نئے مضامین
 از    August 27, 2016

 تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

 

قبر میں شجرہ یا غلاف کعبہ یا عہد نامہ یا دیگر ”تبرکات“ کا رکھنا، نیز مردے کے کفن یا پیشانی پر انگلی یا مٹی یا کسی اور چیز سے عہد نامہ یا کلمہ طیبہ لکھنا ناجائز اور بدعت سیہ اور قبیحہ ہے۔ یہ خانہ ساز دین، آسمانی دین کے خلاف ہے۔ قرآن و حدیث میں ان افعال قبیحہ پر کوئی دلیل نہیں، بلکہ سلف صالحین میں سے کوئی بھی ان کا قائل و فاعل نہیں۔ یہ بدعتیوں کی ایجادات ہیں۔ اہل سنت ان خرافات و بدعات سے بیزار ہیں، کیونکہ یہ انتہائی جرآت مندانہ اقدام دینِ الٰہی میں بگاڑ کا باعث ہے۔


ان افعال قبیحہ کے ثبوت پر پیش کیے گئے دلائل کا علمی جائزہ پیش خدمت ہے: بقیہ تحریر

 از    August 17, 2016


تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز وتر کی ایک ، تین ، پانچ، سات اور نو رکعات ثابت ہیں۔

 ایک رکعت نماز وتر:

ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
«سئل الشافعي عن الوتر : أيجوز أن يوتر الرجل بواحدة ، ليس قبلھا شيء ؟ قال : نعم ، والّذي أختار أن أصلّي عشر ركعات ، ثمّ أوتر بواحدة ، فقلت للشافعي : فما الحجة في أن الوتر يجوز بواحدة ؟ فقال : الحجة فيه السنّة و الآثار»
”امام شافعی رحمہ اللہ سے وتر كے بارے ميں سوال كيا گيا كہ آدمی ایک وتر ایسے پڑھے کہ اس سے پہلے کوئی نماز نہ ہو تو کیا جائز ہے ؟ فرمایا : ہاں، جائز ہے، لیکن میں پسند یہ کرتا ہوں کہ دس رکعات پڑھ کر پھر ایک وتر پڑھوں۔ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے پوچھا : ایک وتر جائز ہونے کی دلیل ہے ؟ فرمایا : اس بارے میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آثار سلف دلیل ہیں۔ “ ( السنن الصغریٰ للبیھقی : ۵۹۳، وہ سندہٗ حسنٌ)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«صلاة الليل مثنى مثنى فإذا خشی أحدكم الصبح صلى ركعة واحدة ، توتر له ما قد صلى»
”رات کی نماز دو دو رکعت ہے پھر جب کوئی صبح ہونے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ اس کی ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔ “ ( صحیح بخاری : 990، صحیح مسلم : 749)

بقیہ تحریر

 از    August 11, 2016

تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

دلیل نمبر:۱

«عن طاؤس قال : سئل ابن عمر عن الرّكعتين قبل المغرب  فقال : ما رأيت أحداً علی عھد رسول الله صلّی الله عليه وسلم يصلّيھما ورخّص في الرّكعتين بعد العصر.»

”طاؤس کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی کو یہ دو رکعتیں پڑھتے نہیں دیکھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عصر کے بعد دو رکعتوں کے پڑھنے کی اجازت دی۔“ (سنن ابي داود : ۱۸۲/۱، ح : ۱۲۸۴، مسند عبد بن حميد : ق ۱۰۵، ح : ۸۰۴ مختصرا، السنن الكبرٰي للبيهقي : ۴۷۶/۲، وسنده حسن)
 

 تبصرہ: 
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مغرب سے پہلے کسی کو نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ وغیرہ نے دیکھا ہے، حجت اس کی بات ہو گی، جس نے دیکھا ہے نہ کہ اس کی بات جس نے نہیں دیکھا، یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ مثبت اور منفی میں تعارض ہو تو مثبت کو ترجیح ہوتی ہے۔ 

