نئے مضامین
 از    November 19, 2017

فتویٰ : مفتی اعظم سعودی عرب شیخ محمد بن صالح عثیمین

سوال : اللہ تعالىٰ نے ہمارے لئے ”کراماً کاتبین“ کو پیدا فرمایا، وہ ہمارے ہر قول و عمل کو احاطہ تحریر میں لاتے ہیں۔ جب یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالىٰ ہماری تمام ظاہری و پوشیدہ حرکات وسکنات سے بخوبی آگاہ ہیں تو پھر ان کے پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے؟
جواب : ایسے امور کی حکمت بعض اوقات تو ہم پر عیاں ہو جاتی ہے جبکہ کبھی ایسا نہیں بھی ہوتا، بلکہ اکثر معاملات کی حکمت سے ہم آگاہ نہیں ہیں۔ جس طرح کہ اللہ تعالىٰ کا فرمان ہے:
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا [17-الإسراء:85]
”یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجئیے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں تو بہت کم علم دیا گیا ہے۔“
مخلوقات کو ذرا غور سے دیکھیں اگر کوئی شخص مجھ سے دریافت کرے کہ اونٹ کو اس طرح بنانے میں، گھوڑے کو اس انداز میں پیدا کرنے میں، گدھے کو یہ شکل دینے اور انسان کو ایسی ساخت عطا کرنے میں کون سی حکمت کارفرما ہے؟ اسی طرح اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ آخر نماز ظہر ، عصر اور عشاء کی چار رکعتیں فرض کرنے میں اللہ تعالىٰ کی کیا حکمت ہے؟ وغیرہ وغیرہ تو ہم اس کی حکمت نہیں جانتے اور نہ ہی کچھ بتا سکتے ہیں کیونکہ سائل یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ وہ آٹھ یا چھ کیوں نہیں.
اس سے معلوم ہوا کہ اکثر شرعی امور کی حکمت ہم پر مخفی ہے۔ جب بات ایسی ہی ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر اللہ تعالىٰ کی توفیق سے بعض مخلوقات اور شرعی امور کی حکمت پا لیں تو یہ محض اللہ تعالىٰ کے بے پایاں فضل و کرم اور اس کے عطا کردہ علم و عرفان کا نتیجہ ہو گا۔ اور اگر ہم کسی چیز کی حکمت تک رسائی حاصل نہ کر پائیں تو اس میں ہماری کسی طرح کی ہتک نہیں ہے۔ اب ہم مذکورہ بالا سوال کی طرف آتے ہیں کہ اللہ تعالىٰ نے ہم پر جو”کرماً کاتبین“ مقرر فرمائے ہیں اور وہ ہمارے عمل سے آگاہ ہیں تو ان کے مقرر کرنے کی حکمت کیا ہے؟
اس کی حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالىٰ ہمیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس نے جملہ اشیاء کو اعلیٰ درجے کا نظم اور محکم انداز عطا فرمایا ہے، یہاں تک کہ اس نے اولاد آدم کے جملہ اقوال واعمال پر ”کراماً کاتبین“ کو متعین فرمایا ہے باوجود یہ کہ اللہ تعالىٰ ان کے سرزد ہونے سے قبل ہی ان سے آگاہ ہے۔ یہ انسان پر اللہ تعالىٰ کی کمال عنایت و مہربانی اور کائنات کے بارے میں اس کی حکمت بالغہ کا نتیجہ ہے۔ واللہ اعلم۔

 

