نئے مضامین
 از    January 16, 2017

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

نماز کے لیے صفوں کو سیدھاکرنا، صفوں کے درمیان فاصلہ کم رکھنا، صف میں کندھوں کو برابر رکھنا، ٹخنے سے ٹخنا ملانا اور پاؤں کے ساتھ پاؤں ملانا سنت ہے۔ صحابہ کرام اور ائمہ سلف صالحین ہمیشہ اس کےعامل رہے ہیں۔ احادیث رسول میں صف بندی کے بارے میں احکامات بڑی تاکید سے بیان ہوئے ہیں، ملاحظہ فرمائیں : 

(1) سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : 
قَالَ : أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا ؟ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا ؟ قَالَ : يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم اس طرح کیوں صفیں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے ہاں صفیں بناتے ہیں ؟“ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! فرشتے اپنے رب کے ہاں کیسے صفیں بناتے ہیں ؟ فرمایا : ”وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے یوں مل کر کھڑے ہوتے ہیں کہ درمیان میں کوئی فاصلہ باقی نہیں رہتا۔“
(صحیح مسلم : 180/1، ح430) 

(2) سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : 
 كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح مناكبنا فى الصلاة ويقول: ”استووا، ولا تختلفوا، فتختلف قلوبكم“، . . . قال أبومسعود : فأنتم اليوم أشد اختلافا . 
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (کی صفوں ) میں ہمارے کندھوں کو ہاتھوں سے برابر کرتے اور فرماتے : سیدھے ہو جاؤ، ٹیڑھے نہ ہو جاؤ، ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔۔۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آج تم (صفوں کی درستی میں سستی کی بناء پر) سخت اختلاف کا شکار ہو۔“ (صحيح مسلم : 181/1، ح 432) 

بقیہ تحریر

 از    January 14, 2017

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

 علم غیب اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ یہ اہل سنت و الجماعت کا اتفاقی و اجماعی عقیدہ ہے۔ اس اجماعی عقیدے کے خلاف نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے کے نظریے کی اسلام میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ 

نصاریٰ اور روافض کا نظریہ : 
انبیا کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ اسلاف امت میں کسی سے بھی ثابت نہیں ، بلکہ یہ نصاریٰ اور روافض سے ماخوذ ہے، جیسا کہ:
علامہ ، عبدالرحمن بن عبداللہ ، سہیلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
فَلِذٰلكَ كَانَ الْمسِيحُ عندھم يعلم الغيب، ويخبر بما فى غد، فلما كان ھٰذَا منْ مذھب النصاري الكذبة على الله، المدعين المحال
”اسی لیے نصاریٰ کے ہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام عالم الغیب تھے اور آئندہ کی باتوں کی خبر دیتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور ناممکنات کا دعویٰ کرنے والے نصاریٰ کا یہ حال تھا، تو۔۔۔“ 
(الروض الأنف : 404/2، عمدة القاري للعيني الحنفي : 55/1) 

قرآنی دلیل : 
اب اس عقیدے کے متعلق قرآنی دلیل ملاحظہ فرمائیں :
ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

بقیہ تحریر

 از    January 3, 2017


(1) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے : أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ’’ میں شیطان مردود کے شر سے بہت عظیم اللہ، اس کے معزز چہرے اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ میں آتا ہوں۔ “ (سنن ابي داود : 466، وسنده صحيح) 

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب کوئی یہ دعا پڑھ لے تو شیطان کہتا ہے : حفظ مني سائر اليوم ’’ یہ سارا دن مجھ سے محفوظ کر لیا گیا ہے۔ “ 

(2) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جو کوئی مسجد میں داخل ہو، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے : اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أبْوَابَ رَحْمَتِكَ ’’ اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ “ 

اور جو کوئی مسجد سے نکلے، وہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے : اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم ’’ اے اللہ ! مجھے شیطان مردود سے محفوظ رکھنا۔ “ (سنن ابن ماجه : 773، وسنده صحيح) 

نوٹ: یہ دعائیں پڑھنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان الفاظ سے پڑھنا چاہیے: السَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ۔

 

 از    January 3, 2017

تحریر: ابن الحسن المحمدی


ہم راوی کے صدق و عدالت اور حفظ وضبط کو دیکھتے ہیں۔ اس کا بدعتی، مثلاً مرجی، ناصبی، قدری، معتزلی، شیعی وغیرہ ہونا مصر نہیں ہوتا۔ صحیح قول کے مطابق کسی عادل و ضابط بدعتی راوی کا داعی الی البدعہ ہونا بھی مضر نہیں ہوتا اور اس کی وہ روایت بھی قابل قبول ہوتی ہے جو ظاہراً اس کی بدعت کو تقویت دے رہی ہو۔ 

