نئے مضامین
 از    June 21, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : مسند ابی داؤد طیالسی میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تمہارے اعمال تمہارے رشتہ داروں اور قرابت داروں پر ان کی قبروں میں پیش کیے جاتے ہیں، پس اگر نیکیاں ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر کچھ غیر صالح اعمال ہوں تو وہ کہتے ہیں : ’’ اے اللہ ! تو انہیں توفیق دے کہ وہ تیری اطاعت والے کام کریں۔ “ [مسند ابي داؤد طيالسي 1903 ، مسند احمد 3 / 165 ] کیا یہ روایت صحیح ہے اور ہمارے اعمال واقعتاً ہمارے رشتہ داروں پر ان کی قبروں میں پیش کیے جاتے ہیں ؟
جواب : مذکورہ بالا روایت صحیح نہیں ہے، انتہائی کمزور ہے، اس کی سند میں صلت بن دینار راوی کو امام احمد، امام یحییٰ بن معین، امام عبدالرحمن بن مہدی، امام بخاری، امام جوزجانی، امام دارقطنی اور امام نسائی وغیرہم نے ضیعف و متروک قرار دیا ہے، کسی بھی محدث نے اس کی توثیق نہیں کی۔ [ميزان الاعتدال : 1/ 318]

اسی طرح اس کی سند میں حسن راوی کی تدلیس بھی ہے لہٰذا یہ روایت کسی طرح بھی درست نہیں کہ ہمارے تما م اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔

 

 از    June 21, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : میلوں ٹھیلوں کی زینت بننا اسلام میں کیسا ہے ؟ اور کیا ایسے مقامات پر تقسیم ہونے والی اشیاء کھانا جائز ہے ؟
جواب : اسلام میں میلوں ٹھیلوں کا کوئی تصور نہیں ہے کہ موجودہ دور میں جو عرس اور میلے قائم کیے جاتے ہیں ان کی قباحتیں کسی بھی ذی شعور پر مخفی نہیں، ڈھول باجے، سرنگیاں، بھنگڑے، جوئے، شراب اور افیون وغیرہ جیسی حرام چیزوں کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے، ایسی محفلوں میں شرکت کرنا گناہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ میلوں کا بندوبست کیا کرتے تھے، جسے آج کے مسلمان کہلوانے والے افراد نے کثرت سے اپنا لیا ہے اور میلوں میں اللہ کے علاوہ صاحب قبر کو سجد ہ کرنے والے لوگ بھی ہوتے ہیں جو صریح شرک ہے۔ سجدہ صرف اللہ کی ذات کے لیے ہے۔ ایسے مقامات پر اللہ کے نام پر بھی کوئی چیز نہیں دینی چاہیے، ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
’’ ایک آدمی نے نذر مانی کہ وہ بوانہ مقام پر اونٹ نحر کرے گا تو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تو نہیں جس کی عبادت کی جاتی ہو ؟ “ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ’’ نہیں۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اپنی نذر پوری کر لے اور یاد رکھو اللہ کی نافرمانی میں نذر کو پورا نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کو پورا کیا جائے گا جس کا ابن آدم مالک نہیں۔ “ [ ابوداؤد، كتاب الايمان و النذور : باب ما يؤ مربہ من وفاء النذر 3313، بيهقي 10 / 83 ]

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ میلوں کا اسلام میں کوئی تصور نہیں، جہاں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت ہو وہاں اللہ کے نام پر نذر چڑھانا بھی جائز نہیں۔ جب نذر چڑھانا جائز نہیں تو اس کا کھانا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ سے دعا کی :
’’ اے اللہ ! میری قبر کو وثن (بت) نہ بنانا، اللہ کی لعنت ہو ایسی اقوام پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ “ [ مسند حميدي : 1025، مسند احمد 2/ 246 ]
بقیہ تحریر

 از    June 21, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : کلمہ طیبہ ’’ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کسی ایک حدیث سے ثابت ہے یا نہیں اور اگر نہیں تو پھر ہم تک یہ کیسے پہنچا ؟ نیز کسی غیر مسلم آدمی کو مسلمان ہونے کے لیے انہی الفاظ میں توحید و رسالت کا اقرار کرنا ہو گا یا اس کے لیے کوئی اور الفاظ بھی قرآن و حدیث میں موجود ہیں ؟
جواب : اسلام میں داخل ہونے کے لیے جو کلمات پڑھائے جاتے ہیں وہ دو شہادتوں کا اقرار یعنی اللہ تبارک و تعالیٰٰ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی ہے اور یہ بات کتب احادیث سے ثابت ہے۔ صحیح بخاری میں ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ مفصل مذکور ہے۔ انہوں نے بیت اللہ میں جا کر بلند آواز سے کہا:
اشهد ان لا إله إلا الله،‏‏‏‏ وان محمدا رسول الله
’’ میں تو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت و گواہی دیتا ہوں۔ “ [صحيح بخاري، كتاب مناقب الانصار : باب سلام ابي ذرالغفاري رضى الله عنه 3861 ]