امام ِ بیہقی رحمہ اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں ـ
القول في مثل ھذا قول من شاھد دون من لم يشاھد … 
”اس طرح کے ( تعارض ) میں اس شخص کی بات حجت ہو گی، جس نے مشاہدہ کیا ہے، نہ کہ اس کی جس نے مشاہدہ نہیں کیا۔“ 

 

تنبیہ : 
یہاں پر بطور فائدہ عرض ہے کہ بعض الناس اس روایت کو پیش کرتے وقت اس کا آخری حصہ ترک کر دیتے ہیں کہ : ”سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عصر کے بعد دور کعتیں پڑھنے کی اجازت دی“۔
کیونکہ یہ ان کے خلاف ہے، یہ بدترین خیانت اور دین میں تحریف ہے۔  

بقیہ تحریر

 از    July 31, 2016

تحریر :غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

نماز مغرب سے پہلے دو رکعت نفل ادا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی، فعلی اور تقریری سنت ہے، اس کے ثبوت پر احادیث صحیحہ ملاحظہ ہوں:

قولی احادیث


دلیل نمبر (۱)

 

سیدنا ابوسعید عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
صلّوا قبل صلاۃ المغرب، قال فی الثّالثۃ : لمن شاء، کراھیۃ أن یتّخذھا النّاس سنّۃ
”نماز مغرب سے پہلے (دو رکعتیں) پڑھو، (ایسا دو بار فرمایا ) ، تیسری بار فرمایا، جو چاہے (پڑھے) ، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ کہیں لوگ اس (نماز ) کو (لازمی) سنت نہ بنا لیں۔“ (صحيح بخاري:۱۱۸۳، سنن ابي داو،د:۱۲۸۱)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (۷۷۳۔۸۵۲ھ) لکھتے ہیں :
لم یرد نفی استحبابھا لأن لا یمکن أن یأمر بما لا یستحبّ، بل ھذا الحدیث من أقوی الأدلّۃ علی استحبابھا
” (اس حدیث سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے استحباب کی نفی نہیں، اس لیے کہ یہ ناممکن بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چیز کے بارے میں حکم فرمائیں اور وہ (کم از کم) مستحب (بھی) نہ ہو، بلکہ یہ حدیث تو مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے استحباب پر قوی ترین دلیلوں میں سے ایک ہے۔“ (فتح الباری فی شرح صحیح البخاری : ۳/۶۰)

بقیہ تحریر

 از    July 23, 2016

تحریر: غلام مصطفے ظہیر امن پوری

صحیح حدیث دین ہے، صحیح حدیث کو اپنانا اہل حدیث کا شعار ہے، جیساکہ:

۱۔ امام مسلمؒ فرماتے ہیں:

واعلم۔ رحمک اللہ۔ أنّ صناعۃ الحدیث، ومعرفۃ أسبابہ من الصحیح والسقیم، إنّما ھی لأھل الحدیث خاصّۃ، لأنّھم الحفّاظ لروایات الناس، العارفین بھا دون غیرھم، إذ الأصل الذی یعتمدون لأدیانھم السنن والآثار المنقولۃ، من عصر إلی عصر، من لدن النبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم إلی عصرنا ھذا۔

اللہ آپ پر رحم کرے! جان لیں کہ فن حدیث اور اس کی صحت وسقم کے اسباب کی معرفت صرف اہل حدیث کا خاصہ ہے، کیونکہ وہ لوگوں کی روایات کو یاد رکھنے والے اور وہی ان کو جاننے والے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مذاہب کی دلیل وہ سنن و آثار ہیں جو زمانہ بہ زمانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے دور تک نقل ہوتے آئے ہیں۔

(کتاب التمییز لامام مسلم: ص ۲۱۸)

۲۔امام ابن خزیمہؒ لکھتے ہیں: بقیہ تحریر

 از    July 10, 2016

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

 

مانعین رفع الیدین کے دلائل دلیل نمبر ۵

 تحریر: غلام مصطفےٰظہیر امن پوری

 

