصویریں اور مجسمے بنائے، پھر کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان کی عبادت شروع کر دی گئی۔ (صحیح بخاری: کتاب التفسیر) 

اس بات کی تصدیق صحیحین اور دیگر کتب حدیث کی اس روایت سے ہوتی ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکور ہے۔ بقیہ تحریر

 از    January 16, 2017

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

نماز کے لیے صفوں کو سیدھاکرنا، صفوں کے درمیان فاصلہ کم رکھنا، صف میں کندھوں کو برابر رکھنا، ٹخنے سے ٹخنا ملانا اور پاؤں کے ساتھ پاؤں ملانا سنت ہے۔ صحابہ کرام اور ائمہ سلف صالحین ہمیشہ اس کےعامل رہے ہیں۔ احادیث رسول میں صف بندی کے بارے میں احکامات بڑی تاکید سے بیان ہوئے ہیں، ملاحظہ فرمائیں : 

(1) سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : 
قَالَ : أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا ؟ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا ؟ قَالَ : يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم اس طرح کیوں صفیں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے ہاں صفیں بناتے ہیں ؟“ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! فرشتے اپنے رب کے ہاں کیسے صفیں بناتے ہیں ؟ فرمایا : ”وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے یوں مل کر کھڑے ہوتے ہیں کہ درمیان میں کوئی فاصلہ باقی نہیں رہتا۔“
(صحیح مسلم : 180/1، ح430) 

(2) سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : 
 كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح مناكبنا فى الصلاة ويقول: ”استووا، ولا تختلفوا، فتختلف قلوبكم“، . . . قال أبومسعود : فأنتم اليوم أشد اختلافا . 
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (کی صفوں ) میں ہمارے کندھوں کو ہاتھوں سے برابر کرتے اور فرماتے : سیدھے ہو جاؤ، ٹیڑھے نہ ہو جاؤ، ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔۔۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آج تم (صفوں کی درستی میں سستی کی بناء پر) سخت اختلاف کا شکار ہو۔“ (صحيح مسلم : 181/1، ح 432) 

بقیہ تحریر

 از    January 14, 2017

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

 علم غیب اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ یہ اہل سنت و الجماعت کا اتفاقی و اجماعی عقیدہ ہے۔ اس اجماعی عقیدے کے خلاف نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے کے نظریے کی اسلام میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ 

نصاریٰ اور روافض کا نظریہ : 
انبیا کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ اسلاف امت میں کسی سے بھی ثابت نہیں ، بلکہ یہ نصاریٰ اور روافض سے ماخوذ ہے، جیسا کہ:
علامہ ، عبدالرحمن بن عبداللہ ، سہیلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
فَلِذٰلكَ كَانَ الْمسِيحُ عندھم يعلم الغيب، ويخبر بما فى غد، فلما كان ھٰذَا منْ مذھب النصاري الكذبة على الله، المدعين المحال
”اسی لیے نصاریٰ کے ہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام عالم الغیب تھے اور آئندہ کی باتوں کی خبر دیتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور ناممکنات کا دعویٰ کرنے والے نصاریٰ کا یہ حال تھا، تو۔۔۔“ 
(الروض الأنف : 404/2، عمدة القاري للعيني الحنفي : 55/1) 

قرآنی دلیل : 
اب اس عقیدے کے متعلق قرآنی دلیل ملاحظہ فرمائیں :
ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

بقیہ تحریر

 از    January 3, 2017


(1) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے : أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ’’ میں شیطان مردود کے شر سے بہت عظیم اللہ، اس کے معزز چہرے اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ میں آتا ہوں۔ “ (سنن ابي داود : 466، وسنده صحيح) 

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب کوئی یہ دعا پڑھ لے تو شیطان کہتا ہے : حفظ مني سائر اليوم ’’ یہ سارا دن مجھ سے محفوظ کر لیا گیا ہے۔ “ 

(2) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جو کوئی مسجد میں داخل ہو، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے : اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أبْوَابَ رَحْمَتِكَ ’’ اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ “ 

اور جو کوئی مسجد سے نکلے، وہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے : اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم ’’ اے اللہ ! مجھے شیطان مردود سے محفوظ رکھنا۔ “ (سنن ابن ماجه : 773، وسنده صحيح) 

نوٹ: یہ دعائیں پڑھنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان الفاظ سے پڑھنا چاہیے: السَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ۔

 

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.