نئے مضامین
 از    February 17, 2018

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ

سند دین ہے۔ سند ہی کے ذریعے حدیث کے من الله ہونے کا یقین ہوتا ہے۔ اسی کی بدولت حدیث رسول ہر قسم کی تحریف و تبدیلی اور ترمیم و اضافے سے محفوظ ہے۔ یہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں محدثین عظام کی کرامت اور لازوال اعزاز ہے۔ یہ قرآن و حدیث کی صداقت پر وہ روشن حجت اور دلیل ہے، جس سے دیگر مذاہب عالم کی قدیم و جدید کتابیں خالی ہیں۔ یہ پیغمبر اسلام، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت عظمیٰ اہل حدیث کو بخشی ہے، وہی اس کے اہل اور قدر دان ہیں۔ جاہل، کاہل اور کج فطرت انسانوں کی گمراہی اور اخلاقی پستی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔ یہ آج بھی اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ اہل اسلام کے پاس بطور دائمی نعمت محفوظ و موجود ہے۔

سند کی اہمیت سے انکار یا روگردانی یقیناً اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی اور احسان کی ناشکری ہے۔ ائمہ مسلمین نے اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے آج تک بے سند یا محدثین کرام کے اصولوں کے مطابق ’’ ضعیف “ و ’’ متروک “ راوی کی روایت کو دین نہیں بنایا۔ محدثین کرام اس میدان کے شہسوار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر حقائق منکشف کیے تھے۔

◈ شیخ الاسلام ثانی، عالم ربانی، علامہ محمد بن ابوبکر، ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ان كل ما حكم به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فهو مما أنزل الله، وهو ذكر من الله أنزله على رسوله، وقد تكفل سبحانه بحفظه، فلو جاز على حكمه الكذب، والغلط والسهو من الرواة، ولم يقم دليل على غلطه، وسهو ناقله : لسقط حكم ضمان الله، وكفالته لحفظه؛ وهذا من أعظم الباطل! ونحن لا ندعي عصمة الرواة، بل نقول: إن الراوي إذا كذب أو غلط، أو سها، فلا بد أن يقوم دليل على ذلك، ولا بد أن يكون فى الأمة من يعرف كذبه، وغلطه، ليتم حفظه لحججه وأدلته، ولا تلتبس بما ليس منها، فإنه من حكم الجاهلية . انتهى
’’ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی حکم فرمایا، وہ وحی الٰہی پر مبنی ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود لیا۔ اگر یہ ممکن ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم میں راویوں کے جھوٹ، غلطیاں سہو شامل ہو جائیں، اور اس پر کوئی دلیل بھی قائم نہ ہو سکے تو اللہ تعالیٰ کی ضمانت اور حفاظت والی بات تو ساقط ہو جائے گی اور یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔ ہم راویوں کے معصوم عن الخطا ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے، لیکن یہ کہتے ہیں کہ راوی جب جھوٹ بولے، غلطی کرے یا بھول جائے توضرور اس پر کوئی دلیل قائم ہو جاتی ہے اور امت میں ضرور ایسے افراد موجود رہتے ہیں جو راویوں کے جھوٹ اور ان کی غلطیوں کو جان جاتے ہیں۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا اپنی نصوص و دلائل کی حفاظت کرنے کا وعدہ پورا ہوتا ہے اور اسی سے دین میں وہ بات شامل نہیں ہو پاتی جو اس کی تعلیمات کے منافی ہے۔ “ [مختصر الصواعق المرسلة على الجهمية والمعطلة، ص: 555]

