Tohed Banner
نئے مضامین
 از    April 29, 2017

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

سوال : کیا بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ لگایا جا سکتا ہے ؟
جواب : قرآن مجید کو بے وضو ہاتھ میں پکڑ کر تلاوت کرنا درست نہیں۔ سلف صالحین نے قرآن و سنت کی نصوص سے یہی سمجھا ہے۔ قرآن و سنت کا وہی فہم معتبر ہے جو اسلاف امت نے لیا ہے۔ مسلک اہل حدیث اسی کا نام ہے۔ آئیے تفصیل ملاحظہ فرمائیے :

❶ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ
’’ اس (قرآن کریم) کو پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔“ [56-الواقعة:79]
🔹 اس آیت کریمہ میں پاک لوگوں سے مراد اگرچہ فرشتے ہیں لیکن اشارۃ النص سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان بھی پاک ہو کر ہی اسے تھامیں، جیسا کہ :
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661-728 ھ) فرماتے ہیں :
ھذا من باب التنبیہ والاشارۃ، اذا کانت الصحف التی فی السماء لا یمسھا الا المطھرون، فکذلک الصحف التی بایدینا من القرآن لا ینبعی ان یمسھا الا طاھر .
’’ یہ ایک قسم کی تنبیہ اور اشارہ ہے کہ جب آسمان میں موجود صحیفوں کو صرف پاک فرشتے ہی چھوتے ہ یں تو ہمارے پاس جو قرآن ہے، اسے بھی صرف پاک لوگ ہی ہاتھ لگائیں۔“ [التبیان فی اقسام القرآن لابن القیم، ص:338]

◈ علامہ طیبی اس آیت کے متعلق لکھتے ہیں :
فإن الضمير إما للقرآن، والمراد نهي الناس عن مسه إلا على الطهارة، وإما للوح، ولا نافية، ومغنى المطهرون الملائكة، فإن الحديث كشف أن المراد هو الأول، ويعضده مدح القرآن بالكرم، وبكونه ثابتا فى اللؤح المحفوظ، فيكون الحكم بكونه لا يمسه مرتبا على الوصفين المتناسبين للقرآن.
’’ ضمیر یا تو قرآن کریم کی طرف لوٹے گی یا لوح محفوظ کی طرف۔ اگرقرآن کریم کی طرف لوٹے تو مراد یہ ہے کہ لوگ اسے طہارت کی حالت میں ہی ہاتھ لگائیں۔ اگر لوح محفوظ کی طرف ضمیر لوٹے تو لا نفی کے لیے ہو گا اور پاک لوگوں سے مراد فرشتے ہوں گے۔ حدیث نبوی نے بتا دیا ہے کہ پہلی بات ہی راجح ہے۔ اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ قرآن کو کریم بھی کہا گیا ہے اور اس کا لوح محفوظ میں ہونا ثابت بھی کیا گیا ہے، اس طرح نہ چھونے کے حکم کا اطلاق قرآن کریم کی دونوں حالتوں (لوح محفوظ اور زمینی مصحف) پر ہو گا۔“ [تحفة الأحوذي لمحمد عبدالرحمن المباركفوري:137/1]

بقیہ تحریر

 از    April 29, 2017

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

سوال : اگر میت کے زیر ناف اور بغلوں کے بال اور ناخن بڑھے ہوئے ہوں تو کیا ان کا ازالہ کرنا چاہیے ؟
جواب : اگر کوئی شخص کسی شرعی عذر کی بنا پر یا سستی و کاہلی کی وجہ سے زیرناف بال نہ مونڈھ سکا اور اسے موت آ گئی تو زندہ لوگ اس کے زیرناف بال نہیں مونڈھیں گے، کیونکہ اس عمل کی کوئی شرعی دلیل نہیں، نیز یہ عمل زندہ لوگوں کے لیے باعث ضرر ہے جبکہ میت کو اس کا کوئی فائدہ نہیں، جیسا کہ :

◈ امام ابن منذر رحمہ اللہ (242-391 ھ)
لکھتے ہیں :
الوقوف عن أخذ ذلك أحب إلي، لأنه المأمور بأخذ ذلك من نفسه الحي، فإذا مات انقطع الامر.
”میت کے زیرناف بالوں کو مونڈھنے سے باز رہنا ہی میرے نزدیک بہتر ہے کہ کیونکہ مرنے والے کو اپنی زندگی میں اس کام کا حکم دیا گیا تھا۔ جب اسے موت آ گئی تو یہ معاملہ ختم ہو گیا۔“ [الأوسط فى السنن والإجماع والاختلاف : 329/5]