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: 
ان رسول الله ﷺ كان اذا افتح الصلاة رفع يديه الي قريب من أذنيه، ثم لا يعود. 
”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے کانوں کے قریب تک رفع الیدین کرتے، پھر دوبارہ نہ فرماتے۔“ 
(سنن ابي داود:749، سنن دارقطني:293/1، مسند ابي يعليٰ:1690)

 

تبصرہ: 
(۱) اس کی سند ”ضعیف“ ہے۔
حفاظ محدثین کا اس حدیث کے ”ضعف“ پر اجماع و اتفاق ہے، اس کا راوی یزید بن ابی زیاد جمہور کے نزدیک ”ضعیف“ اور ”سیئ الحفظ“ ہے، نیز یہ ”مدلس“ اور ”مختلط“ بھی ہے، تلقین بھی قبول کرتا تھا۔ 

 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ضعيف، كبر، فتغير، وصار يتلقن وكان شيعيا. 
”یہ ضعیف راوی ہے، بڑی عمر میں اس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا اور یہ تلقین قبول کرنے لگا تھا، یہ شیعی بھی تھا۔“ 
(تقريب التھذيب: 7717)  

بقیہ تحریر

 از    June 19, 2016

 تحریر: غلام مصطفےٰ  ظہیر امن پوری

 

رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین متواتر احادیث سے ثابت ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (م :
۷۴۸ھ) نے رفع الیدین کو ”سنت متواترہ“ قرار دیا ہے۔ (سير اعلام النبلاء:293/5)

 

علامہ زرکشی لکھتے ہیں:
وفي دعوي أن أحاديث الرفع فيما عدا التحريم لم تبلغ مبلغ التواتر نظر، وكلام البخاري في كتاب رفع اليدين مصرح ببلوغھا ذلك.
”یہ دعویٰ محل نظر ہے کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین کی احادیث تواتر تک نہیں پہنچیں، کتاب (جز رفع الیدین) میں امام بخاری کی کلام ان کے تواتر تک پہنچنے کی صراحت کرتی ہے۔“ (المعتبر في تخريج احاديث المنھاج والمختصر للزركشي:136)

 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وفي دعوي ابن كثير أن حديث رفع اليدين في أول الصلاة دون حديث رفع اليدين عندالركوع متواتر نظر، فان كل من روي الأول روي الثاني الا اليسير.
”حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا یہ دعویٰ محل نظر ہے کہ نماز کے شروع میں رفع الیدین متواتر ہے، رکوع کے وقت متواتر نہیں، بلکہ سوائے ایک دو راویوں کے ہر وہ راوی جس نے پہلی رفع الیدین بیان کی ہے، اس نے دوسری رفع الیدین بھی بیان کی ہے۔“ (موافقة الخبر الخبر لابن حجر:409/1)

 

مانعین رفع الیدین کے پاس کوئی مرفوع، صحیح اور خاص دلیل نہیں۔

بقیہ تحریر

 از    June 10, 2016

 تحریر: ابو سعید سلفی 

بعض لوگوں نے دین میں مداخلت کرتے ہوئے ایک نئی نماز گھڑی ہے اور اسے ’’ نماز غوثیہ “ کا نام دے کر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ یہ نماز بدعات و خرافات اور شرک و کفر کا ملغوبہ ہے۔ دین نبی اکرم کے اقوال و افعال کی پیروی کا نام ہے۔ غیر مشروع طریقوں سے تقرب الٰہی کا حصول ناممکن ہے۔ اگرچہ یہ لوگ اپنے ان کارناموں کو اچھا خیال کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے طریقوں کو دین و عبادت قرار دینا فساد فی الارض ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

 ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ﴾ (البقره:12،11)

 ’’ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں : بلاشبہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ فسادی ہیں، لیکن انہیں شعور نہیں۔ “ 

 

بدعات، اللہ کی زمین پر فساد و فتنہ کا باعث ہیں۔ بعض لوگ آئے دن کوئی نہ کوئی بدعت ایجاد کر لیتے ہیں۔ وہ عبادات میں نبی اکرم کی ذات گرامی پر اکتفا نہیں کرتے۔ 