 از    November 19, 2017

فتویٰ : مفتی اعظم سعودی عرب شیخ محمد بن صالح عثیمین

سوال : اکثریوں ہوتا ہے کہ انسان کسی نیک کام کا ارادہ کرتا ہے، پھر شیطان اس کے دل میں یہ وسوسہ ڈال دیتا ہے کہ تو یہ کام ریاء کاری، شہرت اور دکھلاوے کے لئے کرنا چاہتا ہے، اس طرح شیطان ہمیں ایک نیک کام سے دور کر دیتا ہے ایسی چیزوں سے کیسے بچا جائے؟
جواب : یہ شیطانی وساوس ہیں ان سے بچنے کے لئے اعوذ بالله من الشيطان الرجيم پڑھنا چاہیئے۔ اور پھر نیکی کے کام میں لگ جانا چاہیے۔ ایسے خیالات کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہیئےجو انسان کو نیکی سے روکتے ہوں۔ جب انسان تعوذ پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام شیطانی کوششیں غارت ہو جائیں گی۔ (ان شاء اللہ)

 

 از    November 19, 2017

فتویٰ : مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن جبرین حفظ اللہ

سوال : کیا عیسائی اور ہندو وغیرہ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے ان سے میل جول رکھنا ان کے ساتھ کھانا پینا، گفتگو کرنا اور حسن معاملہ کرنا جائز ہے ؟
جواب : دعوت الی اللہ، اسلامی تعلیمات کی تشریح و تو ضیح، دین حنیف اپنانے کی ترغیب دینا، دین داروں کے لئے اچھے انجام کا بیان اور بے دین لوگوں کے لئے سزا و عقاب کے اظہار جیسے امور کی انجام دہی کے لئے کفار اور غیر مسلم لوگوں سے میل ملاپ کرنا، ان کے ساتھ مجلس کرنا اور انس و مودت کا اظہار کرنا جائز ہے۔ چونکہ اس کا انجام اچھا ہے، لہٰذا اس بارے میں ان کی مصاحبت اور دوستی کا اظہار قابل معافی ہے۔

 

 از    November 19, 2017

فتویٰ : مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن جبرین حفظ اللہ

سوال : ہمیں ایسے بے دین قسم کے لوگوں سے معاشرتی معاملات کرنا ہوتے ہیں جو آگ اور گائے کی پوجا کرتے ہیں جبکہ ان کے بارے میں فرمان باری تعالیٰ ہے کہ وہ نجس اور پلید ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کی نجاست کی ماہیت کیا ہے ؟ کیا ہم ان سے دور رہیں اور مصافحہ نہ کریں ؟ پھر جب وہ لوگ نجس ہیں تو ان کے ساتھ معاملات کیسے کریں ؟ اور کیا جن چیزوں کو وہ ہاتھ لگائیں وہ بھی نجس ہو جاتی ہیں ؟ واضح ہو کہ یہ لوگ تجارتی مراکز میں کام کرتے ہیں اور ان کا عوام سے بھی رابطہ اور واسطہ رہتا ہے ؟
جواب : ارشاد باری تعالیٰ ہے :
إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [9-التوبة:28]
”مشرک پلید ہیں۔“
منافقین کے بارے میں فرمایا:
فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ [9-التوبة:95]
”ان سے اعراض کرو بیشک وہ پلید ہیں۔“
یہاں رجس سے مراد نجاست ہے، لیکن یہ نجاست حقیقی نہیں بلکہ معنوی ہے، اس سے مراد ان کی ایذا رسانی اور شر و فساد ہے۔ جہاں تک ان کے جسموں کا تعلق ہے اگر وہ صاف ہیں تو انہیں جسمانی طور پر پلید نہیں کہا جائے گا۔ اس بناء پر اگر ان کے استعمال شدہ کپڑوں کی طہارت کا یقین ہو تو وہ پہنے جاسکتے ہیں، ہاں شرم گاہ سے متصل ملبوسات سے پرہیز کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ لوگ پیشاب سے نہیں بچتے خصوصاً اس لئے بھی کہ وہ ختنے بھی نہیں کرتے۔ اسی طرح اگر وہ نجاست سے براہ راست تعلق رکھتے ہوں مثلاً خنزیر کا گوشت کھانا، شراب بنانا، وغیرہ۔ تو اس صورت میں ان سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ ان کے ساتھ مصافحہ کرنے اور ان کی تیار کردہ مصنوعات کے استعمال میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کفار کی مصنوعات اور ان کے تیار کردہ ملبوسات کی طہارت معلوم ہونے پر انہیں استعمال کر لیا کرتے تھے۔ بنیادی طور پر چیزوں میں طہارت موجود ہوتی ہے۔