◈ امام محمد بن سیرین تابعی رحمہ اللہ کے بارے میں روایت ہے کہ :
انهٔ كان يکرهٔ أن يوخذ من عانة أؤ ظفر الميت.
’’ وہ میت کے زیر ناف بالوں کو مونڈھنا اور اس کے ناخنوں کو کاٹنا مکروہ جانتے تھے۔“ [مصنف ابن أبى شيبة : 246، 245/3، وسنده صحيح]
🔹 اس کے خلاف اسلاف امت سے کچھ ثابت نہیں۔

بقیہ تحریر

 از    April 22, 2017

تحریر: ابوعبداللہ صارم

اللہ تعالیٰ نے انسان کے منہ میں ایک خاص ضرورت اور مصلحت و حکمت کے تحت دانتوں کی فصل اگائی ہے۔ جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو اس کو ایسی غذا دی جاتی ہے جسے چبانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس وقت دانت بھی نہیں اگتے۔ جب ایسی غذا کی ضرورت ہوتی ہے جو چبائی جاتی ہے تو دانت بھی اگ آتے ہیں۔ اگر دانت پیدائشی طور پر اگے ہوئے ہوتے تو مائیں اپنے بچوں کو دودھ ہی نہ پلاتیں، کیونکہ وہ بےخبری میں ماؤں کی چھاتیوں کو کاٹ ڈالتے۔ یہ ماں کے لیے باعث مضرت بات تھی۔ اس لیے ایک خاص وقت کے بعد دانت اگتے ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کی صنعت دیکھیں کہ کس طرح انسان کے منہ میں موتیوں کو لڑی میں پرو دیا جو انسانی حسن کو دوبالا کر دیتے ہیں۔ منہ میں دانتوں جیسی نعمت نہ ہو تو انسان کی کلام بھدی ہو جاتی ہے۔ جب تک بچے کے دانت نہ اگیں وہ صاف باتیں نہیں کر سکتا۔

اللہ تعالیٰ کی اس انمول نعمت کی قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دانت خوراک کو نہ چبائیں تو معدہ اسے ہضم نہیں کر سکتا۔ اگر معدہ خوراک کو ہضم نہ کرے تو ایک وقت کے بعد وہ بگڑ جاتا ہے۔ جب معدہ بگڑ جائے تو صحت خراب ہو جاتی ہے۔ کتنی غذائیں ایسی بھی ہیں کہ جب تک انہیں اچھی طرح چبایا نہ جائے، انسان ان کی لذت سے محروم رہتا ہے۔ داناؤں کا مقولہ ہے کہ ’’ آنکھ گئی تو جہان گیا اور دانت گئے تو سواد گیا۔“

ایک خاص وقت کے بعد ایک دفعہ بچے کے دانت گر جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے دانت لے لیتے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی صنعت کی حکمت ہے۔ سامنے والے دو اوپر اور دو نیچے کے دانتوں کی ساخت دیکھیں۔ وہ تیز دھاری دار ہوتے ہیں جو کاٹنے کا کام دیتے ہیں، لیکن ڈاڑھیں چوڑی ہوتی ہیں۔ ان کی سطح رف ہوتی ہے جو پیسنے کا کام دیتی ہیں۔ اوپر نیچے جبڑوں میں ڈاڑھیں گویا چکی کے دو پاٹ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ دانت ہتھیار، آرے، چھری اور چکی کا کام دیتے ہیں اور باعث زینت بھی ہیں۔ ان کے علاوہ بھی ان میں بے شمار منافع اور مصالح موجود ہیں۔ دانت انسانی وجود میں وہ ہڈی ہے جس پر گوشت نہیں۔ اگر اس پر گوشت ہوتا تو مطلوبہ ضرورت پوری نہ ہو پاتی۔