◈ علامہ، ابراہیم بن موسیٰ، شاطبی، غرناطی رحمہ اللہ (م :790ھ) فرماتے ہیں :
ولو كان من شأن أهل الإسلام، الذابين عنه الأخذ من الأحاديث بكل ما جاء عن كل من جاء لم يكن لانتصابهم للتعديل والتجريح معنى، مع أنهم قد أجمعوا على ذلك، ولا كان لطلب الإسناد معنى يتحصل، فلذلك جعلوا الإسناد من الدين، ولا يعنون : حدثني فلان عن فلان مجردا، بل يريدون ذلك لما تضمنه من معرفة الرجال الذين يحدث عنهم، حتى لا يسند عن مجهول، ولا مجروح، ولا متهم، ولا عمن لا تحصل الثقة بروايته، لأن روح المسألة أن يغلب على الظن من غير ريبة أن ذلك الحديث قد قاله النبى صلى الله عليه وسلم، لنعتمد عليه فى الشريعة، ونسند إليه الأحكام، والأحاديث الضعيفة الإسناد، لا يغلب على الظن أن النبى صلى الله عليه وسلم قالها، فلا يمكن أن يسند إليها حكم فما ظنك بالأحاديث المعروفة الكذب؟ نعم الحامل على اعتمادها فى الغالب، انما هو ما تقدم، من الهوي المتبع.
’’ اگر دین کا دفاع کرنے والے اہل اسلام یہ رَوَش اپناتے کہ ہر شخص کی بیان کردہ ہر شخص کی حدیث قبول کرتے تو ان کی جرح و تعدیل کی طرف اتفاقی نسبت کیا معنی رکھتی ؟ نیز سند کا مطالبہ کرنا بھی بے فائدہ ہوتا۔ اسی بنا پر محدثین کرام نے سند کو دین کا حصہ قرار دیا اور سند کا مطلب صرف فلاں سے فلاں کی روایت نہیں، بلکہ محدثین کی مراد سند کے ضمن میں راویوں کی معرفت ہوتی ہے تاکہ کسی مجہول و نامعلوم، مجروح، متہم اور ایسے شخص سے حدیث نہ لی جائے جو ناقابل اعتماد ہے۔ سند کا مقصد تو یہ ہے کہ بغیر کسی شبہے کے ظن پر یہ چیز غالب ہو جائے کہ یہ حدیث رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمودہ ہے تاکہ ہم شریعت میں اس پر اعتماد اور احکام میں اس سے استدلال کر سکیں۔ اس کے برعکس ضعیف احادیث سے یہ ظن غالب پیدا نہیں ہوتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو گا۔ لہٰذا ان میں کسی حکم کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ (جب ضعیف حدیث کا یہ حال ہے تو) ان احادیث کا کیا ہو گا جن کا جھوٹا ہونا مشہور و معروف ہے۔ ان پر اعتماد کا سبب تو خواہش نفس کی پیروی ہی ہو سکتا ہے۔ “ [الاعتصام : 125,124/1، وفي نسخة : 288,287/1 بتحقيق سليم الهلالي]
بقیہ تحریر

 از    February 17, 2018

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : اگر رمضان المبارک کے روزوں کی قضاء آئندہ رمضان کے بعد تک مؤخر ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : اگر کسی نے شرعی عذر کی وجہ سے (جیسے سفر یا بیماری وغیرہ) رمضان المبارک کے روزوں کو ترک کر دیا تو اس پر آئندہ رمضان المبارک سے پہلے پہلے فوت شدہ روزوں کی قضاء لازم ہے۔
دو رمضانوں کے درمیان ایام کی وسعت، اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے۔ اگر کوئی شخص اسے آئندہ رمضان المبارک کے بعد تک مؤخر کر دے تو اس پر قضاء کے ساتھ ساتھ بطور کفارہ روزانہ کے حساب سے ایک مسکین کو کھانا کھلانا بھی واجب ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کا یہی فتویٰ ہے۔ کھانے کی مقدار اس علاقے کی خوراک میں سے نصف صاع ہے۔ ایک صاع تقریبا ڈیڑھ کلو کے برابر ہوتا ہے، وہ کھجور ہو یا چاول یا کچھ اور، اگر آئندہ رمضان المبارک سے پہلے قضاء دے دے تو کفارہ دینا واجب نہیں ہو گا۔

 

 از    February 17, 2018

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : سن بلوغت کو پہنچنے کی معروف علامتوں کے اعتبار سے میں دس سال کی عمر تک بالغ ہو گئی، بلوغت کے پہلے سال ہی میں نے رمضان المبارک کو پا لیا۔ کسی عذر کے بغیر محض اس بناء پر کہ مجھے وجوب رمضان کا علم نہیں تھا، میں نے اس سال روزے نہ رکھے۔ کیا مجھ پر ان دنوں کے روزے رکھنا واجب ہیں ؟ اور کیا قضاء کے ساتھ ساتھ کفارہ ادا کرنا بھی واجب ہو گا ؟

جواب : جس مہینے کے آپ نے روزے نہیں رکھے توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ اس ماہ کے روزوں کی قضاء بھی آپ پر واجب ہے۔ علاوہ ازیں اگر آپ طاقت رکھتی ہوں تو کفارے کے طور پر ایک دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا واجب ہے۔ جس کی مقدار آپ کے علاقے کی عام خوراک مثلاً کھجور اور چاول وغیرہ سے نصف صاع ہے۔ اگر آپ فقر کی وجہ سے کفارہ ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں تو روزے رکھنا ہی کافی ہے۔