اسی طرح عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث کتب احادیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله
’’ مجھے حکم دیا گیا کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں۔ “ [بخاري كتاب الاايمان : باب فان تابوا و اقاموااصلوة الخ 25، مسلم كتاب الايمان : باب الامر بقتال الناس الخ 20 ]
بقیہ تحریر

 از    June 21, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : کیا استطاعت سے باہر نذر کو پورا کر نا ضرور ی ہے ؟
جواب : اگر کوئی آدمی ایسی نذر مان بیٹھے جس کی اسے استطاعت نہ ہو اور وہ اسے پورا نہ کر سکتا ہو تو اس کے لیے ایسی نذر پوری کرنا جائز نہیں۔

❀ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
ان النبي صلى الله عليه وسلم راى شيخا يهادى بين ابنيه فقال : ما بال هذا ؟ قالوا : نذر ان يمشي قال : إن الله عن تعذيب هذا نفسه لغني وامره ان يركب
’’ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کا سہارا لے کر چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ یہ کیا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : اس نے نذر مانی ہے کہ وہ پیدل چل کر جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰٰ اس کے اپنے نفس کو عذاب دینے سے بے پروا ہے۔ “ تو آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔ “ [ بخاري كتاب جزاء الصيد : باب من نذر المشي الي الكعبة 1865، 6701، مسلم 1242، مسند احمد 3/ 114، ابوداؤد 3301، ترمذي 1537، نسائي 3883، ابن الجارود 939، بيهقي 10/ 78 ]

❀ سنن نسائی میں ہے :
نذر ان يمشي إلى بيت الله
’’ اس آدمی نے بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی تھی۔ “ [نسائي، كتاب الايمان و النذور : باب ما الواجب على من اوجب على نفسه نذرا فعجز عنه 3883 ]

❀ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من نذر نذرا لم يسمه، ‏‏‏‏‏‏فكفارته كفارة يمين، ‏‏‏‏‏‏ومن نذر نذرا في معصية، ‏‏‏‏‏‏فكفارته كفارة يمين، ‏‏‏‏‏‏ومن نذر نذرا لا يطيقه، ‏‏‏‏‏‏فكفارته كفارة يمين
’’ جس نے ایسی نذر مانی جس کا نام نہ لیا اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جس نے ایسی نذر مانی جس کو پورا کرنے کی اسے طاقت نہ ہو اس کا کفاوہ بھی قسم کا کفارہ ہے۔ “ [ابوداؤد، كتاب الايمان والنذور : باب من نذر نذرا لا يطيقه 3322 ] بقیہ تحریر

 از    June 14, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ اللہ کے پکڑے کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم چھڑا لیں گے جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پکڑے کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ تو پوچھنا میں یہ چاہتا ہوں کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی اللہ کی مرضی پر حاوی ہے ؟
جواب : یہ عقیدہ درست نہیں ہے،
❀ حدیث میں آتا ہے :
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رجلاً قال للنبي صلى الله عليه وسلم: ما شاء الله وشئت، فقال: له النبى صلى الله عليه وسلم أجعلتني لله عدلا ؟ بل ما شاء الله وحده
’’ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو اللہ چاہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں۔“ تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! کیا تو نے مجھے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ؟ بلکہ جو اللہ اکیلا چاہے۔“
↰ یہ روایت اجلح عبداللہ کی وجہ سے حسن ہے۔

❀ یہ حدیث اس طرح بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا حلف احدكم فلا يقل ما شاء الله وشئت ولكن ليقل ما شاء الله ثم شئت
’’ جب تم میں کوئی حلف اٹھائے تو یہ نہ کہے جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں لیکن یوں کہے جو اللہ چاہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں۔“ [سلسله الاحاديث الصحيحة 136، 139، سنن ابن ماجه، كتاب الكفارات : باب النهي ان يقال ماشاء الله و شئت 2 / 200، 2117] بقیہ تحریر