شریعت اسلامیہ نے ان کی صفائی ستھرائی اور نظافت کے لیے مسواک استعمال کرنے کی تلقین و تاکید کی ہے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دانت وہ واحد عضو ہے جس کی صفائی لکڑی سے کی جاتی ہے۔ دانتوں کی صفائی فطرتی تقاضا ہے۔ میلے کچیلے اور بدنما دانت انسان کو معیوب بنا دیتے ہیں۔ اگر ان کی صفائی کا خیال نہ رکھا جائے تو ان کو کیڑا لگ جاتا ہے۔ پھر داندان سازوں کے پاس جانا مجبوری بن جاتا ہے۔ دانتوں کی صفائی ایمان کا جزو ہے۔ اس میں رب تعالیٰ کی رضا ہے، سنت رسول کا اتباع ہے، اللہ تعالیٰ کی بے مثال نعمت کی شکرگزاری ہے۔

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے مسواک کیا کرتے تھے اور امت کو بھی تلقین کی ہے، لہٰذا جب مسواک کریں، اس مقصد و ارادے سے کریں کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا باعث ہے۔ یوں ہم اپنے دامن میں دنیا و آخرت کی سعادتیں سمیٹ لیں گے اور دانتوں کی حفاظت اور خوشمنائی بھی حاصل ہو جائے گی۔ اب آپ بتائیں کہ مسواک والی سنت کو باقاعدگی سے کب اپنا رہے ہیں ؟
بقیہ تحریر

 از    April 19, 2017

تحریر: ابن الحسن محمدی

شرعی دلائل کی رو سے میت کو غسل دینے والے شخص پر غسل واجب نہیں بلکہ مندوب و مستحب ہے۔ اسی طرح میت کی چارپائی اٹھانے والے شخص پر بھی وضو واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔ فہم سلف اسی بات کا مؤید ہے۔ جیسا کہ حافظ خطابی رحمہ اللہ (388 ھ) فرماتے ہیں :
لا اعلم أحدا من الفقهاء يوجب الاغتسال من غسل الميت، ولا الوضوء من حمله، ويشبه أن يكون الأمر فى ذلك على الاستحباب.
’’ میں فقہائے کرام میں سے کسی ایک بھی ایسے فقیہ سے واقف نہیں جو میت کو غسل دینے والے شخص پر غسل کو اور اسے کندھا دینے والے شخص پر وضو کو واجب قرار دیتا ہو۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ اس بارے میں (احادیث میں وارد) حکم استحباب پر محمول ہے۔“ [معالم السنن : 305/3]

یعنی اس مسئلہ میں جتنی بھی احادیث وارد ہیں، ان کے بارے میں سلف، یعنی صحابہ و تابعین اور ائمہ دین کا فیصلہ ہے کہ وہ ساری کی ساری استحباب پرمحمول ہیں۔

آئیے یہ احادیث اور ان کے بارے میں فہم سلف ملاحظہ فرمائیں :
❶ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من غسل ميتا فليغتسل، ومن حمله فليتوضأ
’’ جو شخص میت کو غسل دے، وہ خود بھی غسل کرے اور جو میت کو کندھا دے، وہ وضو کرے۔“ [سنن الترمذي : 933، وقال : حسن، سنن ابن ماجه : 1463، السنن الكبري للبيهقي : 301/10، و صححه ابن حبان : 1161، و سندهٔ حسن]

* اس کے راوی سہیل بن ابی صالح کے متعلق حافظ منذری رحمہ اللہ (656 ھ) لکھتے ہیں :
وثقه الجمهور ’’ اسے جمہور محدثین نے ثقہ قرار دیا ہے۔“ [الترغيب والترهيب : 110/3]

* حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسے ثقه قرار دیا ہے۔

* نیز فرماتے ہیں :
وثقه ناس ’’ اسے بہت سے لوگوں نے ثقہ قرار دیا ہے۔“ [الكاشف فى معرفة من له رواية فى الكتب الستة : 327/2]

❷ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من غسل ميتا فليغتسل، ومن حمله فليتوضأ
’’ جو شخص میت کو غسل دے، وہ خود بھی غسل کرے اور جو میت کو کندھا دے، وہ وضو کرے۔“ [مصنف ابن أبى شيبة : 269/3، مسند الإمام أحمد : 433/2، 454، مسند الطيالسي : 305/2، الجعديات لأبي القاسم البغوي : 987,986/2، وسنده حسن]