بقیہ تحریر

 از    May 31, 2016

حنفی مذہب کی معتبر کتب میں لکھا ہے : 
وفي جواهر الفتاوى: هل يجوز أن يقال: لولا نبينا محمد صلى الله تعالى عليه وسلم لما خلق الله آدم ؟ قال : هذا شيء يذكره الوعاظ على رءوس المنابر، يريدون به تعظيم نبينا محمد صلى الله تعالى عليه وسلم، والأولى أن يحترزوا عن مثال هذا، فإن النبي عليه الصلاة والسلام، وإن كان عظيم المنزلة والرتبة عند الله، فان لكل نبي من الأنبياء عليھ الصلاة والسلام منزلة ومرتبة، وخاصه ليست لغيره، فيكون كل نبي أصلا بنفسه.
’’ جواہر الفتاویٰ میں سوال ہے : کیا یہ کہنا جائز ہے کہ اگر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پیدا نہ کرتا ؟ جواب یہ دیا گیا : یہ ایسی چیز ہے جو واعظیں منبروں پر بیان کرتے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرنا ہوتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ایسی باتوں سے احتراز کیا جائے کیونکہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بلند مقام اور مرتبہ رکھتے تھے لیکن ہر نبی کو بھی ایک مقام اور مرتبہ حاصل تھا اور ہر نبی کے پاس کوئی نہ کوئی ایسی خصوصیت تھی جو دوسرے کسی کے پاس نہ تھی۔ لہٰذا ہر نبی کا اپنا ایک مستقل مقام ہے۔ “ (الفتاوي التاتار خانية:485/5)  

بقیہ تحریر

 از    May 28, 2016

 تحریر: ابن الحسن محمدی

 

کائنات کی تخلیق کس لیے ہوئی ؟
اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ عبادت الٰہی کے لیے، جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے :

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ (الذاريات:56) ’’ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ “ معلوم ہوا کہ نظام کائنات کو خالق کائنات نے اپنے ہی لیے پیدا کیا ہے۔

 

اس قرآنی بیان کے خلاف گمراہ صوفیوں نے ایک جھوٹی اور من گھڑت روایت مشہور کر رکھی ہے کہ کائنات کی تخلیق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، آپ کے طفیل اور آپ کے صدقے ہوئی۔ اگر آپ نہ ہوتے تو کائنات تخلیق نہ ہوتی۔ یہ نظریہ قرآن کریم کے بھی خلاف ہے اور اس سلسلے میں بیان کردہ روایات بھی جھوٹی، جعلی اور ضعیف ہیں۔

 

اس خود ساختہ عقیدے کے بارے میں بیان کی جانے والی روایات کی ذخیرۂ حدیث میں موجود تمام سندوں کا تفصیلی جائزہ اور ان پر منصفانہ تبصرہ پیش خدمت ہے۔ قارئین کرام غور سے اس مضمون کا مطالعہ فرمائیں اور فیصلہ خود کریں کہ کیا ایسی روایات کو دین اسلام کا نام دیا جا سکتا ہے اور کیا ایسی روایات کو اپنی تائید میں پیش کرنے والے لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خیرخواہ ہو سکتے ہیں ؟

 

اگر تو نہ ہوتا ، روایت نمبر ۱ ، تجزیہ

 

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے …. اللہ نے فرمایا :
ولو لاك يا محمد ! ما خلقت الدنيا. ’’ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر آپ نہ ہوتے تو میں دنیا کو تخلیق نہ کرتا۔ “ (تاريخ ابن عساكر:518/3، الموضوعات لابن الجوزي:289،288/1)


تبصرہ : یہ باطل اور جھوٹی روایت ہے۔
حافظ ابن الجوزی نے اسے ’’ موضوع “ ( من گھڑت ) قرار دیا ہے۔ حافظ سیوطی نے بھی ان کے حکم کو برقرار رکھا ہے۔
( اللآ لي المصنوعة في الأحاديث الموضوعة للسيوطي:272/1)  

بقیہ تحریر

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.