 از    February 17, 2018

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : میں ایام ماہواری کی وجہ سے رمضان المبارک کے فوت ہونے والے روزوں کی قضاء نہیں دیتی رہی، اب ان کا شمار بھی مشکل ہے، اس بارے میں مجھے کیا کرنا چاہئیے ؟
جواب : میری اسلامی بہن! تحری (دو چیزوں میں اولیٰ کی تلاش) کیجئیے اور غالب ظن کے مطابق روزے رکھ لیجئیے، اللہ تعالیٰ سے مدد اور توثیق کی طالب رہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا [2-البقرة:286]
”اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ “
لہٰذا کوشش اور تحری سے کام لیجئیے اور احتیاط سے کام لیتے ہوئے غالب ظن کے مطابق روزے رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کریں۔ والله ولي التوفيق

 

 از    February 17, 2018

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ

سوال : کیا اذان میں شہادتین کے بعد اشهد ان امير المؤمنين على ولي الله کلمات کہنا درست ہے ؟ قرآن و حدیث سے وضاحت فرمائیں۔
جواب : اذان شعائر اسلام میں سے ہے، اس کے الفاظ وہی درست ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ اذان میں نہ اپنی طرف سے اضافہ جائز ہے اور نہ کمی۔ جو شخص اذان میں بعض کلمات کا اضافہ کرتا ہے، وہ بدعتی ہے، بلکہ لعنت کا مستحق ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ کی جو روایت اذان کے بارے میں مروی ہے، اس میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو نماز کے لیے جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم دیا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی کے ہاتھ میں ناقوس ہے تو میں نے اس سے کہا: ”اے اللہ کے بندے ! کیا تو ناقوس بیچے گا ؟“ اس سے کہا: ”آپ اس کا کیا کریں گے ؟“ میں نے کہا: ’’ میں نماز کے لیے اس کے ذریعے لوگوں کو ندا دوں گا۔“ تو اس نے کہا: ’’ میں تجھے ایسی بات پر رہنمائی کروں گا جو اس سے بہتر ہے ؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ اس نے کہا کہ تو کہہ :
الله اكبر، الله اكبر، الله اكبر، الله اكبر، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان محمدا رسول الله، اشهد ان محمدا رسول الله، حي على الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح، حي على الفلاح، الله اكبر، الله اكبر، لا إله إلا الله
صبح میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خواب سنایا تو اُنھوں نے فرمایا:
ان هذا رو يا حق ان شاء الله
”یقینا یہ خواب سچا ہے اگر اللہ نے چاہا۔“
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کو یہ کلمات سکھا دو تاکہ وہ اذان کہے کیونکہ اس کی آواز تجھ سے بہتر ہے۔“ [ ابوداود، كتاب الصلاة: باب كيف الاذان 499، ابن ماجه 706، ترمذي 189، احمد 43/4، دارمي 214/1 ]
اسی طرح فجر کی اذان میں حي على الفلاح کے بعد دو بار الصلاة خير من النوم کہنا سنت سے ثابت ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
من السنة إذا قال المؤذن فى اذان الفجر حى على الفلاح قال الصلاة خير من النوم [ ابن خزيمة 386، دارقطني 243/1، بيهقي 423/1، ابن منذر 21/3 ]
صبح کی اذان میں”حی علی الفلاح“ کے بعد ”الصلاة خير من النوم“ کہنا سنت سے ہے۔“
اور اصول میں یہ بات ثابت ہے کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا کہ من السنة كذا مسند اور مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔ بقیہ تحریر

 از    February 17, 2018

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری

سوال : کیا سبزیوں پر زکوۃ (عشر) ہے ؟
جواب : سبزیوں پر زکوۃ (عشر) واجب نہیں ہوتی۔
اس پر دلائل ملاحظہ فرمائیں :
اجماع امت :
اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ سبزیوں پر زکوٰۃ (عشر) واجب نہیں، جیسا کہ :
◈ امام ابوعبید قاسم بن سلام فرماتے ہیں :
فالعلماء اليوم مجمعون من أهل العراق، والحجاز، والشام على أن لا صدقة فى قليل الخضر ولا فى كثيرها، إذا كانت فى أرض العشر
”عراق، حجاز اور شام کے اہلِ علم آج اس بات پر متفق ہیں کہ سبزیاں کم ہوں یا زیادہ، اگر وہ عشر والی زمین میں ہوں، تو ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔“ [كتاب الأموال : 502 ]
◈ نیز اس سلسلے میں امام مالک رحمہ اللہ کا قول ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
وكذٰلك قول سفيان، وأهل العراق جميعا، غير أبى حنيفة، فانه قال: فى قليل ما تخرج الارض وكثيره الصدقة … وخالفه اصحابه، فقالوا كقول الاخرين، وعليه الآثار كلها، وبه تعمل الامة اليوم
”امام سفیان ثوری رحمہ اللہ اور تمام اہل عراق کا یہی موقف ہے، سوائے امام ابو حنیفہ کے کہ ان کے بقول زمین کی پیداوار کم ہو یا زیادہ، اس میں زکوٰۃ ہو گی… امام صاحب کے شاگردوں نے بھی اس سلسلے میں ان کی مخالفت کی ہے اور باقی تمام اہل علم کے موافق فتویٰ دیا ہے۔ تمام آثار بھی یہی بتاتے ہیں۔ اور آج تمام اُمت کا عمل بھی اسی پر ہے (کہ سبزیوں پر زکوٰۃ نہیں)۔“ [كتاب الأموال : 501 ]
◈ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
والعمل على هذا عند اهل العلم انه ليس فى الخضراوات صدقة
”اہل علم کے ہاں عمل اسی بات پر ہے کہ سبزیوں پر کوئی زکاۃ نہیں ہے۔“ [سنن الترمذي : 638 ]
اس کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں۔
بقیہ تحریر