بقیہ تحریر

 از    April 18, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : اللہ ہی سے مانگنے کے متعلق حدیث کے بارے میں معلوم ہو ا ہے کہ اس کی استنادی حیثیت معتبر نہیں۔ مہربانی فرما کر درست موقف کی رہنمائی فرما دیں۔
جواب : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يسئل احدكم ربه حاجته كلها حتي يساله شسع نعله اذا انقطع .
’’ تم میں سے ہر کوئی اپنی حاجات اپنے رب سے مانگے حتیٰ کہ جب جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی اس سے مانگے۔ “ [شعب الايمان اللبيهقي (2/ 41) (1116)، مجمع الزوائد (10/ 228)، صحيح ابن حبان (2 / 240)، عمل اليوم و الليلة الابن السني (354)، الكامل لابن عدي (6 / 208)، مسند بزار (3135)، مسند ابي يعلي 6/ 130]
اس حدیث کے موصول و مرسل ہونے میں اختلاف ہے۔

امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے، اس کو جعفر بن سلیمان از ثابت البنانی از نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت سے راویوں نے روایت کیا ہے، انہوں نے ثابت البنانی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان انس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ یعنی امام ترمذی رحمہ اللہ نے ایک تو جعفر بن سلیمان کے تفرد کی وجہ سے اسے غریب کہا ہے اور دوسرے جعفر بن سلیمان کے اکثر شاگردوں نے اسے مرسل بیان کیا ہے، موصول بیان نہیں کیا۔ اس کے جوابات درج ذیل ہیں :

(1) جعفر بن سلیمان کا تفرد مضر نہیں اس لیے کہ یہ مسلم کے راویوں سے ہے۔ اسے امام احمد، امام یحییٰ بن معین، امام علی بن المدینی، امام ابن حبان، امام ابواحمد اور ابن سعد وغیرہم نے ثقہ قرار دیا ہے۔ [تهذيب التهذيب 1/ 380، تقريب التهذيب : ص/ 56، الكاشف : 1/ 294، تهذيب سیر اعلام النبلاء 1/ 485، الجرح والتعديل 2/ 481 ]

بقیہ تحریر

 از    April 15, 2017

تحریر: ابن الحسن محمدی

اولیاء اللہ اور صالحین کی قبروں پر پھول اور چادریں چڑھانا عجمی تہذیب پر مبنی قبیح بدعت ہے۔ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور ائمہ سلف کی سراسر مخالفت ہے۔ اگر اس عمل میں کوئی دینی منفعت و مصلحت ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس کی طرف رہنمائی فرماتے اور سلف صالحین ضرور اس کو اپناتے۔ بدعت پسند لوگ اسے سند جواز فراہم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ ان کی انتہائی کوشش ہے کہ شہر خموشاں شرک و بدعت کی آماجگاہ بن جائیں۔ ان کی خاموشی کو راگ رنگ، شور و شر اور فسق و فجور میں بدل دیا جائے۔ یہ لوگ قبروں کے متعلق غلو کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے ان کے نام کی نذر و نیاز دیتے ہیں اور ان پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں، عرس میلے لگاتے ہیں، مزامیر اور مشرکانہ اشعار سے محفل سماع سجاتے ہیں تاکہ قبروں پر لوگوں کا آناجانا لگا رہے اور ہماری شکم پروری ہوتی رہے۔ ان کو یہ معلوم نہیں کہ دین کیا ہے اور بدعت دین کو کس قدر نقصان پہنچاتی ہے ؟

بدعت اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیش قدمی کا نام ہے۔ سلف صالحین اس سے سخت متنفر تھے اور اس کی شدید مذمت کرتے تھے جیساکہ شیخ الاسلام ثانی، علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
اشتد نكير السلف والأئمة لها، وصاحوا بأهلها من أقطار الأرض، وحذروا فتنتهم أشد التحذير، وبالغوا في ذلك، ما لم يبالغوا مثله في إنكار الفواحش، والظلم والعدوان، إذ مضرة البدع وهدمها للدين ومنافاتها له أشد .
’’سلف صالحین اور ائمہ دین بدعت کا سخت ترین ردّ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اہل بدعت کو زمین کے کونے کونے سے للکارا اور لوگوں کو ان کے فتنے سے بہت زیادہ ڈرایا۔ انہوں نے اس کی اتنی زیادہ مخالفت کی کہ اتنی مخالفت فحاشی اور ظلم و زیادتی جیسے گناہوں کی بھی نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بدعت کی مضرت اور اس سے دین کو نقصان باقی گناہوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔“ [مدارج السالكين لابن القيم : 372/1]