 

 از    November 19, 2017

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : ایک شخص نے نماز کے بعد جلد یا بدیر دیکھا کہ اس کے ایک پاؤں کی جراب درمیانہ سائز میں پھٹی ہوئی ہے، وہ نماز دوبارہ پڑھے گا یا نہیں؟
جواب : جب جراب یا موزہ تھوڑا سا پھٹا ہو یا اس میں عرفاً معمولی سوراخ ہو تو یہ قابل معافی ہے اور اس میں نماز پڑھنا درست ہو گا۔ ویسے اہل ایمان خواتین و حضرات کے لئے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ موزے اور جرابیں پھٹے ہوئے نہ ہوں تا کہ دین میں احتیاطی نکتہ نظر ملحوظ رہے اور اہل علم کے اختلاف سے بچا جا سکے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
دع ما يريبك إلى ما لا يريبك [صحيح البخاري، سنن ترمذي، سنن النسائي و سنن الدارمي]
”شک سے بچیں یقین کا دامن تھامیں۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:
من التقى الشبهات فقد استبرا لدينه وعرضه [متفق عليه]
”جو شخص شبہات سے بچے گا وہ اپنے دین اور عزت کو محفوظ کر لے گا۔“ والله ولي التوفيق

 

 از    November 19, 2017

فتویٰ : دارالافتاءکمیٹی

سوال : ہمارے ہاں ایک غیر مسلم خادمہ ہے، کیا میں اس کے ہاتھ سے دھلے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہوں؟ نیز کیا میں اس کے ہاتھ کا تیار کردہ کھانا کھا سکتی ہوں؟ علاوہ ازیں کیا میرے لئے ان کے دین پر اعتراض کرنا اور اس کا بطلان ثابت کرنا جائز ہے؟
جواب : کپڑے دھونے، کھانا پکانے اور اس طرح کے دوسرے کاموں کیلے کافر سے خدمت لینا جائز ہے۔ اسی طرح اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھانا اور اس کے ہاتھ سے دھلے ہوئے کپڑے پہننا بھی جائز ہے، کیونکہ اس کا ظاہری بدن پاک ہے اور اس کی نجاست معنوی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کافر لونڈیوں اور غلاموں سے خدمت لیتے تھے اور ان کیلئے بلاد کفر سے درآمدہ شدہ خوراک کھاتے تھے۔ کیونکہ وہ اس بات سے آگاہ تھے کہ ان کے بدن حسی طور پر پاک ہیں۔ ہاں ارشادات پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر غیرمسلم لوگ برتنوں میں شراب نوشی کرتے اور ان میں مردار اور خنزیر کا گوشت پکاتے ہوں تو انہیں استعمال سے پہلے اچھی طرح دھو لینا چاہیئے۔ اسی طرح اگر ان کے کپڑے استعمال کرنے کی ضرورت ہو تو ایسے کپڑوں کو دھو لینا چاہیئے جو شرمگاہ سے متصل ہوں۔
جہاں تک ان کے دین پر اعتراض کرنے اور اس کا بطلان کرنے کا تعلق ہے تو دین سے مقصود اگر ان کا موجودہ دین ہے تو ایسا کرنا جائز ہے کیونکہ موجودہ ادیان یا تو خود ساختہ ہیں جیسا کہ بت پرستی یا وہ محرف اور منسوخ ہیں۔ جیسا کہ نصرانیت، تو اس صورت میں انگشت نمائی خود ساختہ، تبدیل شدہ اور منسوخ دین پر ہو گی نہ کہ اصل اور منزل من اللہ دین پر۔ ویسے ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ انہیں اسلام کی دعوت دیں، اسلامی تعلیمات اور ان کی عظمت کا تذکرہ کریں اور اس کے ساتھ ساتھ دین اسلام اور دیگرادیان باطلہ کے مابین فرق کو واضح کریں۔