 از    February 17, 2018

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ

سوال : کیا جنوں کا وجود ہے ؟ نیز جادو کے علاج اور جنات نکالنے کی شرعی حیثیت سے آگاہ فرما دیں۔
جواب : جنوں کا وجود انبیاء علیہم السلام کی متواتر خبروں سے معلوم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ زندہ، ذی عقل اور ارادے کے مطابق عمل کرنے والے، نیکی کا حکم دیے گئے اور برائی سے روکے گئے ہیں۔ ان کی کوئی خاص صفت یا لمبائی چوڑائی مقرر نہیں ہے جیسا کہ بعض ملحدوں کا دعویٰ ہے۔ چونکہ جنوں کا معاملہ انبیاء علیہم السلام سے متواتر ثابت ہے اس لئے ہر خاص و عام اسے متواترہ جانتا ہے لہٰذا یہ ناممکن ہے کہ کوئی گروہ جو رسولوں کی طرف اپنی نسبت کرتا ہو اور وہ ان کے وجود کا انکار کرے۔ [مجموع الفتاويٰ 9/19، 10 ]
کتاب و سنت اور اجماع امت سے یہ بات بالکل عیاں اور ظاہر و باہر ہے کہ جنات کا وجود ہے اور یہ آگ کے شعلے سے پیدا کیے گئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح انسانوں کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا گیا، اسی طرح جنات کی طرف بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر بن کر مبعوث ہوئے ہیں۔ جنات میں بھی نیک و بد ہر طرح کے لوگ موجود ہیں، جو ان میں شیطنت کی صفت کے حامل ہوتے ہیں، وہ انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے مختلف قسم کے وساوس و خطرات پیدا کرتے رہتے ہیں۔ اس صورت میں انسانوں کو تعوذ پڑھنا چاہئیے اور اللہ پاک کی پناہ پکڑنی چاہئیے۔ معاشرے میں جو عمومی صورتِ حال ہے کہ جوان لڑکیوں کو جنات کی شکایت ہوتی ہے، اکثر اوقات ہوتا یہ ہے کہ لڑکی کی پسند کی شادی والدین نہیں کرتے تو وہ جنات کے سایہ کی شکایت کرنے لگ جاتی ہے اور والدین پریشان ہو کر جنات نکالنے والے عاملوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور وہ آ کر جوان لڑکی کو چھوتے بھی ہیں اور رقم بھی بٹورتے ہیں۔ یہ دھندہ عروج پر ہے۔ اکثر جنات نکالنے والے زر اور زن کے پیاسے ہوتے ہیں۔ پھر وہ طرح طرح کے ڈرامے رچا کر اپنا مقصود پورا کرتے ہیں۔ جب لڑکی کی مرضی سے اس کے آشنا سے رشتہ قائم ہو جاتا ہے تو جنات کا معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ بعض روایات میں صراحتاً جنات کے وجودِ انسانی میں داخلے کا تذکرہ ملتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :
”ایک سفر میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نہیں جاتے تھے یہاں تک کی غائب ہو جاتے، دکھائی نہ دیتے۔ ہم ایک چٹیل میدان میں اترے، نہ اس میں درخت تھا اور نہ پہاڑ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے جابر ! اپنے برتن میں پانی ڈال پھر ہمارے ساتھ چل۔ “ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم دکھائی نہ دیتے تھے۔ ہم ایک چٹیل میدان میں پہنچے، نہ اس میں درخت تھے اور نہ پہاڑ۔ اچانک دو درخت نظر آئے، جن کے درمیان چار ہاتھ کا فاصلہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے جابر ! اس درخت کی طرف جا اور کہہ کہ اللہ کے رسول تمہیں کہتے ہیں تو اپنے ساتھی (یعنی دوسرے درخت) کے ساتھ مل جا یہاں تک کہ میں تمہارے پیچھے (قضائے حاجت کے لیے ) بیٹھوں۔ “ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ایسے کہا: وہ درخت اس کی طرف پلٹ آیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں درختوں کے پیچھے بیٹھ گئے۔ پھر وہ دونوں اپنی جگہ کی طرف پلٹ آئے۔ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو گئے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ایسے تھے گویا ہمارے اوپر پرندوں نے سایہ کیا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک عورت آئی۔ اس کے پاس اس کا بچہ تھا، کہنے لگی : ”اے اللہ کے رسول ! بلاشبہ میرے اس بیٹے کو ہر روز تین دفعہ شیطان پکڑ لیتا ہے۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو لے لیا۔ آپ نے اسے اپنے اور کجاوے کے اگلے حصے کے درمیان بٹھا دیا، پھر فرمایا : ”اللہ کے دشمن ذلیل ہو جا، میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ کے دشمن ذلیل ہو جا، میں اللہ کا رسول ہوں۔ “ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کہا:، پھر بچہ اس عورت کے حوالے کر دیا۔ جب ہم نے اپنا سفر تمام کر لیا اور ہم اس جگہ سے گزرے تو عورت اپنے بچے سمیت ہمارے سامنے آ گئی۔ اس کے ساتھ دو مینڈھے تھے جنھیں وہ ہانک کر لا رہی تھی۔ کہنے لگی : ” اے اللہ کے رسول ! میری طرف سے ہدیہ قبول کر لیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ! اس کے بعد وہ شیطان واپس نہیں لوٹا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک مینڈھا اس سے لے لو اور دوسرا اسے واپس کر دو۔ “ [ دارمي 167/1، 168، ابن أبى شيبة 490/11، 492، 11803، التمهيد
223/1، 224 دلائل النبوة لأبي نعيم 282، عبد بن حميد 1052 ]

اس روایت کی سند میں اسماعیل بن عبدالملک ہے۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ رازی رحمہ اللہ، امام نسائی رحمہ اللہ، امام ابن حبان رحمہ اللہ، امام ابوداؤد، امام محمد بن
عمار، امام عقیلی، امام دولابی، امام ابوالعرب القیروانی، امام ابن شاہین (رحمۃ اللہ علیہم) نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [ تهذيب الكمال 142/3، 143 ]
یعلی بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ کی ایک طویل روایت میں ہے : بقیہ تحریر