بدعتی لوگوں کی عادت ہے کہ جب وہ بدعت کے ثبوت پر شرعی دلائل سے عاجز و درماندہ ہو جاتے ہیں تو بعض عمومی نصوص سے اس کا ثبوت تراشنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ یہ بہت بڑی خرابی اور تحریف دین ہے۔ اگر قرآن و سنت کی نصوص کا یہی مطلب و مفہوم ہوتا جو آج کے بدعتی لوگ لے رہے ہیں تو یہی مفہوم سب سے پہلے ہمارے اسلاف، یعنی صحابہ و تابعین کی سمجھ میں آتا جیسا کہ علامہ شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
فإن هؤلاء الذين أدركوا هذه المدارك، وعبروا على هذه المسالك، إما أن يكونوا قد أدركوا من فهم الشريعة ما لم يفهمه الأولون، أو حادوا عن فهمها، وهذا الأخير هو الصواب؛ إذ المتقدمون من السلف الصالح كانوا على الصراط المستقيم، ولم يفهموا من الأدلة المذكورة وما أشبهها إلا ما كانوا عليه، وهذه المحدثات لم تكن فيهم، ولا عملوا بها، فدل على أن تلك الأدلة لم تتضمن هذه المعاني المخترعة بحال، وصار عملهم بخلاف ذلك دليلاً إجماعياً على أن هؤلاء في استدلالهم وعملهم مخطئون ومخالفون للسنة… فيقال لمن استدلّ بأمثال ذلك: هل وجد هذا المعنى الذي استنبطت في عمل الأولين أو لم يوجد؟ فإن زعم أنه لم يوجد – ولا بدّ من ذلك – فيقال له: أفكانوا غافلين عما تنبهت له أو جاهلين به أم لا؟ ولا يسعه أن يقول بهذا، لأنه فتح لباب الفضيحة على نفسه، وخرق للإجماع، وإن قال: إنهم كانوا عارفين بمآخذ هذه الأدلة كما كانوا عارفين بمآخذ غيرها، قيل له: فما الذي حال بينهم وبين العمل بمقتضاها على زعمك حتى خالفوها إلى غيرها؟ ما ذاك إلا لأنهم اجتمعوا فيه على الخطأ دونك أيها المتقوّل، والبرهان الشرعي والعادي دال على عكس القضية، فكلّ ما جاء مخالفاً لما عليه السلف الصالح فهو الضلال بعينه . بقیہ تحریر

 از    April 12, 2017

تحریر: حافظ ابو یحییٰ نورپوری

اگر امام کی اقتدا میں نماز پڑھی جا رہی ہو تو صف کے پیچھے اکیلے مرد کی کوئی بھی نماز کسی بھی صورت میں نہیں ہوتی۔ دلائل ملاحظہ فرمائیں :
دلیل نمبر 1 :
سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
ان رجلا يصلي خلف الصف وحده فامره ان يعيد الصلاة .
’’ ایک آدمی نے اکیلے صف کے پیچھے نماز ادا ی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم فرمایا۔“ [جامع الترمذي : 230، سنن أبى داود : 682، سنن ابن ماجه : 1004، مسند الإمام أحمد : 228/4، مسند الدارمي : 815/2، ح : 1322، وسنده صحيح]
* اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ’’حسن “جبکہ امام ابن جارود [319] اور امام ابن حبان [الموارد : 405] رحمہ اللہ نے ’’صحیح“ کہا ہے۔

امام ابن منذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وقد ثبت هذا الحديث احمد واسحاق
’’ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمها اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔“ [الاوسط فى السنن والاجماع والاختلاف لابن المنذر:184/4]

دلیل نمبر 2 :
سیدنا علی بن شیبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانصرف، ‏‏‏‏‏‏فراى رجلا يصلي فردا خلف الصف، ‏‏‏‏‏‏ فوقف نبي الله صلى الله عليه وسلم حتي انصرف الرجل من صلاته، ف‏‏‏‏‏‏قال له :‏‏‏‏ ”استقبل صلاتك، ‏‏‏‏‏‏فلا لفرد خلف الصف“
’’ آپ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نماز سے فارغ ہونے تک اس کے پاس کھڑے ہو گئے۔ پھر (جب اس نے سلام پھیرا تو) اس سے فرمایا : اپنی نماز نئے سرے سے پڑھو، کیونکہ صف کے پیچھے کسی بھی اکیلے شخص کی کوئی نماز نہیں ہوتی۔“ [مسند الامام احمد: 23/4، ح:24293، سنن ابن ماجه : 1003، و سندهٔ حسن]
* امام اثرم، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں :
’’ یہ حدیث حسن ہے۔“ [التلخيصں الحبير : 37/2]