 از    June 12, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : کیا قبروں پر جانور ذبح کرنا یا نذر و نیاز چڑھانا جائز ہے ؟
جواب : نذر و نیاز اور تقرب کی غرض سے جانور ذبح کرنا عبادت ہے اور اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت جائز نہیں۔
✿ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ [6-الأنعام:162، 163]
’’ کہہ دیجئے ! بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے بات ماننے والا ہوں۔“

✿ ایک اور مقام پر فرمایا :
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ [108-الکوثر:2]
’’ اپنے رب کی خاطر نماز پڑھ اور قربانی کر۔“

✿ ایک اور جگہ فرمایا :
لَنْ يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ [22-الحج:37]
’’ اللہ تعالیٰ کو ان جانوروں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا لیکن اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔“
بقیہ تحریر

 از    June 12, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : کیا ترمذی میں ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خطبہ دیا اور کہا: من يطع الله ورسوله فقد رشد، ‏‏‏‏‏‏ومن يعصهما فقد غوى ’’ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت پا گیا اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمرا ہ ہو گیا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بئس الخطيب انت، ‏‏‏‏‏‏قل ومن يعص الله ورسوله ’’ تو برا خطیب ہے تو کہہ جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔“ نیز اس ممانعت کی وجہ کیا ہے ؟
جواب : یہ حدیث کئی ایک کتب احادیث [ صحيح مسلم، كتاب الجمعة، باب تخيف الصلاة والخطبة : 870۔ نسائي، كتاب النكاح، باب ما يكره من الخطبة : 3281۔ ابوداؤد، كتاب الصلاة، باب الرجل يخطب على قوس : 1099۔ كتاب الادب : 4981۔ مسند احمد : 4/ 256۔ بيهقي : 1/ 86، 3/ 216۔ مستدرك حاكم : 1/ 289] میں مطول و مختصر مروی ہے۔ ترمذی شریف میں مجھے یہ روایت نہیں ملی۔
اس روایت میں جو من يعصهما فقد غوي ”جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا“ کے الفاظ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہنے والے کو جو کہا کہ ’’ تو برا خطیب ہے، اس کی شارحین حدیث کئی وجوہات بیان کر تے ہیں : بعض نے کہا: کہ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ضمیر میں جمع کر دیا۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے کہ کیونکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سکھایا اس میں مذکور ہے :
من يطع الله ورسوله فقد رشد، ‏‏‏‏‏‏ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا [سنن ابي داود : 1097]

اسی طرح قرآن کریم میں بھی ہے :
إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ [ 33-الأحزاب:56]
بقیہ تحریر

 از    June 12, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : ہمارے کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی کی تقدیر ہی میں برائی لکھی ہے تو پھر اس برائی کے کرنے پر عذاب اور گناہ کیوں ملے گا ؟ حالانکہ وہ تو مجبور تھا۔ اس مسئلہ کی وضاحت سے ہماری تشفی فرما دیں۔
جواب : تقدیر کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن کے متعلق بحث و تمحیص شرعاً منع ہے، کیونکہ اس کے متعلق بحث و تکرار سے اجر کی محرومی، بدعملی اور ضلالت کے سوا کچھ حاصل نہیں۔ ایک حدیث میں ہے :
خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على اصحابه وهم يختصمون في القدر فكانما يفقا في وجهه حب الرمان من الغضب فقال : بهذا امرتم او لهذا خلقتم ؟ تضربون القرآن بعضه ببعض بهذا هلكت الامم قبلكم
’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس آئے اور دیکھا کہ وہ مسئلہ تقدیر پر بحث کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر اس قدر غصے میں آ گئے کہ معلوم ہوتا تھا گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑ دئیے گئے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ کیا تم اس کا حکم دیے گئے ہو یا تم اس کام کے لیے پیدا کئے گئے ہو ؟ اللہ کے قرآن کی بعض آیات کو بعض کے ساتھ ٹکڑاتے ہو ؟ (یاد رکھو ! ) اسی وجہ سے تم سے پہلی امتیں ہلاک ہو گئیں۔“ [ابن ماجه، باب فى القدر : 85، منصف عبدالرزاق : 11/ 216، 20367، مسند احمد 2/ 178]
↰ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندر کئی مقامات پر بیان کیا ہے کہ ہم نے خیر و شر دونوں کا راستہ دکھا دیا ہے اور انسان کو اختیار دیا ہے کہ جس راستے کو چاہے اختیار کرے۔
✿ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا [ 76-الإنسان:3]
’’ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا ہے خواہ وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔“