 از    November 19, 2017

فتویٰ : شیخ محمد بن صالح عثیمین

سوال : ایک اسلامی بہن دریافت کرتی ہے کہ بعض اوقات کھانے کے ذرات دانتوں میں باقی رہ جاتے ہیں، کیا وضو کرنے سے پہلے ایسے ذرات سے دانتوں کو صاف کرنا ضروری ہے؟
جواب : میرے خیال میں وضو سے قبل دانتوں سے خوراک کے ذرات کا ازالہ کرنا ضروری نہیں ہے لیکن بلاشبہ ایسے اجزاء سے دانتوں کی صفائی کامل ترین طہارت ونظافت ہے، اور اس طرح دانت بیماریوں سے بہت زیادہ محفوظ رہتے ہیں، کیونکہ اگر یہ فضلات دانتوں کے اندر ہی موجود رہیں تو تعفن کا سبب بنتے ہیں جس سے دانتوں اور مسوڑوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں اس لئے انسان کو چاہیے کہ وہ کھانا کھانے کے بعد اچھی طرح دانتوں کی صفائی کرے تاکہ کھانے کے اجزاء ختم ہو جائیں۔ اسی طرح مسواک بھی کرنی چاہیے، کیونکہ کھانا منہ کی بو کو تبدیل کر دیتا ہے۔ مسواک کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
إنه مطهرة للفم و مرضاة للرب [صحيح البخارى]
”مسواک منہ کی صفائی اور رب کی رضا کا باعث ہے۔“
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب بھی منہ کی صفائی کی ضرورت ہو تو اسے مسواک سے صاف کیا جائے۔ واللہ اعلم

 

 از    November 19, 2017

فتویٰ : مفتی اعظم سعودی عرب شیخ محمد بن صالح عثیمین

سوال : ہمارے ہاں ہر سال اکیس مارچ کو ایک خصوصی جشن منایا جاتا ہے جس کا نام عید الام ( جشن مادر) ہے اس جشن میں سب لوگ شریک ہوتے ہیں۔ کیا یہ حلال ہے یا حرام ؟
جواب : شرعی عیدوں کے علاوہ تمام عیدیں ایسی بدعت ہیں جن کا سلف صالحین میں نام و نشان تک نہ تھا۔ بلکہ بسا اوقات تو ان کا آغاز غیر مسلموں کے ہاتھوں ہوا، لہٰذا ایسی عیدیں منانا بدعت کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے ساتھ مشابہت بھی ہے۔ شرعی عیدیں مسلمانوں کے ہاں معروف ہیں اور وہ ہیں عید الفطر، عید الاضحی اور جمۃ المبارک۔ ان تین عیدوں کے علاوہ اسلام میں کسی اور عید کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ہر وہ عید جو ان کے علاوہ گھڑی جائے گی وہ گھڑنے والوں کے منہ پر ماری جائے گی اور شریعت میں باطل قرار پائے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشار گرامی ہے:
من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس منه فهو ردّ [متفق علیہ]
”جو شخص ہمارے دین میں کسی ایسی نئی چیز کو رواج دے گا جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہو گی۔“
یعنی وہ اس کے منہ پر مار دی جائے گی اور اللہ کے ہاں شرف قبولیت حاصل نہیں کر سکے گی۔
دوسری جگہ یوں فرمایا ہے:
من عمل عملاً ليس عليه أَمرنا فهو ردّ [صحيح مسلم، سنن أبى داؤد، سنن ابن ماجة ومسند أحمد 146/2]
”جو شخص ایسا عمل کرے گا جس پر ہماری تصدیق نہیں تو وہ مردود ہو گا۔ “
جب یہ واضح ہو چکا تو خاتون نے جس عید کے بارے میں سوال کیا ہے اور جس کا نام اس نے ”عید الام“ ( جشن مادر) بتایا ہے تو اس میں مسرت و شادمانی کا اظہار کرنا اور تحائف وغیرہ پیش کرنا ناجائز ہے۔ مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دین پر (اکتفا کرے اور اسی پر) نازاں و فرحاں رہے اور اس بارے میں اللہ اور اس کے رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حدود و قیود متعین فرمائی ہیں ان کا مکمل احترام کرے، ان میں کمی بیشی کی اجازت ہرگز نہیں ہے۔ یہی بات مسلمان کے شایان شان ہے کہ وہ کسی کا دم چھلا بن کر نہ رہے اور نہ ہی غلامانہ ذھنیت کا اظہار کرے۔ اس کی شخصیت شریعت الٰہیہ کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے، اسے تابع نہیں بلکہ متبوع، مقتدی نہیں بلکہ مقتدی بن کر رہنا چاہیئے۔ الحمدللہ! شریعت اسلامیہ ہر لحاظ سے کامل ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا [5-المائدة:3]
”آج میں نے تمہارے لئے دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور میں نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا ہے۔“
ماں کا حق اس سے کہیں زیادہ ہے کہ بس سال میں ایک بار اس کی یاد منا لی جائے۔ اولاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر جگہ شرعی حدود کا احترام کرتے ہوئے ماں کی اطاعت و فرمانبرداری بجا لائے اور اس کا ہر طرح سے خیال رکھے۔