 از    February 2, 2018

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : قرآن مجید میں تعدد ازواج کے ضمن میں ایک آیت یہ کہتی ہے :
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً [4-النساء:3 ]
”اگر تمہیں ڈر ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔“
جبکہ دوسری جگہ یوں ارشاد ہے :
وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ [4-النساء:129]
”اور تم سے یہ تو بھی نہیں ہو سکے گا کہ تم بیویوں کے درمیان پورا پورا انصاف کرو خواہ تم اس کی کتنی ہی خواہش کرو۔“
پہلی آیت میں ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کے لئے انصاف کرنے کو شرط قرار دیا گیا ہے، جبکہ دوسری آیت میں اس امر کی وضاحت ہے کہ قیام عدل غیر ممکن ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہےکہ پہلی آیت منسوخ ہے اور نتیجتًا صرف ایک عورت سے ہی شادی ہو سکتی ہے ؟ کیونکہ عدل کی شرط پورا ہونا نا ممکن ہے، وضاحت درکار ہے ؟
جواب : دونوں آیتوں میں نہ تو کوئی تعارض ہے اور نہ ایک آیت دوسری کے لئے ناسخ ہے، اس لئے کہ عدل سے مراد وہ عدل ہے جو انسانی بس میں ہو، اور وہ ہے باری مقرر کرنے اور نان و نفقہ میں عدل۔ جہاں تک محبت اور ازدواجی تعلقات وغیرہ میں عدل و انصاف کا تعلق ہے تو یہ انسانی بس سے باہر ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :
وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ [4-النساء:129]
میں مذکورہ عدل سے یہی عدل مراد ہے۔ یہ اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات میں ان کی باری تقسیم فرماتے اور عدل سے کام لیتے پھر فرماتے :
اللهم هذا قسمي فيما املك فلا تلمني فيما تملك ولا املك [سنن ابي داؤد، سنن ترمذي، سنن نسائي و سنن ابن ماجة ]
”اےاللہ ! جو امور میرے بس میں ہیں ان میں میری تقسیم یہ ہے، اور جن امور کا مالک میں نہیں بلکہ تو ہے تو ان کے بارے میں مجھے ملامت نہ کرنا۔ “ والله ولي التوفيق

 

 از    February 2, 2018

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی حفظ اللہ

سوال : نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
جواب : نعت صفت بیان کرنے اور تعریف کرنے کو کہا جاتا ہے، ہمارے ہاں نعت کی اصطلاح نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف کے لیے مخصوص ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ عمل باعث اجر و ثواب ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس میں شرک کی آمیزش نہ ہو جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
لا تطروني كما اطرت النصارى ابن مريم فإنما انا عبده فقولوا : عبد الله ورسوله .
’’ مجھے اس طرح نہ بڑھاؤ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بڑھا چڑھا دیا ہے میں اس کا بندہ ہوں لہٰذا یہ کہو کہ ( وہ ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ [بخاري، كتاب احاديث الانبياء : باب قول الله تعالىٰ : واذكر فى الكتاب مريم : 3445]
اس سے ثابت ہو ا کہ غیر شرکیہ نعت یا دوسرے اشعار وغیرہ بھی جائز ہیں جیسا کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کافروں کی ہجو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اشعار پڑھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا : ’’ ان (کافروں) کی ہجو کرو، جبرئیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں۔“ [بخاري، كتاب بدء الخلق : باب ذكر الملائكة صلوات الله عليهم : 3213] بقیہ تحریر

 از    February 2, 2018

تالیف: الشیخ السلام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ، ترجمہ: مولانا مختار احمد ندوی حفظ اللہ

ان باتوں کا جاننا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے کیوں کہ ان پر زمانہ جاہلیت کے اہل کتاب اور امی عمل پیرا تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کی خوبی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جبکہ اس کے مقابل کی چیز سامنے ہو۔ اشیاء کی حقیقت تو ان کے اضداد ہی سے واضح ہوتی ہے۔ اس سلسلہ کی سب سے زیادہ خطرناک بات یہ سے کہ دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کے بارے میں ایمان سے خالی ہو مزید برآں اگر وہ دین جاہلیت کو اچھا سمجھتا ہے اور اس پر ایمان بھی رکھتا ہو تو یہ تباہی کی انتہا ہے، اللہ تعالیٰ ا اس سے پناہ میں رکھے۔
✿ ارشاد خداوندی ہے :
وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّـهِ أُولَـئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ [ 29-العنكبوت:52]
”اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اللہ کا انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں ؟“

اہل جاہلیت اللہ کی بندگی اور دعا میں صالحین کو بھی شریک کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ صالحین کی اس تعظیم کو اللہ پسند کرتا سے اور اس کے ذریعہ اللہ کے یہاں وہ اپنے لئے شفاعت چاہتے تھے کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ صالحین بھی اس کو اچھا سمجھتے ہیں جیسا کہ :
✿ سورہ زمر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّـهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ ٭ أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّـهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ [ 39-الزمر:3]
”بیشک ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو اللہ کی عبادت کرو دین اس کے لئے خالص کر کے۔ دیکھو خالص عبادت اللہ ہی کے لئے زیبا ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ ) ہم ان کو اس لیے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنا دیں۔ تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں اللہ ان میں ان کا فیصلہ کر دے گا۔ “ بقیہ تحریر

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.