بدعت کی اقسام : 
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بدعت کی دو قسمیں بیان کی ہیں : 
(1) بدعت صغریٰ، (2) بدعت کبریٰ 
بدعت صغریٰ کی مثال انہوں نے تشیع سے دی ہے جبکہ بدعت کبریٰ کی مثال کامل رفض اور اس میں غلو سے دی ہے۔ 
(ميزان الاعتدال : 5/1، 6) 

انہوں نے ابان بن تغلب راوی کے بارے میں لکھا ہے : 
 شيعي جلد، لكنه صدوق، فلنا صدقه، وعليه بدعته . 
’’ یہ کٹر شیعہ لیکن سچا تھا۔ ہمیں اس کی سچائی سے سروکار ہے۔ اس کی بدعت کا وبال اسی پر ہو گا۔ “ (ميزان الاعتدال : 5/1) 

بقیہ تحریر

 از    December 27, 2016

تحریر: شیخ محمد مالک بھنڈر
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اليَهُودَ وَالنَّصَارَي لَا يَصْبُغُونَ، فَخَالِفُوهُمْ 
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’بلاشبہ یہودی اور عیسائی بالوں کو نہیں رنگتے، چنانچہ تم ان کی مخالفت کرو۔“ 
(بخاری : 5899، مسلم : 2103)

بالوں کو رنگنے کا حکم استحبابی ہے کیونکہ سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : 
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاکہ آ پ کے یہ بال سفید تھے، ان کا اشارہ نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان کے بالوں کی طرف تھا۔“ 
(بخاری : 3545، : مسلم : 3242) 

بقیہ تحریر

 از    December 20, 2016

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

مطلق طور پر علم غیب اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ یہ عقیدہ قرآن، حدیث، اجماعِ امت اور ائمہ سلف کی تصریحات سے ثابت ہے۔ اس کے باوجود سلف صالحین کی مخالفت میں بعض لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عالم الغیب کہتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ما كان وما يكون (جو کچھ ہو گیا اور جو کچھ ہونے والا ہے ) کا علم ہے۔ وہ قرآن وحدیث کی واضح نصوص کی تاویلیں کرتے ہیں۔ 

ایسے لوگوں کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (۶۶۱۔ ۷۲۸ھ ) فرماتے ہیں :
 وأما أهل البدع فهم أهل أهواء وشبهات يتبعون أهواء هم فيما يحبونه ويبغضونه ويحكمون بالظن والشبه، فهم يتبعون الظن وما تهوى الأنفس، ولقد جاء هم من ربهم الهدى، فكل فريق منهم قد أصل لنفسه أصل دين وضعه، إما برأيه وقياسه الذى يسميه عقليات، وإما بذوقه وهواه الذى يسميه ذوقيات، وإمّا بما يتأوّله من القرآن ويحرّف فيه الكلم عن مواضعه ويقول : إنه إنما يتبع القرآن كالخوارج، وإمّا بما يدّعيه من الحديث والسنة، ويكون كذبا وضعيفا كما يدعيه الروافض من النص والآيات، و كثير ممن يكون قد وضع دينه برأيه أو ذوقه يحتج من القرآن بما يتأوّله على غير تأوله، ويجعل ذلك حجة لا عمدة، و عمدته فى الباطن على رأيه كالجهمية والمعتزلة فى الصفات والأفعال بخلاف مسائل الوعد والوعيد، فإنهم قد يقصدون متابعة النص، فالبدع نوعان نوع كان قصد أهلها متابعة النص والرسول، لكن غلطوا فى فهم المنصوص وكذبوا بما يخلف ظنهم من الحديث ومعانى الآيات كالخوارج، و كذلك الشيعة المسلمين بخلاف من كان منافقا زنديقا يظهر التشيع وهو فى الباطن
لا يعتقد الاسلام، وكذلكف المرجئة…

بقیہ تحریر

 از    December 12, 2016

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

بچے یا بچی کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرنا بالاتفاق مستحب عمل ہے۔ شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ساتویں دن مشروع قرار دیا ہے جیسا کہ : 