 

 از    November 16, 2017

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : ایسی باریک اوڑھنی میں کہ جس سے عورت کا لباس نظر آ رہا ہو نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ نیز باریک ریشمی جرابوں پر مسح کرنے کا حکم کیا ہے؟
جواب : باریک اوڑھنی، باریک لباس اور باریک جرابوں میں عورت کے لئے نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے، ایسے لباس میں نماز نہیں ہو گی۔ عورت کو ایسے باپردہ لباس میں نماز پڑھنی چاہئیے جس سے اس کا جسم اور دوسرے (یعنی نیچے پہنے ہوئے) کپڑے کا رنگ نظر نہ آئے، کیونکہ عورت تمام کی تمام پردہ ہے، لہذا اس پر دوران نماز چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ تمام جسم کا ڈھانپنا ضروری ہے، اور اگر وہ ہاتھ بھی چھپا سکے تو زیادہ بہتر ہے۔ جہاں تک پاؤں کا تعلق ہے تو انہیں دوران نماز موٹی جرابوں یا لمبے لباس سے ڈھانپنا ضروری ہے۔

 

 از    November 16, 2017

فتویٰ : مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن جبرین حفظ اللہ

سوال : میں جب قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہوں تو اس کی اکثر و بیشتر آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ مومن مردوں کو حسین و جمیل حور و خیام کی خوشخبری دیتے نظر آتے ہیں، تو کیا عورت کیلئے آخرت میں اس کے خاوند کا نعم البدل نہیں ہے؟ اس طرح انعامات و اکرامات کے ضمن میں بھی اکثر مومن مردوں سے ہی خطاب کیا گیا ہے، تو کیا مومن عورت، مومن مرد کے مقابلے میں کم تر انعامات و اکرامات کی حق دار ہے ؟
جواب : اس میں کوئی شک نہیں کہ اخروی ثواب کی خوشخبری مرد و زن کے لئے عام ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ :
أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى [3-آل عمران:195]
”میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا۔“
دوسری جگہ ارشاد فرمایا :
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً [16-النحل:97]
”نیک عمل جو کوئی بھی کرے گا وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ صاحب ایمان ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔“
نیز ارشاد ہوتا ہے:
وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ [4-النساء:124]
”اور جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اس حال میں کہ وہ صاحب ایمان ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔“
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّـهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا [33-الأحزاب:35] بقیہ تحریر

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.