✿ ایک اور مقام پر فرمایا : بقیہ تحریر

 از    June 4, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : مسند ابی داؤد طیالسی میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تمہارے اعمال تمہارے رشتہ داروں اور قرابت داروں پر ان کی قبروں میں پیش کیے جاتے ہیں، پس اگر نیکیاں ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر کچھ غیر صالح اعمال ہوں تو وہ کہتے ہیں : ’’ اے اللہ ! تو انہیں توفیق دے کہ وہ تیری اطاعت والے کام کریں۔ “ [مسند ابي داؤد طيالسي 1903 ، مسند احمد 3 / 165 ] کیا یہ روایت صحیح ہے اور ہمارے اعمال واقعتاً ہمارے رشتہ داروں پر ان کی قبروں میں پیش کیے جاتے ہیں ؟
جواب : مذکورہ بالا روایت صحیح نہیں ہے، انتہائی کمزور ہے، اس کی سند میں صلت بن دینار راوی کو امام احمد، امام یحییٰ بن معین، امام عبدالرحمن بن مہدی، امام بخاری، امام جوزجانی، امام دارقطنی اور امام نسائی وغیرہم نے ضیعف و متروک قرار دیا ہے، کسی بھی محدث نے اس کی توثیق نہیں کی۔ [ميزان الاعتدال : 1/ 318]

اسی طرح اس کی سند میں حسن راوی کی تدلیس بھی ہے لہٰذا یہ روایت کسی طرح بھی درست نہیں کہ ہمارے تما م اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔

 

 از    June 3, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : ہم عام طور پر زمانے کو برا کہتے ہیں کہ زمانہ ہی ایسا برا آ گیا ہے، کیا یہ کہنا درست ہے کہ زمانہ بہت برا آ گیا ہے ؟
جواب : زمانہ جاہلیت میں جب مشرکین عرب کو کوئی دکھ، غم، شدت و بلا پہنچتی تو وہ کہتے : يا خيبة الدهر یعنی ہائے زمانے کی بربادی ! وہ ان افعال کو زمانے کی طرف منسوب کرتے اور زمانے کو برا بھلا کہتے اور گالیاں دیتے حالانکہ ان افعال کا خالق اللہ جل جلالہ ہے تو گویا انہوں نے اللہ تعالی کو گالی دی۔

امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے سورہ جاثیہ کی تفسیر میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
كان اهل الجاهليه يقولون انما يهلكنا الليل والنهار وهو الذي يهلكنا يميتنا ويحيينا فقال الله في كتابه وقالوا ما هي الا حياتنا الدنيا نموت ونحيا وما يهلكنا الا الدهر [تفسیر ابن کثیر : 4/ 109]
’’ اہل جاہلیت کہتے تھے کہ ہمیں رات اور دن ہلاک کرتا ہے، وہی ہمیں مارتا اور زندہ کرتا ہے۔ “ تو اللہ تعالی ٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا : ’’ انہوں نے کہا ہماری زندگی صرف اور صرف دنیا کی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی ہلاک کر تا ہے۔ دراصل انہیں اس کی خبر نہیں یہ تو صرف اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں۔ “

* اس آیت کی تفسیر سے معلوم ہوا کہ زمانے کو برا بھلا کہنا اور اپنی مشکلات اور دکھوں کو زمانے کی طرف منسوب کر کے اسے برا بھلا کہنا مشرکین عرب اور دھریہ کا کام ہے۔ دراصل زمانے کو برا بھلا کہنا اللہ تعالی کو برا بھلا کہنا ہے۔ صحیح بخاری میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
قال الله عز وجل:‏‏‏‏ يؤذيني ابن آدم يسب الدهر، ‏‏‏‏‏‏وانا الدهر بيدي الامر اقلب الليل والنهار
’’ اللہ تعالی نے فرمایا : ’’ ابن آدم مجھے اذیت دیتا ہے، وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور میں (صاحب) زمانہ ہوں۔ میرے ہاتھ میں معاملات ہیں۔ میں رات اور دن کو بدلتا ہوں۔ “ [بخاري، كتاب التفسير : باب تفسير سوره جاثيه : 4826، مسلم : 2246، حميدي : 2/ 468، مسند احمد : 2/ 238، ابوداؤد : 5274]

اسی طرح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا تسبوا الدهر فان الله هو الدهر
بقیہ تحریر

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.