(1) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
”يعق عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة“ قالت : عق رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحسن والحسين شاتين، ذبحھما يوم السابع .
’’لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری بطور عقیقہ ذبح کی جائے گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے دو دو بکریاں ساتویں دن بطور عقیقہ ذبح کیں۔‘‘ 
(العيال لابن ابي الدنيا: 43، والسياق له، مسند البزار: 1239، مسند ابي يعلي:4521، السنن الكبري للبيھقي :303/9، 304، وسنده صحيح) 

(2) سیدہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
كل غلام مرتھن بعقيقته، يذبح عنه يوم السابع ويحلق رأسه ويسمي . 
’’ہر بچہ اپنے عقیقےکے عوض گروی رکھا ہے۔ ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے، اس کے سر کو مونڈھا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔‘‘ (مسند الامام احمد: 7/5،8، 12، 17، 18، 22، سنن ابي داود :2838، سنن الترمذي:1522، سنن النسائي :4225، سنن ابن ماجه:3165، وسنده صحيح) 

بقیہ تحریر

 از    December 10, 2016

تالیف: محمد اختر صدیق

استخارہ کا مطلب 
کسی معاملہ میں خیر اور بھلائی طلب کرنے کو استخارہ کہتے ہیں۔ 

استخارہ کی اصطلاحی تعریف 
ایسی دو رکعت نماز اور مخصوص دعا جس کے ذریعے، اللہ تعالیٰ سے کسی معاملہ کی بھلائی اور انجام کار کی بہتری کا سوال کیا جاتا ہے۔ یا پھر دو کاموں میں سے ایک کو اختیار کرنے یا چھوڑ دینے میں اللھ تعالیٰ سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ 

استخارہ کی فضیلت 
استخارہ کی فصیلت کا اندازہ اس بات سے با آسانی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے ذریعے بندہ اپنے پروردگار سے کسی کام میں رہنمائی حاصل کرنے کا سوال کرتا ہے، اور اس کام میں بہتری اور انجام خیر کی استدعا کرتا ہے۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرنا، اور اس کے فیصلہ پہ راضی ہونا انسان کی خوش بختی جب کہ اللہ تعالی سے استخارہ نہ کرنا اور اس کے فیصلہ پہ راضی نہ ہونا انسان کی بدبختی کی علامت ہے“۔ (مسند احمد، 168/1) 

استخارہ کی اہمیت 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو استخارہ کی تلقین بھی کیا کرتے اور انہیں اس کی تعلیم بھی دیا کرتے تھے، اس کی کفیت، آداب، مسائل، فضائل اور الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھلائے ہیں۔ 

سیدنا جابر رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ:
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ کی تعلیم ایسے دیتے جیسے قرآن مجید کی سورت مبارکہ سکھلایا کرتے تھے۔“ (صحیح بخاری مع الفتح، کتاب الدعوات حدیث نمبر : 38/3، 6382) 

بقیہ تحریر

 از    December 4, 2016

  تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

جب فرض نماز کی اقامت شروع ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ سنتیں اور نوافل پڑھنا جائز نہیں خواہ صف میں کھڑے ہو کر ادا کیے جائیں یا صف سے پیچھے اور خواہ ادائیگی کے بعد کلام کرے یا نہ کرے، جیسا کہ : 

دلیل نمبر 1 :
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
 إذا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلَاةَ إلَّا الْمَكْتُوبَةَ ”جب فرض نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی ( نفلی ) نماز نہیں ہوتی۔“ ( مسند الإمام أحمد : 331/2، صحیح مسلم : 1644 – 247/1 ح : 710 ) 

یہ حدیث مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح روایت ہوئی ہے، یعنی اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان بھی ثابت ہے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ بھی۔ یہ اصول ہے کہ موقوف روایت مرفوع حدیث کے لیے تقویت کا باعث ہوتی ہے۔ اس مرفوع حدیث میں واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی سنتیں ہوں یا کوئی اور نماز، فرض نماز کی اقامت کے بعد پڑھنا ممنوع ہے۔ بقیہ تحریر

 از    November 29, 2016

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری 

(سوال :) کیا بیٹے کے فوت ہونے یا اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد باپ اس کی بیوی، یعنی اپنی سابقہ بہو سے نکاح کر سکتا ہے؟
(جواب:) بیٹے کے فوت ہو جانے یا اپنی بیوی کو طلاق دے دینے کی صورت میں والد اپنی سابقہ بہو کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنا حرام ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾ (النساء : ۲۳)
’’اور تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں (تمہارے اوپر حرام کر دی گئی ہیں )۔‘‘
لہٰذا سسر اپنی بہو کے ساتھ کسی بھی صورت میں نکاح نہیں کر سکتا۔

بقیہ تحریر

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.