امام ابن خزیمہ [1569] اور امام ابن حبان [2206] رحمها اللہ نے اس حدیث کو ’’ صحیح“ کہا ہے جبکہ حافظ نووی رحمہ اللہ نے [خلاصه الاحكام :2517] اس کی سند کو ’’ حسن“ قرار دیا ہے۔ بقیہ تحریر

 از    April 10, 2017

تحریر: محمدی سلفی

امام ابوحنیفہ کی طرف تین کتابیں اور دو رسالے منسوب ہیں، وہ یہ ہیں :
(1) الفقه الاكبر
(2) العالم والمتعلم
(3) كتاب الحيل
(4) الوصية
(5) رسالة الي عثمان البتي
ان میں سے كتاب الحيل کے علاوہ کوئی بھی کتاب امام صاحب سے ثابت نہیں بلکہ محض جھوٹی نسبت کی بنا پر مشہور ہیں۔ ان کا تفصیلی جائزہ پیش خدمت ہے :
(1) الفقه الاكبر اس کی ایک سند یہ ہے :
محمد بن مقاتل الرازي، عن عصام بن يوسف، عن حماد بن ابي حنيفة، عن ابي حنيفة .
کسی کتاب کی نسبت صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مصنف تک باسند صحیح ثابت ہو، اب ہم اس کتاب کی سند کا علمی اور تحقیقی جائزہ پیش کرتے ہیں۔
اس کے راویوں کے حالات بالترتیب ملاحظہ فرمائیں :
(1) محمد بن مقاتل رازی کو حافظ ذہبی رحمہ اللہ [المغني فى الضعفاء: 635/2] اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ [تقريب التهذيب : 6319] نے ’’ ضعیف“ کہا ہے۔ اس کے بارے میں ادنیٰ کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں، نیز حافظ ذہبی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں :
وهو من الضعفاء المتروكين.
’’ یہ راوی متروک درجے کے ضعیف راویوں میں سے ہے۔ “ [تاريخ الإسلام للذهبي : 1247/5]

(2) عصام بن یوسف بلخی راوی کے بارے میں امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وقد روى عصام هذا عن الثوري وعن غيره أحاديث لا يتابع عليها.
’’ اس عصام نے امام سفیان ثوری اور دیگر اساتذہ سے ایسی احادیث روایت کی ہیں جن کی کسی نے متابعت نہیں کی۔ “ [الكامل فى ضعفاء الرجال لابن عدي : 371/5، وفي نسخة : 2008/5] بقیہ تحریر

 از    April 8, 2017

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

سوال : بعض صوفیا یہ حدیث ذکر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا كنت كنزا مخفيا لا اعرف فاحببت ان اعرف فخلقت خلقا فعرقته بي فعرفوني ’’ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پہچانا نہیں جاتا تھا۔ میں نے پسند کیا کہ پہچانا جاؤں، سو میں نے مخلوق پیدا کی، میں نے انھیں اپنا تعارف کروایا تو انہوں نے مجھے پہچان لیا “۔ کیا یہ روایت صحیح ہے ؟
جواب : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من يقل علي الم أقل فليتبوأ مقعده من النار
’’ جس نے مجھ پر ایسی بات کہی جو میں نے نہیں کہی وہ اپنا ٹھکانہ آ گ میں بنا لے “
[بخاري، كتاب العلم : باب اثم من كذب على النبى صلى الله و عليه وسلم 107]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بعض لوگوں نے روایتیں گھڑ کر جر م عظیم کا ارتکاب کیا اور روایات وضع کرنے والے مختلف اقسام اور مختلف اغراض پر مبنی لوگ ہیں ان میں سے بعض نام نہاد صوفی منش لوگ بھی ہیں اور یہ روایت بھی انہیں متصوفین کا شاخسانہ ہے۔

اس بارے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا :
ليس من كلام النبي صلي الله عليه وسلم ولا يعرف له سند صحيح ولا ضعيف .
’’ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں سے نہیں ہے اور اس کی صحیح یا ضیعف کوئی سند معروف نہیں۔ “ [مجموع الفتاوي : 18/ 122، 376]

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس قول کی متابعت امام ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ بدر الدین الزرکشی نے ’’ [التذکرہ فی الاحادیث المشتهره 136، الباب الثالث فی الزھد، الحدیث العشرون] میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی وغیرہ نے کی ہے۔
دیکهیں ! [المقاصد الحسنة للسخاوي (838) (327)، كشف الخفاء ومزيل الالباس از اسماعيل العحلوني (2019) (132/2)، الاسرار المرفوعة فى الاخبار الموضوعة از ملا علي قاري (353)، احاديث القصاص (3)، اسني المطالب (1110)، تمييز الطيب من الخبيث (4510)، الدرر المنتشرة 330، تذكرۃ الموضوعات]
معلوم ہو ا کہ یہ روایت من گھڑت ہے اور متصوفین کی وضع کردہ معلوم ہوتی ہے۔

ملا علی قاری نے اس کے مفہوم کو صحیح قرار دینے کی کوشش کی ہے اور سورۂ ذاریات کی آ یت [56] وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون میں ليعبدون کا معنی ليعرفون کیا ہے کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لیے پیدار کیا کہ وہ مجھے پہچان لیں اور اس تفسیر کو ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب کیا ہے۔
[الاسرا المرفوعة : 269 تحت رقم 303 ]

ملا علی قاری کا قول درست نہیں ہے۔ اس قول کی نسبت جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف کی گئی ہے اس کی پختہ سند کی حاجت ہے۔ پھر قرآن و سنت میں جو صفات باری تعالیٰ ہم پڑھتے ہیں یہ روایت اس کے معارض ہے، اللہ عزوجل مجہول خزانہ کیسے ہو سکتے ہیں : وہ عزت و جلال والا کیسے نہ پہنچانا جائے۔

ایسی روایات وضع کر کے اپنا نامۂ اعمال سیاہ کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے اجزائے خاملہ اور اقوال سخیفہ سے محفوظ فرمائے۔ آمين !

 

 از    April 6, 2017

تحریر: غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

قبروں کی تعظیم میں غلو نے بہت سے اعتقادی اور اخلاقی فتنوں کو جنم دیا ہے۔ قبروں اور مزارات پر مشرکانہ عقائد و اعمال اور کافرانہ رسوم و رواج اس قدر رواج پا رہی ہیں کہ بعض لوگوں نے یہود و نصاریٰ کی پیروی میں اولیاء و صالحین کی قبور کو سجدہ گاہ بنا لیا ہے۔ طلب حاجات کے لیے ان پر مراقبہ اور مجاہدہ کرتے نظر آتے ہیں، ہر مشکل میں ان کی پکار کرتے ہیں اور ان سے فریادیں کرتے ہیں، ان سے ڈرتے ہیں اور انہی سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ ان پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں، منت منوتی اور نذرانے پیش کرتے ہیں۔ لوگوں کا قیمتی مال ہڑپ کرنے کے لیے وہاں ٹھگ بیٹھے ہوتے ہیں جنہیں مجاور کہتے ہیں۔ وہ زائرین کو صاحب قبر کے متعلق جھوٹی حکایات اور کرامات سناتے ہیں۔ جہالت اور ضعف اعتقادی کے باعث لوگ ان کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ اس طرح یہ جاہل لوگ عوام کا ایمان برباد کرتے ہیں۔ قبوریوں کی یہ انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عوام الناس کو قبرپرستی اور اولیاء پرستی کے حوالے سے وہ سارے کے سارے و سائل و ذرائع مہیا کریں جن کی بنیاد پر وہ شرک و بدعت کی طرف چل دیں۔

انہی وسائل میں سے ایک قبروں پر مجاور بن کر بیٹھنا ہے۔ قبروں پر مجاور اور خادم بن کر بیٹھنا منکر اور بدعت ہے۔ یہ بتوں کے پجاریوں کے ساتھ مشابہت اور یہودیانہ روش ہے۔ مشرکین اپنے بتوں کی دیکھ بھال اور نگرانی اسی طرح کرتے تھے :

جیسا کہ : اللہ تعالیٰٰ کا فرمان عالی شان ہے :
﴿إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ ٭ قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ﴾ [26-الشعراء: 71، 70]
’’ جب (ابراہیم علیہ السلام نے) اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ کیاچیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو ؟ وہ کہنے لگے : ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور انہیں کے مجاور بنے رہتے ہیں۔ “ بقیہ تحریر

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.